سفرِ حیات-دوسری شادی کا قصّہ (5)-خالد قیوم تنولی

ایک دن شمال مغرب کی طرف سے سیاہ بادل گِھر کر آۓ اور ہر طرف جل تھل ہو گیا۔ دہکتی سوکھی زمین اور جھلستے انسانی اجسام کو قرار ہی تو آ گیا۔ موسلا دھاری تسلسل کے ٹوٹنے کے بعد متوازن ردھم کے ساتھ رم جھم ہونے لگی جو شام ہونے تک جاری تھی۔ ویک اینڈ تھا تو ہم نے کھانا باہر کھانے کا پروگرام بنایا لیکن ان کا اصرار کہ نہیں ایسی ہاڑی شام گھر پہ ہی مناٸی جاۓ۔ ہم ترنت بازار گۓ اور پکوڑوں کے اجزاۓ ضروریہ کے ساتھ ایک کیفے سے ریڈی میڈ شامی کباب لے آۓ۔ کچن کافی کشادہ تھا۔ انھوں نے پکوڑے تلے اور ہم نے شامی کباب اور فرنچ فراٸز ۔۔۔
ان سے انصاف ہو چکا تو ہم نے چاۓ کے بھاپ اڑاتے پیالے تھامے اور کہا ، ”چلیں چھت پر۔“
چاۓ کی چسکیوں اور ہلکی پھلکی عمومی باتوں کے ہنگام محسوس کیا کہ وہ دماغی طور پر حاضر نہیں۔ جب دوسری بار کہنے لگیں کہ ۔۔۔ ”ذرا دوبارہ کہیے ، میں اچھے سے نہیں سن سکی“ ۔۔۔ تو اپنی روحانی وابستگی کی بدولت ہم خودبخود تہ تک پہنچ گۓ اور کہا : ”آج رات کو ہی لاہور نہ چلے چلیں؟ تم چھ ماہ سے اپنے ابو امی اور بہن بھاٸیوں سے نہیں ملیں۔ فون پر انسان آخر کتنی کچھ باتیں کر سکتا ھے ، کیا تمھارا دل نہیں چاہتا ملنے کو ۔۔۔ ایں ؟ کتنی کٹھور ہوتی جا رہی ہو اے پیاری خانم ! “
انھیں پہلے زور کا اچھو لگا ، کچھ دیر ہنستے ہنستے کھانستی رہیں اور ہم نے ان اپنی محبوب آنکھوں میں نمی کی درخشندگی دیکھی۔ بولیں : ”یہ دل کے اوجھل متن کو پڑھنا کہاں سے سیکھا ؟“
ہم نے چاۓ کا پیالا ٹیرس کی سیمنٹی ریلنگ پر رکھتے ہوۓ کہا :”یار ! دل کو دل سے راہ ہوتی ھے ۔۔۔ کٸ ایسی کتابیں ہیں جنھیں آج تک کبھی کھول کر نہیں دیکھا مگر وہ حرف بہ حرف ہمیں ازبر ہیں ، اور تم کوٸی کتاب تھوڑی ہو ، جیتی جاگتی پینٹنگ ہو پینٹنگ۔ سچ بتانا یہی سوچ رہی تھیں نا تم؟“
”سچ ، بالکل یہی سوچ رہی تھی لیکن آپ کی تنہای کا خیال کر کے نہ کہہ سکی ۔۔۔ اگر آپ ساتھ چل رہے ہیں تو پھر خدا سے اور کیا چاہیے ۔۔۔ اور یہ بھی سچ سچ بتاٸیں ، خیال کیسے آیا؟“
”چار بہنیں ہماری بھی شادی شدہ ہیں ، جو کٸ کٸ ماہ بلکہ دو دو سال تک میکے نہیں آ پاتیں۔ امی ابو کسی سے گلہ نہیں کرتے مگر انتظار تو انھیں بھی بہت رہتا ھے۔ من ہمارا بھی کرتا ھے کہ بہنیں اگر ادھر نہیں آ سکتیں تو ہم ہی ان سے مل آٸیں۔ لہذا کبھی اپنے ماں باپ اور بہن بھاٸیوں کی یاد ستاۓ تو ہماری تنہاٸی کی مطلق پرواہ نہیں کرنی۔ جب بھی کہو گی ہم خود چھوڑ آٸیں گے۔“
جواب میں وہ کچھ کہہ نہ پاٸیں اور پھر سے کھانسنے لگیں ، آنکھیں نمی سے چمکنے لگیں۔
ہم نے ان کا ڈھلکا ہوا آنچل سر پہ ٹکاتے ہوۓ کہا : ”مرشدی ! زیادہ سینٹی مینٹل ہونے کی ضرورت نہیں ، اب وہ گیت تو سنا دو ذرا ، بہت دن ہو گۓ ۔۔۔ اور ہاں گلے کی خرابی کا بہانہ نہیں چلے گا۔“
سامان سفر پیک کرتے ہوۓ وہ گنگناتی رہیں :
تُو اس طرح سے مری زندگی میں شامل ھے ۔۔۔
بس کا سفر تھا۔ راہ بھر وہ مسلسل دبی دبی ہنسی ہنستی اور بولتی رہیں۔ اپنے بچپنے ، تعلیمی ادوار ، اتفاقی بیماریوں ، بہن بھاٸیوں سے جڑی دلچسپ یادوں ، اپنے اکہرے عشق کے اظہار سے قاصر جذبات ۔۔۔ بات جیدی کی وساطت سے بھیجے گۓ پیغام تک پہنچی تو ہم دونوں ہی بے طرح اداس ہو گۓ۔ پھر اس نے تفصیل سے اس قیامت کا ذکر کیا جب جیدی کی شہادت کی خبر ان کے گھر پہنچی تو کیسے گھرانہ ہفتوں نفسیاتی مریض سا بن گیا تھا کیونکہ وہ اس گھرانے کا داماد بننے والا تھا ۔۔۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی درکار تھا۔
اپنی لاہور روانگی کو سرپراٸز رکھا۔ ہمیں استقبال سے زیادہ وہ خوشی دیکھنا مطلوب تھی جو میکے والوں کے چہروں پر اپنی قرة العین اور دل کی چین کو اچانک دیکھ کر ہویدا ہوتی۔
ایسا ہی ہوا۔ جو کلیاں نہ سجا سکے انھوں نے دل بِچھا دیے۔
جاری ہے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply