پاکستان میں تاریخ میں طبقاتی جدوجہد پر مبنی سیاست کے خاتمے کا اعلان کرنے اور محنت کشوں کی سیاست کو نیولبرل سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں چھوڑ دینے کے حامی پاکستان میں محنت کش طبقے کے باشعور سیاسی کارکنوں کی رہنمائی میں ایک محنت کش طبقے کی پارٹی کی تعمیر کی حمایت کرنے والوں کو یہ تبلیغ کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ موجودہ لبرل (نام نہاد عوامی جمہوری) سرمایہ دار سیاسی جماعتوں اور ان کی منحرف قیادت کے خلاف سیاست نہ کریں اس سے ملائیت ملک کے اقتدار پر قبضہ کرلے گی – وہ پاکستان میں محنت کش طبقات ، کسانوں اور مظلوم اقوام کی مختلف پرتوں کی طرف سے سرمایہ دارانہ ریاست کے استحصال ، جبر کے خلاف کھڑی ہونے والی احتجاجی تحریکوں کا باشعور سیاسی کارکنوں کو حصہ بننے سے روکنے اور پھر ملائیت اور آمریت کے قبضے کے ڈرواے دے کر روکنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں – بنگلہ دیش میں حال ہی مقبول عوامی ابھار کی مخالفت بھی وہ یہی ڈر پیدا کرکے کرتے رہے –
ان میں ایسے سیاسی کارکن بھی شامل ہیں جن کا تعلق پی پی پی ، اے این پی یا ایسی دیگر جماعتوں سے ہے جو دعوا تو یہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی جماعتوں کی تاسیسی بنیاد ترقی پسند سیاست کے علمبردار ہیں لیکن وہ اپنی اپنی سیاسی جماعتوں میں اپنی مرضی قیادت کی موقعہ پرستی کا بھرپور دفاع کرتے ہیں اور اپنی جماعتوں میں کوئی لیفٹ ونگ اپوزیشن کی تعمیر تک نہیں کرتے – ان کی اکثریت سماجی طبقاتی لحاظ سے پیٹی بورژوازی(عرف عام میں درمیانے طبقے) سے ہے جو موقعہ پرستی کی دلدل میں خود تو دھنسے ہوئے ہیں ہی اور وہ محنت کش طبقات کو بھی اسی دلدل میں دھنسا ہوا رکھنا چاہتے ہیں –
ان رجحانات کو دانش ورانہ رنگ میں پیش کرنے والے موقعہ پرست ایرانی انقلاب کی مثال بھی بار بار پیش کرتے ہیں اور ان کی بد دیانتی یہ ہے کہ وہ تودے پارٹی کے
Tactical and strategic error and miscalculation
کو بنیاد بناکر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ بائیں بازو کو عوامی تحریکوں کا حصہ ہی نہیں بننا چاہیے کیونکہ اس سے ملائیت اور آمریت قبضہ کرلیتی ہے اور وہ اس بنیاد پر بائیں بازو کی سیاست کو ہی رد کر دیتے ہیں –
شعوری اور لاشعوری طور پر ایسے لوگ نیولبرل ڈیموکریٹک پولیٹیکل ڈسکورس کے ناقابل شکست ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور عوام کو مایوسی کی دلدل میں دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں – وہ یہ حقیقت چھپانے کی کوشش کرتے ہیں کہ دنیا بھر آج جو سیاست میں
Right wing Populism and fascist tendencies
کو عروج ملا ہے ( یہ بنیادی طور پر پیٹی بورژوازی/درمیانے طبقے کا ہی رجحان ہے) تو اس کی ذمہ داری بھی سرمایہ دار جمہوری سیاسی جماعتوں اور ان کی حکومتوں کا نیولبرل سرمایہ داری کے سامنے مکمل سرنڈر اور عوامی سیاست سے انحراف ہے اور پاکستان جیسے ملکوں میں یہ فوجی جنتا کے ظلم اور جبر میں حصہ داری ڈالنے کی وجہ سے ہے – یہ اپنے سیاسی جرائم کا ملبہ بائیں بازو کے انقلابی رجحان پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں –
میں نے تودہ پارٹی ایران کے سرکردہ رہنماء اور ان کی پارٹی کے ترجمان محمد امیدوار سے رابطہ کیا – ان کے سامنے میں نے دو سوال رکھے :
پہلا سوال یہ تھا کہ کیا تودہ پارٹی ایران ایرانی انقلاب کے مذھبی پیشوائیت پر مبنی رجیم پر خاتمے کی ذمہ دار تھی ؟
انھوں نے اس سوال کا جواب مجھے چار برقی مراسلوں میں بھیجا جس کا خلاصہ میں یہاں اپنے پڑھنے والوں کے لیے درج کر رہا ہوں :
تودہ پارٹی (حزب تودہ) نے 1979 کے ایرانی انقلاب کی تیاری کے دوران ایران کے سیاسی منظر نامے میں ایک اہم کردار ادا کیا، لیکن یہ براہ راست آیت اللہ خمینی کے اقتدار میں آنے کی ذمہ دار نہیں تھی۔ یہ انقلاب ایک وسیع بنیاد پر مشتمل تحریک تھی جس میں مختلف نظریات کے حامل گروہوں، بشمول اسلام پسندوں، بائیں بازو کے حامیوں، قوم پرستوں اور دیگر سیکولر دھڑوں نے حصہ لیا۔ یہاں بتایا گیا ہے کہ تودہ پارٹی اس وسیع تر منظر نامے میں کیسے فٹ ہوئی:
*** تودہ پارٹی کا پس منظر
تودہ پارٹی ایران کی ایک مارکسسٹ-لیننسٹ سیاسی پارٹی تھی، جو 1941 میں قائم ہوئی۔ اس نے 1940 کی دہائی اور 1950 کی دہائی کے اوائل میں خاص طور پر محنت کش طبقے، دانشوروں اور طلباء کے درمیان کافی اثر و رسوخ حاصل کیا۔ اس پارٹی نے وزیر اعظم محمد مصدق کی ایرانی تیل کی صنعت کی قومیت کی حمایت کی، لیکن 1953 کے فوجی بغاوت کے بعد (جو کہ سی آئی اے اور ایم آئی 6 کے ذریعے منظم کی گئی تھی) جس نے مصدق کو اقتدار سے ہٹا دیا، تودہ پارٹی کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
*** 1979 کے انقلاب میں کردار
1970 کی دہائی کے دوران، جب شاہ کے خلاف مخالفت میں شدت آئی، تودہ پارٹی نے دوبارہ سیاسی میدان میں قدم رکھا، حالانکہ وہ کمزور ہو چکی تھی اور برسوں کے دباؤ کی وجہ سے زیادہ تر زیر زمین کام کر رہی تھی۔ جب انقلاب نے زور پکڑا تو تودہ پارٹی نے ابتدا میں خمینی کو شاہ کے خلاف ممکنہ اتحادی کے طور پر دیکھا۔ اگرچہ خمینی ایک اسلام پسند تھے، لیکن تودہ پارٹی نے ان کی تحریک کے سامراج مخالف اور بادشاہت مخالف پہلوؤں کو اپنے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ سمجھا۔
*** خمینی کی حمایت میں تودہ پارٹی کا کردار
تودہ پارٹی نے انقلاب کی حمایت کی اور شاہ کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد خمینی کی نئی حکومت کی حمایت کی، اس امید کے ساتھ کہ انقلابی جوش و خروش ایک زیادہ بائیں بازو، سامراج مخالف ریاست کے قیام کا باعث بنے گا۔ تاہم، یہ ایک غلط اندازہ تھا۔ خمینی اور اسلام پسند قوتوں نے تیزی سے اقتدار کو مضبوط کیا، بائیں بازو کے گروہوں کو کنارے پر لگا دیا اور بالآخر ان پر ظلم ڈھایا، بشمول تودہ پارٹی کے۔ 1980 کی دہائی کے اوائل تک، تودہ پارٹی پر پابندی لگا دی گئی اور اس کے بہت سے ارکان کو گرفتار، تشدد کا نشانہ بنایا گیا یا پھانسی دے دی گئی۔
خمینی کے اقتدار میں آنے کی وجوہات
خمینی کی کامیابی کئی عوامل کا نتیجہ تھی:
کرشماتی قیادت: خمینی ایک ایسا شخصیت تھے جو ایرانی معاشرے کے ایک وسیع طبقے، خاص طور پر مذہبی طبقوں کے لیے دلکش تھے۔
اسلامی نیٹ ورکس: خمینی کے پیروکاروں کی ایرانی معاشرے میں گہری جڑیں تھیں، خاص طور پر مساجد، مذہبی مدارس (مدارس) اور بازاروں کے ذریعے۔
وسیع پیمانے پر عدم اطمینان:
اقتصادی مشکلات، سیاسی دباؤ، اور مغربی اثر و رسوخ (جس کی علامت شاہ تھے) نے بادشاہت کے خلاف ایک وسیع اتحاد پیدا کیا۔
ہوشیار اتحاد:خمینی نے شاہ کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے تودہ پارٹی اور دیگر بائیں بازو کے گروہوں کے ساتھ ہوشیاری سے اتحاد کا استعمال کیا، پھر انہیں کنارے پر کر دیا۔
نتیجہ
اگرچہ تودہ پارٹی نے انقلاب کی رفتار میں حصہ ڈالا، لیکن وہ خمینی کی فتح کی ذمہ دار نہیں تھی۔ انقلاب کی کامیابی کئی عوامل کے نتیجے میں ہوئی، اور خمینی کی حکمت عملی پر مبنی قیادت اس میں مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔ آخرکار، تودہ پارٹی نے خمینی کے ارادوں کا غلط اندازہ لگایا، جس کے نتیجے میں انقلاب کے بعد کے دور میں اس کا خاتمہ ہوا۔
جاری ہے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں