ہاتھ کنگن کو آرسی کی/عارف خٹک

مضمون شروع کرنے سے پہلے میں دونوں ہاتھ اٹھا کر خواتین کے سامنے سر بسجود اپنی شکست تسلیم کرتا ہوں کہ اس مضمون میں جو کچھ کہوں گا، اسے سچ مت سمجھئے بلکہ ایسا سچ سمجھئے جو شوہر حضرات عموماً اپنی بیویوں سے بولتے ہیں۔ آپ بھی اس بات پر متفق ہوں گی کہ شوہر کبھی سچ نہیں بولتے؛ سدا کے جھوٹے ہوتے ہیں۔

مشتاق احمد یوسفی نے لکھا ہے کہ “خواتین کی یادداشت کا کمال یہ ہے کہ وہ آپ کا قصور اس دن بھی یاد رکھیں گی جس دن آپ خود کو معصوم سمجھ رہے ہوں گے”۔ یوسفی کی یہ بات جب میں نے آج سے بیس سال پہلے پڑھی تو مجھے میری اماں حضور یاد آگئیں۔ اللہ میری ماں کو عمر خضر عطا فرمائے۔ جب بھی ان کو دیکھا، لڑتے ہوئے ہی دیکھا۔ بس لڑنے کے لیے والد محترم کی موجودگی ضروری ہوتی تھی، ورنہ ابا کے بغیر وہ انتہائی ہنس مکھ، حلیم طبع اور صابر و شاکر ہوتیں۔ مگر مہینوں بعد جب ابا گھر قدم رنجہ فرماتے، ادھر اماں دوپٹے سے سر باندھ کر نم گزیدہ نینوں کے ساتھ جھک جھک کر چلنا شروع کرتیں۔ بات بات پر سرتاج کے سامنے آنسو بہاتیں کہ “تیری ماں بیماری کی حالت میں پورے ٹبر کا کھانا بنواتی ہے اور ظلم کرتی ہے”۔
ابا بیچارے سر جھکا کر سنتے۔ ایک بیٹا ماں سے کیسے کہہ سکتا تھا کہ میری بیوی کو آرام دیں۔ بس یہی بیچارگی ان کے لیے وبالِ جان بن جاتی۔ اماں ابا پر چڑھ دوڑتیں اور بند کمرے میں ہمارے سامنے وہ باتیں سناتیں جن کو سن کر ہم اپنے وقت سے پہلے بالغ ہوگئے اور ددھیال کی بڑی بوڑھی خواتین کی عزت کرنی چھوڑ دی۔ ان لڑائیوں سے ہمیں معلوم ہوا کہ ہماری منجھلی پھوپھو گاؤں کے فضل کریم چچا کے ساتھ دو دفعہ بھاگتے ہوئے پکڑی گئی تھیں، اور چھوٹی چاچی کی تیسری بیٹی کی شکل مولوی عبدالکریم جیسی کیوں دکھتی ہے۔ زمانہ بدل گیا، مگر نہیں بدلی تو اماں کی وہی کوسنیں، وہی گالیاں، وہی لڑائیاں۔ بچپن سے اماں کی باتیں سن کر ہمیں اپنا خاندان کنجروں والا لگتا تھا اور حسب نسب پر شرمندگی محسوس ہوتی تھی۔
ایک دن ابا کا پیمانۂ صبر لبریز ہوا تو معلوم ہوا کہ جس خاندانی حسب و نسب پر ہم شرمندہ تھے، ننھیال کے خاندانی شجرے سے خود کو منسوب کر کے ہمیں جو خوشی محسوس ہوتی تھی، وہ بھی عارضی تھی۔ دل ٹوٹنے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ جس باپ کو ہم شریف سمجھ رہے تھے وہ اماں سے بھی دو ہاتھ نکلے۔ معلوم ہوا کہ صرف خواتین ہی ہمارے خاندان کی ذلیل نہیں تھیں؛ اماں کے خاندان کے وہ وہ کارنامے بہ زبان والدِ محترم پتہ چلے کہ اگر خوشحال خان خٹک کو کوئی قبر میں بتا دے تو وہ اٹھ کر تلوار سونت کر ہمارے دونوں خاندانوں کا قلع قمع کر دے اور روزنامہ جنگ میں یہ وصیت کروائے کہ “یہ دونوں خاندان خٹک قبیلے سے نہیں ہیں بلکہ دلبستگی کے لیے ان کو کہیں اور لا کر بسایا گیا تھا”۔

پھر ہم بقول یوسفی دل کو بہلاتے ہیں کہ ہمارا خاندان بھی یوسفی جیسا ہے۔ یوسفی، جو آدھا یوسف زئی تھا کہ انہیں پشتو نہیں آتی تھی، نے یہ خبر آج سے پچاس برس قبل دی تھی کہ “ہمارا خاندانی شجرہ نسب بہت پرانا ہے۔ اتنا پرانا کہ ایک زمانے میں ہمارے اجداد تلوار لے کر کابل سے ہندوستان پر حملہ آور ہوئے تھے۔ لیکن جب ہندوستان سے واپس کابل پہنچے تو کثرتِ استعمال سے ان کی تلوار گھستے گھستے استرا بن چکی تھی”۔

میرا پلڑا ہمیشہ اماں کی طرف ہوتا تھا کہ اماں مظلوم ہیں، مگر جس دن میری اپنی شادی ہوگئی تو معلوم ہوا کہ ابا کتنے بڑے مظلوم انسان ہیں۔ اماں ابا کی شادی کو قریباً پچاس برس ہوگئے تھے۔ لڑائیوں اور جنگ و جدل کا یہ حال تھا کہ گیارہ بچے پیدا کرنے کے بعد بھی ان کو یہ گلہ تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے مس فٹ ہیں۔

ہماری تینوں بیگمات نے کبھی ہمیں ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ صبح، دوپہر و شام ان تینوں سے ممتا کا فیض حاصل کیا ہے۔ یہاں بھی فلم کی کہانی وہی ہے، بس اداکار بدل گئے ہیں۔ پہلی بیگم سے شادی ہوئی تو چار سال یہ سوچتے رہے کہ ابا کی پہلی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے پچاس سال ایک عورت کے ساتھ گزارے، ورنہ یہاں تو مڈل کلاس والے بھی ایک گاڑی تین سال سے زیادہ نہیں رکھتے۔ اگر بندہ تھوڑا سا اسمارٹ ہو تو بیک وقت دو گاڑیاں رکھتا ہے۔ سو جو لغزش ابا حضور سے ہوئی تھی، وہ بیٹا نہیں دہرائے گا۔ سو دوسری شادی کرلی۔ دوسری کے بعد معلوم ہوا کہ اب ہمیں دوبارہ ڈاکٹر سگمنڈ فرائیڈ کو پڑھنا ہوگا۔ علمِ نفسیات کہتا ہے کہ “انسان کا جب کم مشکلات کے ساتھ سامنا ہو تو اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے، مگر جب مشکلات زیادہ ہوں تو حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔” ہم نے سگمنڈ فرائیڈ کو سچا جانا اور اپنی مشکلات تھوڑی اور بڑھا دیں۔ تیسری کرلی۔ مگر یہاں مشکلات بڑھتی گئیں اور حل کوئی نہیں ملا۔ دوبارہ نفسیات کا حوالہ لیا تو وہیں لکھا ہوا تھا کہ “انسان بنیادی طور پر مضبوط ہوتا ہے، مگر مسلسل مشکلات کا سامنا اسے اعصابی طور پر توڑ سکتا ہے”۔

اللہ جنت نصیب فرمائے ہماری چھوٹی دادی کو، جن کے سامنے ہماری پی ایچ ڈی کیا بلکہ سگمنڈ فرائیڈ بھی پانی بھرتا تھا۔ انہوں نے بطور خاص مجھ سے فرمایا کہ “بیٹا، ہر عورت اندر سے ایک جیسی نمکین ہوتی ہے، بس چہرے مہرے کا فرق ہوتا ہے”۔
پہلی دفعہ دادی کے پیر چھوئے۔ ابھی تک چوتھی پر نہیں گیا اور نہ کوئی ارادہ ہے۔
ہمارے دادا چھبیس گاؤں کے نمبردار تھے اور انگریز کے زمانے کے سب انسپکٹر رہے تھے۔ بڑا جاہ و جلال تھا۔ جب حجرے سے نکلتے تو ساری عورتیں خاموش ہوجاتیں کہ “طور ملک” نکل آئے ہیں، مبادا اونچی آواز سن کر ان کے ساتھ کیا کر گزریں۔ آپس میں لڑتی ہوئی خواتین چپ کر جاتیں، بچے اور نوجوان راستے بدل لیتے تھے۔ دروغ بہ گردنِ راوی، جانور بھی سہم جاتے تھے۔ رعب ایسا تھا کہ جرگے میں غلط فیصلے بھی کر جاتے تو مجال ہے کہ کوئی اختلاف کرنے کی جرات کرے۔

میں گھر کا سب سے چھوٹا بچہ تھا اور بدقسمتی سے ان کے قریب بھی تھا۔ کہتے ہیں کہ باہر سے سخت مزاج نظر آنے والے مرد اندر سے نرم ہوتے ہیں، تو دادا بھی دل کی باتیں میرے ساتھ کرتے تھے۔ ایک دن حجرے میں مجھے گیان بانٹنے لگے:
“بیٹا، بیوی اور جوتے میں کوئی فرق نہیں ہوتا، جب پیر کو کاٹ کھائے تو فوراً بدل لینا چاہیے”۔
ہم چھوٹے تھے اور مزاجاً تھوڑے سے ڈرپوک بھی تھے، اس لیے ان سے پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی کہ گھر میں چار دادیوں میں سے کس نے آپ کو کاٹا؟

ایک صبح وہ جلال میں تھے اور وعظ فرمانے لگے:
“آج کل کے مرد، مرد نہیں رہے۔ ان کی بیویاں ان کے سر پر اس لیے چڑھی ہوئی ہیں کہ حالتِ مباشرت میں مرد نیچے اور عورت اوپر بیٹھتی ہے، اسے محکوم سمجھتی ہیں۔ اس لیے عورت کو نیچے رکھنا چاہیے، ورنہ ایسی بیویاں شوہروں کو کتا سمجھتی ہیں، کجا شوہر تسلیم کرے۔”
ہم قائل ہوگئے کہ واقعی مرد کو اوپر ہی ہونا چاہیے۔ ہم نے دادا کی یہ بات اپنی گرہ میں باندھ ہی لی تھی کہ رات کے پہر ہمارا گزر ان کے کمرۂ خاص سے ہوا تو اندر سے چھوٹی دادی کی پھنکارتی ہوئی آواز آئی:
“بے غیرت انسان ہو تم طور ملک، سو حرامی مریں ہوں گے تب تو جنا ہے۔۔۔”

ہمارا ایمان ہی اٹھ گیا بزرگوں کے جاہ و جلال اور دبدبے سے۔ اسی لیے آج کل میں اپنے بچوں کے سامنے زیادہ معزز ہونے کی اداکاری نہیں کرتا بلکہ بیگمات جو بھی کہتی ہیں، سرِعام کہتی ہیں اور بچوں کے سامنے ہی کہتی ہیں۔ میں ذاتی طور پر منافقت کا قائل نہیں ہوں تاکہ کل میرے بچے نرگسیت کا شکار ہو کر اپنے باپ کے ظلموں کا بدلہ اپنی بیویوں سے نہ لیں اور خود ذلیل نہ ہوں۔

julia rana solicitors

کل رات میرے بڑے بیٹے نے اعلان کردیا:
“پاپا، میں نے ساری عمر شادی ہی نہیں کرنی۔۔۔”
بیٹے کے اس فیصلے سے مجھے کچھ اختلاف بھی نہیں رہا کیونکہ اختلاف کی کوئی وجہ بھی نہیں تھی۔ مجھے اپنے بڑے تایا یاد آگئے، جنہوں نے عمر کے آخری حصے تک شادی نہیں کی تھی اور نوے سال تک بغیر کسی بیماری کے مکمل مطمئن رحلت فرما گئے۔

Facebook Comments

عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply