مجھے یاد ہے ۔۔۔حامد یزدانی۔۔۔قسط نمبر 25

———————————————
والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں
محرم کا مہینہ ہے۔ سکول سے عاشورہ محرم کی چھٹی ہے۔
عاشورہ کا مرکزی جلوس تو اندرونِ شہر سے امام بارگاہ گامے شاہ پہنچ کر ختم ہوگا مگر کچھ علاقوں میں چھوٹے جلوس بھی گلیوں بازاروں میں ماتم کناں ہیں۔ ایک ایسا ہی جلوس مزنگ سے بھی نکلتا ہے ۔کوٹ عبداللہ شاہ سے اور غالباً چاہ پچھواڑہ میں واقع امام بارگاہ میں اختتام پزیر ہوتا ہے۔ اس جلوس میں میرے کچھ ہم جماعت اور محلےدار بھی شامل ہوتے ہیں۔ وہ کوئی مرثیہ یا نوحہ درد ناک لہجے میں پڑھتے ہوئے سینہ کوبی اور زنجیر زنی کرتے بازار سے گزرتے جاتے ہیں۔ دائیں بائیں بند دکانوں کے تھڑوں پر دیکھنے والے ہجوم کیے ہوئے ہیں۔ تعزیہ کے جلوس کے شرکاء کے لیے جابجا ٹھنڈے شربت کی سبیلیں لگی ہوئی ہیں جن سے جلوس کے شرکاءتو کم مگر دیکھنے آنے والے زیادہ استفادہ کرتے ہیں۔
اخبارات نے  آج   خصوصی ایڈیشنز شائع کیے ہیں اور ریڈیو پر بھی دن بھر سلام بحضورشہدائے کربلا نشر ہوتے رہے۔ ٹی وی نشریات تو شام کو شروع ہوں گی۔ ان میں بھی آج عاشورہ محرم کے خصوصی پروگرام ہی دکھائے جائیں گے اور شام ڈھلے ’’شامِ غریباں‘‘ دکھائی جائے گی۔
یہ تو عمومی ماحول ہے۔جہاں تک ادبی دنیا کا تعلق ہے تو ادبی دنیا میں محافلِ مسالمہ کی برکات تقسیم ہورہی ہیں۔
 سکول کی بزمِ ادب میں تو میں شرکت کرتا ہی ہوں مگر باقاعدہ شعرا ءکی کسی محفل میں شرکت کا آج پہلا موقع  ہے۔ ایک محفلِ مسالمہ ہے۔ پہلی محفل ڈاکٹر تبسم رضوانی صاحب کی مجلسِ شمعِ ادب کے تحت الشجر بلڈنگ، نیلا گنبد لاہور میں منعقد ہوئی جب کہ  اسی شام دوسری محفل کسی صاحبِ ذوق کے ہاں انقعاد پزیر ہے۔ اس محفل میں سبھی شعرا ءایک حلقہ سا بنا کر بیٹھ گئے  ہیں اور پھر تقدیم و تاخیر کے رسمی ضابطہ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے  ایک طرف سے سلام اور مناقب بحضور امام حیسن ؓ پیش کرنے لگے  ہیں۔ ترتیب کے اعتبار سے والدصاحب کی باری مجھ سے پہلے آگئی ہے۔
وہ اپنا سلام پیش کرتے ہیں:

جمالِ حق و صداقت حسینؓ ابنِ علیؓ
کمالِ ذوقِ شہادت حسینؓ ابنِ علیؓ
وہ نقشِ رفعت و عظمت حسینؓ ابنِ علیؓ
وہ نجمِ بُرجِ سیادت حسینؓ ابنِ علیؓ
علیؓ کا لختِ جگر، فاطمہؓ کا نورِ نظر
نبیؐ کی جاں، دلِ عترتؓ، حسینؓ ابنِ علیؓ
جمالِ آیہِ تطہیر کا وہ اک مظہر
صداقتوں کی شہادت حسینؓ ابنِ علیؓ
نبیؐ کا ورثہِ صبر ورضا ملا جس کو
وہ پاسدارِ امانت حسینؓ ابنِ علیؓ
وہ جس کے نور کی کرنوں سے فیض یاب حیات
وہ آفتابِ امامت حسینؓ ابنِ علیؓ
لُٹا کے کنبہ رکھا جس نے شرعِ دیں کا بھرم
وہ پاسبانِ شریعت حسینؓ ابنِ علیؓ
غرورِ جبرو ستم جس نے پاش پاش کیا
وہ ایک ضربِ عزیمت حسینؓ ابنِ علیؓ
ہے لاتَقُولُو لِمَنَّ یَقتُلُو کی شرحِ مبیں
قتیلِ وادیِ غُربت حسینؓ ابنِ علیؓ
اذانِ حق سرِ نیزہ بلند کی جس نے
وہ راز دارِ نبوت حسینؓ ابنِ علیؓ
وہ زیرِ سایہِ خنجر نمازِ عشق و وفا
کمالِ حُسنِ عبادت حسینؓ ابنِ علیؓ
حُسین خوابِ براہیم کی جلی تعبیر
حُسین آیہِ ذبحِ عظیم کی تفسیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(یزدانی جالندھری)

والد صاحب کے بعد نشست کی ترتیب کے مطابق میری باری ہے اور اسی لیے سبھی میری طرف دیکھ رہے ہیں۔ میں عجب بوکھلاہٹ کا شکار ہوں کیوں کہ میرے پاس نہ تو کو ئی منقبت ہے اور نہ ہی کوئی سلام۔  میں اپنے ساتھ بیٹھے شاعر اقبال راہی صاحب کی طرف دیکھتا ہوں۔ علامتی انداز میں کہوں تو شمعِ محفل آگے بڑھانے کی کوشش کرتا ہوں مگر اُسی وقت  یونس حسرت امرتسری صاحب کی آواز سنائی دیتی ہے:
’’بھئی، پڑھو حامد، تم بھی کچھ پڑھو۔‘‘
مجھ میں اپنی کم مائگی کا اعتراف کرنے کی بھی ہمت نہیں۔ وہ میری مدد کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’اپنا نہیں تو یزدانی صاحب کا کہا ہوا کوئی سلام ہی سنا دو۔ سکول میں بھی تو سنایا ہی کرتے ہو۔‘‘
.یہ سُن کر میں والدصاحب کی طرف دیکھتا ہوں تو وہ اپنی بیاض کھول کر امامِ حسینؓ کی ایک منقبت میرے سامنے کردیتے ہیں،

:اور میں پڑھنے لگتا ہوں:

julia rana solicitors london
سرمایہ رُوح کا ہے محبت حُسین ؓ کی
میں دل سے کررہا ہوں اطاعت حُسین ؓ کی
ہے سنّتِ رسولؐ جو ایماں کی روشنی
ایمان کا حصار ہے سنّت حُسین ؓ کی
اے خاکِ کربلا! تِرے ذروں کو چوم لوں
ذروں میں تیرے جذب ہے نکہت حُسین ؓ کی
تِیروں کے سائے میں بھی ادا کی نمازِ عشق
کتنی عظیم تر ہے عبادت حُسین ؓ کی
ایثار کا یہ جذبہِ خون رنگ آج بھی
ہے اہلِ دل کے پاس امانت حُسین ؓ کی
یزدانیؔ! زندگی کے تقاضوں کو بھول کر
لکھ خامہِ خلوص سے مدحت حُسین ؓ کی
۔۔۔۔۔

میں نے یہ منقبت پہلے نہیں پڑھ رکھی ۔ تاہم بڑے اعتماد سے سنا دیتا ہوں۔ سکول کی بزمِ ادب کی تربیت کام آگئی ہے۔ حاضر شعراء، جو سب والد صاحب کے دوست احباب ہیں، مجھے شاباش دیتے ہیں اور میرے اعتماد کی تعریف کرتے ہیں۔
اس محفلِ مسالمہ کا اختتام ہوتا ہے۔ ہم باہر نکلتے ہیں تو گھر کی جانب بڑھتے ہوئے  حسرت صاحب   پھر سے مجھے شاباش دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آئندہ مشاعرہ میں آتے ہوئے مجھے اپنی کوئی نہ کوئی موزوں تخلیق ساتھ رکھنا چاہئیے تاکہ فرمائش پر شرمندگی نہ ہو۔

:میں کہتا ہوں
’’جی، بہتر۔۔۔کوشش کروں گا۔‘‘
:وہ کہتے ہیں
’’اگر یزدانی صاحب مصروف ہوں تو فکر کی بات نہیں۔ تم جو کہو ، مجھے سنا لیا کرو۔‘‘
جی، بہتر۔‘‘ میں پھر کہتا ہوں تو وہ اور والد صاحب دونوں ہنس دیتے ہیں۔”
بہت مؤدب اور سعادت مند ہے، ماشا اللہ۔‘‘ حسرت صاحب والدصاحب کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہتے ہیں۔”
ہاں، بس اللہ کا کرم ہے۔۔۔سبھی بچے ایسے ہی مؤدب اور سعادت مند ہیں۔ الحمد للہ‘‘ والد صاحب بڑے عجز سے کہتے ہیں۔”
آپ خوش قسمت ہیں کہ ایسی اولاد اللہ کریم نے آپ کو عطا کی اور یہ لوگ بھی قسمت کے دھنی ہیں کہ انھیں آپ جیسا اعلیٰ سخن ور بطور والد عطا ہوا۔‘‘ حسرت صاحب سگریٹ سلگاتے ہوئے کہتے ہیں۔

عاشورہ کی شام دھیرے دھیرے ڈھل رہی ہے۔ ہم پیدل چلتے چلتے پاک ٹی ہاؤس کے دروازے کے پاس پہنچ گئے ہیں جو آج بند ہے۔ سامنے مال روڈ بھی خاموش اور اداس سی دکھائی دے رہی ہے۔ سڑک کے کنارے کنارے ایستادہ بوڑھے پیڑوں کی شاخوں سے رُک رُک کر چلتی ہوا سرگوشیاں کرتی ہے تو بھی فضا میں رنج و الم کا احساس ہی ابھرتا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی ہولے ہولے نوحہ خوانی کررہا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply