خود کلامی کا روزنامچہ /اقتدار جاوید

رات سیاّل ہے

سیمگوں ظرف میں ہے انڈیلا اسے

ایک جرعہ بھرا اور ستارہ ہوئی

اندروں ہے نمی

ایک سرخی اذیت بھری جھرجھری

اک سفیدی کہ لذت سے آمیخت ہے

زندگی کھل اٹھی

اب ہے سجدہ فگن ایک نوخیزپن

روح کا بانکپن

لرزشوں کے مصلّے پہ

سانسوں کی تسبیح سنتا رہا

آیت لمس ہی ہست کا ایک اقرار ہے

میرے معبود

چھو کر جو دیکھیں تو سنسار ہے
عارفہ شہزاد کی نظموں کا مجموعہ ” خود کلامی کا روزنامچہ”
(Positivist) ایجابیت پسند
اور
( In positivism)غیر اثباتیت کے حامل رجحانات کے درمیان معلق ہے اور یہ نظم اسی مجموعے میں شامل ہے۔
شاعرہ کے چوگرد بہت ساری دیواریں ہیں جن کو وہ ایک ایک گرا کر آگے بڑھتی ہے۔اسے جیسے اپنے عورت ہونے اور اس کے روایتی کردار سے ہزار سوال ہیں اور ہزارہا بند دروازوں کا سامنا بھی کہ وہ محض محبت کے بے ذائقہ پھل کو تھوک دینے کا حوصلہ رکھتی ہے۔اسے نظم کہنا بھی آتا ہے اور اس میں کس قدر ایمائیت اور کس قدر” ظاہریت” ہونی ہے اس کا بھی مکمل ادراک ہے۔وہ تعلق جو جو خواہش کی بر انگیختی اور ہونٹوں کی چسپانیدگی تک محدود ہے اس کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔اس کے نزدیک مرد اور عورت کا صدیوں پرانا روایتی رشتہ عفونت بھری زنبیل اور بساند آمیز گریے کا سمبندھ ہے۔
یک موضوعی کتابیں ہوں یا نظمیں تخلیق کار کی فعال قوت تخلیق کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس میں متعلقہ موضوع کے ہزارہا پرت آشکار ہوتے ہیں اور معانی کا پھیلاؤ مسلسل بڑھتا چلا جاتا ہے۔اس میں اپنا نقطہ نظر بیان کرنا امتحان بھی ثابت ہو سکتا ہے اور کئی نئے راستے نکالنے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔شاعرہ کی یہ نظمیں بطور عورت خود سے ہمکلامی ہے۔ان نظموں میں شاعرہ نے خود کو دریافت کرنے کی سعی ِ مشکور کی ہے وہ یوں کہ مرد اور عورت کا لافانی کردار اس طرح زیر بحث آیا ہے جس میں کہیں بھی دکھوں کی ماری اور روتی کرلاتی عورت نہیں ایک سوچنے سمجھنے والی اور حالات کے سامنے سینہ سپر کرنے والی عورت سے آپ کا سامنا ہوتا ہے۔یہ کرادر دن کی روشنی کی علامت ہے۔ رات کے اندھیرے اور اس سے وابستہ تعلق سے ازلی تکرار اور انکار ہے۔ایک ایک نظم کو لے کر اگر زیر بحث لایا جائے تو اس کتاب کے حسن و قبح کے اور ہزار در وا ہوں۔مگر مجموعی طور پر اس میں آپ کو نسوانیت بھرے اور اسے متعلقہ موضوعات نہیں ملیں گے یہ کتاب عورت کے ازلی مناقشات کو گوارا بناتی ہے۔ان سوالات کا کلائمکس مریم کی بیٹی نہیں تھی میں زیادہ واضح ہو سامنے آتا ہے جس میں خود سے اوپر اٹھ کر خدا سے مکالمہ اور اس کے سامنے رکھا ہوا سوال نامہ ہے۔یہاں مورخ کو مخاطب کیا گیا ہے جہاں اسلامی تلمیحات سے تانا بانا بنا گیا ہے اور مریم، حوا اور نوح کی تلمیح کو اپنے انداز میں سمجھنے کریدنے اور جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔مریم کے بارے میں پرانے عہد نامے میں درج ہے کہ دیکھو کنواری حاملہ ہو گئی اور اس کو بیٹا ہو گا (اشعیاہ 7.14) اور اس وقت آپ یوس نامی شخص کی منگیتر تھیں (لوقا 1.35)۔شاعرہ نے مریم کے تقدس کے تناظر میں اپنی ذات کا سوال اٹھایا ہے۔یہ ایسی گتھی ہے جو خود شاعرہ کے لاینحل وجود کی طرح نہیں کھل سکی۔
مرد کی معاشرت اور عورت کی عبایا اور حجاب کی چھتر چھایا میں سوال ” ناف سے اوپر” بھرپور مشاہداتی تجربے کے بطون سے اٹھا ہے کہ
مرد ہے بی بی

شرٹ اتارے

چھوٹا کچھا پہن کے بازاروں میں گھومے

اس کی مرضی

دیہاتوں میں لنگی اڑسے مرد نہیں دیکھے ہیں تو نے

ناف سے اوپر ان کا کوئی ستر نہیں ہے

julia rana solicitors london

چنتا مت کر!
سوالوں کا لامتناہی سلسلہ اور اس کے مختلف شیڈز قاری کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
جو اہمیت ایک ماں کی ہے ایک بیوی کی ہے ایک بہن کی ہے یا بیٹی کی ہے تخلیق کار اپنی ذات کے حوالے سے خود کو ایسے کسی روایتی ڈبے میں فٹ محسوس نہیں کرتی جیسے اس کی منزل ورا الورا ہے۔جہاں وہ ان کرداروں سے الگ اور اوپر ہو۔یہ الگ وضع کی کھوج ہے جس میں شاعرہ گرفتار بھی ہے اور تازہ دم بھی۔
یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے ایک حصہ آزاد نظموں اور دوسرا نثری نظموں کا۔ان دونوں حصوں کو مزید دو عنوانات دیے گئے ہیں۔آزاد نظمیں آنکھ کہاں تک جا سکتی ہے اور نثری نظموں کا حصہ گفتگو نظم نہیں ہو سکتی ہے پر مشتمل ہے۔دونوں حصوں کے مزاج اور اسلوب میں واضح لائن کھنچی ہوئی ہے۔پہلا حصہ انکار اور دوسرا اقرار یا اثباتی پہلؤوں سے متعلق ہیں۔نثری نظموں کا مجموعی تاثر عصری صورت حال سے مملو ہے۔وہاں ایک سکون اور قرار کی کیفیت ہے اور باغیانہ مزاج کی بجائے ایک ساتھ چلنے اور رہنے کی خواہش ہے۔
ایسے لگتا ہے کہ دونوں حصوں کی نظموں کے تخلیقی عرصے میں کافی فرق ہے۔اب یہ معلوم نہیں کہ دونوں حصوں میں کون سا پہلے لکھا گیا ہے۔
اس سے قبل شاعرہ کی اور بہت ساری تصانیف کے ساتھ اردو شاعری کا اہم مجموعہ عورت ہوں نا کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔عارفہ شہزاد ایک تنقید نگار بھی ہیں اور ناول نگار بھی۔ان کا ناول میں تمثال ہوں ادبی حلقوں میں بہت دیر تک زیر بحث رہا ہے اور اب بھی اس کا ذکر کہیں نہ کہیں ہوتا رہتا ہے۔وہ پنجابی زبان میں بھی شاعری کرتی ہیں۔چار سال قبل ان کی پنجابی نظموں کے دو مجموعے ” چالھی چٹھیاں” اور ” آکھیا نئیں سی” شامل ہیں۔

Facebook Comments

اقتدار جاوید
روزنامہ 92 نیوز میں ہفتہ وار کالم نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply