سات ستائیس کی آواز/شکور پٹھان

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم غریب تھے۔
امیر تو ہم اب بھی نہیں ہیں، نہ کبھی رہے۔ لیکن غریب بھی ایسے نہیں تھے کہ خدا نخواستہ کھانے پینے کو نہیں تھا۔ الحمد للہ کھاتے پیتے بھی تھے، کپڑے بھی پورے پہنتے تھے، سر چھپانے کو چھت بھی تھی۔ اسکول میں پڑھتے بھی تھے۔ علاج معالجہ بھی سرکاری ہسپتالوں میں ہو ہی جاتا تھا۔ عید بقر عید پر نئے کپڑے بھی پہنتے تھے۔ لوگوں کی خوشی غمی، شادی بیاہ، سوگ وغیرہ میں بھی شریک ہوتے۔ ہمارے گھر والوں کی بھی ویسی ہی عزت کی جاتی تھی جیسے ہمارے امیر رشتہ داروں کی۔
ہم غریب اس لیے تھے کہ ضرورت سے زیادہ کی کوئی چیز ہمارے ہاں نہ تھی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے سب بہت امیر تھے۔ وہ بھی انیس بیس کے فرق سے ہم جیسے ہی تھے۔ ضرورت سے زیادہ کی چیز میں ریڈیو بھی شامل تھا جو ہمارے ہاں نہیں تھا۔
اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ دوسروں کے یہاں ریڈیو تھا۔ ان کے ہاں بھی ریڈیو نہیں ہوتا تھا۔ ٹی وی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ وہ تو امیر ترین کے ہاں بھی نہیں تھا، کیونکہ وہ تھا ہی نہیں، یعنی آیا ہی نہیں تھا، یعنی ہمارے شہر کیا ملک بھی نہیں آیا تھا۔

جی جناب، میں بات کررہا ہوں اپنے پسندیدہ ترین دور زندگی، یعنی ساٹھ کی دہائی کی ابتدا یعنی میرے ہوش سنبھالنے کے  دنوں کی۔ ریڈیو محلے میں ایک آدھ ہی گھر میں ہوتا تھا اور وہ بھی پیسے کی نہیں، شوق کی وجہ سے ہوتا تھا۔ البتہ یہ ریڈیو والے بڑے نیک تھے۔ فی سبیل اللہ اتنے زور سے بجاتے تھے کہ پورا محلہ سن سکتا تھا۔ ویسے وہ خیال رکھتے تھے کہ ہر الا بلا یعنی خبریں ، درس ، اورپکے گانے وغیرہ بھی زور سے نہ سنائیں۔ یہ صرف فلمی گیت تھے جو وہ با آواز بلند بجاتے تھے اور ثواب پاتے تھے۔

اس زمانے میں جب آج کی طرح کی “ انفارمیشن ٹیکنالوجی” کا دور دور تک نام و نشان بھی نہ تھا، ہمارے ریڈیو کے شوقین پوری خبر رکھتے تھے کہ “ سیلون” سے “ آپ ہی کے گیت” اور “بناکا گیت مالا”، آکاش وانی دلی سے “آپ کی پسند”، کراچی اور حیدرآباد ریڈیو سے “ آپ کی فرمائش” ، ریڈیو جنوبی ایشیا، فوجی بھائیوں کے پروگرام اور “ایران زاہدان” سے گانے کب نشر کئے جاتے ہیں۔ ان سب کا سرخیل ریڈیو سیلون تھا جو صبح سویرے اللہ کے نام کے بعد ہمارے کانوں کو سنائی دیتا۔
“بہنوں اور بھائیو !” امین سایانی کی لہراتی ، آواز میں یہ فرمائشی پروگرام ہوا کی لہروں پر ہم تک بھی پہنچتا اور ہم ریڈیو خریدے بغیر اور ریڈیو لائسنس کی فیس دئیے بغیر اس وقت کے مقبول فلمی گانوں سے مستفید ہوتے۔ یہ گیت زیادہ تر لتا منگیشکر، شمشاد بیگم، محمد رفیع، طلعت محمود، مکیش اور آشا بھوسلے وغیرہ کی آواز میں ہوتے۔ پھر تقریبا ہر روز سات بج کر ستائیس منٹ پر ایک مخصوص، بھرائی ہوئی، کچھ ناک سے نکلتی ہوئی آواز میں گیت سنائی دیتا۔

سچ تو یہ ہے کہ محمد رفیع ، لتا منگیشکر اور مکیش وغیرہ کے گیتوں کی طرح یہ گیت کچھ صاف سمجھ بھی نہ آتا۔ یہ آواز ویسے بھی ہم صرف ریڈیو سیلوں پر ہی سنتے۔ دن بھر اور رات کو ہونے والے پروگراموں میں یہ آواز شاید ہی کبھی سنی ہو۔ بھرائی سی اور دوسروں سے مختلف یہ آواز تھی ، کندن لال سہگل کی۔

اور ہمارے بڑے جب کبھی فلمی گلوکاروں کی بات کرتے اور بڑے گلوکاروں کا ذکر ہوتا تو سہگل کا نام سر فہرست ہوتا۔ ہر کوئی ان کو بڑا گائیک مانتا اور ان کی تعریفوں کے پل باندھ دیتا اور ہم ان کی باتوں پر یقین کرلیتے۔ فلمی رسالوں میں ، افسانوں میں، ناولوں میں فلمی گیت اور آوازوں کا ذکر ہوتا تو سہگل کا نام نمایاں ہوتا۔ ہم نے بھی مان لیا کہ یہ کوئی بہت بڑے گلوکار ہیں۔

یہی نہیں، جب اداکاری کی بات ہوتی تو بھی کے ایل سہگل کا ذکر بڑے زور و شور سے ہوتا۔ اس میں زیادہ تر دیوداس اور شاہجہان فلم کا ذکر ہوتا۔ دیوداس فلم کی بات ہوتی تو سہگل اور دلیپ کمار کا ذکر ہوتا۔ کچھ بعد میں اپنے پاکستانی اداکار حبیب کا ذکر بھی ہونے لگا۔ آج کل کا دیوداس “شاہ رخ خان “ شاید تب پیدا بھی نہیں ہوا تھا، سہگل کی دیوداس میں نے نہیں دیکھی۔ دلیپ کمار کی دیکھی ہے اور اس کے چار عشروں بعد شاہ رخ کی دیوداس دیکھی ( اور طبیعت سخت بدمزہ ہوئی)۔

غرض جب کبھی سہگل کا ذکر ہوتا تو اس انداز میں کہ برصغیر میں ان سے بڑا فنکار شاید کوئی نہیں تھا۔ اس دعوے کی تصدیق یا تردید کرنے کی کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی کہ نہ تو سہگل کی کوئی فلم دیکھی تھی نہ ہی ان کے گیت سنے تھے۔ لیکن یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ ہندوستانی فلموں کا پہلا “ سپر اسٹار” اگر کوئی تھا تو وہ تھے کندن لال سہگل۔ جب ہمارے وہ دوست جو عمر میں ہم سے کافی بڑے تھے، سہگل کی بات کرتے تو ہم خاموش ہوجاتے کہ ہم اس بارے میں کچھ جانتے ہی نہیں تھے۔

اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے، ہمارا غریب ہونا کم ہوتا گیا۔ ہم تو شاید وہیں تھے لیکن ہمارے عزیز واقارب امیر ہوتے گئے اور ہمارے لئے یہی بہت تھا۔ ہمارے بڑے چچا بحرین چلے گئے تھے اور دن بدلنے لگے تھے۔ وہ بحرین سے آتے تو ہمیں بھی وہ چیزیں نصیب ہوتیں جو امیروں کو ہوتی ہیں۔ اس کی تفصیل ذرا طویل ہے لیکن یہاں غیر ضروری ہے، چناں چہ اسے یہیں چھوڑتے ہیں۔

تو ہوا یہ کہ ساٹھ کی دہائی کے آخری برسوں میں چچا نے نارتھ ناظم آباد میں اپنا مکان بنوایا اور میں اپنی دادی اور چھوٹے چچا کے ساتھ کچھ ماہ یہاں رہا۔ پھر ہم نے اس مکان کو کرایہ پر دے دیا اور بہادر آباد اپنے گھر لوٹ آئے۔ نارتھ ناظم آباد کے قیام کی ایک خوبصورت یاد وہ ریکارڈ پلئیر اور ریکارڈ تھے جو چچا بحرین سے لائے تھے اور دن کے وقت جب چھوٹے چچا اپنے کام پر گئے ہوتے، میں اس ریکارڈ پلئیر کا بلا شرکت غیرے مالک ہوتا ۔ صبح سے شام تک گانے سننے کے ساتھ ساتھ ریکارڈ پر لکھی تمام تفصیلات بھی ازبر ہوگئ تھیں۔ مجھے بھی محمد رفیع، مکیش، طلعت محمود، لتا منگیشکر اور شمشاد بیگم وغیرہ کی آوازوں کی پہچان ہو گئی تھی۔

آوازوں کے اس ذخیرے میں ایک منفرد آواز تھی، اور وہ تھی کے ایل سہگل کی۔ یہ فلم شاہجہاں کے ریکارڈ تھے۔ مجروح سلطان پوری کے لکھے ہوئے شاید یہ پہلے فلمی گیت تھے ۔ انہی ریکارڈوں کی بدولت نوشاد کے نام سے متعارف ہوا۔ سہگل کی آواز شروع شروع میں تو کچھ عجیب اور غیر مانوس سی لگی، لیکن کچھ دنوں بعد میں بھی غیر ارادی طور پر صرف “ غم دئیے مستقل ، کتنا نازک ہے دل یہ ناں جانا، ہائے ہائے یہ ظالم زمانہ” اور “ جب دل ہی ٹوٹ گیا ہم جی کے کیا کرینگے” گنگناتا رہتا۔

سہگل کی آواز پسند آئی تو خود بخود ایم کلیم اور حبیب ولی محمد کی آوازیں بھی اچھی لگنے لگیں کہ وہ بھی سہگل کے انداز میں گاتے تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ احساس تھا کہ میں اپنے بڑے دوستوں کے سامنے سہگل کا ذکر یوں کرتا جیسے بچپن سے اسے سنتا آیا ہوں۔ وہ دوست بڑے مرعوب ہوتے کہ وہ مجھے سے بڑے تھے لیکن اتنے بڑے بھی نہیں تھے کہ ۱۹۴۶، ۴۷ کی فلمیں بھی دیکھ رکھی ہوں۔ انہوں نے بھی سہگل کو صرف ریڈیو سیلون پر سات بج کر ستائیس منٹ پر ہی سنا ہوا تھا۔ میرے منہ سے شاہجہاں کے گانوں کے بول سن کر انہیں بڑا رشک آتا۔

اور پھر جب ہندوستانی فلمی گیتوں کی شد بد ہونا شروع ہوئی تو احساس ہوا کہ اس دور کے تقریباً سب مرد گلوکار کسی نہ کسی طرح سہگل سے متاثر تھے۔ مکیش کے ابتدائی گیتوں میں سے ایک گیت “ دل جلتا ہے تو جلنے دے، آنسو نہ بہا فریاد نہ کر” مکمل سہگل کا انداز لئے ہوئے ہے۔ محمد رفیع کا نورجہاں کے ساتھ وہ دوگانا جو ان کا پہلا مقبول ترین گیت تھا “ یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے” بھی سہگل کے انداز میں ہے۔ اور تو اور کشور کمار جیسے منفرد اور شوخ گانے والے کا پہلا گانا، معین احسن جذبی کی غزل، “ مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں، جینے کی تمنا کون کرے” بھی سہگل کا ہی رنگ لئے ہوئے ہے۔ اور رہے ایم کلیم اور حبیب ولی محمد تو ان کا انداز وہی ہے جو کے ایل سہگل، کے سی ڈے اور پنکج ملک وغیرہ کا تھا۔

میرے پڑھنے والوں کا خیال ہے کہ میں شاید بہت تحقیق کرکے لکھتا ہوں۔ ارے بھائی اگر آپ کو کسی چیز کا شوق ہے اور آپ اس کے بارے میں پڑھتے رہتے ہیں ، ریڈیو سنتے ہیں یا ٹیلیویژن پر دیکھتے ہیں تو آپ کو اس بارے میں تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ میرے وہ دوست جنہیں عمران خان، بلاول بھٹو، شاہ رخ خان اور ویرات کوہلی وغیرہ پسند ہیں وہ کون سا ان کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں ، کتابیں کھنگالتے ہیں، لائبریریاں چھانتے ہیں۔ لیکن انہیں اپنے ہیروز کے ماضی اور حال کے ایک ایک پل کی خبر ہوتی ہے۔ یہی کچھ میرا حال ہے۔ مجھے پرانی موسیقی، ڈرامے، شاعری، فلمیں وغیرہ پسند ہیں ۔ میں یہی سب کچھ الم غلم دیکھتا رہتا ہوں اور ان میں سے کچھ باتیں یاد بھی رہ جاتی ہیں۔

لیکن کسی بھی شخصیت یا واقعے کے بارے میں جاننے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے آپ کو اس زمانے اور ماحول میں “محسوس” کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ سہگل کی آواز آج کے سننے والوں کو شاید بڑی عجیب و غریب اور مضحکہ خیز لگے۔ آپ موجودہ دور کے احساسات کے ساتھ سہگل کی گائیکی کے نور، سرور اور درد کو محسوس کر ہی نہیں سکتے۔ آپ کے لیے یہ ایک اجنبی چیز ہوگی۔ لیکن اگر آپ خود کو تیس اور چالیس کی دہائی کے بمبئی، کلکتہ، لاہور یا دہلی کے ماحول میں لے جائیں تو سہگل کی آواز کی نغمگی، سوز اور دلکشی سمجھ میں آئے گی۔

کے ایل سہگل صحیح معنوں میں ہندوستانی فلموں کے پہلے سپر اسٹار تھے۔ ان کے گانے سننے اور ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے پورا شہر امڈ آتا تھا۔ لاہور شہر میں سہگل کے ایسے عاشق موجود تھے جنہوں نے سہگل کے نہ صرف ریکارڈ بلکہ اس کی نادر تصاویر، فلمیں ، ان کے استعمال کی اشیاء اور نہ جانے کیا کچھ اور کتنے جتن سے جمع کررکھا تھا۔ اور یہ شاید لاہور ہی کا واقعہ ہے کہ سہگل کے کسی پروگرام میں ان کی آمد سے قبل بجلی چلی گئی تو کوٹ سلطان کا ایک بارہ سالہ لڑکا جسے گانے کا شوق تھا، اسے بغیر مائیک اور لاؤڈ اسپیکر کے گانے کے لیے کہا گیا اور اس نے جب اپنی بلند اور صاف آواز میں گایا تو مجمع نے بے تحاشا داد دی۔ یہ نوجوان بعد میں چل کر برصغیر کا عظیم گلوکار محمد رفیع بنا۔

محمد رفیع، مکیش، مناڈے ، کشور کمار، لتا منگیشکر سب کندن لال سہگل کو بڑا گلوکار مانتے ہیں اور اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ اپنے ایاز امیر صاحب تو رنجیت سنگھ کے ساتھ پنجاب کے اصلی ہیروز میں سہگل، ملکہ ترنم نورجہاں اور محمد رفیع کو بھی شامل کرتے ہیں اور بے شک پنجاب اپنے ان سپوتوں پر ناز کرسکتا ہے۔

میں نے ظاہر ہے دیکھا تو نہیں، لیکن سنا ہے کہ سہگل بڑے اسٹائلش تھے۔ وہ ایک کھاتے پیتے گھرانے کے چشم و چراغ تھے اور ان کے لباس اور انداز کو اس دور کے نوجوان بڑے فخر سے اپناتے ۔ ان کی فلمیں بے حد مقبول تھیں جن میں ان کی پہلی فلم ، محبت کے آنسو ، سے لے کر یہودی کی لڑکی، پورن بھگت، چنڈی داس، بھگت سورداس،تان سین، پریسیڈنٹ، دیوداس اور آخری دنوں کی فلم شاہجہاں تک بے شمار فلمیں ہٹ ہوئیں۔

شاہجہان کے دونوں گیت جن کا ابتداء میں ذکر ہوا ، اس کے علاوہ چاہ برباد کرے گی ہمیں معلوم نہ تھا بھی مقبول تھا۔ میں اکثر و بیشتر سہگل کے گیت کچھ ایسی کیفیت میں سنتا ہوں جب میں اکیلا ہوتا ہوں۔ اپنے آس پاس کے ماحول سے لاتعلق ہوکر، آنکھیں بند کرکے خود کو اسی زمانے میں لے جاتا ہوں پھر “ بابل مورا نیہر چھوٹ ہی جائے” ، “اب میں کا کروں کت جاؤں”، “ میں کیا جانوں کیا جادو ہے ان دو متوارے نینوں میں”، دیا جلاؤ جگمگ جگمگ،“، “اک بنگلہ بنے نیارا، رہے جس میں کنبہ سارا”، “ اے کاتب تقدیر مجھے اتنا بتادے”، “سوجا راج کماری سوجا”، اور ہاں وہ گیت جسے اپنے بھٹو صاحب نے مجمع میں گنگنایا تھا “ آئی ہوا لائی ہوا لے چلی چلے (لائی حیات آئے، قضا لے چلی چلے) “، مجھے اجنبی سے نہیں لگتے اور ایک سکون اور وجد کی کیفیت میں چلا جاتا ہوں۔

۱۹۰۴میں ایک تحصیلدار کے ہاں پیدا ہونے والا کندن لال سہگل، شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر شراب خانہ خراب کے ہاتھوں برباد ہوا اور جنوری ۱۹۴۷میں صرف تینتالیس سال کی عمر میں دنیا سے چلا گیا۔

julia rana solicitors

میرے کہنے سے آج کے ایل سہگل نہ کسی کی سمجھ میں آئے گا نہ کسی کو پسند آئے گا۔ اسے پسند کرنے والے اب چند ایک ہی ہیں اور یہ وہ ہیں جو خود کو سہگل کے زمانے میں محسوس کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔

Facebook Comments

شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply