ارتقائی تنقید کے تحت منٹو کے افسانے ’ہتک‘ کا مطالعہ/ظفر سیّد

ادب دراصل تحریر کردہ زندگی ہے، کیوں کہ ادیب کہانیاں اپنی، یا اپنے اردگرد کے انسانوں کی زندگیوں ہی سے اخذ کرتا ہے، اور اس کے کردار، چاہے ان کا تعلق کتنی ہی دورافتادہ فنتاسی سے کیوں نہ ہوں، انہی مسائل سے نبردآزما ہوتے ہیں جو ہم آپ کو درپیش ہیں، مثلاً زندگی اور موت، پیار محبت، دوستی، مامتا، حسد، نفرت، ہوس، مایوسی، خوف، غصہ، انتقام، وغیرہ۔
اس لیے اگر انسانی جذبے ڈارون کے پیش کردہ نظریۂ ارتقا کے زیرِ اثر ہیں تو پھر ان جذبوں کی تال پر تھرکنے والے کردار بھی ارتقائی چھتری کے سائے تلے آتے ہیں۔
ارتقائی تنقید کی بنیاد ارتقائی نفسیات پر ہے، اور انسانی نفسیات کا ارتقا انسان کے جسمانی ارتقا کے ساتھ ساتھ ہوا اور اس کا مقصد انسان کو وہ صلاحیتیں بخشنا تھا جو اسے زندہ رہنے اور نسل بڑھانے کے لیے معاون تھیں، اور ان خصوصیات کی شاخ تراشی کرنا تھا جو بقا کی راہ میں حائل تھیں۔
ارتقائی تنقید ادبی تنقید کا ایک نیا ڈسپلن ہے جس کے تحت ادبی تخلیقات پر ارتقائی اصول لاگو کر کے معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آخر گلگامش اور انکائیدو کی دوستی اتنی پکی کیوں ہے؟ اوتھیلو کیوں حسد کی آگ میں بھسم ہو کر بیوی کو قتل کر دیتا ہے؟ جین آسٹن کے ناولوں میں عورتیں مسلسل بلند مرتبہ بر کی تلاش میں کیوں سرگرداں رہتی ہیں؟ ڈان ہوان جیسے کردار عورتوں میں کیوں اتنے مقبول ہوتے ہیں؟ وہ کون سی ہوک ہے جو آنا کاریننا کو تڑپائے رکھتی ہے؟ ہومر کے کردار انسانی خون کے پیاسے کیوں ہیں؟
اور منٹو کی سوگندھی کے دل میں ایک سیٹھ کی ’اونہہ‘ کیوں ترازو ہو کر رہ گئی؟
اس آخری سوال کا جواب دینے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ارتقائی نظریات کی روشنی میں دیکھیں کہ
ہتک اتنا چبھتی کیوں ہے؟
منٹو نے ’ہتک‘ کے علاوہ کئی اور جگہوں پر توہین کے موضوع کو برتا ہے۔ ان کا افسانہ ’نعرہ‘ اس فقرے سے شروع ہوتا ہے، ’اسے محسوس ہوا کہ اس سنگین عمارت کی ساتوں منزلیں اس کے کاندھوں پر دھر دی گئی ہیں۔‘
یہ ساتوں منزلیں افسانے کے کردار کیشو لال پر اس لیے دھری ہیں کہ اس کو مالک مکان نے کرایہ نہ دے پانے کے بعد گالیاں دی ہیں، جنہوں نے کیشو لال کے تن بدن میں وہ ہلڑ مچا دیا ہے جس طرح بقول منٹو، ’کسی گرماگرم جلسے میں شرارت سے بھگدڑ مچ جاتی ہے۔‘
اب سوال یہ ہے کہ انسان کے تن بدن میں اپنی توہین یا ہتک سے آگ کیوں لگ جاتی ہے کہ وہ بعض اوقات جان دینے یا جان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے؟
اس کی وجہ وہی ارتقائی ہے۔ یاد کیجیے کہ انسان لاکھوں برس سے چھوٹے قبیلوں میں رہتا چلا آیا ہے، جہاں قبیلے کے دوسرے افراد سے سماجی تعاون زندگی اور موت کے درمیان لکیر ہوا کرتا تھا۔ اب تصور کیجیے کہ اس معاشرے میں آپ کی کسی نے توہین کر دی ہے۔ آپ کیا کریں گے؟
آپ کے سامنے دو ہی راستے ہیں: چپکے سے توہین کو پی جائیے، یا پھر اس کا بھرپور جواب دیجیے۔
جواب کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں گالی سے زیادہ نقصان کا احتمال ہے۔ یعنی آپ کو کسی نے گالی دی، آپ نے گالی کا جواب گالی سے دیا، لیکن اگلا شخص آپ سے تگڑا تھا، اس نے آ کر پھینٹی لگا دی، اور سب کے سامنے آپ کی سبکی در سبکی ہو گئی۔
تو کیا ارتقائی عمل کے تحت گالی کے جواب میں دم دبا کر نکل جانا ہی بہترین حکمت عملی ہے؟
نہیں۔ سب کے سامنے آپ کی عزت پر حرف آیا، آپ کا نام بدنام ہوا، ذلت ہوئی، آپ نے ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا تو قبیلہ آپ کے بارے میں کیا سوچے گا؟ ’یہ شخص اتنا ڈرپوک ہے کہ ہر کوئی اس پر چڑھ دوڑتا ہے اور یہ چوں تک نہیں کرتا؟‘ آپ پر کون اعتماد کرے گا؟ آپ کو شکار کا ساتھی کون بنائے گا؟ آپ کو شکار میں برابر کا حصہ کون دے گا؟ اور سب سے بڑھ کے، آپ اپنا مناسب بر کیسے تلاش کریں گے؟
چھوٹے قبیلے یا چھوٹے گاؤں میں اس طرح کی چٹخارے دار خبریں پر لگا کر اڑتی ہیں۔ ایک گالی، ایک جھوٹا الزام، آپ کی ساکھ داؤ پر لگا دیتا ہے جس سے آپ کی جسمانی بقا اور تولیدی مستقبل دونوں خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ارتقائی عمل نے لاکھوں برس کے دوران ان لوگوں کی نسلوں کو باقی رکھا ہے جو توہین پر ردِ عمل دیتے تھے، نہ کہ یہ مکھی چپکے سے نگل لیتے تھے۔
یہ ردِ عمل فوری اشتعال کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے (روز اخبار میں خبریں آتی ہیں کہ معمولی طعنے یا تحقیر پر چھریاں چل گئیں)، یا پھر طویل مدت کینے کی شکل میں بھی۔ لیکن دونوں صورتوں میں توہین چبھتی ہے اور بہت بری چبھتی ہے۔
چبھنے کا لفظ میں نے استعاراتی طور پر استعمال نہیں کیا۔ دماغ کی امیجنگ سٹڈیز بتاتی ہیں کہ توہین سے دماغ کے اندر وہی مراکز اور نظام فعال ہو جاتے ہیں جو جسمانی درد کے وقت ہوتے ہیں۔
جسمانی درد پر آ جائیے۔ اس کا مقصد کیا ہے؟ اس لیے کہ انسان جلدی سے اس چیز سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرے جو درد دے رہی ہے۔ اگر کسی انسان یا جانور کو درد ہی نہ ہوتا ہو تو اس کا زندہ رہنا ہی مشکل ہو جائے گا کیوں کہ اسے شدید زخم کا اول تو پتہ ہی نہیں چلے گا، چل بھی گیا تو وہ تو وہ اس کا فوری مداوا کرنے کے لیے سرگرم نہیں ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ ارتقا نے انسان اور دوسرے جانوروں میں درد دینے والے اشیا سے بچنے اور درد کے بعد اس کا کوئی بندوبست کرنے پر مجبور کرنے کے لیے درد کا احساس رکھا ہے۔
اسی طرح سے توہین سے درد اس لیے ہوتا ہے کہ توہین بھی آپ کی بقا کے لیے خطرناک ہے اور اس درد کا مقصد یہی ہے کہ آپ اس کا کوئی نہ کوئی تدارک کریں، کوئی تریاق ڈھونڈیں، چاہے وہ تدارک فوری ہو (اشتعال)، یا طویل مدت (منصوبہ بند انتقام)۔
اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہر انسان ہر بار ہر توہین کا بدلہ ضرور لیتا ہے۔ بدلہ لینا یا نہ لینا حالات پر منحصر ہے، مگر توہین کا درد؟ وہ ہر کسی کو ہوتا ہے۔
سوگندھی کا المیہ
اب جب کہ ہم نے ارتقائی نقطۂ نظر سے توہین کا جائزہ لے لیا، تو کیوں نہ اس کے اصولوں کو منٹو کے افسانے پر منطبق کر کے دیکھا جائے کہ اس بحر کی تہہ سے کیا اچھلتا ہے۔
’ہتک‘ نہ صرف منٹو کے دو تین بڑے افسانوں میں سے ایک ہے، بلکہ اردو ادب کے بھی چوٹی کے شاہکاروں میں آسانی سے جا پاتا ہے۔
حسبِ معمول، کہانی پر ایک نظر: سوگندھی ایک نچلے درجے کی طوائف ہے، ایک غلیظ کھولی میں رہتی ہے جس کا بھاڑا پندرہ روپے اور خود سوگندھی کا بھاڑا دس روپے ہے، جس میں سے ڈھائی روپے دلال کاٹ لیتا ہے۔ سوگندھی کے طوائفوں میں مرتبے کا اندازہ اس سے لگائیے کہ رام لال دلال بمبئی شہر کے مختلف حصوں میں دس روپے سے لے کر سو روپے کی ایک سو بیس چھوکریوں کا دھندا کرتا ہے، اور اس کے کھاتے میں سوگندھی دس روپے بھاڑے کے ساتھ پاتال میں ہے کیوں کہ ایک تو وہ واجبی شکل و صورت کی ہے اور دوسرے یہ کہ اس کی عمر بھی ڈھلتی جا رہی ہے۔
اب آ جائیں جبلتوں پر، جنہیں ارتقائی عمل نے لاکھوں برس کے عمل کے دوران تراشا ہے۔ کسی بھی دوسری عورت کی طرح سوگندھی بھی چاہتی ہے کہ اس کا اپنا گھر ہو، چاہنے والا، خیال رکھنے والا پتی ہو، یا دوسرے الفاظ میں اس کی بھی نسل آگے بڑھے۔
افسانے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اس کا ایک بچہ پیدا ہوا تھا مگر شاید زندہ نہیں بچ سکا، لیکن اس کے پیٹ پر کتے کے کھرونچوں جیسی لکیریں بطور نشانی چھوڑ گیا جو یقیناً سوگندھی کے دل میں ہوک پیدا کرتی ہوں گی۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر دہراتی رہتی تھی، ’سوگندھی، تجھ سے زمانے نے اچھا سلوک نہیں کیا!‘
سوگندھی کا پیشہ جنس کا کاروبار تھا، لیکن وہ اس کام کو بھی کاروباری انداز میں سرانجام دینے سے قاصر تھی۔ جبلت سوگندھی کو مجبور کرتی رہتی تھی۔ منٹو نے لکھا ہے: ’گو مرد اور عورت کے جسمانی ملاپ کو اس کا دماغ بالکل فضول سمجھتا تھا مگر اس کے جسم کے باقی اعضا، سب کے سب، اس کے بہت بری طرح قائل تھے۔‘
اور یہ بھی کہ ’سوگندھی دماغ میں زیادہ رہتی تھی لیکن جوں ہی کوئی نرم ونازک بات، کوئی کومل بول اس سے کہتا توجھٹ پگھل کر وہ اپنے جسم کے دوسرے حصّوں میں پھیل جاتی۔‘
افسانے کے مطابق ’پریم کر سکنے کی اہلیت اس کے اندر اِس قدر زیادہ تھی کہ ہر اس مرد سے جو اس کے پاس آتا تھا، وہ محبت کر سکتی تھی اور پھر اس کو نباہ بھی سکتی تھی۔‘
اور آگے چل کر: ’کبھی کبھی جب پریم کرنے اور پریم کیے جانے کا جذبہ اس کے اندر بہت شدّت اختیار کر لیتا تو کئی بار اس کے جی میں آتا کہ اپنے پاس پڑے ہوئے آدمی کو گود میں لے کر تھپتھپانا شروع کر دے اور لوریاں دے کر اسے اپنی گود ہی میں سلا دے۔‘
سوگندھی کی جذباتی لینڈسکیپ کا ایک اور رخ دیکھیے: ’اِس بات کا بار بار تہیّہ کرنے پر بھی کہ وہ ان مردوں کی کوئی ایسی ویسی بات نہیں مانے گی اوران کے ساتھ بڑے روکھے پن کے ساتھ پیش آئے گی، ہمیشہ اپنے جذبات کے دھارے میں بہہ جایا کرتی تھی اور فقط ایک پیاسی عورت رہ جایا کرتی تھی۔‘
یہاں سوگندھی کے کاروباری پن اور جبلت کے درمیان دلچسپ ٹکراؤ دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ کسی بھی گاہک کے ساتھ جنسی عمل کو کاروباری لین دین کے نقطۂ نظر سے نہیں، بلکہ حیاتیاتی قوتوں کے زیرِ اثر دیکھنے پر مجبور تھی۔ اس کے اعضا اس ازلی جبلت کے تحت کام کر رہے تھے جن کے نزدیک جنس کا مقصد بچہ پیدا کرنا ہے۔
سوگندھی کو حسرت ہے کہ کبھی کوئی گاہک آ کر اس سے کہے، ’دیکھ تو آج تیری ناک کتنی لال ہورہی ہے کہیں زکام نہ ہو جائے تجھے——ٹھہر میں تیرے واسطے دوا لاتا ہوں۔‘ یہ چاہنے اور چاہے جانے کا جذبہ سوگندھی کی رگ رگ میں سمایا ہوا ہے۔
افسانے کے شروع میں ایک داروغہ اس کے ساتھ سو کر گیا ہے، جو ’رات کو یہاں بھی ٹھہر جاتا مگر اسے اپنی دھرم پتنی کا بہت خیال تھا جو اس سے بے حد پریم کرتی تھی۔‘
سوگندھی اس قسم کی باتیں روز سنتی ہو گی۔ مرد اپنی پیاس بجھانے یا نئے جنسی تجربات سے ہمکنار ہونے کے لیے اس کے پاس آتے تھے مگر گھڑی دو گھڑی گزار کر اپنی اپنی دھرم پتنیوں کے پاس پلٹ جایا کرتے اور سوگندھی کی روح کے اندر خلا چھوڑ جاتے تھے۔ شاید اسی خلا کو پر کرنے کے لیے اس نے اپنی غلیظ کھولی کی دیوار پر چار مردوں کی تصویریں ٹانگ رکھی ہیں، جن میں سے کوئی ایک اس کا ممکنہ پتی ہو سکتا تھا۔ ایک میونسپلٹی کا داروغۂ صفائی ہے، دوسرا کوئی بھونڈی شکل والا، تیسرا پگڑی والا، چوتھا مادھو۔
یہ مادھو بڑا دلچسپ کردار ہے۔ وہ خود کو پونے میں حوالدار بتاتا ہے، سوگندھی پر اپنا حق جتاتا ہے، اس کی حالت پر ترس کھاتا ہے، اور ہر بار اسے دھندا چھوڑنے کی تلقین کرتا ہے: ’اگر تو نے ایک بار بھی کسی مرد کو اپنے یہاں ٹھہرایا تو چٹیا سے پکڑ کر باہر نکال دوں گا۔ دیکھ، اس مہینے کا خرچ میں تجھے پونا پہنچتے ہی منی آرڈر کر دوں گا۔‘
مادھو کی باتوں کا سوگندھی پر اتنا اثر ہوتا ہے کہ ’وہ چند لمحات کے لیے خود کو حوالدارنی سمجھنے لگی تھی۔‘
لیکن مادھو کی باتیں باتیں ہی رہتی ہیں۔ سالہاسال سے وہ سوگندھی کو اپنانے کے وعدے کرتا ہے مگر پھر یہ وعدے اس کے ذہن کی سلیٹ سے محو ہو جاتے ہیں اور وہ مہینے دو مہینے کے بعد آ کر وہی آموختہ دہراتا ہے، اور بجائے سوگندھی کو پیسے دینے کے الٹا اسی سے بیس تیس روپے ہتھیا کر دوبارہ پونے پلٹ جاتا ہے، شاید اپنی دھرم پتنی کے پاس۔
سوگندھی کو سب معلوم ہے، وہ پانچ سال سے دھندا کر رہی ہے اور اس دوران بھانت بھانت سینکڑوں مردوں کو بھگتا چکی ہے۔ وہ مادھو کی حقیقت جانتی ہے، مگر اس کے اندر گھرہستی کی پیاس اتنی شدید ہے اور نسل بڑھانے کا فطری جذبہ اتنا منہ زور ہے کہ وہ کھلی آنکھوں مکھی نگلنے پر مجبور ہے۔
افسانے کے الفاظ کے مطابق، ’جس کو اصل سونا پہننے کو نہ ملے وہ ملمّع کیے ہوئے گہنوں ہی پر راضی ہو جایا کرتا ہے۔‘
اور پھر ایک افسانے کی لگی بندھی دنیا میں ایک بھونچال آتا ہے۔ دلال سوگندھی کو ایک سیٹھ سے ملانے کے لیے باہر لے جانا چاہتا ہے۔ سوگندھی جلدی جلدی پھولوں والی ساڑھی پہنتی ہے اور منہ پر سرخی پوڈر لگا کر سیٹھ کے پاس پہنچ جاتی ہے جو اس بدنام گلی سے باہر سیاہ رنگ کی موٹر میں انتظار کر رہا ہے۔ مگر سیٹھ ٹارچ کی روشنی سوگندھی کے چہرے پر ڈالتا ہے اور پھر ’اونہہ‘ کہہ کر گاڑی بھگا لے جاتا ہے۔
دلال، جس نے شاید اپنے کمیشن کے لالچ میں سیٹھ کے آگے سوگندھی کی کچھ زیادہ ہی تعریفیں کر ڈالی تھیں (’بڑی اچھی چھوکری ہے۔ تھوڑے ہی دن ہوئے ہیں اِسے دھندا شروع کیے‘)، کھسیا کر سوگندھی سے کہتا ہے، ’پسند نہیں کیا تجھے،‘ اور چلا جاتا ہے۔
سوگندھی وہیں کھڑی کی کھڑی رہ جاتی ہے۔ سیٹھ کی ’اونہہ‘ کا بوجھ ہزاروں گالیوں سے بھاری ہے جو اس کے جسم کے ساتھ ساتھ روح کو بھی کچل گیا ہے۔ اسے دکھ ہے کہ وہ اس سیٹھ کی خاطر رات کے دو بجے کیوں بنی سنوری۔ پھر خود کو دھوکہ آمیز تسلی دیتی ہے: ’میں نے اس موئے کو دکھانے کے لیے تھوڑی اپنے آپ کو سجایا تھا، یہ تو میری عادت ہے، میری کیا سب کی یہی عادت ہے۔‘
سیٹھ کی یہ دھتکار سوگندھی کو اپنے ساتھ ہونے والی ساری زیادتیوں، محرومیوں اور زندگی کی چیرہ دستیوں کے زخم ہرے کر دیتی ہے۔ وہ سارے کچوکے جو وہ اب تک سہتی چلی آئی تھی، اس ایک ٹھوکر کے بعد اس کے وجود میں بھونچال پیدا کر دیتے ہیں، ایسے ہی جیسے عربی محاورے کے مطابق اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا، جو اس کی کمر توڑ دیتا ہے۔
اس ہتک کے بعد منٹو نے سوگندھی کی کیفیت بیان کرنے کے لیے کئی صفحے اور درجنوں پیراگراف مختص کیے ہیں۔ افسانے میں کل 8169 الفاظ ہیں، جن میں سے 22 سو سے زیادہ الفاظ صرف سوگندھی کی بعد از ہتک نفسیاتی کیفیت کے بیان کے لیے صرف ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک پیراگراف خاص طور پر ہمارے لیے مفید مطلب ہے:
’اس کے جسم کا ذرّہ ذرّہ کیوں ’ماں‘ بن رہا تھا۔ وہ ماں بن کر دھرتی کی ہر شے کو اپنی گود میں لینے کے لیے کیوں تیار ہو رہی تھی؟ اس کا جی کیوں چاہتا تھا کہ سامنے والے گیس کے آہنی کھمبے کے ساتھ چمٹ جائے اور اس کے سرد لوہے پر اپنے گال رکھ دے۔ اپنے گرم گرم گال، اور اس کی ساری سردی چوس لے۔‘
یہ بات قابلِ ذکر اور قابلِ فکر ہے کہ منٹو نے افسانے میں تقریباً چھ ہزار لفظوں کے بعد پہلی بار جا کر سوگندھی کی ماں بننے کی خواہش کا ذکر کیا ہے۔ یہ خواہش وہی جاودانی ڈارونی خواہش ہے جو ہر ذی روح کو مسلسل متحرک رکھے ہوئے ہے۔ گھر گھرہستی کے سہانے سپنے، خیال رکھنے والے پتی کی آشا، دراصل نسل کو آگے بڑھانے کی للک ہے۔
اب تک یہ کسک، یہ تڑپ چھ ہزار لفظوں کے انبار تلے چھپی ہوئی تھی، مگر سیٹھ کی گھرکی نے اسے باہر نکال دیا۔
سوگندھی یہی چوٹ لے کر جب اپنی کھولی میں پہنچی تو دیکھا کہ مادھو، بےوفا، دھوکے باز، فراڈیا، سوگندھی کے گھر بسانے کے جذبات سے کھیلنے والا، مادھو وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ سوگندھی، جو عام حالات میں اس کے جھوٹ کو جان بوجھ کر پی جاتی تھی، مگر اب جب کہ کیٹیگری 5 کی طوفانی ہتک کے بعد صبر کے ڈیم کی دیواریں ڈھے گئی ہیں، سوگندھی کسی گمان کسی وہم کی دنیا میں رہنے، کوئی لگی لپٹی رکھنے کی اہلیت کھو بیٹھی ہے۔
مادھو بیچارے کی شامت آئی، وہ غلط وقت پر غلط جگہ پہنچا۔ سوگندھی اپنی کھولی کی طرف جاتے جاتے دل میں کئی منصوبے بناتی ہوئی آئی تھی کہ اگر سیٹھ ملے تو وہ اس سے اس طرح انتقام لے گی، اس طرح انتقام لے گی: سوگندھی ’وحشی بلّی کی طرح جھپٹے اور، اور اپنی انگلیوں کے سارے ناخن جو اس نے موجودہ فیشن کے مطابق بڑھا رکھے تھے، اس سیٹھ کے گالوں میں گاڑ دے۔‘
لیکن اصل مسئلہ سیٹھ کا تھا ہی نہیں، اصل مسئلہ مادھو اور اس جیسے دوسرے دودھ پینے والے مجنوؤں کا تھا جنہوں نے سوگندھی کو لارے لگا رکھے تھے اور جن میں سے چار کی تصویریں اس نے کھولی میں لٹکائی ہوئی تھیں۔ اس لیے وہی توہین و تذلیل جو سیٹھ نے سوگندھی پر تھوپی تھی، اس نے مادھو کو سود کے ساتھ لوٹا دی، اور اسے تقریباً دھکے دے کر کھولی سے نکال دیا۔
البتہ مادھو کے جانے سے سوگندھی کے دل و دماغ میں آخری امید کی کرن بھی بجھ گئی۔ یہاں منٹو نے بڑی خوبصورت امیج پیش کی ہے: ’اسے ایسا لگا کہ ہر شے خالی ہے، جیسے مسافروں سے لدی ہوئی ریل گاڑی، سب سٹیشنوں پر مسافر اتار کر اب لوہے کے شیڈ میں بالکل اکیلی کھڑی ہے۔‘
افسانے کے آخری فقرے میں سوگندھی اپنے خارش زدہ کتے کو اٹھا کر ساگودان کے چوڑے پلنگ پر پہلو میں لٹا کر سو جاتی ہے۔ گویا اب وہ انسانوں پر اعتبار مکمل طور پر کھو چکی ہے اور ایک کتا، وہ بھی خارش زدہ، اس کے نزدیک مادھو جیسے مردوں سے بہتر ہے، جنہوں نے اس کی گھر بسانے کی خواہش، بچے پیدا کرنے اور انہیں پالنے کی ارتقائی خواہش کو بےدردی سے کچلا اور اسے بدلے میں کچھ دیا تو جھانسے، ہیراپھیریاں اور سراب۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply