محسنِ پنجاب سر گنگا رام نے عوام کی بھلائی کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ ان کے مفادِ عامہ کے منصوبے صرف لاہور تک محدود نہیں ہیں بلکہ لاہور شہر سے باہر بھی اس وقت کے متحدہ پنجاب میں ان کے بہت سے منصوبے تھے جن میں سے کچھ اب بھی چل رہے ہیں۔
ان میں سے ایک گنگا رام پاور ہاؤس (موجودہ نام رینالہ خورد ہائیڈرو پاور پلانٹ) ہے۔ رینالہ شہر میں واقع یہ منصوبہ 1922 میں لوئر باری دوآب نہر پہ شروع کیا گیا تھا جو 1925 میں جا کے مکمل ہوا۔
لاہور کے گنگا رام کو جب پتہ چلا کے اس علاقے میں کئی ہزار ایکڑ زمین صرف اس لیے ویران اور بنجر پڑی ضائع ہو رہی ہے کہ اسے پانی نہیں مل رہا، وجہ یہ کہ نہر سے کچھ دور وہ رقبہ کافی اونچا تھا جہاں تک نہری پانی نہیں پہنچ سکتا۔
درد مند ہونے کے علاوہ گنگا رام جی ایک انتہائی ذہین اور ویژنری انسان تھے، انہوں نے انگریز سرکار سے اس وقت کے ضلع منٹگمری کا وہ 50000 ایکڑ بنجر و غیر سیراب رقبہ لیز پہ حاصل کیا اور لوئر باری دوآب نہر پہ ایک ہائیڈرو پاور اسٹیشن اور میلوں لمبے آبپاشی کے راستے بنا کر تین سال کے اندر اس وسیع ریگستان کو سرسبز و شاداب کھیتوں میں تبدیل کر دیا۔ اور یہ سب ان کے ذاتی خرچ سے ممکن ہوا۔
تکمیل کے بعد یہ منصوبہ نا صرف برصغیر بلکہ پورے براعظم ایشیاء کا پہلا ایسا ہائیڈل پاور منصوبہ تھا جو پانی کے اوپر ہی بنایا گیا تھا اس لیے Floating Power station یعنی تیرنے والا پاور اسٹیشن بھی کہا جاتا ہے۔ 
سو بنیادی طور پر یہ پاور ہاؤس ان پمپوں کو چلانے کے لیے تعمیر کیا گیا جو لوئر باری دوآب نہر کی سطح سے اوپر واقع زمینوں تک پانی لے جاتے تھے۔ اس کی پیداواری صلاحیت 1۔1 میگا واٹ ہے۔ آج کل یہاں سے بننے والی بجلی نزدیکی دیہاتوں اور مچلز فیکٹری کو سپلائی کی جا رہی ہے۔
اس جگہ کے دورے کے لیے ہمارے دوست ظاہر محمود کے توسط سے ایکسیئن انجینئر معاذ راشد صاحب نے پہلے ہی انتظامات کر رکھے تھے۔ چونکہ اتوار کی چھٹی تھی تو ہم نے آسانی سے یہ جگہ دیکھی۔
سکیورٹی سپروائزر نے اپنی معیت میں پورے پاور ہاؤس کا دورہ کروایا۔ گھنے درختوں میں چھپا ایک خوبصورت راستہ گیٹ سے اندرونی عمارت تک ہمیں لے گیا۔ اس پورے راستے کے ساتھ لوئر باری دوآب کا غضب ناک نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
لوئر باری دوآب نہر کے بطن سے ایک اور نہر اس پاور اسٹیشن کے لیئے نکالی گئی ہے جو کچھ آگے جا کر دوبارہ مرکزی نہر میں شامل ہو جاتی ہے۔
اسی نہر پہ ایک سلاخ دار جالی لگائی گئی ہے جو نہر میں بہہ کے آنے والی فصلوں کی باقیات کو الگ کرتی ہے۔
ہمیں بتایا گیا کہ کبھی کبھی تو انسانی لاشیں بھی یہاں نظر آتی ہیں۔آہ! زندگی۔
اس کے بعد پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیئے آہنی گیٹ بنائے گئے ہیں جہاں سے پانی اس عمارت کے نیچے جاتا ہے اور ٹربائنوں کی مدد سے بجلی پیدا کرتا ہوا دوسری طرف سے نکل جاتا ہے۔
میں سوچ کے حیران رہ گیا کے اس وقت اتنے چھوٹے سے شہر میں اتنا زبردست پاور اسٹیشن لگایا جا سکتا تھا تو آج کیوں نہیں۔؟؟
ہمارے پاس بڑی بڑی نہریں ہیں جن سے سستی بجلی بنائی جا سکتی ہے لیکن ضرورت ہے تو صرف ایک مخلص لیڈر کی۔
ہمیں پاور ہاؤس کا اندرونی دورہ بھی کروایا گیا جہاں گلابی رنگ کی عمارت کے اندر گنگا رام جی کی ایک تصویر لگی ہے۔ تصویر کے نیچے لال رنگ کا ایک خول رکھا ہے۔ بتایا گیا کہ پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ میں بھارت نے یہاں بم گرایا تھا جسے ڈی فیوز کرنے کے بعد اس جگہ سجا دیا گیا۔ اس کے نیچے سنگ مرمر کے کتبے پہ انگریزی میں یہ عبارت لکھی ہے ؛
‘’HE WON LIKE A HERO AND SPENT LIKE A SAINT’’
THIS BUST OF THE LATE
SIR GANGA RAM ,
C.I.E, M.V.O., M.I.C.E. , M.I.M.E. ,
HAS BEEN ERECTED BY THE STAFF OF THE
RENALA HYDROELECTRIC POWER SCHEME
AS A TOKEN OF LOVE AND RESPECTFOR THEIR MASTER.
اس کی دوسری جانب ایک اور کتبہ لگا ہے جو پاور اسٹیشن کا افتتاحی کتبہ ہے۔
اس تختی کے مطابق ؛
GANGA POWER STATION
OPENED BY
HIS EXCELLENCY SIR WILLIAM MALCOLM HAILEY, B.A
GOVERNOR OF THE PUNJAB
ON 22nd MARCH 1925
پاور ہاؤس کے اندر لندن سے بن کے آئی پانچ پرانی ٹربائنز لگی ہیں جو اب بھی بہترین طریقے سے کام کر رہی ہیں۔ ان پہ کمپنی کا نام بھی لکھا نظر آتا ہے۔ یہاں ہر وقت ایک آپریٹر متعین رہتا ہے جو کسی بھی خرابی کی صورت میں سائرن بجا کے تمام عملے کو چوکس کرتا ہے۔
بھئی یہ بات تو ہمیں ماننی پڑے گی کہ انگریز کے لگائے بیشتر منصوبے اب بھی بہترین کام کر رہے ہیں کیونکہ ان میں کرپشن اور بے ایمانی کا عشرعشیر بھی نہ تھا۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں