خرچہ بڑھاؤ/محمد ثاقب

مشہور اسٹیج آرٹسٹ نواز انجم اپنے کیریئر کے شروع کے دنوں کے بارے میں بتاتے ہیں کہ میری دوستی اداکار رنگیلا سے تھی۔ ایک دن رنگیلا نے مجھ سے پوچھا کہ تم اپنے گھر کا کتنا کرایہ ادا کرتے ہو؟ جواب دیا 500 روپے ماہوار پر ملت چوک میں ایک کمرہ لیا ہے، اسی میں رہتا ہوں۔

رنگیلا نے دلچسپ بات کی اور کہا کہ تم ایسا کرو کہ 8000 روپے ماہوار والے گھر میں شفٹ ہو جاؤ۔ نواز انجم نے کہا، میں تو 500 بھی مشکل سے دیتا ہوں، ملتان میں گھر والوں کو بھی پیسے بھیجتا ہوں، اتنا کام نہیں ہے، تو پھر میں یہ کیسے کر سکتا ہوں؟

ایک بھید بھری مسکراہٹ کے ساتھ رنگیلا نے کہا جب تم 8000 والے گھر میں رہو گے تو زیادہ محنت کرو گے، صبح اٹھ جاؤ گے، کام کے پیچھے سپیڈ سے بھاگو گے۔ اور تمہارا نصیب بدل جائے گا۔ نواز انجم نے ایسا ہی کیا، لاہور میں اچھی جگہ پر گھر لیا، مائنڈ سیٹ تبدیل ہوا اور انکم بھی تبدیل ہو گئی۔

آج فیس بک پر مرشد مسعود قاضی کی پوسٹ پڑھ کر یہ واقعہ یاد آ گیا۔ وہ امریکہ میں دہائیوں پہلے اپنے آمد کے دنوں کے بارے میں لکھتے ہیں۔

اگر آپ امیر ہونا چاہتے ہیں تو اپنے اخراجات بڑھا لیں

بشرطیکہ آپ ذہین اور محنتی ہیں

پاکستان میں اس دفعہ

خرچے بڑھاؤ اور امیر ہو جاؤ کی تبلیغ کرنے پر کافی دوستوں نے اس کی تشریح

مانگی ہے تو اس کی ساری تفصیل بتاتا ہوں

جب میں نیا نیا امریکہ آیا تھا تو پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ ایک منہ بولے انکل کے گھر کچھ عرصہ رہا ، وہیں سے

ویک اینڈ پہ لگنے والے عارضی بازار میں خواتین کے کپڑے بیچنے کا کام شروع کیا اس سے اتنے پیسے آ جاتے تھےکہ میرا گزارا ہوجاتا تھا ساتھ ہی میری پریکٹیکل لائف کا آغاز ہو گیا

ہفتے میں دو دن کام ہوتا تھا ، ایک دن لاس اینجلس سے جا کر ہول سیلر سے کپڑے لے آتا تھا

باقی چار دن عیاشیاں

جب بابے نے نعرہ لگایا کہ “ خرچے بڑھاؤ اور امیر ہو جاؤ “

تو میں نے بھی اس سے تفصیل پوچھی کہ کیسے خرچہ بڑھاؤں

کہنے لگا کہ تم انکل کے پاس رہتے ہو کتنا کرایہ دیتے ہو ؟ میں نے کہا فری رہتا ہوں بس کبھی کبھار گروسری لے آتا ہوں کہ میرا حصہ پڑتا رہے

پھر کہنے لگا کہ تم نے 79 ماڈل کی ایک پھٹیچر سی

Nissan Sunny

رکھی ہوئی ہے

اور باقی تم دن بھر گھومتے رہتے ہو یا گاڑی دھوتے رہتے ہو

یا تمہاری دوست آتی ہیں ان کی ٹہل سیوا کرتے رہتے ہو

اب ایک کام کرو اپنا اپارٹمنٹ کراۓ پر لے لو ، اسے نۓ سامان کے ساتھ

Furnished

کرو ، نئی گاڑی خریدو پھر تم کمال دیکھنا کہ کیسے امیر ہوتے ہو ؟

لو جناب دل کڑا کیا

اگلے دن اپارٹمنٹ دیکھنا شروع کیا

ایک کافی امیرانہ ماحول میں سات سو ڈالر ماہانہ کا اپارٹمنٹ رینٹ کرنے کا ایگریمنٹ کیا

فرنیچر سٹور پہ گیا وہاں سے پورے گھر کا قسطوں پہ فرنیچر خریدا پانچ ہزار ڈالر اس کا بل بنا مہینے کی اڑھائ سو ڈالر قسط

JC Penny

سے گھر کا کھانے پکانے کا سامان بستر رضائیاں وغیرہ خریدیں وہ بھی قسطوں پر

وہیں ایک پڑوسی بنک مینیجر بھی رہتا تھا اس سے بات کی ( نیٹ ورکنگ کی اہمیت) کہ

میں نے نئ گاڑی خریدنی ہے کہنے لگا 20 پرسنٹ ڈاؤن پے منٹ کا بندوبست کرو تو جا کر سیل آرڈر لے آؤ تو میں بنک سے گاڑی فنانس کروا دوں گا

میں نے ٹویوٹا ڈیلر شپ سے نیا ڈالا پسند کیا

اس کا سیل آرڈر بنوایا

میری اپنی گاڑی انہوں نے “ کھینچ کھانچ “کے بیس پرسنٹ میں ڈال لی

وہ جا کر بنک مینیجر کو دیا

اس نے دو دنوں میں ڈیلر شپ کے نام کا پے آرڈر ایشو کر دیا

ایک ہفتے کے اندر اندر میں نے ساری “ کاروا ئی “

پوری کر لی

اب جب حساب لگایا تو میں نے سارے ماہانہ اخراجات گاڑی کی قسط اس کی انشورنس، اپارٹمنٹ کا کرایہ بجلی ، گیس ، کیبل کا بل ، فرنیچر کی پیمنٹ گھر کے سامان کی قسط ، گروسری ، پیٹرول تو سارا خرچہ تقریباً 2300

ڈالر ماہانہ ہو چکا تھا

اس وقت یہاں

odd jobs

یا

New comers

کی ماہانہ آمدن تقریباً 1200

ڈالر ماہانہ تھی جسمیں سے وہ پیسے گھر بھی بھیجتے تھے

اب میرے پاس ایک مہینہ تھا کہ میں اپنی آمدن کو اتنا بڑھاؤں کہ اپنے ماہانہ اخراجات پورے کر سکوں

میں ویک اینڈ میں لگنے والی مارکیٹ میں دوسرے

Venders

یا کھوکھے والوں کے پاس گیا ان سے انفارمیشن لی کہ باقی دنوں میں میں کہاں کہاں مارکیٹیں لگتی ہیں تو دو ہفتوں بعد میں ساتوں دن ایک سو میل کے اندر اندر لگنے والی مارکیٹیٹوں میں اپنا سٹال لگا رہا تھا

میں نے دیکھا کہ بچوں کا سامان بیچنے والے سٹالوں پر رش زیادہ ہوتا ہے تو میں نے بچوں کے کپڑے جوتے بھی ایڈ کر لیئے ( مارکیٹ آبزرویشن)

اس کے بعد بچوں کے کھلونے بھی لے آیا ( سیل بلڈنگ)

اب خواتین اپنے ڈریس دیکھنے اندر آتی تھیں وہاں ساتھ ہی بچوں کے کپڑے جوتے اور کھلونے بھی خرید لے لیتی تھیں بعد میں لیڈیز انڈر گارمنٹس بھی ایڈ کر لیئے اور ایک میکسیکن پڑوسی فیملی کی لڑکی کو ملازم رکھ لیا چونکہ زیادہ کسٹمر میکسکو سے تعلق رکھتے تھے جو سامان وہ بیچتی تھی اسے تنخواہ کے علاوہ پانچ پرسنٹ کمیشن دیتا تھا پھر سٹال

10×10

سے

20×20

کا ہو گیا پھر کسٹمرز کی فیڈ بیک سے گھریلو سامان بھی ایڈ کر لیا میری سیل جو چند ماہ پہلے دو سے تین سو ڈالر روزانہ ہوتی تھی دو دن کام کر کے بمشکل6 یا 7 سو ڈالر مہینے کے بناتا تھا اب روزانہ کی سیل اڑھائ سے تین ہزار ڈالر تک پہنچ گئ

100%

مارک آپ یا

Gross Profit

ہوتا تھا سارے اخراجات نکال کر مجھے تقریباً

20% net profit

ہوتا تھا اور یہ سارا کام تین ماہ میں مکمل کیا

اب اگر ساٹھ ہزار ماہانہ کی سیل ہو تو

20% net profit

ہو تو میری ماہانہ اِنکم کو آپ خود ضرب تقسیم کر لیں

میری آمدن ایک کھوکھے یا سٹال سے امریکہ میں ہسپتال میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر سے زیادہ ہو چکی تھی

نتیجہ

خرچہ بڑھاؤ

خرچہ بڑھنے سے آپ کو نۓ رستے ملتے ہیں اللہ کا نام لے کر ان پر چلنا شروع کر دیں اپنی آبزرویشن کو

اچھا رکھیں

آپ امیر ہو جائیں گے

جی دوستو، کہانی میں جان ہے، لیکن یہ اصول ہر شخص کے لیے نہیں ہے۔ اگر آپ کے اندر حقیقی جوش اور توانائی ہے تو یہ اصول آپ کے لیے ہے۔ آپ یقیناً اپنے آپ کو جانتے ہوں گے۔ اگر آپ میں وہ جذبہ نہیں ہے تو کہانی کو محض انجوائے کریں اور اپنے آپ کو آزمائش میں نہ ڈالیں۔ لیکن وہ افراد جو توانائی اور جذبے سے بھرے ہیں، اور جو صرف 2% ہوتے ہیں، ان کے لیے یہ ایک گیم چینجنگ اصول ثابت ہو سکتا ہے۔

julia rana solicitors london

پھر کیا ارادہ ہے؟

Facebook Comments

محمد ثاقب
محمد ثاقب ذہنی صحت کے ماہر کنسلٹنٹ ہیں جو ہپناتھیراپی، لیڈرشپ بلڈنگ، مائنڈفلنس اور جذباتی ذہانت (ایموشنل انٹیلیجنس) کے شعبوں میں گذشتہ دس برس سے زائد عرصہ سے کام کررہے ہیں۔ آپ کارپوریٹ ٹرینر، کے علاوہ تحقیق و تالیف سے بھی وابستہ ہیں اور مائنڈسائنس کی روشنی میں پاکستانی شخصیات کی کامیابی کی کہانیوں کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔ معروف کالم نگار اور میزبان جاوید چودھری کی ٹرینرز ٹیم کا بھی حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply