یوکلید اندازاً 280 قبل مسیح
یوکلید کے بارے میں بس اتنا ہی معلوم ہے کہ وہ بادشاہ ٹولمی اوّل ( 306 تا 283 ق م ) کے دور میں سکندریہ میں رہتا اور پڑھاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ شفیق ، خوش خلق اور صاف گو تھا اور اسے اپنی پڑھائی ہوئی جیومیٹری کی عملی اہمیت سے شدید نفرت تھی ۔ اس کی کچھ تحریریں کھو گئی ہیں ۔ ہم تک پہنچنے والی تحریروں میں سب سے زیادہ قابل ذکر Elements تیرہ کتب پر مشتمل ہے: کتاب نمبر 1 تا 6 سادہ جیومیٹری ، اور کتاب نمبر 7 تا 9 نظریہ اعداد کے بارے میں، جبکہ کتاب نمبر 11 تا 13 ( جو غالباً اس نے نہیں لکھی تھیں ) غیر منطقی اعداد کے بارے میں ہیں۔ پہلی کتاب کی قابل قدر شرح لکھنے والا پر وکلس بتاتا ہے کہ وہ افلاطون کا پیروکار تھا، لیکن یہ امر یقینی نہیں۔
یوکلید کا اثر بہت زبردست رہا ہے ۔ اور بلا شبہ گزشتہ صدی کے نوجوان بھی اس کے پیش کردہ مسئلوں کو حل کرنے میں بہت مشکلات کا شکار ہوئے ۔ ان طلباء کے لیے جیومیٹری کا مطلب “یوکلید” تھا۔ وہ اپنا موضوع خود بن گیا۔ کچھ عرصہ پہلے تک زیادہ لوگ QED یعنی (quod erat demonstrandum سے واقف نہیں تھے۔ آج بھی سکولوں میں پڑھائی جانے والی جیومیٹری ” ایلیمنٹس پر مشتمل ہے کیونکہ یوکلید کی جیومیٹری باقی جیومیٹریز کی نسبت زیادہ واضح ہے اور ہمیں اس پر زیادہ آسانی سے یقین بھی آجاتا ہے۔ بادشاہ ٹولمی اول نے جب ایلیمنٹس کی طوالت اور مشکل پر اعتراض کیا ( جیسا کہ میتھ کرنے والا کوئی بھی طالب علم کرتا ہے ) تو غالباً یوکلید نے جواب دیا کہ مصر کی جانب تو کوئی شاہی راستہ جا سکتا ہے لیکن جیومیٹری کی جانب نہیں۔ خشک موضوعات میں دلچسپی اور مزاح پیدا کرنے کے خواہش مند سکول ٹیچرز ایک دور میں اس قسم کی کہاوتیں بڑے شوق سے سنایا کرتے تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یوکلید کوئی بلند پایہ یا حتیٰ کہ اوریجنل ریاضی دان نہیں تھا، اپنے تقریباً ہم عصر ارشمیدس کے مقابلے میں اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ محض اپنے بہت سے ذرائع سے اچھی طرح واقف تھا: Theaetetus ، بقراط آف کیاس، یودوکس (Eudoxus) اور متعدد دیگر ایلیمنٹس میں بیان کردہ بہت سے تھیورم پہلے ہی معلوم کیے جا چکے تھے۔ ایک مشہور تھیورم فیثا غورث سے منسوب ہے۔ جس نے اسے دریافت کرنے پر بیل کی قربانی دی تھی۔ یہ مسئلہ یا تھیورم قائمہ الزاویہ مثلث کے بارے میں ہے۔ لہذا یوکلید محض ایک تحریک یافتہ مولف تھا ۔ لیکن وہ ایک کامل استاد بھی تھا ، اور اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ سادہ جیومیٹری کے متعلق تھیورم اس کی ایجاد ہیں۔ بیسویں صدی کے ایک عظیم ماہر ریاضی برٹرینڈ رسل نے لکھا : ” آپ جیومیٹری کا جتنا زیادہ مطالعہ کرتے ہیں، یہ نظام اسی قدر قابل تعریف لگنے لگتا ہے اور ایلیمنٹس ” آج تک لکھی جانے والی عظیم ترین کتب میں سے ایک ہے۔“ اس نے نشاندہی کی کہ Conic Projections کے بارے میں یوکلید کا کام ستر ہویں صدی میں ایک دم جنگ و جدل اور علم فلکیات کی کنجی بن گیا ۔“ ایلیمنٹس تقریباً 800 عیسوی میں عربی زبان میں ترجمہ کی گئی، لیکن 300 برس بعد (1120ء) میں اسے ایڈ لارڈ آف ہاتھ نے دوبارہ یونانی سے لاطینی زبان میں ترجمہ کیا۔ موجودہ دور کا مستند متن 1814ء میں ویٹیکن لائبریری سے F-Peyrard کے دریافت کردہ مسودے پر مبنی ہے۔ ایلیمنٹس کے ایک ہزار سے زائد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں ۔ ایڈ لارڈ (Adelard) کو یہ کام سر انجام دینے کے لیے ایک مسلمان محقق کے بھیس میں چین جانا پڑا تھا۔ علم کے متلاشیوں کو ایذا دینے والے بیورو کریٹس ہمیشہ سے موجود رہے ہیں ۔ ان کبھی نہ مل سکنے والی لائنوں میں ( جن کے متعلق ہم سب نے سکول میں پڑھا ہے ) کیا کوئی چیز خلاف ایمان تھی؟
یو کلید اپنے واضح بالذات طریق کار کی وجہ سے نہایت متاثر کن نظر آتا ہے : ثبوت کی عمارت کھڑی کرنے کے لیے اس کا استعمال کردہ انداز لوگوں پر اثر انداز ہوا حتیٰ کہ کچھ ایک کو تو یہاں تک یقین ہو گیا کہ اس قسم کے طریقے کی مدد سے کائنات کے متعلق بنیادی سچائیوں کا منتظم اور اطمینان بخش مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔ یوکلید کا سادہ پن اس کے خلاف نہیں جاتا ۔ وہ تو محض دو جہتی چپٹی پیس کی حدود کے اندر بے مول قیاسی استخراجی (Hypothetico deductive) طریقہ استعمال کر رہا تھا۔ وہ غیر ثابت شدہ مفروضوں کے ساتھ آغاز کرتا ہے۔ اگر چہ اس کے مفروضے غلط تھے، لیکن یہ غلطی درست سمت میں تھی ۔ یاد رہے کہ یوکلید کی زندگی میں ہی متشکک Pyrrho نے اصرار کیا تھا کہ اس قسم کی واضح بالذات سچائیاں ناقص یا بے وقعت ہیں۔ لیکن یوکلید کی متاثر کن کامیابی تمام امور میں منطقی قطعیت کے نمونہ کے طور پر موجود رہی ہیں ۔ یو کلید کو اس کا الزام دینا جائز نہیں ۔ چنانچہ یوکلید کی اہمیت صرف اسی وجہ سے نہیں کہ دو ہزار سال کے دوران دنیا بھر کے سکولوں میں اسے پڑھایا جاتا رہا۔ تاہم، سادہ (Plane) جیومیٹری پڑھانے کے لیے اس کی کتاب کا موزوں پن بلا شبہ اس کو مشہور کرنے کے لیے کافی ہے ۔ ایلیمنٹس غیر معمولی طور پر اطمینان بخش اور جائز لگتی ہے۔ خالصتاً مجرد استدلال پر انحصار نے جبراً ان کا مطالعہ کرنے والے لڑکوں لڑکیوں کو گہرائی میں اپیل کیا ۔ نوجوانی کے دور میں وہ ہمیں اپنی استدلالی قابلیت پر مطمئن ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ در حقیقت فلسفہ اور نتیجتاً بحیثیت مجموعی دنیا سے متعلق رویوں پر اس کا اثر ریاضی پر اثر کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہے۔
فلسفہ کے لیے ریاضی اہم ہے کیونکہ یہ علم کی نوعیت کا مظاہرہ کرنے کی قابلیت رکھتا ہے: یہ خالصتاً منطقی اور غیر تجربی علم کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ تجربہ ہمیں دو جمع تین کا نتیجہ پانچ اخذ کرنے کو کہتا ہے، لیکن ہمیں اس کا ثبوت حاصل کرنے کے لیے لیبارٹریز میں تجربہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔ لہذا اگر دو جمع تین برابر ہیں پانچ تو کمرے میں دو بلیوں اور تین بلیوں کے گروپ موجود ہونے کا مطلب ہے کہ کمرے میں پانچ بلیاں ہیں۔ اعداد دو، تین اور پانچ محض بلیاں ، یا سیب یا انگلیاں وغیرہ نہیں ۔ وہ اعداد ہیں ۔ لیکن اعداد اصل میں ہیں کیا اور وہ کوئی وجود رکھتے ہیں یا نہیں؟ اور اگر ان کا وجود ہے تو یہ وجود کس قسم کا ہے؟ ان سوالات کے جواب نہیں دیے گئے لیکن افلاطون نے ان فلسفیانہ اعداد ( جو آج بھی نہایت متنازعہ ہیں ) کو اپنے اس نظریہ کی حمایت میں استعمال کیا کہ ایک ماورائے حیات دنیا موجود ہے جس تک رسائی صرف منطق کے ذریعہ ہی ممکن ہے ۔ صرف حیاتی ادراک کے ذریعہ معلوم ہونے والی دنیا پر یقین رکھنے والے تجربیت پسند اس پر بہت چیں بہ جبیں ہوئے ۔ اب ایک تھیوری ہے … ogistic theory ….. جو زور دیتی ہے کہ ریاضی محض کلیوں کا ایک مجموعہ ہے اور ہر کلیہ اپنے سے پہلے والے کلیے میں سے اخذ ہوا ہے۔
ایک زیادہ عام سطح پر کوئی شخص باطنیت کے بغیر منطق کو پسند کرتا ہے جب کہ کسی کو اس پر بھروسہ نہیں اور وہ اشکال کے آسمان کا حامی ہے۔ یہ کافی حد تک مزاج کا معاملہ ہے۔ لیکن اس سب کچھ کی بنیاد پر اس افلاطونیت پر یقین کرنے کی وجہ موجود ہے جو پر وکلس نے یوکلید سے منسوب کی ، کیونکہ افلاطون کو یوکلید پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا تھا۔ یو کلید مندرجہ ذیل طریقے سے زیادہ چالاکی دکھا سکتا تھا: یوکلید اپنے مسلمات کو استر داد بہ ثبوت حماقت کے ذریعہ ثابت کرتا ہے یعنی کسی قضیے یا مسئلے کا اس کے منطقی نتائج تک پہنچانے سے ظاہر ہو جانے والی حماقت کی بنا پر استرداد (Reductio ad absurdum) چنانچہ وہ سادہ سے انداز میں اپنے پانچ قضیوں کو پیش کرتا ہے:
1 – کسی نقطے سے دوسرے نقطے تک ایک سیدھی لائن کھینچنا ؛
2 ۔ ایک سیدھ میں متواتر محدود سیدھی لائن بنانا ؛
3- کسی بھی مرکز یا فاصلے سے دائرے کو بیان کرنا ؟
4 ۔ کہ تمام قائمہ زاویے ایک دوسرے کے برابر ہیں ؛ اور 5 ( جسے سمجھنا ذرا مشکل ہے ) کہ اگر دو سیدھی لائنوں پر رکھی ہوئی ایک سیدھی لائن کے اندرونی زاویے ایک ہی طرف دو قائمہ زاویوں سے کم ہوں اور اگر انہیں لامحدود طور پر کھینچا جائے تو وہ اس سائیڈ یا طرف پر ملتے ہیں جہاں زاویے دو قائمہ زاویوں سے کم ہوں ۔
یہ پانچواں قضیہ اصل میں یہ کہنے کا ایک دلچسپ طریقہ ہے کہ دو متوازی خطوط کبھی بھی آپس میں نہیں ملتے۔ اسے اس انداز میں کہنے کا مقصد نہیں ملتے“ کہنے سے گریز کرنا تھا۔ اٹھارہویں صدی کے جان پلے فیئر نے یہی بات نسبتاً سادہ انداز میں کہی ۔ یہ قضیہ بہت سے یونانی ریاضی دانوں کے لیے پریشانی کا باعث بنا۔ وہ سب ہی اسے ثابت کرنے میں ناکام رہے۔
بعد ازاں ، عرب ریاضی دانوں نے بھی اس کا تجزیہ کیا۔ کسی کو بھی کامیابی نہ ہوئی اور انہوں نے خود کو دلائل کے ایک چکر میں گھرا ہوا پایا ۔ ( رومانوی فلسفی شوپنہاور نے تو یوکلید کے قضیوں کو کڑکیاں تک کہہ دیا )
ترجمہ میں گڑ بڑ سے بچنے کے لیے ہم اسے انگریزی

میں بھی لکھ دیتے ہیں۔
“That, if a straight line falling on two straight lines make the interior angles on the same side less than two right angles, if produced infinitely, meet on that side on which are the angles less than two right angles.”
اٹھارہویں صدی کے دوران ایک اطالوی ریاضی دان Saccheri نے رائے دی کہ کچھ قسم کی جیومیٹریز میں متوازی کا قضیہ درست نہیں ۔ 1868 ء میں Beltrami نے ثابت کیا کہ اسے ثابت نہیں کیا جا سکتا ۔ تین دیگر ماہرین ریاضی ، جوہان بولیائی ، فریڈک Gauss اور نکولائی لیبو چیوسکی نے ایسی جیومیٹریز وضع کیں جن میں parallels کا وجود نہیں تھا۔ ان میں یوکلید کی جیومیٹری سے زیادہ سچائی نہیں، کیونکہ کوئی بھی جیومیٹری دوسری جیومیٹری سے زیادہ سچی نہیں ہو سکتی ۔ بعد ازاں برن ہارڈ ریمان نے اس کام کو مزید آگے بڑھایا ۔ اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ تین جیومیٹریز موجود ہیں : یوکلید کی جیومیٹری جس میں مثلث کے زاویے مل کر 180 ڈگری بنتے ہیں، ریمان کی جیومیٹری جس میں زاویوں کا مجموعہ 180 ڈگری سے زیادہ ہے، اور Gauss کی Hyperbolic جیومیٹری جس میں زاویوں کا مجموعہ 180 ڈگری سے کم ہے۔ یہاں یہ بتاتے چلیں کہ یوکلیدی مثلث زمین کی سطح کے حوالے سے محض ایک افسانہ ہے کیونکہ زمین ایک کرہ ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں