پاکستان سے زیادہ تر حجاج (تقریباً)جوان تھے بلکہ نوجوان بھی کافی تھے زیادہ تر فیملیز تھیں اس میں سے بھی نوے فیصد کپل تھے۔
باقی کے پینتیس فیصد اگر جوان نہیں بھی تھے تو کم ازکم بوڑھے کھوسٹ بھی نہ تھے ۔ صرف پانچ فیصد ایسے تھے جو کہ بہت ضعیف یا لاچار تھے۔ برصغیر کے حجاج کرام میں پاکستانی سب سے زیادہ خوش شکل و خوش لباس تھے۔ تقریباً سبھی خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔
ان میں سے بھی زیادہ خوشحال زیادہ صابر اور باوقار تھے میں نے انہیں کبھی گلہ کرتے نہیں دیکھا۔دوسرے پھر بھی شور و غوغا کر لیتے تھے۔
شروع میں میرا خیال تھا کہ مَیس میں ہم مرد الگ کھانا کھایا کریں گے اور خواتین الگ۔ مگر پہلے دن سے ہی جب کھانے کا وقت آیا تو مرد اپنی بیگمات کے ساتھ کھانے کی ٹیبل پہ بیٹھ گئے۔ مجھے چونکہ یہ عادت نہیں تھی تو پہلے تو میں اور بیگم الگ الگ اوقات میں اپنا اپنا کھانا کھا آتے مگر ساتھیوں میں خصوصاً خواتین میں یہ پرسیپشن بنتی گئی کہ شاید ان کی آپس میں سْر نہیں ملتی۔ اس لئے مجبوراً چوتھے پانچویں دن سے میں نے بیگم کے ساتھ کھانا شروع کر دیا۔ ویسے بھی دس پندرہ دن کے بعد اتنی ہوم سِکنس ہو گئی تھی کہ اپنی بیگم بھی اچھی لگنے لگی تھی حالانکہ افلاطون نے اسے بڑھاپے کی نشانی بتایا ہے۔
میں نے پہلے لکھا تھا کہ سبھی حاجی نارمل تھے اور مکمل ہوش و حواس میں تھے کوئی بھی روحانیت کے ایسے جنون میں مبتلا نہیں تھا کہ فطرت سے بے نیاز ہو جائے۔ سب کے احساسات و جذبات روز مرہ کی طرح کام کر رہے تھے اور سسٹم بھی فعال تھا۔ اتنا ضرور تھا یا ایک اچھی مشق یہ ضرور ہوئی کہ کسی پُرکشش چہرے پہ نظر پڑتی تھی تو نظر جھکا لیتے اور کوشش کر کے دوبارہ نہ دیکھتے اور یہ بھی حج میں آ کے پتا چلا کہ ایسا بھی ممکن ہے۔
اوپر سے حاجی مٹن اور کھجور خوری سے ہفتے بعد پاٹنے والے ہو گئے تھے مگر مشترکہ رہائش کی وجہ سے بے بس تھے۔
ہمارے روم میں شروع شروع میں ایک صاحب (اب میں یہاں نام نہیں لوں گا) ایک نوجوان ساتھی کے لئے قرارداد مجامعت پیش کی کہ اس کی تین بیٹیاں ہیں یہ دوسرا حج اولاد نرینہ کے لئے کرنے آیا ہے لہذا اسے “محفوظ راستہ” فراہم کیا جائے تاکہ یہ دعا کے ساتھ ساتھ دوا بھی کر سکے۔ (ہمیں کیا پتا تھا کہ دراصل وہ اپنا راستہ بھی ہموار کر رہا ہے جیسا کہ بعد میں ثابت ہوا)
میں نے کہا ٹھیک ہے مگر یہ ہمیں البیک سے ولیمہ کھلائے گا۔
نوجوان نےجھٹ سے ہامی بھر لی اور یوں قرار داد مجامعت بھاری اکثریت کے ساتھ منظور ہو گئی۔
بس پھر تو جھاکا کھلنے کی دیر تھی کہ بقول شاعر
تھی حیا مانعِ فقط بندِ قبا کْھلنے تلک
پھر تو وہ جانِ حیا ایسا کْھلا ایسا کْھلا
یعنی پھر تو وہ ہر روز یہی التجا کرنے لگا تب میں نے اسے تنگ آ کے مولانا رومی کی ایک حکایت سنائی کیسے ایک چوہدری صاحب اپنے ڈیرے پہ بیٹھے ہوتے ہیں کہ کتوں کا ایک غول ایک کتیا کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا اس ڈیرے میں گھس آتا ہے جس میں سب سے پیچھے ایک لنگڑا کتا بھی ہوتا ہے۔ چوہدری اپنے ملازم کو کہتا ہے اوئے دِتو اس کتیا کو اور اس لنگڑے کتے کے ساتھ غلّے والی کوٹھڑی میں بند کر دو ورنہ اس غریب کی باری کہاں آنی ہے۔ نوکر حکم کی تعمیل کرتا ہے لنگڑا ساری رات موج کرتا ہے۔صبح کو دونوں کو کھول دیا جاتا ہے۔
دو تین دن کے بعد وہی غول ایک بار پھر چوہدری کے ڈیرے میں آ جاتا ہے اس بار وہ لنگڑا کتا سیدھا چوہدری صاحب کے قدموں میں آ کر بیٹھ جاتا ہے اور چوہدری کے پیر چاٹنے لگتا ہے۔
چوہدری پھر نوکر کو آواز دیتا ہے لیکن اس بار کہتا ہے کہ ڈانڈا لے کر اس لنگڑے کی باقی ٹانگیں بھی توڑ دو۔
دِتو ہاتھ باندھ کے عرض کرتا ہے جو حکم چوہدری صاحب مگر یہ تو بتا دیں کل اتنی مہربانی اور آج یہ حکم؟
تا کہ اس نوں پتا لگے کہ اسیں چوہدری آں کنجر نہیں۔ چوہدری کتے کو ٹْھڈا مار کے جواب دیتا ہے۔
پھر ولیمہ کی ٹرم اتنی مقبول ہوئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے ساری بلڈنگ میں پھیل گئی حتیٰ کہ خواتین میں بھی۔
مسئلہ تب درپیش ہوا کہ جب مکہ شفٹ ہونے پر ہم میں ایک روم میٹ کا اِضافہ ہو گیا یہ ایک سنار تھا جو تونسہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اب نئے بندے کے سامنے سب جھجک رہے تھے وہ ذرا اس معاملے سے بے نیاز معلوم ہوتا تھا ،شاید تونسے کا تھا اس لئے ۔ آخرکار قریشی صاحب نے ہمت کی اور اپنا مدعا بیان کیا تو وہ حیران ہوکے بولا ” تساں ایتھاں حج پڑھن آئے وے یا زیادتیاں کرنڑ۔۔۔ پھر وہ بھی تعاون پہ آمادہ ہوگیا۔
مدینہ میں کھجور والے بہت تنگ کرتے ہیں۔ ادھر ہم تذبذب میں تھے کہ اگر ابھی سے کھجور لے لیں تو کہیں خراب نہ ہو جائے اور مکے میں مہنگی ملتی ہے۔بہرحال پھر صلاح مشورہ کرکے کھجور لینے کا فیصلہ کر لیا اور مدینے میں آخری دو دن اس کام کے لئے مختص کر دئیے ۔ پھر جب ہم کھجور لینے نکلے تو جس دوکان پر جائیں اور وہ پیٹی کھولے تو ہمارا ایک ساتھی فوراً کوئی چھوٹا دانہ اٹھا کر ریجیکٹ کر دے ۔ ہم نئی دوکان پر چلے جائیں ۔یوں پہلا دن ہمارا اسی خواری میں گزر گیا ۔آخر ایک دوکان پر ہمیں کھجوریں پسند آ گئیں، مگر اس ساتھی نے اس میں سے بھی ایک چھوٹا دانہ ڈھونڈ لیا مگر میری بس ہو چکی تھی میں نے زچ ہو کر کہا سالے شادی کرتے ہوئے تونے ذرا نہ سوچا (اس کی بیوی بہت چھوٹے قد کی تھی) ۔ سب نے زور دار قہقہہ لگایا اور وہ بیچارا بڑا شرمسار ہوا مگر کھجور پاس ہوگئی۔
مکہ میں کھجور کی وجہ سے ہم فل اے سی چلاتے تھے بار بار سب کو نزلہ زکام ہوا مگر اے سی سلو نہ ہوا۔
ایک دن میں چھینکتے ہوئے کہا کہ اب کھجور بچے گی یا ہم۔
البیک
البیک سعودیہ کا ایک مشہور فاسٹ فوڈ برانڈ ہے جو یہاں بہت مقبول ہے مگر میرے حساب سے اوور ریٹڈ ہے اس میں کوئی ایسی خاص بات نہیں ہے ۔مدینہ میں البیک ہوٹل میں آ جاتا تھا پہلی بار ہم مکہ میں البیک گئے۔ دس ریال ٹیکسی کے جانے کے بھرے اور پندرہ آنے کے۔ ایک گھنٹہ لائن میں لگ کے آرڈر کیا وہ بھی بڑی مشکل سے انہیں سمجھایا اور اگلا ایک گھنٹہ آرڈر وصول کرنے میں لگا مگر پھر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جب انہوں نے کہا کہ خواتین اندر نہیں آ سکتیں۔ مجبوراً باہر ایک بند مارکیٹ کے تھڑے پہ جائے نماز بچھا کر نوش کیا۔ اس کے بعد میرا تو کبھی دوبارہ آنے کو جی نہ چاہا مگر ساتھی ہمیشہ ضد کرکے وہیں آئے ۔
میس کے کھانے سے اکتا کر اکثر باہر بھی کھانا کھا لیتے تھے مگر میں نے محسوس کیا کہ پاکستانی ریسٹورنٹس یہاں بھی نسبتاً مہنگے ہیں۔ بیف یہاں نہیں دیکھا شاید مہنگا ہے اور چکن مٹن کی ڈشز کے ریٹ برابر ہیں حالانکہ مٹن چکن سے تین گنا مہنگا ہے ،یا یوں کہہ لیں کہ چکن مٹن سے تین گنا سستا ہے۔ کھانوں کا معیار اچھا ہے، خصوصاً چاول ہر جگہ بہت اچھے ہیں۔ ٹن پیک کا معیار ہمارے برابر ہی ہے یہاں ہم نے ہرے رنگ کی مرنڈا بھی پی۔ ایک بات ہے کہ کرنسی کے ڈیجٹس کم ہونے سے چیزیں سستی لگتی ہیں یعنی پانچ دس ریال میں کافی کچھ آ جاتا ہے۔
ہر بلڈنگ میں بیشمار اے سی ہیں پتا نہیں بل کتنا آتا ہے اور کیسے آتا ہے میں نے کہیں بجلی کا میٹر نہیں دیکھا۔ کل میں نے ایک ویلاگ میں دیکھا کہ صرف مکہ میں ستر لاکھ اے سی ہیں۔ یقیناً شہر کا درجہ حرارت دو تین سینٹی گریڈ تو ان اے سیوں نے بڑھایا ہوا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہاں ہم نے فی کس لاکھ روہے پاکستانی کی بجلی ہی پھونک دی ہوگی۔
ہر گلی میں دو تین چھوٹی چھوٹی مساجد ہیں جن کا طرز تعمیر سادہ مگر نفیس ہے۔ نمازی کافی تعداد میں آتے ہیں۔امام صاحبان ٹوپی سے بے نیاز ہیں اور داڑھی بھی برائے نام ہوتی ہے۔ جمعہ کا خطبہ دس پندرہ منٹ سے زیادہ کا نہیں ہوتا وہ بھی لکھا ہوا پڑھتے ہیں ،شاید سرکار کی طرف سے آتا ہے۔
بڑے بڑے مالز ہیں جو چائنہ کے سامان سے لدے ہوئے ہیں۔ دن بھر دوکانیں خالی رہتی ہیں رات کو گاہکی ہوتی ہے۔ ہم مغرب کے بعد حرم سے باہر مسجد جن کے پاس ایک ہوٹل پہ آ جاتے اور عشاء تک یہاں چائے اور سگریٹ پیتے ۔ یہاں اندر بیٹھنے کا کوئی انتظام نہیں تھا مالک نے باہر ہوٹل کی دیوار کے ساتھ ہی قالین بچھائے ہوئے تھے سب وہیں بیٹھ جاتے۔
ایک روز ایک شخص ایک اسکوٹی پہ آیا اور ہیلمٹ اتار کے ہم سے پنجابی میں پوچھا کہ پاکستان سے ہو؟ ہم نے کہا کہ ہاں جی اور آپ کہاں سے ہو ۔
بولا کہ میں فیصل آباد کا ہوں اور میرا یہاں ہوٹل ہے۔
میں نے کہا یہی والا ؟
بولا نہیں دو سڑکیں چھوڑ کر ہے میں تو یہ دیکھنے آیا ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ کاروبار بالکل نہیں ہے۔
لا دیو ناں ن لیگ دا۔ میں نے طنزاً جواب دیا کیونکہ مجھے پتا تھا کہ فیصل آبادی زیادہ تر پی ٹی آئی کے ہوتے ہیں سالے ۔
ویسے مدینہ میں بھی دوکاندار مندے کاروبار کا گلہ کر رہے تھے۔ مدینہ میں سرائیکی بہت زیادہ ہیں مکے میں سندھی بھی کافی نظر آئے ۔ البتہ مدینے میں ایک سندھی لڑکا ملا جو کہ گھوٹکی کا تھا اور ذات کا بلوچ تھا اور ہمیں کھجور دکھانے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا میں نے ہنس کے کہا کہ کہیں کچے میں نہ لے جانا۔
ٹیکسی والا جو بھی ملا پی ٹی آئی کا نکلا۔ قریشی اور رضوان مجھے چھیڑنے کے لئے جان بوجھ کر ٹیکسی والے سے سیاست چھیڑ لیتے۔
ایک بار البیک سے واپسی پر ایک ٹیکسی والا جس نے عربی توب پہن رکھی تھی اور خود کو عربی ظاہر کر رہا تھا اور عربی میں ہی بات کر رہا تھا مگر سیاست کے ذکر پہ میری طرف منہ کرکے بولا عمران خان زندہ باد ، پاکستان زندہ باد، نواز شریف چور زرداری ڈاکو ۔
میں نے ترنت گالی دے کر کہا کہ پی ٹی آئی کی طرح یہ بھین کا ۔۔۔ بھی دو نمبرعربی ہے ورنہ پ ، چ اور ڈ کیسے بول سکتا تھا اسکے بعد وہ جعلی عربی کْسکا نہیں۔
جاری ہے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں