گذشتہ روز یعنی 26 اگست کو بلوچستان لبریشن آرمی BLA کے مسلح جنگجوؤں نے صوبے میں مختلف مقامات پہ حملے کئے۔ 20 غیر مسلح مزدور جن کا تعلق پنجاب سے تھا کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ۔ پاکستانی فورسز کے 14 اہلکار جن میں دس پاکستانی فوجی شامل ہیں کو بھی قتل کر دیا ہے۔ BLA کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کی کُل تعداد 37 سے 70 تک پہنچ چکی ہے۔ مسلح جنگجوؤں نے اکیس گاڑیاں بھی نذر آتش کی ہیں۔ ریلوے ٹریک اور پُل بھی تباہ کیا گیا ہے۔ بعد ازاں جھڑپوں کے دوران BLA کے گیارہ جنگجو بھی قتل ہوئے ہیں۔
بلوچستان لبریشن آرمی یعنی BLA پاکستان اور چائنہ کی دشمن تنظیم ہے۔ پاکستان، چائنہ، برطانیہ اور امریکہ نے مذکورہ تنظیم کو دہشت گرد قرار دیکر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ بی ایل اے ایک دوسری مسلح تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی بھی اتحادی ہے جو عموماً پشتون علاقوں میں کاروائیاں کرتی ہے۔ جبکہ پاکستانی حکومت کی طرف سے یہ الزام لگایا جاتا ہے بھارتی حکومت BLA کو معاونت فراہم کرتی ہے جبکہ بھارتی حکومت نے اس الزام کو مسترد کر رکھا ہے۔
سنہ 2000ء میں اِس تنظیم کی بنیاد بھی افغانستان میں رکھی گئی اور تب سے ہی اسکا تنظیمی ہیڈکوارٹر افغانستان میں ہوتے ہوئے پاکستانی صوبے بلوچستان اور ایرانی صوبے سیستان میں مسلح کاروائیاں کرتی ہے۔ 600 جنگجوؤں پہ مشتمل یہ تنظیم ‘بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی’ کے واحد مقصد پہ قائم ہے۔ اسلم بلوچ عرف اچھو سنہ 2018ء تک تنظیم کا مرکزی لیڈر تھا جس کے قتل کے بعد بشیر زیب نے اب تک قیادت سنبھال رکھی ہے۔ مقتول انجنیئر رزاق منڈالی اور مقتول بالاچ مری بھی BLA کے لیڈروں میں شامل تھے۔ نواب اکبر بگٹی، جنیوا میں مقیم اُنکے پوتے براہمداغ بگٹی اور خیربخش مری کے پانچویں بیٹے حربیار مری (حالیہ مقیم لندن) پہ بھی اس تنظیم کی قیادت کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔
ہو سکتا ہے BLA ماضی کی بلوچ شورشوں خاص طور پر 1973ء سے 1977ء کی “آزاد بلوچستان تحریک” کا ہی تسلسل ہو۔ غیرمستند خبروں کے مطابق مشہور سوویت ایجنسی “کے جی بی” کے دو سابقہ اہلکاروں جن کے کوڈ نام ‘میشا’ اور ‘ساشا’ تھے، نے مَری اور بگٹی مسلح نوابزادوں کی قیادت میں بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن (بی ایس او) کے کارکنان پہ مشتمل BLA تشکیل دینے کی منصوبہ بندی کی تھی اور اُسکو عملی جامہ پہنانے میں بھی شریک تھے۔ بہرحال BLA نے سنہ 2004ء سے بلوچستان میں پاکستانی اہلکاروں کے علاوہ عام پنجابی، سرائیکی، پشتون اور سندھی افراد، اور بعد ازاں بلوچ اور چینی باشندوں کے خلاف بھی باقاعدہ متشدد اور مسلح کاروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ گذشتہ بیس سالوں میں BLA بلوچستان کے مختلف علاقوں سمیت کراچی میں بھی بیسیوں مرتبہ حملہ آور ہو چکی ہے۔
دسمبر 2006ء میں پاکستانی فوجی صدر جنرل پرویز مشرف پہ BLA نے کوہلو میں اُس وقت ناکام قاتلانہ حملہ کیا جب وہ بلوچستان کے دورے پر آیا ہوا تھا۔ پیراملٹری کیمپ جہاں مشرف مقیم تھا پہ کم از کم چھ راکٹ حملے کیے گئے تھے۔
اکبر بگٹی قتل کے بعد 15 اپریل 2009ء کو براہمداغ خان بگٹی نے بلوچوں سے عام مطالبہ کیا کہ “ہر بلوچ بلوچستان میں مقیم غیر بلوچوں کا قتل عام شروع کرے”۔ جس کے جواب میں تمام BLA لیڈروں (جو غیرمستند ذرائع کے مطابق شاید پہلے سے تیار اور منتظر تھے) نے ٹارگٹڈ حملے شروع کر دئیے۔ BLA کے رہنماؤں نے بعد میں ان حملوں کے نتیجے میں 500 سے زائد پنجابی باشندوں کے قتل عام کی ذمہ داری قبول کی۔
بعد ازاں 2010ء سے BLA نے اُن بلوچ اساتذہ اور بلوچ طلباء کو بھی ٹارگٹ اور قتل کرنا شروع کیا جو BLA کے خلاف رائے رکھتے ہیں ۔ جبکہ سنہ 2019ء سے پی سی ہوٹل گوادر میں چینی باشندوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے غیرملکیوں یعنی چینیوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا۔
سنی 2013ء میں BLA نے زیارت میں قائدِاعظم ریذیڈنسی پہ حملہ کرکے عمارت کو مکمل تباہ کر دیا۔ عمارت پہ لگے پاکستانی جھنڈے کو اتار کر BLA کا جھنڈا لہرا دیا۔ اسی طرح BLA نے 2021ء میں گوادر میں نصب قائداعظم کے مجسمے کو بھی تباہ کر دیا تھا۔ جبکہ نومبر 2018ء کو کراچی میں چینی قونصل خانے پہ BLA نے ناکام حملہ کیا، جس کے جواب میں پاکستانی اداروں نے ماسٹر مائنڈ اسلم بلوچ اچھو کو قندہار میں قتل کر دیا تھا۔ اسی طرح جون 2020ء کو BLA نے کراچی سٹاک ایکسچینج پہ حملہ کر دیا۔ مگر جنگجو اسٹاک ایکسچینج پہ قبضہ کرنے میں ناکام رہے ۔
ایک 30 سالہ بلوچ عورت اپریل 2022ء کو جامعہ کراچی کا دورہ کرنے والے تین چینی پروفیسروں کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔ اُس نے خود کُش حملہ کرکے تینوں چینی پروفیسروں کو قتل کر دیا۔ BLA نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرکے حملہ آور عورت کی شیری بلوچ کے نام سے شناخت کی۔ خودکش حملہ کرنے والی عورت بلوچستان کے کسی سرکاری تعلیمی ادارے میں سائنس ٹیچر تھی اور وہ دو بچوں کی ماں بھی تھی۔ BLA نے اُس شیری بلوچ کو اپنی پہلی خاتون خودکش بمبار قرار دیا۔ مذکورہ حملے کا بدلہ لینے کے لیے 18 جنوری 2024ء کو پاکستانی اداروں نے ایرانی سرزمین پہ بلوچ علیحدگی پسندوں کے ٹھکانوں پر کامیاب حملہ کرتے ہوئے نا صرف BLA کے کیمپ کو تباہ کیا بلکہ سہولت کاری کے الزام میں ڈاکٹر اللہ نذر کی تنظیم BLF کے زیر استعمال کیمپ کو بھی تباہ کیا۔
مشہور بلوچ کمیونسٹ قوم پرست سیاستدان نواب خیر بخش مری کا بیٹا نوابزادہ بالاچ مری آغاز سے ہی BLA کے اہم لیڈر کے طور پر متحرک رہا۔ نواب اکبر بگٹی کے 2006ء میں قتل میں شامل ہونے کا الزام بالاچ مری پہ بھی لگایا گیا۔ اس حوالے سے مقتول اکبر بگٹی کا پوتا (جس نے اپنی الگ تنظیم بلوچ ریپبلیکن پارٹی کے نام سے بنا رکھی ہے) نوابزادہ براہمداغ بگٹی بھی مشکوک ہو گیا۔ سوا سال بعد نومبر 2007ء میں، NATO فورسز نے بالاچ مری کو افغان طالبان سمجھ کر ہوائی بمباری کرکے غلطی سے قتل کر دیا۔ پرانے قریبی تعلقات کے باوجود سوا سال تک براہمداغ اور بالاچ میں کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔ جبکہ بالاچ پہ شک کی وجہ سے براہمداغ کا حربیار مری سے بھی رابطہ ختم ہو گیا تھا۔ بھارتی ایجنسی RAW نے ایک سینئر سفارتکار کے ذریعے حربیار اور براہمداغ کی ملاقات کا بندوبست کیا۔ RAW نے دونوں مشہور اور اہم بلوچ علیحدگی پسند رہنماؤں کو ایک “بڑے مشترکہ مقصد” کے لیے آپسی شبہات اور اندیشے ختم کرنے کی ترغیب دی۔ مگر اُن دونوں کے آپسی تعلقات کی موجودہ صورتحال ابھی تک نامعلوم ہے۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ حربیار اور براہمداغ BLA سے لاتعلق ہیں۔ اگرچہ پاکستانی حکومت سمیت بعض ذرائع کے مطابق 2007ء سے ہی حربیار اپنے مقتول بھائی بالاچ کی جگہ پہ BLA کے اہم رہنماؤں میں شامل ہے۔ جبکہ 2015ء میں ٹی وی انٹرویو کے دوران حربیار نے BLA کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق اور رابطے سے انکار کیا۔
پاکستان کے علاوہ کچھ مغربی مبصرین بھارت پہ BLA کو فنڈز سمیت دیگر معاونت فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ اگست 2013ء میں مشہور امریکی سفارت کار اور پاک افغان خصوصی نمائندے مرحوم جیمز ڈوبنز نے کہا کہ “عسکریت پسندوں کی غالب دراندازی پاکستان اور افغانستان کے مابین ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں عسکریت پسندوں کی دراندازی کسی دوسری سمت سے بھی ہوتی ہے۔ لہٰذا پاکستان بھارت پہ الزام عائد کرتے ہوئے مبالغہ تو کرتا ہے مگر پاکستانی الزامات بےبنیاد نہیں ہیں”۔
مشہور بھارتی لبرل انگریزی اخبار دی ہندو نے رپورٹ کیا کہ BLA کے کمانڈروں نے بھیس بدل کر اور جعلی شناخت کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستان کے ہسپتالوں میں علاج کروایا۔ مذکورہ اخبار کے مطابق خضدار کا ایک عسکریت پسند کمانڈر 2017ء میں گردے کی بیماری کا علاج کروانے کے لیے کم از کم چھ ماہ تک دہلی میں مقیم رہا۔ نیو یارک ٹائمز کے عالمی ایڈیشن کے پاکستانی پارٹنر دی ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق BLA کا لیڈر اسلم بلوچ مبینہ طور پر نیودہلی کے ہسپتال میں مقیم رہا۔ علاوہ ازیں پاکستان BLA کو ہندوستانی پراکسی قرار دیتے ہوئے قندھار اور جلال آباد میں ہندوستانی قونصل خانوں سے اسلحہ، تربیت اور مالی امداد حاصل کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ جبکہ حربیار مری نے BLA سے لاتعلق ہونے کے باوجود اس گروپ کے بھارت کے ساتھ روابط کی تردید کی تھی۔

افغانستان کی جانب سے BLA کی خفیہ حمایت نہ ہی ڈھکی چھپی بات ہے بلکہ افعانیوں نے باضابطہ اعتراف بھی کر رکھا ہے۔ بالاچ مری اور اسلم بلوچ اچھو افغانستان میں ہی قتل ہوئے۔ 2018ء میں افغان حکام نے اعتراف کہ افغان پولیس چیف عبدالرازق اچکزئی اسلم بلوچ سمیت دیگر علیحدگی پسندوں کو خصوصاً قندھار میں اور دیگر افغان علاقوں میں پناہ سمیت متفرق معاونت فراہم کرتا رہا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں