نیم حکیم/اعظم معراج

یہ مضمون اقتباس ہے”  اعظم معراج کی کتاب پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار” ( مجموعہ کتب)میں سے ۔

ہمارے معاشرے میں یہ عام روایت ہے اگر آپ نے یار دوستوں کی کسی محفل میں سر درد کا ذکر کیا تو کم لوگ ہوں گے جو یہ کہیں گے کہ ڈاکٹر کو دکھاؤ ورنہ اکثریت آپ کو دو چار ٹوٹکے ضرور بتادے گی، یہ کر لو وہ کر لو! نتیجہ کیا نکلتا ہے! ’’خود بھگتیں‘‘۔ اسی طرح کے بے شمار مسائل ایسے ہیں جن کا حل صرف متعلقہ شعبے کے ماہر ہی بتاسکتے ہیں لیکن ہم ایسے معاملات کے بارے میں اپنی رائے دینے سے نہیں چوکتے۔ ہمارے شعبے میں تو ان سکہ بند ماہرانہ رائے دینے والوں کی وجہ سے خاصی پریشانی رہتی ہے۔ مثلاً اگر آپ کسی ایسے دوست سے جس نے کبھی دس سال پہلے ایک پلاٹ خریدا یا بیچا تھا، پوچھ لیا کہ فلاں علاقے میں پلاٹ کتنے کا بک یا مل جائے گا تو انھوں نے بیچنے کے لیے دس لاکھ اوپر اور خریدنے کے لیے دس لاکھ نیچے کا خیال ظاہر کرنا ہے۔ اب آپ اسٹیٹ ایجنٹ کو فون کریں تو آپ کو سارے اسٹیٹ ایجنٹ ٹھگ لگنے لگے کیوں کہ جن صاحب نے رائے دی تھی، وہ تو بڑے پڑھے لکھے اور سمجھدار آدمی ہیں وہ کیسے غلط کہہ سکتے ہیں لہٰذا اب اسٹیٹ ایجنٹ چاہے جتنی ٹھوس دلیلیں دے کہ جناب بڑی مناسب قیمت مل رہی ہے بیچ دیں یا خرید لیں یا فیصلہ کرنے میں زیادہ دیر نہ لگائیں، آپ نے ٹس سے مس نہیں ہونا، کیونکہ اسٹیٹ ایجنٹ تو قابل اعتبار نہیں لیکن جب آپ زیادہ سے زیادہ کے لالچ میں تھک چکے ہوں گے تو یقینا اسٹیٹ ایجنٹ بھی تھک چکے ہوں گے اور آپ کی کال (Call)کا جواب دلچسپی سے نہیں دیں گے اور لازمی نہیں کہ اس وقت تک آپ کا مطلوبہ پلاٹ دستیاب (Available)بھی ہو یا آپ کے پلاٹ میں دلچسپی لینے والا خریدار (Buyer) بھی انتظار کر رہا ہو۔ لہٰذا اسٹیٹ ایجنٹ کی زبان میں آپ سکہ بند رائے بازوں کی وجہ سے موقع کی ڈیل Missکر جاتے ہیں۔
پلاٹ/دکان مکان یا کوئی بھی رئیل اسٹیٹ یونٹ خریدنے یا بیچنے کے لیے بہترین طریقہ کار یہی ہے کہ پروفیشنل کو ہی کنسلٹ کیا جائے اور دو چار پروفیشنل کو کنسلٹ کرنے کے بعد جو آپ کو بہتر لگے اس کے ذریعے معاملات Finaliseکرلیے جائیں۔ اسٹیٹ ایجنٹ کو کنسلٹ کرنے سے کوئی خوف بھی نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ ابھی یہ سروس انڈسٹری اتنی ترقی یافتہ نہیں ہوئی کہ لوگ آپ سے (Consultation Fees) لیں۔ لہٰذا ڈرکس بات کا، اپنا قیمتی وقت بچائیں اور اس چیز سے بھی بچیں کہ اسٹیٹ ایجنٹ آپ کے بارے میں دوسروں سے یہ کہے کہ یہ پلاٹ بکنے میں تو ہے لیکن ابھی مہنگا بہت ہے اور ان صاحب کو کسی نے ’’خراب‘‘ کر دیا ہے یا ایک صاحب کو پلاٹ تو چاہیے لیکن مردے کا مال چاہیے۔ کسی پروفیشنل اسٹیٹ ایجنٹ کو کنسلٹ کرنے سے آپ فائدے میں رہتے ہیں۔ بہتر یہی ہوتا ہے کہ دو چار اسٹیٹ ایجنٹس سے ضرور ملیں اور ان میں سے بہترین (جو آپ کی نظر میں ہو) کا انتخاب کریں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

تعارف:اعظم معراج کا تعلق رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے ہے ۔ وہ تحریک شناخت کے بانی اور بیس کتب کے مصنف ہیں ۔ جن میں سے پانچ رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے متعلق ہیں ۔جن میں نمایاں” پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار (مجعوعہ کتب)ہے ۔دیگر پندرہ اس فکری تحریک کے اغراض و مقاصد کے حصول کے لئے لکھی گئی ہیں ۔ جن میں دھرتی جائے کیوں پرائے، شان سبزو سفید کئی خط اک متن, شناخت نامہ نمایاں ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply