میں خود سے اکثر یہ سوال کرتا ہوں ‘کیا میں اللہ کی اس سرزمین پر اس کی کبریائی کا واقعی قائل ہوں؟ خالق نے یہ خوبصورت سیارہ بنایا، اس پر خوبصورت ترین چرند و پرند بسائے اور ان کے ذریعے اس کی خوبصورتی کو مزید نکھارا’۔
پھر میں سوچتا ہوں کہ بدقسمتی سے اس سیارے کے حسن کو ماند کرنے والے ہم اشرف المخلوقات ہی تو ہیں۔ ہم نے اس سیارے کو بدصورت بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہزاروں سالوں سے اس سیارے کو خون سے داغدار کیا جا رہا ہے، کبھی نسل کے نام پر، کبھی اصل کے نام پر، کبھی عقیدے کے نام پر اور کبھی شناخت کے نام پر۔
ترقی کے نام پر آج بھی قتال و جدال جاری ہے۔ انسان نے قدرت سے بڑھ کر خود کو اس قابل بنانے کی کوشش کی ہے کہ سیارے پر موجود آسائشیں ناکافی لگیں، اور مزید آسائشوں کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر لاد لیا۔ نتیجتاً آج اس سیارے کی فضا اور ماحول اس قدر آلودہ ہو چکے ہیں کہ قدرت اپنی فطرت کو بھولتی جا رہی ہے۔
وہ دن یاد آتے ہیں جب ہم بہار کی کونپلیں پھوٹنے کا انتظار کرتے تھے۔ آج بہار میں برف باری ہو رہی ہے۔ نومبر کی دھندلکی صبحوں میں دھند کی دبیز چادر اوڑھے، محبت اور انسانیت کے پرچارک خوبصورت لمحات گزرتے تھے۔ لیکن آج دھند ہے، مگر سردی نہیں۔ اس دھند کی خنکی غائب ہے، اور اسموگ کی زہریلی چادر ہمیں اپنی بانہوں میں سمیٹے لمحہ بہ لمحہ موت کی طرف دھکیل رہی ہے۔
میں کسی پنڈت سے شکوہ کرنے کا ڈھونگ نہیں رچا سکتا جو نفس مارنے کے نام پر چلہ کشی کے دوران مزید غریبوں کو ننگا کر رہا ہے۔ میں کسی مولوی سے اختلاف بھی نہیں کر سکتا جو خدا کے نام پر خود خدا بن کر جنت اور جہنم کا بیوپار کر رہا ہے۔ میں ویٹی کن میں بیٹھے پوپ سے بھی اختلاف کرنے کا مجاز نہیں ہوں، جو فلسطین میں مذہب کے نام پر انسانوں کے خون کی ہولی کو جائز سمجھتا ہے۔
یہ سوچ کر مجھے لگتا ہے کہ شاید یہی فطرت ہو، یہی حقیقت ہو اور میری سوچ مختلف۔ لیکن جب میں آسٹریلیا اور برازیل کے جنگلات میں انسانوں کے لگائے ہوئے شعلوں کو دیکھتا ہوں، جس نے لاکھوں معصوم اور بے زبان جانوروں کو نیست و نابود کر دیا، تو میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ شاید فطرت ہی غلط تھی، کیونکہ ہم انسان بھی تو اسی کا حصہ ہیں۔
پھر استغفار کرتا ہوں اور مانتا ہوں کہ نہیں، اس سب کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ ہم نے خدا کی عطا کردہ قدرتوں کو اپنے تابع بنایا ہوا ہے۔ وقت کو مسخر کر رہے ہیں۔ جہاں پرندے آزاد فضا میں اڑتے تھے، وہاں اب ہم بھاری مشینوں کو اڑا رہے ہیں۔ اللہ کی طرف سے نازل ہونے والے عذابوں کا تعین بھی خود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افریقہ میں بھوک، فلسطین پر آگ، اور جاپان پر تپش برسا کر ہم خود عذاب دینے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔
کسی کے کلمات کو بنیاد بنا کر ہم نے جنت اور جہنم کا ٹھیکہ لے لیا ہے۔ ہم دوسروں کو مار کر خود شرک کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ خدا تو یہ سب دیکھ رہا ہے، اور میرے جیسے پاگل خود کو فلسفی سمجھ کر مزید سوالات میں الجھ رہے ہیں۔

میرا وجدان کہتا ہے کہ ہم اس سیارے کے قابل نہ کبھی تھے، نہ ہیں، اور “رہیں گے” کا فیصلہ بھی ہمارا اپنا ہے۔ قدرت کو دوش دینا شاید ہمیں زیب نہیں دیتا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں