رات ایک دوست نے بتایا کہ مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ آپ رائٹر ہیں، ورنہ میں تو آج تک آپ کو “وہی وہانوی” سمجھ رہا تھا۔ دوست نے کہا کہ رات پارک میں دو خواتین خود کو ٹراؤزر میں پھنسائے ٹالسٹائی پر بات کر رہی تھیں۔ کہتا ہے، میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا کہ مسرت شاہین کی یادیں تازہ ہو گئیں ۔ بالآخر بین الاقوامی ادب سے ہٹ کر مقامی ادب پر بات آگئی۔ کہتا ہے، میرے کان کھڑے ہوگئے۔ ان میں سے ایک نے قہقہہ لگا کر کہا، “یار، لکھتے تو بہت ہیں، مگر پشاور کا ایک لونڈا ہے، کیا لکھتا ہے۔ حرامی پن کی سارے حدود اسی پر ختم ہیں۔” دوسری نے پوچھا، “عارف خٹک، ناں؟”
میرا دوست بتاتا ہے، “فرط جذبات سے میری آنکھیں نم ہوگئیں کہ جس بندے کو ہم انسان سمجھنے پر بھی راضی نہیں تھے، وہ اتنا مشہور ہوسکتا ہے۔” دوست کی بات سن کر میں جزبز ہوگیا۔
یہ آمر مشرف کے زمانے کی بات ہے۔ الیکشن کا دور دورہ تھا۔ پختونخوا والوں کو تو شغل کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے۔ سو گہما گہمی تھی۔ فلم اسٹار مسرت شاہین کی ایک سیاسی جماعت تھی، غالباً “تحریک مساوات” نام تھا۔ مسرت شاہین صاحبہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے مقابلے پر انتخابات لڑ رہی تھیں۔ ہمارے پشتونستان میں نوے کی دہائی میں دو ہی شخصیات مشہور تھیں: مسرت شاہین اور مولانا صاحب۔ مردوں کے لیے یہ فیصلہ کرنا بڑا مشکل تھا کہ دونوں میں سے کسے آئیڈلائز کریں۔ لہٰذا یہ طے پایا کہ جب مردانگی غالب آئے، تو حواسوں پر مسرت شاہین چھائی ہوں، اور جب جنت کی آرزو کرنا پڑے، تو مولانا صاحب پر فدا ہونا باعثِ ایمان ہو۔
بنوں کے سینما گھروں میں کیا بچے، کیا بوڑھے، کیا باپ، کیا بیٹا—سب محمود و ایاز کی طرح ایک ہی صف میں کھڑے آپا مسرت شاہین کے بھاری وجود کو اپنے اندر سمانے کی کوشش میں مصروف ہوتے تھے۔ خیر، ضلع کرک میں مسرت شاہین کا ایک صدر تھا، نام یاد نہیں، اس نے کرک میں ایک جلسے کا انعقاد کیا۔ تاریخ میں اتنا بڑا جلسہ شاید عمران خان بھی نہ کرسکے۔ میں بھی وہاں موجود تھا۔ مسرت شاہین صاحبہ کے دیدار کے لیے پورا پختونخوا اکٹھا ہوا تھا۔ ضلعی صدر صاحب، جو خود بھی مسرت شاہین کے فین تھے، اسٹیج پر آئے۔ جب اتنا رش دیکھا تو جذبات سے رو پڑے اور انتہائی جذباتی انداز میں مخاطب ہوئے:
“میرے غیور ساتھیو، میرے دوستو! آج میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں نے آج جو عزت مجھے بخشی ہے، میں اسے کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ میں آج کے بعد آپ کا نوکر ہوں، آپ کا خادم ہوں۔ دوستو، جس مسرت شاہین کے بھاری کولہے دیکھنے کے لیے آپ لوگ بنوں جا کر پچاس پچاس روپے کے ٹکٹ خریدتے تھے، آج دیکھو، میں ان کے زندہ سلامت کولہے کرک لے آیا ہوں۔ اب مفت دیکھیں!”
ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا ایک نام ہو، ایک پہچان ہو، لوگ عزت کریں۔ اور ایک ہم ہیں کہ بیگم بھی کسی سے تعارف میں یہ نہیں بتاتیں کہ موصوف ہمارے خصم ہیں۔ اسی طرح ہمارے سنجیدہ دوست ہمارے مضامین پر اپنی رائے اس لیے نہیں دیتے کہ وہ بدنام نہ ہوجائیں، بلکہ خلوت میں آ کر کہتے ہیں، “خٹک صاحب، کیا کمال لکھا ہے! لیکن کھل کر رائے اس لیے نہیں دے سکتا کہ لوگ کیا سوچیں گے۔”
ہماری نانی مرحومہ کو اللہ جنت نصیب فرمائے۔ کہتی تھیں، “مرد کو انصاف پسند ہونا چاہیے۔ اگر مرد انصاف کا معیار قائم رکھنے والا ہو، تو اس کے لیے چار شادیاں بھی کم ہیں۔” کہتی تھیں، نانا نے چاروں بیویوں میں انصاف کا ترازو کسی ایک کی جانب نہیں گرایا بلکہ ترازو ہی گرایا۔ اگر ایک کو مار پڑتی، تو یقیناً چاروں کو ساتھ پڑتی۔ اس لیے ساری بیویاں قابو میں رہتیں اور بدلے میں ہر چار ماہ بعد ایک ایک بیوی انھیں اولاد کا تحفہ دیتی۔ آج کا مرد اپنی ایک بیوی سے اتنا دبتا ہے کہ جب وہ امید سے ہو، تو شوہر بے غیرتی سے بھاری پیروں سے چلنا شروع کردیتا ہے۔ ہم نے پوچھا، “ساڑھے پانچ فٹ کے نانا آپ چار مسٹنڈیوں کو بھگتاتے کیسے تھے؟” نخوت سے جواب دیا، “تیرے جیسے زنخے تھوڑی تھے، جو صبح اٹھ کر سلائس بریڈ پر مصنوعی مکھن لگاتے ہیں۔ اصیل مرد تھے، ہمیں چاروں کو ایک رات اور ایک ساتھ بھگتاتے تھے۔” ہم نے معصومیت سے پوچھا، “نانی، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ گروپ سیکس کی وبا ہمارے آبا ؤ اجداد کی لائی ہوئی ہے؟ ہم فرنگیوں کو مفت میں گالیاں دیتے ہیں۔”
ہماری نانی نوے سال تک زندہ رہیں اور مرتے وقت ان کے ہونٹوں پر کلمہ توحید تھا۔ آج بھی ان کا ذکر نہایت عزت و احترام سے کیا جاتا ہے۔ کسی نے آج تک انھیں یہ نہیں کہا کہ آپ “Below the belt” بات کرتی تھیں یا ان کے حرامی پن کی کوئی حد نہیں۔
اب بندہ کہے تو کیا کہے ؟ بھیا، ہماری مثال تو ایک سستی طوائف جیسی ہوئی نا، جس کی قربت کے خواہاں تو سب ہیں، مگر اپنانے سے ہر کوئی ڈرتا ہے۔ تو ایسی عزت کا ہمیں اچار ڈالنا ہے۔ کچھ نامور لکھاری دوستوں کا یہی مشورہ ہوتا ہے کہ آپ “Below the belt” لکھتے ہیں۔ ہم جواباً کہتے ہیں، “ہم تو لکھتے ہیں، آپ تو دھڑلے سے کرتے ہیں “۔
آخر میں یہی کہوں گا کہ ٹھیک ہے، میرے الفاظ میں وہ چاشنی نہیں ہے جو اردو ادب والوں کو نصیب ہے۔ نہ میرے پاس مشکل الفاظ کا ذخیرہ ہے کہ میں متروک، بھاری الفاظ کا استعمال کرکے قاری پر دھاک بٹھاؤں۔ میں ایک عام معاشرے کا ایک عام لکھاری ہوں، جو عام لوگوں کے لیے لکھتا ہے۔ مجھ سے مرثیے نہیں لکھے جاتے، نہ میں نوحے لکھ سکتا ہوں، کیونکہ میری اپنی زندگی بھی ایک عام آدمی جیسی ہے اور ایک نوحہ ہی ہے۔
ممتاز مفتی نے ساٹھ کی دہائی میں “علی پور کا ایلی” نامی ناول لکھا تو پاکستان کے چیدہ چیدہ ادیبوں کو اس بات پر اعتراض تھا کہ موصوف کے ناول کی زبان اردو ادب کے موافق نہیں۔ کیونکہ اس کی بے ساختگی اور الفاظ کی بے راہ روی اردو ادب کے نام پر مذاق ہے۔ جس پر ممتاز مفتی نے کہا تھا کہ اگر پنجاب کی وسیع القلبی اردو زبان کو اپنے اندر سمو سکتی ہے اور اردو اتنی تہی دامن ہے، تو خدا حافظ ایسے ادب کا۔ آج بھی ممتاز مفتی زندہ ہے، اور ان چیدہ چیدہ ادیبوں کا کوئی نام لیوا نہیں۔
خیر، ممتاز مفتی کا ذکر اس لیے کیا کہ اس مضمون میں خود کو یہ باور کراؤں کہ ادب سے میرا بھی کوئی تعلق ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج بھی میں “کا، کے اور کی” میں فرق نہیں کرسکتا۔ بلکہ اردو کی دو چشمی “ھ” دیکھ کر ذہن میں گندے خیالات آتے ہیں۔ بقول میری بیگم کے، میری مثال بھی مسرت شاہین جیسی ہے۔ بلکہ یوں کہیں، میری مثال اس حمام جیسی ہے جہاں ہر بندہ خود کو ننگا تو کرلیتا ہے، مگر مقدس چیزیں کوئی نہیں لے کر آتا کہ حمام ناپاک جگہ ہے۔

خیر، بات بہت لمبی ہوگئی۔ تو میں کیا کہہ رہا تھا؟ ہاں، اسلام آباد کے پارک کی خواتین والی بات کر رہا تھا۔ میں نے دوست سے کہا، “بس جی، اللہ کا کرم ہے۔ ویسے ناچیز اس قابل تو نہیں کہ اسلام آباد کی پریاں شام ڈھلے ان کا ذکرِ خیر کریں۔ میرے لیے قابلِ عزت بات یہ ہے کہ آپ نے آج میری عزت کرنی شروع کی، اور امید کرتا ہوں کہ مزید عزت کرکے بے عزتی نہیں کریں گے۔”
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں