سگے اور سوتیلے شہید۔۔۔عزیز خان

ڈیرہ غازی خان میں دو پولیس مقابلے ہوئے ۔جن میں کُل آٹھ پولیس اہلکار شہید ہوئےایک جوان ڈیرہ غازی خان میں شہید ہوا جبکہ سات جوان راجن پور میں شہید ہوئے ۔ان میں سے پانچ ضلعی پولیس کے اور تین ایلیٹ فورس کے جوان تھے۔ایک دن یہ خبر چلی اس کے بعد نواز شریف کی بیماری اور اسکے ملک سے باہر جانے کی خبریں اتنی اہم تھیں کہ  ان شہیدوں کے بارےمیں کسی کو کچھ پتہ نہ چل سکا کہ  وہ کون تھے ؟وہ کون سی ماں کے لعل تھے؟وہ کونسی بیوی کے سہاگ تھے؟کوئی بیٹا تھا۔۔۔۔کوئی باپ تھا ۔۔۔ کون بھائی تھا؟ اور وہ کیوں مارے گئے؟نہ تو کسی دانشور کا بیان آیا ۔۔۔نہ سوشل میڈیا پر کوئی پروپیگنڈاہوا۔اور نہ ہی لفافہ صحافیوں نے ٹیلی ویژن پر 8 سے 9 بجے تک کوئی پروگرام کیا ۔پروگرام تو وہ کیے جاتے ہیں جن سے ٹی وی چینلز کا مالی فائدہ ہومگر پولیس والوں کے مرنےکی خبر پر پروگرام کرنے سے ان کا کیا مالی فائدہ ہونا تھا ۔خبرصرف یہ تھی کہ  پولیس والے مارے گئے۔

پھرمیں نے سوشل میڈیا پر ایک ننھی سی بچی کی وڈیو دیکھی جو اپنے شہید باپ کے  گالوں کو سہلاتے ہوئے رو رہی ہے۔یہ بھی انہی میں سے ایک شہید کی بچی تھی جو اپنے باپ کو الودع کررہی تھی۔مجھے اپنی تھانہ بھونگ میں کیے گئے وہ تمام ریڈ ز یاد آگئےجو میں نےاپنی پوسٹنگ کے دوران کچہ کے علاقہ میں کیے اور ہر ریڈ میں ہمارے ایک یا دو جوان شہید ہو جاتے تھے ۔اس کی وجہ کچہ کے علاقے کی جغرافیائی صورت حال سے واقف نہ ہو نا ،نامناسب اسلحہ ،ناقص بلٹ پروف جیکٹس اور ناقص بکتر بند گاڑیوں کا ہونا بھی اس کی سب سے بڑی وجہ تھی۔میری تعیناتی میں صرف ایک بکتر بند گاڑی ہوا کرتی تھی جو ایک کلومیڑ کے بعد گرم ہوجاتی تھی بعد میں اسے تھانہ ما چھکہ کے بازار میں کھڑا کردیا گیا تھا تاکہ لوگ اسے دیکھ کر خوش ہوں ۔مجھے آج بھی وہ ریڈ یاد ہے جو بغیر کسی “ریکی “کے ASPپرویز چانڈیو نے کروایا۔ریڈ کے دوران بکتر بند گاڑی کھالے میں پھنس گئی ۔ہم ASPکو کہتے رہے نکل چلیں کیونکہ ریڈ کے بعد کچے کے علاقے میں رکنا انتہائی خطرناک ہوتا ہے ۔جوں جوں وقت گزرتا ہے تمام جرائم پیشہ افراد آپس میں رابطہ کرنے کے بعد ایک دوسرے کی مدد کرنے پہنچ جاتے ہیں ۔جدید اسلحہ سے لیس یہ ڈاکو ٹیلی سکوپ رائفل سے نشانہ لے لے کر پولیس ملازمین کو زخمی یا شہید کرتے تھے۔۔۔۔سرمد سعید خان SSPرحیم یار خان تھےوہ اس روز میٹنگ کے سلسلہ میں لاہور گئے ہوئے تھے۔ایک ناتجربہ کار ASPجسے ہم SHO’sکہتے رہے کہ بکتر بند گاڑی بعد میں مل جائے گی مگر وہ ٹیلی فون پر SSPسے بات کرنے کی کوشش کرتے رہے کیونکہ سرمد سعید خان میٹنگ میں تھے بات نہ ہوسکی ۔اتنی دیر میں ڈاکوؤں نے ہمیں گھیرے  میں لے لیا فائرنگ شروع ہو گئی ۔۔ہمارے تین جوان شہید ہوگئے ۔۔کافی زخمی ہوئے ۔ہماری ایک LMGگن چھین لی گئی اور اس ملازم کو ٹانگ میں گولی مار دی ۔۔۔۔اسی طرح 2015 میں چھوٹو گینگ اور پولیس کے درمیان مقابلے میں راجن پور پولیس کے SHOاور پانچ جوان شہید ہوگئے جن کو ایک ایسی کشتی میں بٹھا کر اس جزیرہ پر بھجوایا گیا جہاں ڈاکوؤں کی پناہ گاہ تھی ۔بے یارو مددگار پولیس ملازمین کشتی میں ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر تھے ۔جونہی کشتی جزیرے کے پاس پہنچی ڈاکوؤں نے برسٹ مار کر ان کو شہید کردیا ۔۔میں نے یہ بھی دیکھا کہ افسران کیمپ لگا کر سارا دن چائے پیتے اور کھانا کھاتے رہتے تھے ۔نہ کسی کو کسی کے مرنے کا دکھ اور نہ ہی کوئی غم ، ان کے لیے یہ پکنک ہوا کرتی تھی ۔

دنیا میں جہاں کہیں بھی اس طرح کے ریڈ کیے جاتے ہیں سب سے پہلے فورس کے ملازمین کی حفاظت کا خیال کیا جاتا ہے ۔بلٹ پروف جیکٹس آرام دہ اور ہلکے وزن کی ہوتی ہیں جبکہ ہماری پولیس کو دی گئیں بلٹ پروف جیکٹس اتنی وزنی ہوتی ہیں کہ وہ بمشکل پہنی جاسکتی ہیں۔یہی حال بکتر بند گاڑیوں کا ہےصادق آباد کے علاقہ میں ڈاکوؤں سے لڑتے ہوئے انسپکٹر تبسم شہید ہوا جوکہ بکتر بند گاڑی کے اندر تھا اور ڈاکوؤں کی گولی بکتر بند گاڑی کو چیرتی ہوئی اندر بیٹھے انسپکٹر کو لگی ۔لیاقت پور کے ایک تھانہ کا نام تبسم شہید کے نام پر رکھا دیا گیا۔

میں نے اپنی ملازمت میں نوٹ کیا اور میرا تجربہ بھی ہے کہ ریڈ پر جاتے ہوئے نہ تو ملازمین کو اس ریڈ کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی انھیں ریڈ کے مطابق حفاظتی اقدامات کرائے جاتے ہیں۔اکثر کچے کے ریڈ کے دوران پولیس ملازمین کراس فائرنگ میں اپنا نقصان بھی کر لیتے ہیں۔۔۔زندگی موت خدا کے ہاتھ میں ہے مگر وہ افسران جو لاجسٹک کے انچارج ہیں اسلحہ ،بلٹ پروف جیکٹس ،بکتر بند گاڑیاں لیتے وقت اگر رشوت نہ کھائیں اور اقربا پروری کرتے ہوئے ان کمپنیوں سے سامان نہ خریدیں جن کی کوالٹی اچھی نہیں ہوتی بلکہ ان کمپنیوں سے یہ سامان لیں جن کی کوالٹی اچھی ہوتی ہےتو شاید ہم محکمہ پولیس میں ہونے والے نقصان کو کم کرسکیں۔

پولیس ڈپارٹمنٹ میں مرنےوالے تو شہید کہلاتے ہیں ان کے ورثا کو کچھ مالی امداد بھی مل جاتی ہے لیکن اس مالی امداد کے لیے وہ جس طرح دھکے کھاتے ہیں ناقابل بیان ہے۔۔۔مرنے والے تو مر جاتے ہیں مگر زخمی ہونے والے نہ زندہ ہوتے ہیں نہ مردہ ۔۔۔۔۔۔کوئی ان کا پُرسان حال نہیں ہوتا ۔پریس ریلیز اور اخباری بیانات دے دیے جاتے ہیں ۔۔ہرسال پولیس کے یوم شہدا پر شہدوں کے ورثا کو بلا کر ان کے ساتھ کھانا کھانے کاڈرامہ کردیا جاتا ہے جبکہ پورا سال وہ کس حالت میں ہوتے ہیں یہ کوئی IG,DIGاورSPنہیں جانتا ۔ہماری پولیس میں شہدوں کی بھی قسمیں ہیں۔اگرPSP آفیسر شہید ہو جائے تو اس کے نام پر ٹول پلازہ ، پولیس لائنز کےنام رکھے جاتے ہیں ۔ان کے عزیر و اقارب کو عزت و احترام سے بیٹھایا جاتا ہے ۔ مگر کراچی میں ایک شہید ASIکی والدہ کو زمین پہ بیٹھا کر کھانا کھلایا گیاجو باعث شرم تھا۔۔

آرمی کے شہدا کو جو عزت و احترام دیا جاتا ہے شاید وہ پولیس کے نصیب میں نہیں ۔اس کی سب سے بڑی وجہ خود ہمارے افسران ہیں ۔سیاسی سفارشوں پر لگے ہوئے IGکس منہ سے اپنی فورس کی خیرخواہی ان سیاست دانوں سے مانگیں گے جنھوں نے ان کی پوسٹنگ کروائی ۔انھیں تو صرف اپنا مفادعزیز ہوتاہے ۔پولیس میں شہادتیں عام بات ہیں آئے دنوں اخبارات میں اور میڈیا پر خبر دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں مگر میرے لیے سابقہ پولیس آفیسر ہونے کے ناطےیہ بات باعث شرم ہے کے ڈیرہ غازی خان کے شہدا کے جنازے میں نہ تو IGپولیس گیا اور نہ وزیر اعلیٰ جسکا اپنا گھر ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں ہے۔جنازہ پر جانے سے شہدا نے زندہ نہیں ہو جانا تھا پر ان کے ورثا کو تسلی ضرور ہوتی کہ محکمہ کا سربراہ اپنے بچوں کے جنازے میں آیا ہے۔
شاید ہمارے حکمرانوں اور افسران کے لیے سگے اور سوتیلے شہید ہوتے ہیں پر اللہ کی نظر میں تمام شہید ایک جیسے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *