پارلیمنٹ پر لعنت کے بعد۔۔شاہد یوسف خان

جلسے کی کامیابی ناکامی کا کوئی مسئلہ عوام کا نہیں ہے کیونکہ  اس ٹھنڈے  ٹھار موسم میں شرکت کی بجائے لوگ اپنے گھروں پر ہی ٹی وی پر  جلسے دیکھ لیتے ہیں اور گھر میں بیٹھے ہی دعائیں اور  جوابی نعروں سے  لہو گرماتے رہتے ہیں۔ عوام کی تعداد کو چھوڑیں آج کل سردیاں ہیں نواز شریف کے  تاریخی  جلسوں پر بھی یہی صورتحال ہوتی ہے  کیونکہ پاکستانی قوم بھی فی الحال بیزار   دکھائی دیتی  ہے ۔ ہر روز نیا ڈرامہ نیا دھرنا، یہ حکومتی پانچ سال تو ایسے گزرے جیسے کل حکومت قائم ہوئی اور  ایک مہینے میں ہی عمران خان اور ڈاکٹر قادری صاحب کا دھرنا ہوا ہو  اور نواز شریف صاحب کو عدالت نے از خود نوٹس کے بعد گھر بھیج دیا ہو۔

اس کی وجہ یہی ہے کہ ان چار پانچ سالوں میں بھی وہی پرانے حکومتی نعرے، وہی  دہشت گردوں کی کمر توڑ اور  غریبوں کی ہڈیاں توڑ،وہی میٹرو  بسوں سے تعلیم اور  صحت کی بہتری  کے منصوبے قائم ہوتے رہے۔ اس ضمن   میں اگر   عام شہریوں سے  رائے لی جائے  اور کہا جائے کہ آپ اپنی پارٹی کے جلسے یا  دھرنے پر نہیں گئے تو یہی جواب  ملتا ہے  کہ ‘بھئی کام نہ کریں” ۔ البتہ یہ بات افسوس کی ہے کہ اتنے لیڈرز کا  بلاک بسٹر شو   فلاپ ہوگیا یہ ویسا  ہی ہے کہ کبھی کبھار بھارت کے معروف  اداکار کرن ارجُن یعنی سلمان اور شاہ رُخ کی موویز بھی ناکام ہوجاتی ہیں پاکستانی کرن ارجُنوں کے بھی کئی جنم ہوچکے ہیں لیکن انقلاب نہیں لایا البتہ ٹھاکر کو چھٹی ضرور دلوائی ہے   ۔

جلسے کا بنیادی مقصد تو ماڈل ٹاؤن آپریشن میں شہید ہونے والے ان سولہ افراد   کے لیے انصاف کا مطالبہ تھا لیکن لگ ایسا رہا تھا کہ یہ اقتدار کا مطالبہ ہو اور سب کو جلدی لگی ہوئی ہو کہ حکومت جلدی جان چھوڑے اور ہمارے نجومیوں ، دانشوروں اور تھپکیوں   کی مدد سے نئی حکومت قائم ہوجائے۔ دنیا کی سیاست بھی دیکھ لیں لیکن پاکستان کی سیاست کے رنگ انوکھے اور نرالے ہیں یہاں  جھوٹ مکاری اور مداری پن کو سیاست کہا جاتا ہے۔ نہ کوئی نظریات کا  اختلاف نہ کبھی  اخلاق کی بات ۔ کبھی ایک دوسرے کی زبان گدی سے نکالی جا رہی تھیں اور اب وہ زبانیں ہم کلام ہوگئی تھیں۔ خان صاحب کبھی فرماتے تھے کہ قادری صاحب ناقابل اعتبار بندے ہیں  لیکن پھر کسی  نے کہہ دیا کہ جناب اتفاق کرنے میں ہی عافیت ہے۔

لاہور کا جلسہ دیکھتے دیکھتے دو خیال ذہن میں آئے ، پہلا تو یہ کہ  جلسہ شیخ رشید کے استعفے کے لیے ہی جیسے منعقد  کیا گیا ہو لیکن دوسرا خیال اس پر پھر حاوی ہوجاتا ہے کہ شیخ رشید اتنا  بھی نامعقول نہیں کہ وہ اکیلے میں  ایسا فیصلہ کرے اور کسی اور کو معلوم ہی نہ ہو۔   جلسے پر  شرکاء سے زیادہ قائدین تھے لیکن یہ ایسے قائدین تھے جو اپنے اپنے جلسوں پر ایک دوسرے کو گالیاں  نکالتے رہے ہیں لیکن ڈاکٹر  طاہر القادری صاحب کو اس کا سارا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے سب کو اپنے دائیں بائیں کھڑا کرنے کے دعوے پر بھرپور محنت کی لیکن عمران خان  نے اپنا بھرم رکھ لیا کہ زرداری کی موجودگی تک جہانگیر ترین کے گھر  ٹی وی پر ہی زرداری کی تقریر سنتے رہے۔ جیسے ہی زرداری اسٹیج سے اُترے  خان صاحب  بھی جلسہ گاہ کی طرف روانہ ہوئے۔

اب آتے ہیں  جلسے کے بنیادی   پہلو کی جانب  جو شیخ رشید کی انقلابی تقریر کے بعد پیدا ہوا  جب شیخ صاحب نے اپنی کہلائی جانے والی مقدس پارلیمنٹ پر ہزار بار لعنت بھیجی اور بالترتیب  اس لعنت میں من جملہ سب کو شریک کر لیا ۔ اس لعنت کو تسلسل دیتے ہوئے عمران خان نے  شیخ صاحب کو ایک ہونے کا یقین دلایا کہ ان کے جسم الگ ہیں لیکن روحیں ایک ہی لگتی ہیں۔اس پارلیمنٹ پر مجھے 2014ء میں تقریر کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا جملہ یاد آگیا جس میں  انہوں نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ یہ پارلیمنٹ ہماری ماں ہے۔ لیکن بدقسمتی یہ کہ  آمروں کی جھولی میں کھیلنے کودنے والے نے اس  مقدس پارلیمنٹ پر لعنت بھجوائی  لیکن اب اس لیے چُپ رہے کہ یہ ہمارا ساتھی ہے اور مقصد اقتدار ہے۔

پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے کے بعد  خان صاحب ، میاں صاحبان کو جنرل ضیاء کی باقیات کہتے رہے اور طعنے دیتے رہے لیکن شیخ صاحب، شاہ محمود صاحب اور  قادری صاحب انہیں یاد نہیں رہے۔کیونکہ مذکورہ تینوں حضرات بھی ضیاء کے زبردست قسم کے حمایتی تھے۔ شاید یہ تقریر ایسے وقت کے لیے لکھی گئی کہ اگر زرداری صاحب بھی  جلسے میں موجود رہے تو نمبر بن جائیں گے۔

جلسے میں عوام نظر نہ آئے تو اس کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں بنتا کہ آپ پارلیمنٹ پر لعنت شروع کردیں۔شیخ  رشید صاحب اور خان صاحب کی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنا  سمجھیں سارے ممبرز پر جس میں  وہ خود بھی شامل ہیں ۔ پاکستان کے آئین کے ساتھ بھی ایک زیادتی تصور ہوگی اور اپنی روزی روٹی پر بھی۔ کیونکہ خان صاحب  تیسرے ٹینور اور شیخ رشید صاحب کی زندگی بھی پارلیمنٹ کے اندر باہر یا ارد گرد گزری ،کبھی  آمروں کے کرم سے تو کبھی اپنی قابلیت سے ۔ ان چار سالوں کی کارکردگی دیکھ کر  تو یہی لگتا ہے کہ   خان صاحب اور شیخ صاحب کی جمہوریت سے  جیسے بالکل بھی نہ بن پائی ہو لیکن  اس میں اس پارلیمنٹ کا کیا قصور ہے  جس میں خان صاحب پورے چار سالوں میں  گئے بھی چار پانچ مرتبہ ہوں۔ خاکسار کو قوی امید ہے کہ پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والے افراد اب اسے زبانی غلطی کہنے کی بجائے کسی نئے نظام اور نئے پارلیمنٹ کے لیے جستجو کریں گے۔

کُرسی کی محبت میں وہ تھُوک بھی چاٹے ہیں جوسُوکھےبھی نہیں تھے۔

شاہد یوسف خان
شاہد یوسف خان
علم کی تلاش میں سرگرداں شاہد یوسف خان ایم اے سیاسیات اور صحافت مکمل کر چُکے ہیں ۔ سیاسی و سماجی موضوعات پر سوالات کرتے رہتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *