جب تک ہے زمین از ناصر عباس نیّر /تعارف و تبصرہ: علی عبداللہ

افسانوی ادب پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے خوابوں کی گلیوں میں آوارہ گردی کرنا- جہاں حقیقت دھند کی مانند تحلیل ہو جاتی ہے اور ہر کہانی ایک دریچہ کھولتی ہے—روح کے ان گوشوں کی طرف، جنہیں ہم نے کبھی دیکھا اور چھوا نہیں ہوتا- افسانے انسان کی نفسیات کے وہ آئینے ہیں جن میں ہم اپنے خوابوں، خوف، اور آرزوؤں کا عکس دیکھتے ہیں- فلسفیانہ اور علامتی کہانیاں، قدیم درختوں کی مانند، اپنے اندر صدیوں کی حکمت اور راز چھپائے رکھتی ہیں- یا شاید فکشن پڑھنا ایک ایسا سفر ہے جس میں منزل اہم نہیں ہوتی، بلکہ وہ راستے اہم ہوتے ہیں جو شعور اور تخیل کو نئی راہیں دکھاتے ہیں- ایک اچھی کتاب آپ کے ذہن میں سوالات کے چراغ جلاتی ہے اور روح میں وہ سکون پیدا کرتی ہے جو صرف اور صرف افسانوی ادب کا ہی شیوہ ہے- ہر لفظ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی موسیقار کسی ساز پر زندگی کے راز بکھیر رہا ہو، اور ہر کہانی، ایک دریا کی مانند، ہمیں اپنی گہرائیوں میں بہا لے جا رہی ہو-

مگر۔۔۔قارئین کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ادب محض ہمیں مسرت نہیں پہنچاتا، وہ ہمارے آرام و سکون میں خلل انداز ہوتا ہے؛ ہم کئی باتوں کو یقینی خیال کر کے ذہنی آرام و سکون میں ہوتے ہیں، ادب ان پر ضرب لگاتا ہے اور ہمیں مضطرب کرتا ہے- یہی کیفیت اس نئی کتاب، یعنی ناصر عباس نیر کی حال ہی میں شائع ہونے والی افسانوں پر مبنی کتاب “جب تک ہے زمین” میں محسوس ہو رہی ہے-

آج ہی یہ افسانوی مجموعہ موصول ہوا ہے- سرد شام میں، وقت بھی میسر تھا تو لگے ہاتھوں دو افسانے بھی پڑھ ڈالے- ہمیشہ کی طرح سوچ کے نئے در وا کرتے ہوئے یہ افسانے کبھی مضطرب کرتے رہے اور کبھی مسرت انگیز احساسات سے روح کو راحت بخشتے رہے- کتاب کا آغاز میرا جی کی نظم، “جو بات ہو دل کی آنکھوں کی، تم اس کو ہوس کیوں کہتے ہو” سے ہوا اور پھر میں بھی ان افسانوں کی جلوہ گری سے دل گرمانے لگا- گو کہ ابھی یہ حسن و نمائش جاری ہے مگر میں نے جن افسانوں پر چھچھلتی نظر ڈالی ان کے بارے میں کچھ لکھتا چلوں-

پہلا افسانہ بعنوان “ورغلایا ہوا آدمی” ہے اور اس افسانے کو میں نے دو بار پڑھا ہے- کیا تخیل اور کیا ہی شاندار انداز بیاں ہے- اس افسانے میں اس انسانی جدوجہد کی گہری چھاپ ہے جو انسان اندرونی اور بیرونی قوتوں کے خلاف کرتا ہے- یہ قوتیں آدمی کے اخلاق، ایمان اور کردار کو للکارتی ہیں- یہ کہانی ہر فردکے اندر خیر و شر کی کشمکش کی بہترین عکاس ہے- یہ افسانہ انسانی کمزوریوں کا دیانت دارانہ اور حوصلے کے ساتھ سامنا کرنے کی بھی ترغیب دیتا ہے- ایک جگہ مصنف نے لکھا ہے، ” آدمی کی زبان جھوٹ بولتی ہے، مزاج نہیں” کتنی گہری بات ایک مختصر جملے میں بیان کر دی گئی ہے- اسی طرح ایک اور سوال سے مصنف نے آشنا کروایا کہ, “شیطان آدمی کو کس زبان میں ورغلاتا ہے”

اس افسانے میں زبان اور اس کے اثرات کا عنصر بھی موجود ہے- زبان کی شناخت اور ثقافتی تفہیم پر پڑنے والے اثرات کو بخوبی اس میں بیان کیا گیا ہے- زبان کو دھوکہ دینے یا گمراہ کرنے کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے اور شاید “شیطان” کا کردار زبان کو ہی بطور ہتھیار حقیقت مسخ کرنے اور اخلاقی اصولوں کو چیلنج کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے- پھر زبان کو فرد کی شناخت کے ساتھ جوڑا گیا ہے- “جو ایک لفظ بھولتا ہے، وہ پوری زبان بھول سکتا ہے-” ایک اور اہم بات جو سمجھ آئی کہ اس افسانے میں زبان سے جڑے سماجی اصولوں پر بھی تنقید کی گئی ہے جو لوگوں کو ان کے الفاظ، لہجے یا روانی کی بنیاد پر جانچتے ہیں- جیسے ایک جگہ مصنف لکھتے ہیں، ” ابتدا میں وہ جانگلی زبان کے الفاظ بھولنے لگا تھا- شروع میں اس نے اسے ایک عام سی بات سمجھا- وہ دل کو تسلی دیتا کہ جو زبان بولی نہیں جاتی وہ مرنے لگتی ہے، اور اس کی موت سب سے پہلے بولنے والے کے ذہن میں ہوتی ہے- دل کی یہ تسلی بس چند دن ہی کارگر ہوتی- اسے ایک قلق گھیر لیتا- وہ جانگلی زبان کی شاعری سنتا- اس کے لطائف سنتا- اس نے جانگلی ہی کے ایک قصہ گو کی ویڈیو تلاش کی- اسے ٹکڑوں میں دیکھتا- ایک پرانے دوست کو فون کرتا، اس سے جانگلی میں دیر تک بات کرتا- اس کا دوست کہتا کہ تم پورے جنگلی بن گئے ہو- تمہاری زبان سمجھ ہی نہیں آتی- لگتا ہے تمہارے اندر کوئی گورا بھوت گھس گیا ہے- وہ خود بھی محسوس کرتا کہ اس کی مادری زبان پر بیرونی زبان امربیل کی طرح چھائی ہوئی ہے-”
بعض اور تحریریں پڑھنے کے بعد گمان یہی ہوتا ہے کہ جیسے مستنصر حسین تارڑ کے ہر ناول میں ان چار مرغابیوں کا ذکر ہوتا ہے جن کا خوشی سے کوئی تعلق نہیں، اسی طرح ناصر عباس نیر کی کتب میں جانگلی زبان کا ذکر کسی مقدس لفظ کی مانند نظر آتا ہے- شاید یہ مصنف کا ناسٹیلجیا ہے- کیونکہ اسی افسانے میں ہی مصنف نے لکھا ہے، “دو دہائیوں سے، وہ سوچنے بھی انگریزی میں لگ گیا تھا-” یہ افسانہ کافی توجہ طلب ہونے کے ساتھ ساتھ کئی معنوں کا حامل ہے-

دوسرا افسانہ بعنوان ” نطشے اور مریل گھوڑا” پڑھا- گو کہ یہ ترتیب کے لحاظ سے دوسرا نہیں ہے لیکن میں نے کتاب میں شامل افسانوں میں سے دوسرا افسانہ یہی پڑھا ہے- اس بارے مصنف کا کہنا ہے کہ اس سمیت سات کہانیاں مصنف کے خوابوں پر مبنی ہیں- بقول نطشے، “چوں کہ ہر آدمی خواب دیکھتا ہے، اس لیے تخلیق کار ہے” لہذا یہ سات خواب کہانیاں بھی بیداری کی حالت میں بیان کی گئی ہیں- تعداد میں سات خواب کہانیاں بھی اپنا الگ معنی رکھتی ہیں- کیونکہ “سات” بذات خود معنی خیز ہندسہ ہے- جیسے سات آسمان، سات عجائبات عالم، سات رنگ قوس قزح کے، سات براعظم، سات سمندر- اسی طرح مغربی موسیقی کے نوٹس بھی سات ہیں اور انسانی عارضی یاداشت بھی اوسطاً سات چیزوں کو ایک وقت میں یاد رکھ سکتی ہے-

نطشے اور مریل گھوڑا انسانی فطرت اور بے ترتیبی کے مظاہر پر گہری بصیرت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی وجود کی اصل کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتا ہے- یہ اس جانب اشارہ ہے کہ آدمی کی حقیقی شخصیت اور اس کے وجود کی پیچیدگی اکثر ترتیب کے بجائے بے ترتیبی میں زیادہ واضح ہوتی ہے- لائبریری میں بے ترتیب اور ترک شدہ کتب اسی شے کی عکاس ہیں- ترتیب کا تعلق ظاہری نظم و ضبط سے ہوتا ہے جبکہ بے ترتیبی اس افراتفری کو ظاہر کرتی ہے جو انسانی ذہن، خواہشات اور خیالات کی گہرائی میں موجود ہوتی ہے- یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان کے اندر ایک کشمکش جاری ہے-
اس افسانے میں مصنف لکھتے ہیں، “میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ لوگوں کو پہچاننے کے لیے لائبریری سے بہتر جگہ روئے زمین پر نہیں- آدمی گھر، بازار، مسجد، دفتر، عدالت، اور تنہائی میں اپنی اصل چھپا سکتا ہے، لائبریری میں نہیں-” اس کے بعد مصنف نطشے اور اس چابک کھاتے گھوڑے کے بیچ کے راز و نیاز کو اپنے تخیل میں کھینچتا ہے جو اسے لائبریری آتے ہوئے سڑک پر دکھائی دیتا ہے- لیکن مصنف یہاں اس پر غور کرنے کی بجائے لائبریری جانے کو ترجیح دیتا ہے- یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کوئی بھی کتاب پڑھنا ایک واضح اور سیدھا عمل ہے- اس میں مواد منظم ہوتا ہے اور کوئی بھی ذرا سی کوشش کے بعد اس کتاب کو سمجھ سکتا ہے- اس کے برعکس گھوڑے پر سوچنا ایک علامتی اظہار ہے، جو پیچیدگی، غیر یقینی یا تخیل کی آزادی کی جانب اشارہ کرتا ہے- اور یہ کام ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے- کیونکہ یہاں منتشر خیالات، غیر واضح ڈھانچہ، اور غیر متوقع سمتوں کو قابو کرنے کی سعی کرنی پڑتی ہے- اسی لیے مصنف کہتا ہے، ” ایک گھوڑے پر سوچنے کے مقابلے میں کتاب پڑھنا آسان ہے-”

julia rana solicitors london

اس کہانی کے آخر میں مصنف لکھتے ہیں کہ, “اس مصور کی تصویر اور میری خیالی تصویر میں فرق تھا- یہ فرق کاغذ کے سبب تھا- خیالی تصویریں کاغذ تک آتے آتے کچھ بد جاتی ہیں-” بس اسی طرح اس افسانوی مجموعے کو پڑھتے ہوئے جو کیفیات نازل ہوئیں، اور خیالات نے جو شبیہیں بنائیں، انہیں یہاں بالکل اسی طرح لکھنا ممکن نہیں ہے- ہاں البتہ ابھی یہ دو افسانے پڑھنے کے بعد سے سوچ میں مبتلا ہوں کہ آخر تخیل کی بھی کوئی حد ہے کہ نہیں-

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply