منہ طرف’یورپ شریف(5)-ندیم اکرم جسپال

صبح سپین کے لیے نکلنا تھا،سو اب چاہتے نہ چاہتے نیند کو آنکھوں پہ سوار کرنا تھا۔نیند کے ساتھ میرے معاملات بڑے اچھے ہیں۔جب،جہاں ،جیسے بلاؤں،دوڑی چلی آتی ہے۔

صبح وہی فرنچ ناشتہ ہوا،وہی جرمن ایس یو وی اور اُسی بمب ڈرائیور کے ساتھ بارسلونا کو نکل پڑے۔تلوس سرحد سے قریب دو سو کلومیٹر دور ہے۔یہ دو سو کلومیٹر کا راستہ انتہائی خوبصورت ہے۔تلوس سے بارسلونا جانے کے دو راستے تھے،ایک اندورہ سے ہوکے گزرتا ہے،جو خوبصورت پہاڑی سلسلہ کے بیچوں بیچ چھوٹے موٹے گاؤں قصبوں سے ہو کے گزرتا ہے۔اور دوسرا  وہ  راستہ ہے جو بحیرۂ روم کے ساتھ ساحلی قصبوں سے ہوتا ہوا گزرتا ہے۔مجھے ساحل سمندر سے زیادہ پہاڑ پسند ہیں سو ہم نے اندورا والے راستے کا انتخاب کیا۔

اندورا سپین اور فرانس کے درمیان ایک چھوٹا سا خود مختار ملک ہے جس کا اپنا وزیراعظم ہے مگر اس کی سیکیورٹی، داخلی اور خارجی معاملات سپین اور فرانس کی حکومتیں مل کے طے کرتی ہیں۔
تلوس سے اندورا تک فرانس کی طرف کا لینڈ سکیپ انتہائی خوبصورت ہے۔صاف ستھرا چھوٹے چھوٹے گاؤں اور آبادیاں ہیں جن میں ہوٹل، موٹل اور بارز بنے ہوئے ہیں۔بل کھاتی سڑک اونچے پہاڑوں کے بیچوں بیچ دوڑتی جاتی ہے،کہیں یہ سڑک پہاڑ کے اندر کسی سرنگ میں گم ہوجاتی ہے اور کہیں بادلوں میں چھپے پہاڑوں سے سر باہر نکالتی ہے۔گرمیوں کا موسم تھا جو یورپ میں سیاحت کے حوالے سے مصروف ترین وقت ہوتا ہے۔سڑکوں پہ گاڑیوں کی قطاریں ہیں،مگر کوئی ٹیں ٹیں پاں پاں نہیں،کہیں رش نہیں،کہیں ایک گاڑی کے ریورس کرنے کے لیے باقی ٹریفک کی دو میل لمبی قطاریں نہیں،صاف ستھرائی ایسی کہ روح راضی ہوجائے۔

فرانس اور سپین کا بارڈر دیکھا تو اپنے واہگے کی قسمت پہ رونا آیا۔واہگہ چھوڑیے میں اپنے پنڈ سے آٹھ کلومیٹر دور منڈی بہاؤالدین کی حدود میں داخل ہوتے کتنی بار روکا گیا ہوں۔ایک ضلع سے دوجے ضلع جاتے ایک باوردی صاحب روک کے پوچھ لیتے ہیں “ہاں جی کدا چلے او” بندے پوچھنا چاہتا ہے کہ توں میری اماں ایں یا میری زنانی،تینوں کیوں دساں۔ہھر یاد آجاتا کہ سکیورٹی سٹیٹ میں ایسا ہی ہوتا چپ کر کے تلاشی دو ،چاہ پانی دو اور نکل لو۔یہاں دو ملکوں کے بارڈر پہ صرف ایک پولیس کی گاڑی نظر آئی،کسی نے شناختی کارڈ نہیں پوچھے،کسی نے نہیں پوچھا سپین کیہہ کرن جانا۔بلکہ سچ پوچھیے تو مجھے پتہ بھی نہ چلتا کب فرانس ختم ہوا اور سپین شروع ہوا،وہ تو بھلا ہو میرے میزبان کا،اس نے سرحد کی نشاندہی کردی۔

صبح تازہ دم تھے تو انگریزی میوزک اور ہائی انرجی پنجابی میوزک پہ وائب کیا۔جیسے سپین میں داخل ہوئے تو میں نے اپنے میزبان سے پوچھا نصرت پسند ہے؟میرا یہ سوال ہی بے تُکہ تھا مگر سفر کے اولین اصولوں میں سے ہے کہ میوزک کی کیٹگری بدلتے وقت ساتھی مسافروں کی رائے ضروری ہوتی ہے۔میرے میزبان نے کہا او نا نا بھائی،کدی سنیا ای نہیں۔من بالکل نہیں چنگا لگدا۔
دل تو کیا کہ ایسے بے ذوق بندے کو گاڑی سے اُتار دوں،پھر یاد آیا گاڑی بھی اسی کی ہے اور دیس بھی۔میں صبر کے گھونٹ پی گیا اور پھر گاڑی میں انگریزی گانے بجتے رہے۔قریب چار گھنٹے کے بعد ہم بارسلونا پہنچے۔

نیا دن،نیا ملک،نیا شہر لیکن اپنی وہی پرانی کہانی،پہلے روٹی شوٹی کھالیئے؟بارسلونا کے ایک مشہور پاکستانی ریسٹورنٹ پہ گئے۔کھانا کھانے کے بعد بارسلونا کی بیچ۔بیچ پہنچ کے یاد آیا آج شام آٹھ بجے کی واپسی کی فلائٹ بھی ہے۔سو بارسلونا شہر کی آوارگی اگلی بار پہ ڈالی۔

یہ تو ہو نہیں سکتا کہ میں کسی کام میں ہاتھ ڈالوں اور وہ سُکھ شانتی سے ہو جائے۔لندن سے پرواز بھرنے سے پہلے بھی قریب ڈیڑھ گھنٹے کا ڈرامہ ہوا تھا،واپسی پہ بھی جہاز کمپنی کا میسج آ گیا تھا،اس روز میکروسافٹ کا سسٹم ڈاؤن تھا،ساری دنیا میں پروازیں لیٹ اور کینسل ہو رہی تھیں۔سو اپنی بھی ہو گئی۔شام آٹھ بجے جانے والا جہاز اب گیارہ بجے جائے گا۔اسی رات بارہ بجے میرا ویزہ بھی ختم ہونے والا تھا۔

julia rana solicitors

جاری ہے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply