اورینٹل کالج: ایک درگاہ/آغرؔ ندیم سحر

اورینٹل کالج کے قیام نے ہندوستان میں مشرقی علوم و فنون کی ترویج کے لیے بہت نمایاں کردار ادا کیا،اس سے ادارے وابستہ شخصیات نے زبان و ادب اور تحقیق و تدوین کے شعبوں کو نا صرف وقار بخشا بلکہ بے تحاشا نمایاں کام کیا،کوئی بھی ذی شعور ان اساتذہ کی علمی و ادبی خدمات پرشک نہیں کر سکتا ،اس ادارے کی علمی روایت میں مولانا فیض الحسن سہارنپوری ،مولانا شبلی نعمانی،حافظ محمود شیرانی،علامہ محمد اقبال سے لے کرڈاکٹر سید عبداللہ،حفیظ تائب،ڈاکٹر وحید قریشی،ڈاکٹر سہیل احمد خان ،ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی،ڈاکٹر تحسین فراقی اور ڈاکٹر خواجہ زکریا تک،درجنوں اکابرین آتے ہیں جنھوں نے اپنے کام کے ذریعے اس درس گاہ کو ‘‘درگاہ’’ کے درجے تک پہنچایا،آج بھی اس ادارے سے کئی ایسے اساتذہ وابستہ ہیں جن کے کردار اور لفظوں سے علم و ادب کی خوشبو آتی ہے،نامور محققین اور اساتذہ کرام کے علمی کارناموں کی دھوم اپنی جگہ،اس ادارے سے فارغ التحصیل سینکڑوں طالب علموں نے بھی اس علمی و ادبی روایت میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا اور ادارے کی ادبی شہرت کو دو چند کرنے میں اپنا نمایاں کردار ادا کیا۔یہ ادارہ تشنگانِ علم و ادب کے لیے ہمیشہ توجہ کا مرکز رہا،دنیا بھر سے اسکالرز اس ادارے میں تشریف لاتے ہیں،اپنی علمی پیاس بجھاتے ہیں اورتحقیق و تدوین کے کارہائے نمایاں سرانجام دینے کے بعد وطن واپس لوٹتے ہیں،ان کی فہرست بھی خاصی طویل ہے۔

اس ادارے میں شعبہ اردو کے ساتھ،پنجابی،فارسی ،کشمیری ،عربی اور ہندی ادب کی بھی ایک شاندار تاریخ موجود ہے،ان شعبوں سے بھی درجنوں ایسے اکابرین وابستہ رہے جن کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ،آج بھی دنیا بھر میں یہاں کا عربی و فارسی شعبہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،یہاں سے ڈگریاں پانے والے طالب علم پوری دنیا میں  عزت و وقار پاتے ہیں۔اس ادارے نے صرف محققین اور ناقدین ہی پیدا نہیں کیے بلکہ درجنوں قد آور شعراء بھی اس ادارے کی دَین ہیں ، افسانہ نگاروں کی بھی ایک طویل فہرست ہے جو اس ادارے سے مختلف ادوار میں وابستہ رہے اور آج پوری دنیا میں اپنے شعر کی بنیاد پر جانے جاتے ہیں۔اورینٹل کالج کو جہاں بے تحاشا عزت اور احترام ملا،وہاں ہر دور میں ایسے شرپسند عناصر بھی موجود رہے جنھیں اس ادارے کی نیک نامی کھٹکتی تھی،انھوں نے حد درجہ کوشش کی کہ کسی طرح اس ادارے سے وابستہ علمی و ادبی ہستیوں کی پہچان اور شہرت کو خراب کیا جائے مگر صد شکر کہ ایسے اوچھے اور بونے کردار وں نے ہمیشہ اپنا ہی نقصان کیا،جن کرداروں نے اپنی ناکامیوں اور نااہلیوں کا ذمہ دار اس ادارے کو ٹھہرایا،لوگوں کو من گھڑت قصے اور کہانیوں کے ذریعے اس ادارے سے بدظن کرنے کی کوششیں کرنے والے خوفناک انجام کا شکار ہوتے گئے اور نام پانے والے،کام کرنے والے،عزت پاتے گئے۔

اداروں اور قد آور شخصیات کے خلاف لکھنا بہت آسان ہے،کام کرنا بہت مشکل، فورٹ ولیم کالج کو گالی دینا بہت آسان ہے مگر اس ادارے نے مشرقی زبانوں کے فروغ کے لیے جتنا کام کیا،شاید ہی کسی اور ادارے نے کیا ہو،انگریز سے نفرت اپنی جگہ مگر فورٹ ولیم کالج،دہلی کالج،انجمن پنجاب ،اورینٹل کالج اور گورنمنٹ کالج،ان اداروں سے وابستہ افراد سے محض اس لیے بغض رکھنا کہ ‘‘مجھے وہاں مشاعروں میں نہیں بلایا جاتا یا مجھے ادبی مقالوں کا حصہ نہیں بنایا جاتا’’،انتہائی کم عقلی ہے۔وہ کردار جوایک طرف اورینٹل کالج(دانش گاہ)کو برا بھلا کہتے ہیں اور دوسری طرف اس ادارے کی علمی روایت کا حصہ بھی بننا چاہتے ہیں،ان کے اس متضاد رویے کے بارے کون اچھی رائے دے گا؟ایسے لوگ تخلیق کی طاقت سے آگاہ نہیں،اگر آپ نے ستر کتابیں لکھ کر بھی قومی اعزاز منت ترلوں سے لیا ہے تو سمجھ جائیں کہ آپ کا لکھا،کس کھاتے میں ہے۔

اورینٹل کالج کا صرف ماضی ہی شاندار اور تابناک نہیں تھابلکہ اس دانش گاہ کا حال اور مستقبل بھی چمک دار ہے،ایسے متعفن کردار جو آسمان پر تھوکتے ہیں،ایک دن اپنے تعفن سے مر جاتے ہیں،ان کی لاشوں پر کوئی روتا ہے اور نہ ہی کندھا دیتا ہے،زندہ وہی رہے گا،جس کا کام زندہ رہے گا۔ذاتی انا اور بغض رکھنے والے کردار ہمیشہ عبرت ناک انجام کو پہنچے،مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوگا،ادارے تو ادارے ہیں،یہ کبھی ختم نہیں ہوتے،ان کو مٹانے والے،ان کے درودیوار کو اپنی نحوست سے آلودہ کرنے والے ایک نہ ایک دن اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں ،اورینٹل کالج بھی ایک درگاہ ہے،ایسی درگاہ جو پچھلے ڈیڑھ سو سال سے علم و فن کی خدمت کر رہی ہے،جس نے درجنوں نابغے پیدا کیے،سینکڑوں اہل قلم پیدا کیے،مشرقی زبانوں سے محبت کرنے والے ہزاروں طالب علم پیدا کیے،اس ادارے کی کردار کشی کرنے والے اپنے انجام کی فکر کریں،ایسے اساتذہ جن کے علم و ادبی کام کا ایک زمانہ معترف ہے،ایک دنیا مداح ہے،ان کی کردار کشی ناقابل ِ برداشت ہے۔وہ ادارے اور لوگ،جن کا وجود نعمت ِ خدا وندی ہے،ان پر آوازیں کسنے والے یاد رکھیں!ایک دن آپ اپنے اندر کی گھٹن سے پاگل ہو جائیں گے،ایسے پاگلوں کی آوازیں بھی مردہ ہو جاتی ہیں اور مردہ آوازیں کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں،اس وقت سے ڈرو اور اپنی آوازوں کی حفاظت کرو ورنہ ‘‘تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں’’۔

Facebook Comments

آغر ندیم سحر
تعارف آغر ندیم سحر کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے۔گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔آپ مختلف قومی اخبارات و جرائد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔گزشتہ تین سال سے روزنامہ نئی بات کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔گورنمنٹ کینٹ کالج فار بوائز،لاہور کینٹ میں بطور استاد شعبہ اردو اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس سے قبل بھی کئی اہم ترین تعلیمی اداروں میں بطور استاد اہنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔معروف علمی دانش گاہ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم اے جبکہ گورنمنٹ کالج و یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم فل ادبیات کی ڈگری حاصل کی۔۔2012 میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ لوح_ادراک شائع ہوا جبکہ 2013 میں ایک کہانیوں کا انتخاب چھپا۔2017 میں آپ کی مزاحمتی شاعری پر آسیہ جبیں نامی طالبہ نے یونیورسٹی آف لاہور نے ایم فل اردو کا تحقیقی مقالہ لکھا۔۔پندرہ قومی و بین الاقوامی اردو کانفرنسوں میں بطور مندوب شرکت کی اور اپنے تحقیق مقالہ جات پیش کیے۔ملک بھر کی ادبی تنظیموں کی طرف سے پچاس سے زائد علمی و ادبی ایوارڈز حاصل کیے۔2017 میں آپ کو"برین آف منڈی بہاؤالدین"کا ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ اس سے قبل 2012 میں آپ کو مضمون نگاری میں وزارتی ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔۔۔آپ مکالمہ کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہو گئے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply