عدالت نے دعا زہرا کیس کا فیصلہ سنا دیا

دعا زہرہ کیس میں نیا موڑ سامنے آگیا، عدالت نے والدین کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے بچی کی کسٹڈی والدین کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دعا زہرہ کیس کی سماعت کراچی کی فیملی کورٹ، ضلع شرقی میں ہوئی۔ عدالت نے بچی کی کسٹڈی مستقل طور پر والدین کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے ریمارکس دئیے کہ جب تک بچی بالغ نہیں ہوجاتی، وہ مستقل طور پر والدین کے ساتھ رہے گی۔ بچی کی فلاح و بہبود کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حقیقی والدین کے حوالے کیا جارہا ہے۔

عدالت نے والدین کو 2لاکھ روپے کے مچلکے بھی جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی دعا زہرہ کاظمی 16 اپریل 2022 کو اپنے گھر سے لاپتہ ہوگئی اور برآمدگی کے بعد پتہ چلا کہ دعا زہرہ نے پنجاب میں ایک لڑکے ظہیر احمد سے شادی کرلی ہے، دعا زہرہ نے کہا کہ اس نے اپنی مرضی سے گھر چھوڑا تھا۔

دعا زہرہ نے ظہیر احمد کے ساتھ اپنی شادی کا دفاع بھی کیا جبکہ دعا زہرہ کے والدین نے بیٹی کی واپسی کیلئے طویل قانونی جنگ لڑتے ہوئے اسے نابالغ قرار دیا ۔ اپریل 2022 میں دعا زہرہ کے والدین نے کہا کہ دعا زہرہ الفلاح ٹاؤن سے لاپتہ ہیں۔

julia rana solicitors london

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور آئی جی سندھ نے بھی کیس کا نوٹس لیا اور دعا زہرہ کی بازیابی کیلئے ٹیم تشکیل دی گئی۔ 10 روز بعد دعا زہرہ کا سراغ اوکاڑہ سے ملا۔ بعد ازاں دعا زہرہ کو لاہور میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔

Facebook Comments

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply