فوبیاکی اصطلاح کے معنی اردو میں کچھ مترجمین نے”بے معنی خوف“ بھی کیے ہیں اور کچھ نے صرف ”خوف“،لیکن فوبیا دراصل مرضیاتی خوف ہے اور عام خوف میں اور مرضیاتی خوف میں بہت فرق ہے۔ عام خوف میں سبب حقیقی ہوتا ہے جس سے خوف کھانا نارمل رویہ ہے اور انسانی جان کے لیے ضروری بھی ، کیوں کہ خوف ہی انسان کو اس خطرے سے بچاتا ہے جو اس کو درپیش ہوتا ہے، لیکن فوبیا یا بے معنی خوف میں انسان کو کوئی حقیقی خطرہ نہیں ہوتا بلکہ وہ خوف دراصل اس کے لاشعورمیں ہوتا ہے جو انسان کو مرضیاتی کیفیات و علامات میں مبتلا کر دیتا ہے۔
اس مرضیاتی خوف یا فوبیا کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں جن میں انسانوں کی ایک کثیر تعداد گرفتار ہوتی ہے، یہاںتک کہ ایک تحقیق کے مطابق سو میں سے پچانوے افراد کسی نہ کسی فوبیا کے مریض ہوتے ہیں۔ مثلاً کوئی شخص آگ سے خوف کھاتا ہے، کوئی بلندیوں سے ڈرتا ہے، کوئی پانی سے، کوئی بند جگہوں سے ، کوئی سمندر سے اور کوئی اندھیرے سے۔ اس طرح ہر شخص میں خوف کی وجہ بھی مختلف ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ مرضیاتی خوف خیالی ہوتے ہیں لیکن جب فرد کو اس حالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی جسمانی حالت پر وہی اثرات ہوتے ہیں جو عام خوف کی حالت میں ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص بلندی سے ڈرتا ہے تو اگر وہ اوپر سے نیچے دیکھے تو اسے چکر آنے لگتے ہیں۔ بے شک ایسے مرضیاتی خوف کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے لیکن وہ لاشعوری ہوتی ہے اور اس کا تحلیل نفسی کے بعد پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ آج کل عام طور سے اتنے قسم کے مرضیاتی خوف سننے میں آتے ہیں کہ ان کو بیان کیا جائے تو ایک بہت طویل فہرست تیار ہو جائے۔ پھر بھی عمومی مرضیاتی خوف مندرجہ ذیل ہیں جو عام طور سے سننے میں آتے ہیں اور فرد کی روزانہ کی زندگی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
آگ کا خوف (Pyrophobia)،اکیلے پن کا خوف (Autophobia)، اندھیرے کا خوف(Nyctophobia)، بلندی کا خوف(Acrophobia)، بھوت پریت کا خوف(Demonophobia )،بجلی چمکنے کا خوف(Astraphobia)، تاریکی کا خوف((Achluophobia،تنقید کا خوف(Enissophobia)،تیز رفتاری سے خوف(Techophobia)، جانوروں کا خوف(Acnophobia)، جنسی فعل ادا کرنے کا خوف(Coitophobia)،چھوئے جانے کا خوف (Hapiphobia)، چوروںکا خوف(Horpaxiophobia)، چھوت لگ جانے کاخوف(Mysophobia)،جلدی امراض کا خوف (Dematsiophobia)، حرکت کرنے کا خوف(Kinesophobia)، خالی جگہ کا خوف(Kenophobia)، دردوتکلیف کا خوف(Algophobia)، دریاو¿ں کا خوف(Potamophobia)، سانپوں کا خوف(Ophidiphobia)، سزا کا خوف(Poinephobia)، سمندر کا خوف(Thalasophobia )،شادی کا خوف(Gamophobia)، عریانی کا خوف(Gimnophobia)، عمل جراحی کا خوف(Ergasiophobia)، کھلی جگہوں کا خوف(Agoraphobia)، کتوں کا خوف(Cymophobia)، کیڑے مکوڑوں کا خوف(Entmophobia) ،لاش کا خوف(Neerophobia)، مشینوں کا خوف(Mechonophobia)، مردوں میں زنانہ پن کا خوف(Femiphobia)، ہجوم کا خوف(Demophobia)،خون دیکھنے سے خوف(Hemotophobia)، بند جگہوں کا خوف (Claustrophobia)۔
ان کے علاوہ بھی فوبیا کی بہت سی قسمیں ہیں، جن کا ذکر طوالت کا باعث ہو گا۔ آج ہم فوبیا کی ان قسموں میں سے ایک بہت عام قسم بند جگہوں کے خوف(Claustrophobia) کی وجوہات، تشخیص اور علاج یا بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں اہم نکات پیش کریں گے۔ کلاسٹرو فوبیا کاانتخاب ہم نے اس لیے بھی کیا ہے کہ راقم الحروف خود بھی کسی حد تک اس فوبیا میں گرفتار رہا ہے بلکہ کسی حد تک ابھی بھی ہے۔ بند جگہوں کے خوف کی علامات یا کیفیات اب کم اس لیے ہیں کہ اس موضوع پر ہم نے تحقیق کی اور اس کی اصل وجہ جاننے کی کوشش کی۔،گویا کسی حد تک اپنے آپ کی تحلیل نفسی کرنے میں کامیاب رہے، اس سے یہ ہوا کہ ان کیفیات سے کسی حد تک چھٹکارا حاصل کرنے میں ہم کامیاب ہو گئے جو اکثر اوقات شرمندگی کا باعث بنتی تھیں۔ہمیں جب اس میں کامیابی حاصل ہوئی تو سوچاکہ قارئین سے بھی یہ مسئلہ شیئر کیا جائے تا کہ جو حضرات و خواتین اس مسئلے میں گرفتار ہیں، ان کو بھی فائدہ ہو جائے۔
کلاسٹرو فوبیا
تنگ جگہوں کے ڈر یا خوف کی حالت کو کلاسٹرو فوبیا کہتے ہیں۔ یہ ایک عام حالت ہے جو اکثر افراد میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ایک حالیہ ریسرچ کے مطابق تقریباً سات فی صد لوگ اس میں مبتلا ہیں۔عام طور پر اس حالت میں مریض لاشعوری طور پر یہ سمجھتا ہے کہ وہ بند ہو کر رہ گیا ہے۔ اس جگہ سے فرار کی جلد ازجلد کوشش اور خواہش کے باعث خوف میں مبتلا شخص مزید پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو چاہنے کے باوجود پرسکون نہیں رکھ پاتا۔ کلاسٹرو فوبیا میں مبتلا افراد کسی بھی تنگ جگہ جیسے کہ لفٹ، تہہ خانے،ہوائی جہاز، ائیرکنڈیشنڈ بس یا کار، غار نما جگہ یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے کمروں خصوصاً ایسے کمروں جن میں کھڑکیاں نہ ہوں ،میں بھی خود کو گھٹا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ ایسے افراد کو یہ گھٹن بھیڑ والی جگہ مثلاً بازار یا ٹریفک جام اور یہاں تک کہ تنگ ملبوسات میں بھی محسوس ہوتی ہے۔
تنگ جگہوں کے خوف میں مبتلا شخص کو MRIمشین بھی اس خوف میں مبتلا کر دیتی ہے، کیوں کہ اس خوف سے متاثرہ شخص کو جب اس مشین میں کافی دیر تک بغیر حرکت کے رہنے پڑتا ہے تو وہ اس کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ایسی پارٹی جس میں بہت زیادہ افراد ہوں، یا ایسی جگہ جہاں بہت بھیڑ ہوں، وہاں بھی ایسا شخص کلاسٹرو فوبیا میں گرفتار ہو جاتا ہے اور علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔
وجوہات:
زیادہ تر یہ کیفیت بچپن میں کسی تکلیف دہ واقعہ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ بچے جو کسی کمرہ میں بند ہو جائیں یا کسی بھاری چیز کے نیچے دب جائیں یا کسی سیڑھی والے کنویں میں کھیلتے ہوئے اتر جائیں اور اچانک خود کو تنہا اور اندھیرے میں پا کر خوف کا شکار ہو جائیں تو یہ صدماتی کیفیت ان کے لاشعور میں محفوظ ہو جاتی ہے جوبعد میں بڑے ہو کر بھی ایسی حالت میں (یعنی بند جگہوں میں) ان پر طاری ہونے لگتی ہے۔یوں لاشعور میں موجود وہ خوف ایک مسلسل کرب کا باعث بن جاتا ہے۔ خود کو ویسی ہی حالت میں دیکھ کر ان کا لاشعور فرضی خطرہ محسوس کرنے لگتا ہے اور فوری طور پر وہ خوف کا شکار ہو کر وہ علامات ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ اس گھٹن اور انجانے خوف کے باعث اور اس کے نتیجے میں فطری ردعمل کی وجہ سے جلد ازجلد فرار سے وہ خود کو نقصان پہنچانے کا باعث بھی بن جاتے ہیں۔
علامات:
کلاسٹرو فوبیا میں مبتلا شخص ہر وقت فرار کی حالت میں رہتا ہے، اور اگر وہ اس جگہ سے فرار حاصل نہ کر پائے تو مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں:
٭بہت زیادہ پسینہ۔
٭سانس رکنا/سخت گھٹن۔
٭دل کی دھڑکن کا بہت بڑھ جانا۔
٭کپکپی طاری ہو جانا۔
٭متلی محسوس کرنا۔
٭بہت زیادہ خوف و دہشت میں مبتلا ہو جانا۔
٭رونا۔
٭بے ہوش ہو جانا۔
اس کے علاوہ بھی بہت سی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جیسا کہ انگلی کا کسی جگہ پھنس جانا اور اسے فوری نکالنے کی کوشش میں خود کو ہی زخمی کر لینا۔
تشخیص:
کلاسٹرو فوبیا میں مبتلا شخص کی تشخیص کسی ماہر سائیکولوجسٹ کے ذریعے آسانی سے ہو سکتی ہے۔ اپنی قابلیت اور تجربہ کی بنیاد پر ماہرِ نفسیات مریض کی ذہنی حالت کو جانچتا ہے اور اس کے خوف اور تشویش کی نوعیت کا تعین کرتا ہے۔ وہ ایسے رائج اور آزمودہ طریقے استعمال کرتا ہے جو صحیح تشخیص میں معاون ثابت ہوتے ہیں جیسے کہ تشخیصی سوالنامے(Claustrophobia Questionnaire) اور (Claustrophobia Scale) وغیرہ۔
احتیاطی تدابیر:
٭ایسے اوقات میں جب سڑکوں پر رش ہو تواس خوف میں مبتلا شخص کو گاڑی چلانے سے گریز کرنا چاہیے اور پسنجر سیٹ پر بیٹھنا چاہیے۔
٭ کچھ متاثرہ لوگوں میں محض کمرے کا دروازہ بند ہونے پر بھی خوف طاری ہو سکتا ہے، اس لیے کوشش کریں کہ کسی بھی کمرے میں جائیں تودروازہ کھلارکھیں۔
٭کوشش کریں کہ اپنے پاس ٹارچ رکھیں ، کیوں کہ گھروں کی ایسی اندرونی جگہیں جو اگرچہ کھلی بھی ہوتی ہیں، لیکن ان تک قدرتی روشنی کا گزر نہیں ہوتا، اور اچانک بجلی چلے جانے سے وہاں گھپ اندھیرا ہو جاتا ہے، یوں متاثرہ شخص کو مکمل اندھیرے میں وہی تنگی اور بند جگہ کا احساس ہوتا ہے اور علامات ظاہر ہونی شروع ہو جاتی ہیں، اس لیے ٹارچ کا ایک فائدہ تو یہ ہو گا کہ روشنی ہو کر گھٹن دور ہونے کا باعث ہو گی اور اگر وہاں سے اوپن ایریا میں آنا ہو تو بھی آسانی ہو گی۔
٭تھکاوٹ یا سانس پھولنے کے باوجود ایسے افراد کو کوشش کرنی چاہیے کہ لفٹ کی بجائے سیڑھیاں استعمال کریں۔
علاج:
احتیاطی تدابیر کے ساتھ کلاسٹرو فوبیا کا علاج بھی بہت ضروری ہے کیوں کہ یہ خوف مریضوں کے لیے نہ صرف سماجی مسائل پیدا کر سکتا ہے بلکہ انہیں سنگین جسمانی نقصانات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، حتیٰ کہ اس بند جگہ سے جہاں مریض نکلنا چاہتا ہے اور نہ نکل سکے تو اس کا سانس بھی گھٹ سکتا ہے اور نتیجتاً فوری طور پر موت کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔ اگر اس خوف کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو ذہن پر مسلط یہ خوف متاثرہ فرد کی زندگی کے ہر معاملے میں حاوی ہو جاتا ہے۔ یہ بہت ہراساں کردینے والی بات ہے کہ وہ جگہ جو انسان کے لیے سب سے زیادہ محفو ظ ہوتی ہے مثلاً گھر یا ذاتی کمرہ، وہی جگہ ان افراد کو خوف میں مبتلا کر دے۔
تشخیص کے بعد ماہرِ نفسیات کلاسٹرو فیوبک مریض کو اس خوف پر قابو پانے کے لیے مختلف طریقوں سے مدد فراہم کرتا ہے۔ ان میں ایک طریقہ CBT(Cognitive Behavioral Therapy ) کا ہے۔ یہ مختلف قسم کی پریشانی کے مسائل کو حل کرنے کا ایک مستند طریقہ ہے۔CBT کا مقصد مریض کے لاشعور پر ایسی محنت کرنا ہے کہ وہ تنگ جگہوں سے بے معنی خوفزدہ نہ ہوں۔
اس کے علاوہ بھی مریضوں کو خوف پر قابو پانے کے لیے مختلف قسم کی (Therapies)کی ضرورت ہوسکتی ہے۔مثلاً مریض کو کسی فرد کے ساتھ تنگ جگہوں یا بند کمروں میں بھیج کر کچھ دیر وہاں ٹھہرایا جاتا ہے اور گفتگو کے ذریعے انہیں یقین دلایا جاتا ہے کہ یہاں وہ بالکل محفوظ ہیں اور یہاں انہیں کسی قسم کا خطرہ نہیں، لہٰذا وہ خوف کا شکار نہ ہوں اور خود کو نارمل اور پُرسکون رکھیں۔
پریشانی (Anxiety) سے بچنے کے لیے بہت سی ادویات موجود ہیں جو کہ مختصر عرصہ کے لیے دی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ تھراپسٹ ان کو کچھ ایسے آسان طریقے بھی بتاتا ہے تا کہ وہ اپنے خوف کا سامنا کر سکیں۔
٭ایک طریقہ تو خوف کے موقع پر سمجھایا جاتا ہے یعنی اگر آپ ایسی بند جگہ پر ناگہانی آ گئے ہیں تو اپنے لاشعورکے ٹریپ میں آنے اوروہاں سے فوری فرار ہونے کی بجائے کواس خوف کا کچھ نہ کچھ مقابلہ کیجیے، بے شک یہ مشکل ہو گا لیکن یہی طریقہ ہے اس خوف بلکہ کسی بھی خوف سے چھٹکارا حاصل کرنے کا۔ اس وقت آپ گہری گہری سانسیں لیجیے۔ بار بار زبان سے کہیے کہ کوئی خطرے کی بات نہیں ہے، میں بالکل محفوظ ہوں، یہاں اور بھی لوگ ہیں، ابھی میں کچھ دیر میں یہاں سے نکل جاو¿ں گا، میرا خوف بے بنیاد ہے۔۔ غرض اپنے لاشعور کو بریف کرتے رہیے اور اگر اس جگہ سے باہر نکلنے کا موقع ملے بھی تو جلدی سے نکلنے کی بجائے آہستہ آہستہ وہاں سے باہر آئیے۔
٭پُرسکون کرنے والی مشقوں کے ذریعے بھی اس خوف پر قابو پانا سکھایا جاتا ہے جیسے کہ گہرے اور طویل سانس لینا، مراقبہ ،عضلات کو ڈھیلا چھوڑ کر یعنی تناؤ سے نکال کر پُرسکون کرنے کی مشق کرنااور یوگا کی مختلف مشقیں۔ ان مشقوں سے آدمی اپنے ذہن پر کنٹرول حاصل کر لیتا ہے ، یوں منفی خیالات اور پریشانی سے نجات حاصل کر لیتا ہے۔
٭اگر آپ کلاسٹرا فیوبک مریض ہیں تو ان میں سے ایک آسان طریقہ اس وقت بھی آپ اختیار کیے ہوئے ہیں، یعنی اپنے بے معنی خوف کے بارے میں جاننے کا طریقہ!
جی ہاں! اس مضمون کو بار بار پڑھیے،کیوں کہ نہ جاننا بھی خوف کا باعث بنتا ہے۔ اورنفسیاتی امراض میں تو خصوصاً اپنے مرض کے بارے میں جان لینا آدھی بیماری دور کر دیتا ہے۔ اس مضمون کو بغور پڑھیے اور اپنے ذہن کو یقین دلائیے کہ یہ محض ایک بے معنی خوف ہے، بار بار اپنے آپ کو تاکید کرنے سے لاشعور میں بسا ہوا خوف نکلنے لگے گا اور آپ آہستہ آہستہ اس حوالے سے نارمل محسوس کرنے لگیں گے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں