حواشی، شہرام سرمدی کی نظموں کا مطالعہ/ تبصرہ نگار: جاوید رسول

ایک دور ایسا بھی تھا جب اردو نظم میں نئے تجربوں کی ہنگامہ خیزی نے ہماری تنقید کا رخ ہی شاعری کی جانب موڑ دیا تھا۔گوکہ یہ سارے تجربے مغرب سے مستعار تھے لیکن انہی سے نئ شاعری کو وہ بنیادیں ملیں جن سے جدید شعریات ترتیب پائ۔ہاں اتنا ضرور ہوا کہ ان نئے تجربوں نے نظم سے متعلق ہمارے روایتی تصور کو توڑ کر مشرقی شعریات کی اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کیا، مگر یہ تو تقاضائے وقت کا جبر ہوتا ہے جس کے تحت نہ چلنا تخلیق کار کی موت کا باعث بن سکتا ہے۔یعنی جدت طرازی ایک طرح سے جینوئن تخلیق کار کے لیے زندہ رہنے کا واحد ذریعہ ہوتا ہے۔ظاہر ہے ایک جینوئن شاعر سکہ بند اصول و ضوابط کا پابند نہیں ہوسکتا بلکہ اسے اظہار کے لیے سب سے موثر اور من پسند وسیلہ چاہیے ہوتا ہے اور وسلیئہ اظہار کی یہی ضرورت دراصل اسے نئے تجربوں پر آمادہ کرتی ہے۔میراجی اور راشد کی مثال سامنے کی ہے۔کیا آپ کو لگتا ہے کہ میراجی کی نظم “سمندر کا بلاوا یا جاتری” اور راشد کی نظم “حسن کوزہ گر” یا لاانسان کی نظموں کے لیے پابند نظم کی ہیت زیادہ موثر ہوسکتی تھی؟ظاہر ہے نہیں، کیونکہ جو بات جس طرح آزاد یا نثری نظم میں کہی جاسکتی ہے پابند نظم میں نہیں کہی جاسکتی۔ہاں کوشش ضرور کی جاسکتی ہے لیکن یہ کوشش صرف نامکمل اظہار کی حد تک کامیاب ہوسکتی ہے۔گویا ہیت دراصل اظہار کی تکمیلیت پر فوکس کرتی ہے تاکہ ترسیل کا مسئلہ پیش نہ آئے۔یہاں ممکن ہے آپ یہ سوچ رہے ہوں کہ اگر ایسا ہے تو پھرجدید نظم میں ترسیل کی ناکامی کا مسئلہ کیونکر پیش آیا؟ دراصل ترسیل کا مسئلہ قاری کا ذاتی مسئلہ ہوتا ہے اسے بےوجہ ہمارے روایت پسند نقادوں نے شاعر کی ذات اور نئے تجربوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔اصل میں کوئ بھی متن اس کے تخلیق کار کے نزدیک بامعنی ہی ہوتا ہے لیکن جب ہم بحیثیت قاری اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ ہماری صوابدید پر منحصر رہتا ہے کہ ہم اسے کس حد تک سمجھ پاتے ہیں یا کون سے معنی اخذ کرتے ہیں۔شاعری کی سطح پر بھی یہی ہوتا ہے کہ اسے سمجھنے کے لیے ہمارے شعری ذوق، نکتہ سنجی اور جمالیاتی شعور کا امتحان ہوتا ہے۔چونکہ ترقی پسند یا ماقبل شعری روایت خیال کے واضح اور منطقی ربط یعنی راست بیانیہ کی متحمل تھی اور ہمارے پیارے روایت پسند نقادوں کا ذہن اسی قسم کی شاعری کو سمجھنے کی استعداد رکھتا تھا اس لیے وہ جدید شاعری کے مبہم بیانیہ، کھردرے پن اور بےترتیبی کو نہ سمجھ پائے۔حد تو یہ ہے کہ ہمارے وہ نقاد جو یہ جانتے تھے کہ جدید شاعری بےمعنی یا مہمل گوئ نہیں ہے بلکہ اس میں روایتی شاعری کے بہ نسبت معنی خیزی اور تہہ داری زیادہ ہے، انہوں نے جان بوجھ کر صرف اپنے روایت پسند موقف کو بچانے کے لیے جدید شاعری کو نشانہ بنایا۔آج بھی جو حضرات نثری نظم کو شاعری کے زمرے سے خارج کرنے پر آمادہ ہیں صرف اپنی روایت پسندی کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ورنہ انہیں تو اچھی طرح معلوم ہے کہ نثری نظم وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جس میں ترسیل اور اپیل کا جوہر قوی ہے لیکن پھر بھی یہ لوگ جان بوجھ کر اس کی مخالفت کرنے اور پھبتی اڑانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ بہرکیف! میرے مطالعہ میں شہرام سرمدی کا نیا شعری مجموعہ “حواشی” آیا تو اس میں نئے طرز کی شاعری دیکھ کر یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں لوگ اسے بھی مجذوب کی بڑ کہہ کر بےمعنی نہ قرار دیں، کیونکہ اس کا اسلوب جدید شاعری کے اسلوب سے قریب تر ہے اور ساخت میں بھی وہی بےترتبی اور کھردرا پن ہے جس کی وجہ سے جدید شاعری پر چوٹ کی گئ تھی۔اس لیے ضروری یہ سمجھا کہ ابتدائیہ میں کچھ باتیں جدید شعری روایت کے حوالے سے بھی کہوں تاکہ اس نئے طرز کی شاعری کو ایک جائز جواز فراہم ہوسکے۔

“حواشی” کی نظموں کا مطالعہ کرتے وقت مجھے ان میں ردعمل کی نفسیات کا بھرپور احساس ہوا۔ اگرچہ یہ ردعمل شاعر کے ذاتی تجربات اور مشاہدات کا نتیجہ ہے لیکن اس میں حقیقت کی طرف ملنے والے اشارے ہمیں اپنے عہد کی صورت حال کی طرف متوجہ ضرور کرتے ہیں.شہرام سرمدی کی سب سے اہم خوبی ان کا تاریخی شعور ہے جو ان کی اکثر نظموں کا بیانیہ ترتیب دینے میں معاون رہا ہے۔مثلاً نظم “سرکنار جمنا” دیکھیے؛
اس کنار جمنا پر/مقبرہ ہمایوں کا/سرخ اونچی محرابیں/منعکس ہیں لہروں پر/جیسے تازہ دم ہر دم/زندگی کی شریانیں/اس کنار جمنا پر /ایک ناتواں سایہ/سطح آب پر گویا/عشقِ زندہ کا لاشہ/اور ادھر دھندلکے میں/ تاج دم بخود تنہا
یہ ہمارے ثقافتی ورثہ کی تصویر کا دوسرا رخ ہے۔عموماً خوبصورت نظر آنے والی اس قسم کی تصاویر کے پیچھے جو تاریخی جبریت کا دیا ہوا کرب چھپا ہوتا ہے،عام انسان اسے کبھی محسوس نہیں کرسکتا بلکہ اس کے لیے جمالیاتی وژن چاہیے ہوتا ہے جو شاعر کے پاس ہوتا ہے۔لیکن اگر شاعر ساحر کی طرح ضرورت سے زیادہ روشن خیال ہو، تو ظاہر ہے وہ تصویر کی کربناکی کو محسوس کرنے کے بجائے اسے کی ضروت اور اہمیت کی منطق پر دھیان دے گا،جیسا کہ ساحر نے کیا۔انہوں نے مغلوں کے کلچرل لینڈ اسکیپ کو نظرانداز کر کے ان کی تعمیرات پر بےوجہ تنقید کی۔ظاہر ہے ساحر نے نظم “تاج” جس رویہ کے تحت لکھی تھی وہ نرا ترقی پسند رویہ تھا اور آج بھی مغلوں کی تعمیرات پر اسی زاویہ سے تنقید کی جاتی ہے جس زاویہ سے ساحر نے تاج کو دیکھا تھا۔کسی حد تک شہرام نے بھی “سرکنار جمنا” میں تاج کو اسی زاویہ سے دیکھنے کی کوشش کی ہے جو کہ مغلوں کے ثقافتی دائرہ کار کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ممکن ہے ایسا غیر شعوری طور پر ہوا ہے کیونکہ لفظوں کے انتخاب میں شہرام سے کہیں نہ کہیں چوک ضرور ہوئ ہے، لیکن ایسے نازک موقعوں پر ایک شاعر کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ الفاظ کے انتخاب و استعمال میں محتاط رہے تاکہ کہیں کوئ لفظ غلط تاثر نہ پیدا کردے۔نظم کا آغاز دیکھیے کس قدر ذہن و دل کو اطمینان سا بخشتا ہے۔ ہمایوں کے مقبرہ کی رونق دیکھ کر ہمیں اس میں زندگی کا جو احساس ملتا ہے وہ بجائے خود اس عظیم ثقافتی ورثہ کی معنویت کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن وہیں نظم کے آخر میں شاعر جب تاج کو “ناتواں سایہ” اور “عشق زندہ کا لاشہ” کہہ کر نظم میں منطقی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کرتا ہے تو نظم کی وہ کیفیت زائل ہوجاتی ہے جو ابتدا میں پیدا ہوئ تھی۔اس کے باوجود نظم میں اعتدال قائم رہتا اگر لفظ “لاشہ” استعمال نہ ہوا ہوتا۔ظاہر ہے اس ایک لفظ کا استعمال اتنا impactful ثابت ہوا ہے کہ اس نے نظم کی معنوی ساخت میں ہی تضاد پیدا کردیا ہے۔ورنہ تعبیر کی سطح پر اس نظم میں اتنی تو گنجائش تھی کہ ہمایوں کے مقبرے اور تاج کے تاریخی پس منظر میں داراشکوہ اور شاہجہاں کی بےبسی و لاچارگی کو محسوس کیا جاتا۔
بہرکیف! “حواشی” میں ایسی کئ نظمیں ہیں جن کا بیانیہ مختلف متون اور تاریخ سے اخذ کردہ نشانات کے تناظر میں تشکیل پایا ہے۔مثلاً نظم “ہم دونوں شاہد ہیں، “کنج روح میں” “پھر المترا نے کہا: ہم سے محبت کی بات کرو””مرزا اچھن” “حکایت: تہذیب گفتار کے بیان میں””داش آکل کی واپسی””تزک عالمگیری” وویکانند”اور “سرمدیم” جیسی نظموں کا بیانیہ مختلف تخلیقی و غیر تخلیقی متون سے استفادہ کرکے تشکیل دیا گیا ہے۔ظاہر ہے اسے ہم مابعد جدید تھیوری کے سیاق میں بین المتونیت کی مثال کے طور پر بھی پیش کرسکتے ہیں کیونکہ ان نظموں کو پڑھ کر یہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اپنی موضوعاتی ساخت میں پہلے سے موجود متون کی جمالیاتی توسیع ہیں۔شہرام کی یہ کوشش اس لحاظ سے بھی انوکھی ہے کہ انہوں نے متن کے انتخاب میں اظہار کی تکمیلیت کو ملحوظ نظر رکھا ہے، یعنی وہ ان متنون سے اخذ کردہ نشانات کے ذریعہ اپنی بات کو ایک مضبوط اور فوری تاثیر عطا کرتے ہیں۔متون کے علاوہ انہوں نے تاریخ اور قدیم ثقافت سے بھی اسفادہ کرکے اپنی نظموں کو بنیاد فراہم کی ہے ایسی نظموں میں “چند نا مطبوعہ تراشے” “حضرت دہلی”،شاہ عالم ثانی،خلاصتہ التواریخ، اور “سرومنگل” کا مطالعہ اہم ہے۔
“حواشی” میں بعض نظمیں ایسی بھی ہیں جن میں شاعر کی روشن خیالی عمومی بلکہ پرانے بیانیہ سے متاثر نظر آتی ہے۔مثلاً نظم “معاہدہ” دیکھیے؛
اولِ شب ہوا کیا/دونوں میں اک معاہدہ/کوئ بھی ہو خفا مگر/رکھنا ہے پاسِ نام بھی/گھر میں کچن ہے،بام بھی/چودہ برس گزر گئے/آج بھی وہ کچن میں ہے/اور وہ گھر کے بام پر/حرمت و پاس نام پر/
یہ نظم ظاہر ہے ہمارے معاشرے کی اس سینسرشپ کے خلاف مزاحمت ہے جو کبھی عورت کو مرد کے مقابل میں کھڑا ہونے سے روکتی تھی۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب ہمارے معاشرے میں کلچرل تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ تصور زن بھی کافی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ملک کو معاشی بحران سے نکالنے میں عورت کے کردار کی اہمیت اب دور از نگاہ نہیں بلکہ ہمارا معاشرہ اب زندگی کے ہر شعبہ میں عورت کے مقام کا تعین چاہتا ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ آج کے دور میں نظم “معاہدہ” کی کوئ معنویت بچتی ہے۔
خیر! مجھے ذاتی طور پر “حواشی” کی جن نظموں نے متاثر کیا ان میں نظم “گلیوں سے گزرتے ہوئے” “کنج روح میں” “دیکھو تو ذرا” اور “چشم بددور” کا تذکرہ اہم سمجھتا ہوں۔نظم “گلیوں سے گزرتے ہوئے” میں تین گلیوں سے گزرنے کا تجربہ بیان ہوا ہے لیکن یہ تینوں گلیاں دراصل مابعد جدید صورت حال میں پھنسے ہوئےانسان کے ذہنی اور نفسیاتی کرب کا بیانیہ ہے۔آپ نظم پڑھیے؛
(گلی۔1)
کون سے حجاب کی مخالفت میں/عمر یوں تباہ کررہے ہو/اک حجابِ اکبری تھا۔تار تار کرچکے،/ہزار بار /یہ کس کی فکر،کس کا ذکر کررہے ہو/کیسا زہر پی رہے ہو،کس طرح سے جی رہے ہو
(گلی-2)
سوشل میڈیا،ٹی وی پہ ہر دم آنکھوں دیکھا حال،ہر سو دیو قامت بینروں کے سائے،ان کے درمیاں میں دیو مالائ کہانی کا کوئ کرداربن کر رہ گیا ہوں۔ایسا لگتا ہے کہ میں وکرم ہوں اور بیتال ہے مجھ پر سوار
(گلی-3)
لیوائس پر سیل نہیں ہے/شائستہ نے فون کیا ہے/دفترسے گھر واپسی پر/دوجینس تو لے جانا ہی ہے/اور کم از کم وہ ٹاپ/(جو اس نے مسیج باکس میں بھیجا ہے)/اصل مدرسہ،ساری قوت ایمن کی/اس کی مما ہی تو ہے۔

julia rana solicitors

ہیتی سطح پر نظم و نثر کا امتزاج اس نظم میں نئے تجربہ کو تو ظاہر کرتا ہی ہے لیکن موضوعاتی سطح پر اس نظم کا امتیاز الگ ہے، وہ یہ کہ یہ نظم ہمارے عہد اور اس میں پھنسے ہوئے انسان کے وجودی بحران کو ظاہر کرتی ہے. بظاہر تو یہ نظم زندگی کے مختلف مراحل کی داستان معلوم ہوتی ہے لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے بلکہ یہ تینوں گلیوں سے گزرتے وقت کی نفسیات دراصل آج کے انسان کے ایک دن کی کہانی ہے۔میں اگر اسے مابعد جدید انسان کے روزمرہ (Everydayness) سے تعبیر کروں تو شاید غلط نہ ہوگا کیونکہ ہمارے عہد کے ہر ذی شعور انسان کا دن اسی سراسیمگی کی حالت میں گزرتا ہے۔مجھے موضوع کے اعتبار سے یہ نظم اس لیے بھی معنی خیز لگی کہ اس میں مابعد جدید کلچر کا وہ میکانیکی سچ بے نقاب ہوجاتا ہے جو انسان میں ردعمل بلکہ مزاحمت کا جوہر ختم کررہا ہے۔ آپ دیکھیے کہ پہلی گلی راوی میں سیاسی پروپاگنڈے اور جبر کے خلاف ردعمل کی نفسیات کو جنم دیتی ہے حتی کہ دوسری گلی یعنی سوشل میڈیا اسے اپنے ردعمل کو ظاہر کرنے یعنی مزاحمت کرنے پر آمادہ بھی کرتی ہے لیکن جونہی وہ تیسری گلی سے گزرتا ہے تو گھریلو ذمہ داری اس پر اس قدر حاوی ہوجاتی ہے کہ اس کے اندر کی مزاحمت کا شعلہ ایک دم ٹھنڈا پڑجاتا ہے اور یوں وہ فقط زندہ رہنے کے لیے صورت حال سے سمجھوتہ کرلیتا ہے۔غور کیجیے تو یہی آج کے کلچر میں پھنسے ہوئے انسان کا سچ ہے جس کا بیان اس نظم کو اہم بناتا ہے۔
مجھے حواشی کی وہ نظمیں زیادہ موثر معلوم ہوئیں جن میں شاعر کا رویہ مزاحمتی نوعیت کا رہا ہے۔نظم “کنج روح میں” دیکھیے، مشرقی وسطیٰ پر خارجی طاقتیں جس طرح اپنا زور و جبر آزما رہی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ایسی صورت حال کے خلاف ایک حساس شاعر اگر مزاحمت نہ کرے تو ظاہر ہے اس کا کردار مشتبہ ہوجائے گا۔شہرام کی مزاحمت اس لحاظ سے ان کے کرادر کو واضح کرتی ہے۔
“حواشی” کے مجموعی مطالعہ کے بعد میں یہی امید رکھتا ہوں کہ اردو نظم کے اس سفر کو جو کافی سست پڑ چکا ہے،”حواشی” یقیناً آگے بڑھنے کی نئ تحریک بخشے گا۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply