چارلس ڈارون
اب عام لوگ بھی یہ بات جانتے ہیں کہ چارلس ڈارون (1805ء تا 1882ء) سے پہلے کی صدی میں بھی ارتقاء کے حوالے سے غور و فکر وسیع پیمانے پر موجود تھا اور اس رجحان کو روشن خیالی نے جنم دیا۔ اگر چہ یہ بات قطعی معنوں میں درست نہیں، مگر اٹھارہویں صدی سے پہلے کی بیشتر ثقافتوں میں بیشتر لوگ ماخذوں کے بارے میں معجزاتی حوالے سے سوچتے تھے۔ خود ڈارون نے بھی قبل از سقراط فلسفی ایمپیڈوکلیز کا حوالہ دیا ۔ چینیوں کے ہاں بھی نسلی تقلیب کا ایک نظریہ موجود تھا۔
البتہ یہ ڈارون ہی تھا جس نے نہایت تفصیلی نظریہ تشکیل دیا اور نظریہ تقلیب “The theory of transformation”
میں خاطر خواہ حصہ ڈالا۔
پہلے طب اور پھر کلیسیا کی جانب رجحان رکھنے والا ڈارون بنیادی طور پر ایک فطرت پسند (Naturist) تھا۔ وہ کئی حوالوں سے اپنے عظیم پیشتر وگلبرٹ وائٹ (1720ء تا 1793ء) سے مشابہہ تھا۔ وائٹ کی طرح ڈارون نے بھی فطرت کو نہایت بھر پور تصور کیا اور تجسس و جوش و خروش کے ساتھ اس کا کھوج لگانے کی خواہش کی ۔
لیکن وہ فطرت کی توضیح و تعبیر کرنے کا ایک ایماندارانہ، غیر متعصبانہ اور دینیات سے پاک جذبہ بھی رکھتا تھا۔ وہ انگلینڈ اور ویلز کی سرحد کے قریب شرو پشائر میں شریو بری کے مقام پر پیدا ہوا۔ وہ طبیب اور سائنس دان ایراسمس ڈارون کا پوتا تھا۔ 1828ء میں جب چارلس ڈارون کیمبرج یونیورسٹی میں داخل ہوا تو جلد ہی علم نباتات اور علم حیوانات میں دلچسپی لینے لگا۔ اس نے 1831ء میں گریجوایشن کی اور اسی سال کے آخر میں H.M.S. Beagle بحری جہاز پر سائنسی دریافت کے سفر کے لیے ( بطور فطرت پسند ) سوار ہو گیا۔
وہ پانچ سال بعد واپس آیا تو اس کا ذہن Tenerife، کیپ وردے جزائر ، برازیل اور دیگر مقامات پر دیکھی ہوئی چیزوں سے لبریز تھا۔ اس مہم کے دوران اسے کوئی مرض بھی لاحق ہو گیا تھا جو تا دم آخر ساتھ رہا ( یہ نہیں معلوم کہ وہ مرض کیا تھا ۔ وہ تھک جانے پر وہیل چیئر میں پناہ لیتا۔ اس نے 1839 ء میں اپنے پہلے سائنسی سفر کا حال بھی شائع کیا۔
بہت سے مقامات پر اپنے کیے ہوئے مشاہدات کے ساتھ ڈارون نے یہ نتیجہ اخذ کرنا شروع کیا (حالانکہ وہ اپنی فکر نہج سے پریشان تھا کہ انواع کا جد امجد غالباً مشتر کہ ہے ۔ اس کی پرورش اس غالب مگر نہایت نا قابل قائل تصور کے تحت ہوئی تھی کہ خدا نے تمام انواع کو الگ الگ تخلیق کیا تھا۔ لیکن اس کے مشاہدہ کے شوق ، فطرت سے شدید محبت اور اس کا کھوج لگانے کا تجسس اسے شک کی جانب مائل کرنے لگا کہ حقیقت کچھ اور ہے ۔ وہ سوچنے لگا کہ کہیں اس کا دماغ تو نہیں چل گیا ۔ اگر چہ وہ خود ایک راسخ العقیدہ عیسائی نہیں تھا، مگر وہ اپنے خیالات کے باعث بیوی کو پہنچنے والی تکلیف کے حوالے سے شدید دکھی ہوا۔ بیوی ایما اور دوستوں نے اس کے نظریہ کو عیسائیت کے لیے ایک چیلنج خیال کیا ۔ بلا شبہ یہ عیسائیت یا کسی بھی مذہب کے لیے ہرگز چیلنج نہ تھا؛ لیکن اس نے تخلیق کے بارے میں بائبلی بیان کی تصحیح ضرور کی ۔ اس نظریے نے انسان کے ایک خصوصی مخلوق ہونے کے تصور کو تباہ کر دیا۔ ظاہری بات ہے کہ اپنا عیسائی عقیدہ برقرار رکھنے کے خواہش مند حضرات کو کچھ مفروضات پر نظر ثانی کرنا پڑی ۔ حتی کہ فطری انتخاب کو ایک خدائی قانون کے طور پر دیکھ سکنے والے زیادہ عقل مند لوگ بھی اپنے عقیدے کو بچانے کی خاطر زیادہ آگے نہ بڑھے۔
ڈارون سے پہلے فرانسیسی ماہر نباتات ژان باپتست دی لیمارک (1744ء تا 1829ء) نے انواع میں تنوعات پر زور دیا تھا اور اپنی کتب میں انسانی ارتقاء کی بابت بات کی تھی ۔ اب اصطلاح لیمارکین ازم عموماً باعث فضیحت ہے، لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اوّل ، اس لیے کہ اکتسابی خصوصیات کی وراثت بدستور ایک امکان ہی ہے۔
چارلس ڈارن عہد جوانی میں
دوم اس لیے کہ لیمارک بہر حال ایک پہل کار تھا اور اس کا نظریہ ہرگز مضحکہ خیز نہ تھا۔ سوم اس لیے کہ اصطلاح لیمارکین ازم کو عموماً ڈارون ازم کے متضاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، مگر ڈارون بذات خود لیمارکین تھا! ڈارون نے 1844 ء میں اپنے ایک دوست Hooker کے نام خط میں لکھا: ” میرے اخذ کردہ نتائج لیمارک کے حاصل کردہ نتائج سے زیادہ مختلف نہیں ، لیکن ڈارون نے متوقع ماؤں کو مشورہ دیا کہ وہ زچگی سے پہلے مردانہ مہارتیں حاصل کر لیں!
تاہم ، ڈارون کی عظیم بصیرت کو لیمارک کی بجائے مالتھس کی تحریر (Essay) پڑھ کر تحریک ملی : کہ فطری انتخاب (یعنی موزوں ترین کا انتخاب ) تولید کے عمل میں کام دکھاتا ہے۔ اس نے دلیل دی کہ تمام انواع اس سے کہیں زیادہ تولید کرتی ہیں جو ان کی بقاء کے لیے ضروری ہوتی ہے، چنانچہ ساز گار تنوعات ہی۔ اتفاق کے تحت منتخب ہوتی ہیں۔ اس نے مالتھس سے جہدللبقاء Struggle for existence) کا اصول اخذ کیا۔ بد قسمتی سے اس نے اپنے نظریہ فطری انتخاب کے مترادف کے طور پر ہر برٹ سپنسر کا موزوں ترین کی بقاء کا تصور بھی مستعار لے لیا۔
ڈارون کے ہاں موزوں“ کا مطلب ہے مخصوص ماحول میں زندہ رہنے اور پھلنے پھولنے کے لیے بہترین صلاحیتوں کا مالک ۔ لیکن سپنسر کے مفہوم میں اس کا مطلب ” کامل ترین تھا۔ جلد ہی اس سے طاقتور ترین مراد لیا جانے لگا۔ ڈارون نے لکھا کہ اس نے ” جہدللبقاء کی اصطلاح کو ایک وسیع اور استعاراتی مفہوم میں استعمال کیا تھا ، لیکن زیادہ تر قارئین نے اس کی تشریح لڑائی کے طور پر کی اور اس کا اطلاق انواع کے ساتھ ساتھ معاشرے پر بھی کیا۔ اگرچہ آج سماجی ڈارون ازم کو مکمل طور پر رد کیا جا چکا ہے ( کیونکہ یہ اخلاقیاتی اور حیاتیاتی شعبوں کو گڑبڑا دیتا ہے ) لیکن اس کا اثر بدستور قائم ہے۔ تاہم ، سپنسر کی ” اولین سر چشمے کے ضمن میں اس مغالطے پر زیادہ تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ خود ڈارون کو بمشکل ہی اس کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
1840 ء کی تمام اور 1850ء کی زیادہ تر دہائی کے دوران ڈارون انواع کے موضوع پر ایک ضخیم کتاب لکھنے کی منصوبہ بندی کرتا رہا۔ اس کا کبھی بھی مکمل ہو پانا خلاف قیاس تھا کیونکہ وہ اپنے ذہن میں موجود نتائج کے متعلق تمام شکوک اور انکساری کا حامل تھا۔ لیکن اسے ایک شدید دھچکا لگا۔ اور اسے اپنے حواس بحال کرنے میں کافی دیر لگی ۔ فطرت پسند ایلفر ڈرسل والیس (1823ء تا 1913ء) نے بھی آبادی کے بارے میں مالتھس کا سنگدلانہ نظر یہ پڑھا تھا۔ 18 جون 1858ء کو ڈارون کو اس کی جانب سے ایک خط ملا۔ ڈارون نے ایک دوست کو بتایا: اگر والیس نے میرا خاکہ 1842 ء میں لکھا ہوتا تو تب بھی وہ کوئی زیادہ بہتر تجرید پیش نہ کر سکتا۔ حتیٰ کہ اس کی اصطلاحات میرے ابواب کے عنوانات ہیں۔ دونوں نے یکیم جولائی 1858 ء کو Linnean سوسائٹی کے سامنے ایک مشترکہ پیپر پیش کیا اور اگلے ہی برس ڈارون کی انواع کا ماخذ منظر عام پر آئی ۔ یوں تقدیم کا مسئلہ حل ہو گیا۔
آج کل آرتھوڈوکسی کو neo-Darwinism کہتے ہیں۔ بلاشبہ یہ ڈارون کے بعد سے جنیٹکس کے میدان میں ہونے والی ترقیوں کو بھی شمار کرتی ہے۔ زندگی کو ایک ” خود غرض DNA کی ذیلی پیداوار (بائی پروڈکٹ ) سمجھنے کا نظریہ ہمیں کسی بھی منزل پر نہیں پہنچاتا۔ نہ ہی اس کی کوئی فلسفیانہ بنیاد ہے۔ کرہ ارض پر حیات کو اندھے اتفاق کی ایک بے احساس پیدا وار سمجھنے کے نظریے کے لیے ہمیں نام نہاد سائنسدانوں کی بجائے تخیلاتی مصنفین کی جانب رجوع کرنا ہوگا۔
انواع کا ماخذ میں ڈارون کی اپنی حصہ داری فطری انتخاب کا تصور تھی ( حالانکہ والیس نے اس کی پیش بینی کر لی تھی ) ۔ تو ریث (heredity) میں اس کا عمل دخل اب موضوع بحث ہے لیکن اس قسم کی کسی چیز کی موجودگی کے بارے میں سوال اب موجود نہیں ۔ اب صرف اسے درست انداز میں بیان کرنے کا مسئلہ باقی ہے۔
اس امر کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہو پایا کہ ارتقاء کی تاریخ میں ڈارون کی حصہ داری کس حد تک مرکزی ہے۔ اگر ڈارون نے انواع کا ماخذ دیکھی ہوتی تو وہ بھی محض والیس کے برابر ہوتا ۔ اس کتاب کے قارئین دو دہائیوں کے اندر اندر اس کے مرکزی تھیسیس کے قائل ہو گئے ۔ اس پڑھے جانے کے قابل کتاب نے ایک انقلاب برپا کیا۔ بعد ازاں ڈارون نے تو ریث آدم اور انسان اور جانوروں میں جذبات کا اظہار (1871ء اور 1872 ء ) لکھ کر مزید وضاحت کی ۔ وہ اپنی ممتاز حیثیت کا حق دار ہے: ” انواع کا ماخذ مشکلات کو تسلیم کرتی اور ان کے ساتھ موزوں انداز میں نمٹتی ہے۔ اس نے ہمت، انکساری اور عزم صمیم کے ساتھ ایک رحمان و رحیم گھڑی ساز خدا کے پرانے تصور کی مخالفت کی ۔ اس میں خدا کو مسترد کرنے کے حوالے سے کچھ بھی نہیں ۔ مگر اس کے باوجود اس نے خدا کے ناقص نظریہ کو شدید نقصان پہنچایا۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں