سنگھار میز /سیدہ گلونہ

میری آماجگاہ مانند شہر خموشاں
دکھوں کی چادر سے سجی مسہری، آنسوؤں سے لبریز تکیہ
تار عنکبوت کے ہالے
جیسے چہار سو حزن آکاس بیل نما در و دیوار سے لپٹا۔

مزار نما خانقاہ میں بوقت تہجد
مسجود گڑگڑاتے ہوئے میں رب کو پکار رہی تھی کہ یکایک
سنگھار میز کا دروازہ چرچرایا
استعجاب سے بھیگی پلکیں جو اٹھائیں تو کپکپا اٹھی۔

دیکھا تو تمام سامان زیبائش زندہ
عطر کی شیشی نے قہر سے صدا دی اے درماندہ گل اندام
میں لڑکھڑاتی پاس جاپہنچی
میرے لمس سے خاک آلودہ سنگھار میز کراہ کے تڑپ اٹھا۔

جھمکے ,کاجل, بندیا اور پائل
طعنوں کوسنوں اور تیغ و تلوار سے مزین لڑنے کو تیار
چوڑی دان پر سجی چوڑیاں غرائیں
کیوں ان سونی کلائیوں میں ایک بیوہ چھپائے بیٹھی؟

میرے سفید لب سرسرائے
دل آزاری گوارہ نا تھی ہمیں سامان زیبائش کی مگر
سیاہ بختی سے کون لڑ پایا
یہ سن کر رنجور سنگھار میز چتا جیسے راکھ ہو بیٹھا!

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply