تحریر/چبوترے پر بیٹھا دانشور(قلمی نام)
یہی کوئی دو دہائی پہلے کی بات ہے کسی کو زنخا, خواجہ سرا ،یا عامیانہ زبان میں کٗھسرا کہہ دو تو لڑنے مرنے کو تیار ہوجاتے تھے لوگ, پھر ہم بجائے صحیح سمت میں چلنے کے کچھ ان دیکھی, انجانی بلکہ ان چاہی سمت میں ترقی کرنے لگے جس میں علاقائی اثر بھی نمایاں ہونے لگا۔اس اَن چاہی سمت کا نام رہا محبّت اور پیار بنا جنسی تمیز، جس کو اہل مغرب فریڈم آف سپیچ کے پردے میں چھپاتے ہیں. بطور ایک مسلم معاشرہ ہمیں ہر اُس عمل پر تنقید کرنا چاہیے تھی جس کو ہمارا مذہب ناصرف ممنوع قرار دیتا ہے بلکہ اس کو گناہ کے اس درجہ میں رکھتا ہے جہاں اس گناہ کے مجرمان کا پتھر سے سر کچلنے کی سزا تجویز کرتا ہے۔
خیر جی نئے زمانے کے اطوار اور وسیع تر قومی مفادات کا بہانہ بناکر کچھ درپردہ شوقین صاحب اختیار لوگ اس کے حق میں بولنے لگے۔ قوم ابھی اس کڑوے گھونٹ کو پینے پر تیار ہی نہیں ہوئی تھی کہ حالات نے اچانک ایک کروٹ بدلی کہ جو جنس کبھی بزدلی اور کمزوری کے استعارے کے طور پر پیش کی جاتی تھی وہ یکدم شیر جیسی بہادر دکھائی دینے لگی اور سامنے کھڑے اسلحہ برداروں پر حملہ آور ہونے لگی۔پولیس چاہتی تو خواجہ سراؤں کی طرف سے پولیس اسٹیشن پر دھاوا بولنے کا منہ توڑ جواب دے سکتی تھی لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کے درگزر کرنے کے پیچھے وہی بچپن سے سکھائی گئی سوچ رہی ہوگی کہ اس تیسری جنس کی بد دعا سے بچو, ان سے فضول بات نہ کرو اور اگر بھولے بھٹکے کسی شادی بیاہ یا ولادت وغیرہ کے موقع پر گھر آجائیں تو ان کو کچھ صدقہ خیرات دیدو, یہ معصوم اور ستائے ہوئے لوگ ہوتے ہیں ان کا گزر بسر ایسے ہی ہوتا ہے۔
خواجہ سراؤں کی طرف سے مسلسل مختلف مقامات پر زورزبردستی اور ہنگامہ آرائی کے واقعات معاشرے کو بگاڑ کے ایک نئے راستے پر لے جارہے ہیں کیونکہ ایک بات تو حق ہے کہ مرد عورت کا مارا ہؤا تھپّڑ تو بھول سکتا ہے لیکن ایک کھسرے کا مارا گیا تھپّڑ نہیں سہہ سکتا اور اس کا نتیجہ سڑکوں پر خون خرابے کی شکل میں سامنے آسکتا ہے۔ یاد رکھیں ہمارے معاشرے نے ایک لمبے عرصہ تک اس جنس کی حقیقت کو تسلیم تو کیا بلکہ ان لوگوں کو انسان تک ماننے سے انکار کیا ہے جس کا غصّہ اور نفرت ان کے ذہنوں میں لاوے کی طرح اُبل رہی ہے, یہ پولیس یا عام شہریوں تک رکیں گے۔۔ نہیں! بلکہ اگر ان سے بات کرکے معاملات کو ٹھنڈا نہ کیا گیا تو کل کو یہ بھی ان لےپالک بچّوں جیسے ہی ثابت ہونگے جو پہلے ہمارے مفادات کے لیئے کام کرتے تھے اور پچھلے کئی برسوں سے ہمارے لیئے ہی دردسر بنے ہوئے ہیں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں