ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کے اپنے والدین کے ساتھ مدھم پڑتے رشتے پر ایک مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا، انہوں نے اس ڈاکیومنٹری کا ذکر کیا، جو کہ ”ٹائیگر پیرینٹنگ“ پر مبنی ہے۔ ڈاکیومنٹری دیکھنے کے بعد مجھے لگا کہ اس پر بات ہونی چاہیے۔ یہ تربیت کا ایک ایسا انداز ہے جس میں والدین اپنے بچوں کی کامیابی پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں، لیکن کیا ہوتا ہے جب توجہ شدت اختیار کرجائے؟
اس ڈاکیومنٹری کے ذریعے ہم مختلف نفسیاتی مسائل کو سمجھیں گے، اور میں تبصرہ کروں گی کہ کیسے بچپن میں ہونے والے تجربات بالغ ہونے پر آپ کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔
کہانی ہے ویتنام سے کینیڈا ہجرت کرنے والے جوڑے مسٹر اور مسز پین کی ،جن کی بیٹی جینیفر پین ان کے ساتھ رہتی ہے۔ بہت محنت سے یہ جوڑا کینیڈا میں ایک بہتر زندگی کو حاصل کرتا ہے اور انکی خواہش ہوتی ہے کہ انکی بیٹی جینیفر ایک کامیاب مستقبل بنائے اور انکا نام روشن کرے۔ خواہش یقیناً غلط نہیں لیکن ایسی کیا غلطیاں ہوتی ہیں مسٹر اور مسز پین سے کہ ایک دن تین لوگ ان کے گھر میں گھس آتے ہیں، انکی جان لینے کی کوشش کرتے ہیں، مسز پین موقع واردات پر جاں بحق ہوجاتی ہیں جبکہ مسٹر پین کو ہسپتال لے جایا جاتا ہے۔ انکی بیٹی جینیفر کو باندھا ہوتا ہے البتہ اسکی جان بچ جاتی ہے۔
کینیڈا کی پولیس پریشان ہے کہ ایک سیدھا سادہ خاندان جس کا کوئی کریمنل ریکارڈ موجود نہیں ہے، شریف لوگ ہیں تو کسی کی ان سے ایسی کیا دشمنی کہ گھر آکر انکی جان ہی لے لی۔؟
تحقیقات بڑھتی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ مسٹر اور مسز پین کی جان کسی اور نے نہیں بلکہ انکی اپنی بیٹی جینیفر نے لی ہوتی ہے۔ آخر کوئی بچہ اپنے ہی والدین کی جان کیوں لے گا؟
اس ڈاکیومنٹری میں ایسے بہت سے موڑ ہیں جہاں جینیفر کی نفسیاتی اور ذہنی حالت پر سوال اٹھائے جاسکتے ہیں، بحیثیت والدین مسٹر اور مسز پین کی غلطیاں بھی واضح ہیں۔ میں انہی نفسیاتی پہلو پر بات کروں گی جو مجھے ڈاکیومنٹری میں نظر آئے اور اگر آپ ان میں سے کسی حالت سے گزر رہے ہیں تو آپ کے لیے ضروری ہے کہ ان نفسیاتی پہلو پر غور کریں
1 (غیر حقیقت پسندانہ امیدیں):
جینیفر کے والدین کی امیدیں انکی سب سے بڑی کوتاہی ثابت ہوئیں۔ والدین نے محنت کرکے زندگی میں ایک مقام حاصل کیا اور انکی امید اور خواہش تھی کہ انکی بیٹی ان سے بھی زیادہ کامیاب ہو، یہ خواہش غلط نہیں تھی، لیکن والدین کو اپنے بچے کی شخصیت پر غور کرنا چاہیے کہ وہ کس قسم کا بچہ ہے، جینیفر کو اس کے والدین ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے لیکن اسے پڑھائی میں دلچسپی نہیں تھی، اور نہ ہی وہ بہت ذہین تھی، وہ پارٹی کرنے اور گھومنے پھرنے کی شوقین لڑکی تھی، اس نے ڈاکٹر بننے سے انکار کردیا تو والدین نے اس کو فارمیسی پڑھنے کو کہا، لیکن اس سے وہ بھی نہیں پڑھی گئی۔
جب والدین اپنے بچے کی حقیقت کو دیکھنے اور ماننے سے انکار کردیتے ہیں تو بچہ جھوٹ، دھوکہ اور فریب کا سہارا لیتا ہے۔ جینیفر نے بھی یہی کیا، جھوٹی ڈگری بنائی اور والدین کو دھوکہ دیا۔ کیونکہ اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ سچ بول سکتی۔ وہ والدین کی امیدوں پر پوری نہیں اتر سکی جس نے اس میں ایک فیل انسان ہونے کے احساس کو جنم دیا۔
2 (بچوں پر اپنی مرضی مسلط کرنا):
ڈاکیومنٹری میں دکھایا گیا کہ جینیفر کو اپنے والدین سے شکایت ہوتی ہے کہ وہ اسے اسکی مرضی سے جینے نہیں دیتے، ایک مرتبہ وہ اپنے پیانو ٹیچر کے سامنے رونے لگ جاتی ہے کہ مجھے پیانو سیکھنے کا شوق نہیں لیکن میرے والدین میری بات نہیں سنتے۔
بچوں کو نظم و ضبط سکھانا، انہیں پڑھائی یا باقی کی سرگرمیوں میں حصہ دلوانا غلط نہیں، لیکن بچے کو جن سرگرمیوں کا شوق نہیں ،اس پر مسلسل زبردستی کرکے اس سے وہ سب کروانا بچے کے اندر بغاوت، آزردگی، اور نفرت کو جنم دیتا ہے۔ بچوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے دینے کی اجازت دینا انہیں اعتماد دیتا ہے، انہیں بڑوں کی اس دنیا میں آزادی کا احساس دلاتا ہے۔
بچے خود کو بہت کمزور محسوس کرتے ہیں اور جب انہیں ان کے چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے دیے جائیں تو اس سے ان کی خود-توقیری میں اضافہ ہوتا ہے، کبھی بچے کا دل نہیں کچھ پڑھنے کا تو ایک دن کا وقفہ دے دیا جائے تو بچہ محسوس کرتا ہے کہ اسکے جذبات کا احترام کیا گیا اور اسکی بات کی والدین کی نظر میں اہمیت ہے۔ ایسا بچہ والدین سے پیار کرنے لگتا ہے، کیونکہ اسے ہمیشہ تب نہیں سراہا جاتا جب وہ اچھی کارکردگی دکھا رہا ہو، اسے تب بھی پیار کیا جاتا ہے جب وہ بہت افسردہ یا حوصلہ افزا محسوس نہیں کررہا۔ جینیفر کے والدین کی اس زبردستی نے اس میں ان سب منفی جذبات کو اندھیرے میں پنپنے دیا جو باہر آنے پر ان کے پورے گھر کو جلانے والے تھے۔
3 (ڈرگ ڈیلز بوائے فرینڈ اور لمرنس):
جینیفر کا بوائے فرینڈ اوباش اور ڈرگز بیچنے والا لڑکا ہوتا ہے، بوائے فرینڈ کے بیان کے مطابق وہ ایک رومانس اور خیالی دنیا میں رہنے والی لڑکی ہوتی ہے، جب کوئی لڑکی کسی نرگسیت پسند یا غلط سرگرمیوں میں ملوث لڑکے کی جانب کشش محسوس کرتی ہے اور اس لڑکے کی حقیقت کو دیکھنے سے قاصر ہوتی ہے، جو لڑکی رومانوی کہانیوں کے بھنور میں رہتی ہے تو اس بھنور کو ہم ”لمرنس“ کہتے ہیں سائیکالوجی کی زبان میں۔ لمرنس میں آپ کسی بھی انسان کے لیے جنونی اور غیر حقیقت پسندانہ خاکے ذہن میں بنا لیتے ہیں، وہ خصوصیات جو اس میں ہوتی بھی نہیں آپ کا دماغ انہیں اس انسان میں دیکھنے لگتا ہے، وہ انسان آپ کے دماغ میں سارا دن یا زیادہ تر ڈیرہ جمائے رکھتا ہے۔ لمرنس پر وضاحت میں مختلف آرٹیکل اور وڈیوز میں تبصرہ کیا ہے میں نے۔
دوستوں لمرنس یا جنون تب جنم لیتا ہے جب انسان کی زندگی میں حقیقی محبت کی کمی ہوتی ہے۔ انسان ایک سماجی مخلوق ہے، اور ہم محبت کو پہلی بار اپنے والدین کے ساتھ رشتے میں محسوس کرتے اور سمجھتے ہیں۔ جب والدین کے ساتھ محبت کا احساس ادھورا رہ جائے تو ہمارا دماغ خود سے ہی محبت کی ایک غیر حقیقت پسندانہ تصویر بنا لیتا ہے، ایک عجیب سا ”ترسنا“ یا ”ادھوری خواہش“ کا ہونا انسان محسوس کرتا ہے زندگی میں۔ جذبات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا، یہ محض محسوس ہوتے ہیں۔
4 (ٹروما بونڈ):
کیمیاء میں آپ میں کئی بونڈ کے نام سنے ہونگے، لیکن انسانی رشتوں کی دنیا میں ایک بونڈ ایسا ہے جسے توڑنا بہت درد اور تکلیف کا عمل ہوتا ہے، اسے سائیکالوجی کی زبان میں ”ٹروما بونڈ“ کہتے ہیں۔ یہ دو ایسے لوگوں کے درمیان بنتا ہے جن کا رشتہ غیر صحتمندانہ ہوتا ہے، دونوں میں سے جو جذباتی طور پر زیادہ کمزور ہوتا ہے وہ استعمال بھی زیادہ ہوتا ہے اور اس بونڈ کو توڑ نہیں پاتا۔ ایسا ہی بونڈ جینفر اور اس کے بوائے فرینڈ کے درمیان بھی دیکھا جاسکتا ہے اس ڈاکیومنٹری میں۔
جینیفر کا بوائے فرینڈ اسے چھوڑ چکا ہوتا ہے اور اسکی نئی گرل فرینڈ ہوتی ہے، لیکن وہ اسے چھوڑ نہیں پا رہی ہوتی۔ وہ اسے واپس حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بناتی ہے اپنے والدین کو مار کر انشورنس کے پیسوں کا لالچ دے کر اور بوائے فرینڈ مان جاتا ہے۔
کیا جینیفر کو کوئی اور بہتر لڑکا نہیں مل سکتا تھا؟ کیا دنیا اس ایک انسان پر ختم ہوگئی تھی؟ آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسان آپ کے لیے بہتر نہیں لیکن آپ اسے چھوڑ نہیں پارہے ہوتے، یہ محبت نہیں ہوتی دوستوں، محض ٹروما بونڈ ہوتا ہے، ایسا رشتہ جس کی بنیاد میں ٹروما سے منسلک رویے ہوتے ہیں جو آپ کو گزرتے وقت کے ساتھ مزید خالی پن کا احساس دے جاتے ہیں۔ آپ کی توانائی، وقت سب اس انسان پر ضائع ہورہا ہوتا ہے آپ جیسے ہی اسے چھوڑ کر جانے لگتے ہیں لیکن کوئی مقناطیسی طاقت آپ کو پھر اس کے پاس لے آتی ہے۔ میں نے اپنے کئی کلائنٹ کو نرگسیت پسند لوگوں کے ساتھ ٹروما بونڈ میں اپنی زندگی برباد کرتے دیکھا ہے۔ یہ محض اندازے نہیں ہیں بلکہ سارا کیمیکل ری-ایکشن آپ کے دماغ کی لیب میں ہوتا ہے، اس میں ڈوپامین کا ہارمون اہم کردار ادا کرتا ہے، جس میں ہمیشہ نہیں البتہ زیادہ تر بچپن کے برے تجربات بہت ہی مضبوطی سے بونڈ بنا لیتے ہیں کسی بھی نرگسیت پسند یا ٹاکسک انسان کے ساتھ۔
5- (ضروری نہیں کہ آپ کا بچہ آپ کی طرح ہو):
مسٹر اور مسز پین نے ویتنام جیسے ملک میں زندگی گزاری جو کہ پاکستان کی طرح ایک غریب ملک ہے۔ ان ممالک میں بہت سے والدین جو محنتی اور ذہین ہیں ان میں ایک جوش ہوتا ہے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا، اپنا مقام اونچا کرنے کا، ان ممالک میں موجود لوگوں کو جذباتی اور ذہنی صحت کی زیادہ معلومات نہیں ہوتیں، بچوں کے ساتھ کیسے ایک مضبوط رشتہ بنانا ہے انہیں معلوم نہیں ہوتا۔ جب ان والدین کے بچے امیر اور ترقی یافتہ ممالک میں آنکھ کھولتے ہیں تو ان بچوں میں کچھ کر دکھانے کی آگ نہیں ہوتی کیونکہ انکی بنیادی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ ان بچوں کی ضروریات جذباتی ہوتی ہیں (ویسے غریب ممالک ہوں یا امیر، جذباتی ضروریات ہر بچے کی ہوتی ہیں، غربت آپ کے جذبات کو ختم نہیں کردیتی، بس آپ انہیں اہمیت نہیں دیتے اور دباتے رہتے ہیں)۔
دوسری اہم بات کہ ضروری نہیں ہمارے بچے ہماری طرح ہوں، ذہین آدمی کا بیٹا بھی ذہین ہو یہ ضروری نہیں۔ ہر بچے کی اپنی صلاحیتیں ہوتی ہیں، بحیثیت والدین ہمیں انہیں قبول کرنا ہوتا ہے، لیکن جب ہم ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو نقصان ہمارے بچے کا اور ہمارا ہی ہوتا ہے۔ ہمارے بچے سے جب وہ مقاصد حاصل نہیں کیے جاتے جو ہم چاہتے ہیں تو ہمارا بچہ خود کو فیل اور ہارا ہوا انسان محسوس کرتا ہے اور یہ احساس اس کے اندر ایک آگ کی مانند ہوتا ہے جس میں بچہ جلتا رہتا ہے، اور اس آگ کے شعلے اکثر والدین پر بھی آتے ہیں۔

ضروری نہیں کہ ہر بچہ جینیفر کی طرح مجرم بن جائے، ایسے کیس بہت کم ہوتے ہیں، بہت سے بچوں کو شعور ہے، ان میں قابو ہے اور وہ ایسا کوئی قدم اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ لیکن انکا اپنے والدین کے ساتھ رشتہ کھنچاؤ کا شکار ہے، وہ ان کے لیے جو بھی کرتے ہیں خوف اور لگاؤ کی بنیاد پر کرتے ہیں، محبت کا عنصر شامل نہیں ہوتا۔ لگاؤ انسان کسی سے بھی لگا لیتا ہے، والدین خواہ وہ جیسے بھی ہوں، سے لگاؤ فطری ہے، لیکن لگاؤ اور محبت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ لگاؤ میں اذیت ہوتی ہے جبکہ محبت میں آزادی۔
دنیا کا کوئی بھی ٹروما کسی انسان کے قتل کا جواز پیش نہیں کرتا، جینیفر غلط تھی، ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ کسی بھی انسان کا قتل ہمارے درد کو ٹروما کو شفایاب نہیں کرسکتا، اسے کاؤنسلنگ لینی چاہیے تھی، وہ ایک ترقی یافتہ ملک میں رہ رہی تھی، اسے کسی ماہرِ نفسیات کی مدد لینی چاہیے تھی، جرم کا راستہ اسے ہر گز نہیں چننا چاہیے تھا۔ جینیفر کو اسکی کڑی سزا ملنی چاہیے تھی اور اسے ملی بھی۔
ہمارے لیے اس ڈاکیومنٹری میں یہی سیکھ ہے کہ ہمیں کبھی بھی دوسروں سے غیر حقیقت پسندانہ امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہیے، خواہ ہمارے بچے ہوں، بہن بھائی، ہمسفر یا دوست۔ کسی بھی انسان کے جذبات، اعتماد اور خود-توقیری (سیلف اسٹیم) کے ساتھ کھیلنا، آگ کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے، اس انسان کے دل میں موجود فیل ہوجانے یا ہار جانے کی آگ اس کے ساتھ آپ کو بھی جلا سکتی ہے۔
بحیثیت والدین ہم بھی انسان ہیں اور ہم سے بھی غلطیاں ہوسکتی ہیں، ہمیں اپنی غلطیوں کو درست کرکے، خود کو معاف کرتے ہوئے آگے بڑھ جانا چاہیے، ہمیں اپنے بچوں کو بھی انکی غلطیوں پر معاف کرنا اور ان کے جذبات، پسند ناپسند کا احترام کرنا سیکھنا چاہیے، ہم سب انسان عیب سے بھرپور اور غلطیوں کا پتلا ہیں، ہم میں سے کوئی بھی پرفیکٹ نہیں، آپ کو خود کو اور اپنے بچوں کو غلطیاں کرنے اور ان سے سیکھنے کی تلقین کرنی چاہیے، انہیں شرمندہ (شیم) کرنا، یا ضرورت سے زیادہ سختی برتنا صرف بغاوت، جھوٹ، دھوکہ اور فریب کو جنم دیتا ہے۔ غلطی کی جڑ میں جانا، وجوہات ڈھونڈنا اور اس پر گفتگو کرنا بچے کو مسائل کا حل ڈھونڈنے (پروبلم- سولونگ) کی صلاحیت سے نوازتا ہے۔ معافی، ہمدردی اور ایک دوسرے کو سمجھنا ہمیں مضبوط، گہرے اور محبت سے بھرپور رشتے بنانے میں مدد کرتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں