کئی سال پہلے ایک کتاب پڑھی تھی Journal of a Solitude
یہ بیلجیم امریکن ناول نگار اور یاد نگار مے سارٹن کی اچھی بری، ننگی اور ڈھکی ہوئی مگر انتہائی دلچسپ اور مسرت بخش یادوں کے بے باک اظہار پر مشتمل کتاب تھی۔ اس کتاب نے کئی دن اور کئی راتیں مسرور و مسحور کیے رکھا تھا۔ تنہائی اور یادوں پر مشتمل ایک اور کتاب سید کاشف رضا کے گھر میں پڑی دیکھی تھی۔ ادھر ہی بیٹھے بیٹھے اس کے چند صفحے پڑھ کر دماغ کو آگ لگائی تھی۔ بعد میں کتاب کا نام یاد رہا نہ مجھے اس کا اتا پتا پوچھنا ہی یاد رہا۔ یاد رہا تو بس اتنا کہ کتاب ٹکڑوں میں تھی اور ہر ٹکڑےپر عنوان تھا۔ خیر، نصیب ہوئی تو زندگی میں دوسری بار ضرور دِکھے گی۔
ابھی چند ہفتے پہلے تنہائی اور یادوں کو جھلکاتی عاصم کلیار کی کتاب شائع ہوئی تو فوراً خرید لی۔
اپنے موضوع اور اسلوبِ نگارش میں یہ دلچسپ اور فرح بخش کتاب ثابت ہوئی ہے۔ تاثیر میں اس کی گنتی ایسی کتابوں میں کی جا سکتی ہے جنھیں ایک بار پڑھ لینے کے بعد دوسری بار پڑھنے كو جی چاہتا ہے۔
چنانچہ کتاب کو دو مرتبہ پڑھ لینے کے بعد میں یہ سوچ کر آپ دوستوں کو اپنے مطالعے میں شریک کررہا ہوں کہ ایک اچھی کتاب کی چرچا کرنا ادبی فریضے سے کم تر شے نہیں۔
تنہائی سے گفتگو: یادیں اور کتابیں
کیسا توجہ کھینچنے والا نام ہے! پھر کتاب کا بک کوَر ایسا جاذب ہے کہ کتابوں کا عاشقِ صادق کتاب کو آگے پیچھے سے ٹٹول کر جائزہ لیے بنا نہیں رہ پائے گا۔ کوٓر میں کہیں ہلکے تو کہیں گہرے نارنجی، آکاسی اور بسنتی رنگوں سے تنہائی کی جھلک نمایاں کی گئی ہے۔ رنگوں کا یہ امتزاج آرٹسٹک ہے۔
آرٹ ورک کوَر تک محدود نہیں۔ کتاب کے اندر کے دونوں حصوں ــــ یادیں، کتابیں ـــ کی ابتدائیں بھی فرانسیسی آرٹسٹ ہنری ماتیس اور نارویجین فن کار ایڈورڈ منچ کی رقص و چیخ کی عکاسی کرتی تصویروں سے ہوتی ہیں۔
کتاب کے پہلے حصے کے دس کے دس مضامین واحد حاضر کے صیغے میں لکھے گئے ہیں۔ گویا فکشن کا راوی اپنے کردار سے مخاطب ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے مصنف اپنے بچھڑنے والے ممدوحین سے وہ سب باتیں کھل کھلا کر کرنا چاہتا ہے جو، کسی نہ کسی وجہ سے، وہ ان کی زندگی میں نہ کرسکا۔
ضروری نہیں کہ ایسا ہو۔
ممکن ہے لکھنے والے کو بچھڑنے والوں کی یاد نے اس قدر ستایا ہو کہ اس کے پاس ان سے تنہائی میں مخاطب ہو جانے کے سوا کوئی اور چارہ ہی نہ رہ گیا ہو۔
یہ بھی ضروری نہیں!
ممکن ہے کہ وہ یہ محسوس کرتا ہو کہ اس کے قرابت داروں ـــــ میری الیز بیتھ، فہمیدہ ریاض، ابرار حسین، زاہد ڈار، آصف فرخی، لتا منگیشکر، دختر اللہ یار خان کلیار، میاں اکرم کلیار، بانو قدسیہ وغیرہ ـــــ کی عنایات کا اس پر قرض ہے جسے وہ ان سے تنہائی میں گفتگو کی صورت میں لوٹانا چاہتا ہے۔
ممکن ہے ان میں کوئی بات بھی درست نہ ہو۔ ممکن ہے یہ ساری باتیں درست ہوں۔ یا ممکن ہے ان سب باتوں کے سوا بھی بہت کچھ ایسا ہو جو میں، بطور ایک پڑھنے والے کے، سمجھ نہ پایا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ عاصم کلیار کی کتاب کا یہ حصہ تفہیمی امکانات سے پُر ہے۔
وہ کونسے عناصر یا تحریر کی کونسی مہارتیں ہیں جنھوں نے کتاب میں اتنے امکانات بھر دیے ہیں؟ سادہ لفظوں میں کہوں تو وہ نثر کا اجلا اور جینوئن ہونا ہے۔ مصنف زبان دانی کا ڈسپلے سینٹر کھول لینے کی بجائے سہجتا اورسچی لگن کے ساتھ اپنے احساسات اور جذبات کا واضح اظہار کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ حالانکہ جتنا کثیرالمطالعہ وہ ہے، چاہتا تو بآسانی صدق جائسی، شاہد دہلوی یا فرحت بیگ جیسے نثر نگاروں کے زخیرہ ہائے الفاظ سے “اکتساب فیض” کرکے اپنی نثر کو چمکا سکتا تھا۔ ( ہمارے کچھ دوست اپنی تحریروں میں ایسے ٹانکے فٹ کرنے کے شوقین ہیں ) عاصم کلیار نے ایسا نہ کرکے جینوئن لکھنے والا ہونے کا ثبوت دیا۔
سچا لکھنے والا کسی کی پیروی نہیں کرتا، پیغمبروں کی بھی نہیں۔
کتاب کے دوسرے حصے میں مصنف نے اپنی چند پسندیدہ کتابوں کے مطالعوں میں ہمیں شریک کیا ہے۔ لیکن یہ شراکت داری نہ تو روایتی تبصرے کی صورت میں کی گئی ہے، نہ پڑھی گئی کتابوں کے تعارف کے رنگ میں اور نہ ہی تنقیدی مضمون کی شکل میں۔ کتابوں کے ان مطالعوں کو نام دینے سے میں قاصر ہوں۔
تاہم یہ نثری مضامین، انشا پردازی کی جس بھی صنف سے تعلق رکھتے ہوں، ہیں بہت الگ۔ بہت توجہ سے ان مضامین کو پڑھنے پر آپ جاننے لگ جاتے ہیں کہ جس کتاب پر یہ مضمون ہے، لکھنے والا نہ صرف کتاب کے موضوع پر انوکھے ڈھنگ سے بات کررہا ہے بلکہ وہ کتاب پڑھتے پڑھتے اپنے تخیل میں جہاں جہاں بھٹکا پھرا ہے، اس سب کا اظہار بھی وہ ساتھ ساتھ کرتا چلا جارہا ہے۔
ان مضامین کی ایک اور خوبی یہ ہیں کہ ان میں جگہ جگہ چھوٹے بڑے اقتباسات بھی درآتے ہیں۔ اس سے متبصرہ کتاب کے متن کے ذائقے چکھنے کا موقع بھی تبصرہ خواں کو مل جاتا ہے۔ یہ رنگ ہمیں غلام عباس اور محمد خالد اختر کے تبصروں میں بھی ملتا ہے۔
اس حصے میں سب سے زیادہ دلچسپ اور مفصل مضامین یہ ہیں: اکرام اللہ کے فکشن پر ” تنکے کو ڈوبتے کا سہارا” اور ان کی جیون کہانی “جہان گزراں” پر “یہ دنیا رنگ رنگیلی بابا”۔ فرانسیسی ناول نگار ڈومینیک لےپیاہ کے ناول دا سٹی اوف جوئے پر “دیکھتا ہے پیر فلک تماشا کیا کیا”, ہارفورڈ مونٹگومری ہائڈ کی کتاب آسکر وائلڈ پر “دل میں چبھتا ہے وہ گلاب بہت”، کتاب میتھیس ایٹ ولا لے ریو پر “دس برس پکاسو کے ساتھ” اور وکرم سمپتھ کی گوہر جان پر “کریں ذکر شیخ و برہمن کا”۔
اس مختصر سے تعارف کی آخری بات ( حالانکہ کسی کتاب پر کوئی بات آخری نہیں ہوتی) یہ ہے کہ یہ ایک مسرت انگیز کتاب ہے۔ مسٹر قاری، اب ایمانداری سے ذہن ہی ذہن میں سوچو اور بتاؤ کہ سال بھر میں اردو کی کتنی مسرت انگیز کتابوں سے تمھارا واسطہ پڑتا ہے؟
تم چاہو تو جھوٹ کا سہارا بھی لے سکتے ہو۔ بس بات ایسے کرنا کہ دل کو لگے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں