خدارا گلگت بلتستان پر رحم کیجئے۔۔شیر علی انجم

ویسے تو پاکستانی سماج میں بہت سے ایسے نان اشیوز ہیں جو نہ ہی میڈیا کی زنیت بنتے ہیں  نہ ایوان بالا میں اس قسم کے مسائل پر بحث ہوتی ہے۔ یہاں میڈیا سے لیکر حکومت  تک  اشرافیہ کا راج ہے جو صرف وہی کرتے ہیں جس میں اُن کے مفادات شامل ہوں ۔ لیکن گلگت بلتستان ایک ایسا نان ایشو ہے جس کے بارے میں پاکستانی سماج صرف اس حد تک جانتا  ہے  کہ یہ علاقہ خوبصورت ہے،کے ٹو اس خطے کی پہچان ہے سیاچن خطے کی جاگیر ، بلندی سے گرتی آبشاریں اس خطے کاحسُن،فلک پوش برفانی گلیشرز،طویل دریا اس خطے کی کشش ،دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ اس خطے کا غرور ، دنیا کا طویل ترین سرسبز اور سرد ریتلے میدان اس خطے کی ادا اور اپنے اندر چھپائے بیٹھے قدرتی وسائل اور معدنیا ت اس خطے کی قیمت ہے اور سب سے بڑ ھ کر یہاں کے عوام کی مہمان نوازی اس خطے کی پہچان ہے۔

لیکن تصویر کا دوسرا رُخ بڑا بھیانک ہے جسے آج تک کسی نے جانچنے کی کوشش ہی نہیں کی کیونکہ پاکستان کے زیر انتظام مسئلہ کشمیر سے منسلک یہ خطہ میڈیا کی پہنچ سے دور ہے یہاں سیاسی نظام نہیں بلکہ طرزی نظام نافذہے اس خطے پر ایف سی آر کی کالے قانون کے تحت طویل عرصے تک شخصی حکمرانی رہی، اس خطے کو دنیا بھر سے ملانے والے تمام سفری اور تجارتی راستے بند کر دیے  گئے، یوں یہ خطہ ایک بند گلی میں حُسن کی دیوی ہے جس کے عاشق کئی ہیں مگر حاصل کرنا کسی کے لئے ممکن نہیں کیونکہ یہاں عوام ایک ملک کے عاشق ہیں جسے پاکستان کہتے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ اس ملک کا اسلام کے نام پر بننا ہے۔بس اسی محبت میں اس خطے کے عوام نے اپنی شناخت گنوا دی مگر پاکستان کی شناخت حاصل کرنے میں آج بھی ناکام نظر آتا ہے ،اس شناخت کو حاصل کرنے کے لئے مزید کتنی دہایاں انتظار کرنا پڑے گا  کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

مختصر یہ  کہ یہ خطہ جنہوں نے تقسیم برصغیر کے بعد ڈوگروں سے آزادی حاصل کی اُس آزادی کی بنیاد پر ایک عبوری ریاست تشکیل دی جس کا مقصد ٹیبل ٹاک کے ذریعے اس خطے کو مکمل طور پر پاکستان میں شامل کرنا تھا لیکن سازشوں نے ایسا ہونے نہیں دیا بلکہ انگریز سامراج اور مقامی راجاؤں اور میروں کی مدد سے بغیر کسی معاہدے کے الحاق کا نعرہ لگوایا جسے مملکت پاکستان نے28اپریل1449کو بدنام زمانہ معاہدہ کراچی کے ذریعے مکمل طور پر ختم کرکے کشمیر حکمرانوں کے ذریعے اس خطے کو بھی ریاست جموں کشمیر کی  دیگر اکائیوں کی طرح متنازعہ قرار دے کر پاکستان کے زیر انتظام دے دیا۔ اس حوالے بہت کچھ لکھا جاچُکا ہے لہذا عرض یہ ہے کہ اُس وقت سے لیکر آج تک یہاں کے عوام شناخت کی بھیگ مانگ رہے ہیں  ، پاکستان میں شامل ہونے کے لئے احتجاج کرتے ہیں ،پاکستان کے لئے شہید ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں مگر اس ملک کے حکمرانوں نے اس خطے کے عوام کو متنازعہ حیثیت کے مطابق حقوق دیکر محرمیوں کا ازالہ کرنے کے بجائے جھوٹے دعوؤں اور اعلانات پر ٹرخایا جارہا ہے۔

پاکستانی میڈیا کو ریٹنگ کا مسئلہ ہے بڑے بڑے تجزیہ نگاروں کو اس خطے کی آئینی اور قانونی حیثیت کے بارے میں علم ہی نہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان مختلف ٹی وی پروگرامز میں ہم نے بڑے بڑے اینکرز کو اہم مواقع پر یہی کہتے سُنا کہ اس خطے کا پاکستان سے الحاق ہے مگر اُس الحاق کے ثمرات کیا ہیں یقیناًعام آدمی کو کیا معلوم کیونکہ چند سیکنڈ ے  تجزیے  میں بھی یک طرفہ نظریہ پیش کرتے ہیں جس کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔اسی طرح پاکستان کے بڑے اخبارات میں بولڈ لکھنے والوں کی نظریں بھی گلگت بلتستان کے مسائل سے اوجھل ہیں یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کے مسائل پر نہ ملکی میڈیا میں کوئی خبرچلتی ہے اور نہ کسی اخبار میں یہاں کے عوام کے  بنیادی حقوق پر کوئی لکھنے والا ہے مگر جب بات سی پیک یا دفاع کی آئے تو کوٹ ٹائی پہنے بڑے بڑے تجزیہ نگار گلگت بلتستان پر تجزیہ پیش کررہے  ہوتے  ہیں  اور نہ جانے کون سی باتیں ڈھونڈ کرلاتے ہیں جو شاید کسی کے گمان میں بھی نہ ہوں ۔

بدقسمی ہے اس ملک کی جو کچھ نہیں کرتے وہ ٹی وی پر بیٹھ کر تجزیے جھاڑتے ہیں اور اس کام کے لئے لاکھوں روپے معاوضے بھی وصول کرتے ہیں پاکستان کے کسی تجزیہ نگار  کو کسی فورم پر کہتے نہیں سُنا جب گلگت بلتستان کا خطہ پاکستان کے زیر انتظام ہے تو اس خطے کو پاکستان کے چاروں صوبوں کے برابر حقوق کیوں نہیں دیے  جارہے ۔یہاں کے عوام میں غربت کو ختم کرنے کے لئے زرعی شعبے میں انویسٹمنٹ نہ کرنے کی وجوہات کیا ہیں یہاں کے وسائل کو بروئے کار لانے کے لئے مقامی لوگوں کو آگے کیوں نہیں کیا جارہا ہے، اسی طرح کسی بڑے لکھنے والے کو یہ لکھتے نہیں دیکھا کہ یہ خطہ بنیادی تعلیم اور بنیادی صحت کے مسائل سے کیوں دوچار ہے  ،یہاں پر بہتر انفراسٹکچر کی بحالی کے لئے عملی کام کیوں نہیں کیا جارہا ہے بس اس خطے کے  حُسن ہی سے سب  کو پیار ہے لیکن غربت اور تنگدستی اور پہچان پر لکھنا شاید ان بڑے لکھنے والوں اور تجزیہ نگاروں کے لئے نان ایشو ہے۔

یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اگر اپنے حقوق کے لئے سخت سردی میں مسلسل کئی ہفتوں سڑکوں پر احتجاج اور لانگ مارچ کریں تو نہ ہی کوئی اسپیشل پروگرام کیا جاتا ہے نہ ہی لائیو کیمروں کا رخ اس طرف کیا جاتا ہے کیونکہ یہاں تشدد نہیں،خون خرابہ  اس خطے کے عوام کے  مزاج میں شامل نہیں یہ الگ بات ہے کہ ضیاالحق کے دور میں اس خطے پر مجاہدین نے ریاست کی پشت پناہی میں دھاوا بول دیا اور لشکر کشی کے ذریعے گلگت بلتستان میں طالبان کو بسانے کی کوشش کی گئی،لشکر جھنگوی اور سپا ہ صحابہ کو آج بھی نام تبدیل کرکے اس خطے میں کھلے عام گھومنے پھرنے کی اجازت ہے جو سادہ لوح عوام کو مسلک کے نام پر بیوقوف بناتے ہیں اور ماضی میں کئی ایسے افسوناک واقعات پیش آئے  جس میں کچھ مقامی لوگ استعمال ہوئے مگر اب اس سوچ کو بھی ہمارے عوام نے دفن کردیا ہے، پاکستان میڈیا نے پرتشدد واقعات کے مسلسل لائیو کوریج کی قسم کھائی ہوئی ہے تاکہ ریٹنگ میں اضافہ ہو مگر پرُامن لوگوں کے مسائل کی طرف کوئی توجہ دینے والا کوئی نہیں بلکہ اُس احتجاج کو بھی غلط رنگ دیا جاتا ہے۔

گزشتہ ایک مہینے سے مختلف ٹاک شوز میں تجزیہ نگاروں کو یہی کہتے سُن رہا ہوں کہ گلگت بلتستان میں حالات خراب کرنے اور علیحدگی تحریک کےلئے  بھارت کی سپورٹ کے ساتھ باہر کے ملکوں میں بیٹھے کچھ لوگ متحرک ہیں وغیر ہ وغیرہ۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا گلگت بلتستان کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں ؟ اگر ایسا ہوتا تو 16نومبر 1947کو پاکستان میں شامل ہونے  کی افواہ پر گلگت کے شہروں میں پاکستانی جھنڈے نہیں لہرائے جاتے ،کرگل کے  پہاڑوں پر جان نچھاور کرکے فخر محسوس نہیں کرتے،سیاچن کے برف پوش گلیشرز کے نیچے دب کر شہید ہونے والوں کی مائیں سجدہ شکر بجا نہیں لاتیں ، مگر افسوس اس بات پر ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اگر اپنے بنیادی حقوق کے لئے سڑکوں پر بھی نکلیں تو غیرملکی سازش لگتی  ہے جبکہ پاکستان کے حکمران پاکستان دشمن ملک بھارت کے شہریوں کو اپنے کارخانوں میں نوکریاں دیں،حکومت بچانے کے لئے بھارت کو دعوت دیں،بھارتی کاروباری شخصیات سے رات کے اندھیرے میں ملاقاتیں کریں تو کوئی نہیں پوچھتا کہ یہ سب کیا ہو رہا  ہے بلکہ اُس چور کے پیچھے پاکستان کی سا لمیت اور معیشت کو داؤ پر لگایا ہوا ہے اور پاکستانی میڈیا نے دن رات اُن کے لئے ایک کیا ہوا ہے۔

افسوس پاکستان کے بڑے بڑے تجزیہ نگار ذرا اس ایشو پر بھی تجزیہ کرتے کہ یہاں پر اب تک نجی اور سرکاری یونیورسٹیاں کیوں قائم نہیں کی گئیں  جبکہ اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر کے دو سو کے قریب یونیورسٹیاں ہیں لیکن گلگت بلتستان میں صرف ایک یونیورسٹی ہے حال ہی میں قائم ہونے والی بلتستان یونیورسٹی میں فیکلٹی اور سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں  اسی طرح یہاں کے عوام کی معاشی ضرروریات پر کبھی کسی تجزیہ نگار نے ایک لفظ کہنا بھی آج تک گوارہ نہیں کیا گلگت بلتستان کے لوگ اپنے خطے میں معاشی اور دیگر سہولیات کے فقدان کی وجہ سے ہجرت کرکے پاکستان کے مختلف شہروں میں مہاجر کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن کبھی کسی نے اس طرف توجہ نہیں دی  کہ گلگت بلتستان کو اقوام متحدہ کے قوانین کی روشنی میں پاکستان کے سپرد کیا ہوا ہے یہاں کے عوام کے لئے تمام قسم کی  بنیادی ضروریات فراہم کر نا وفاق کی ذمہ داری ہے لیکن اس وقت صورت حال یہ ہے کہ تمام قسم کے سبسڈی کو ختم کرکے صرف گندم سبسڈی باقی ہے اُسے بھی ختم کرنے کے لئے مقامی گماشتوں جسے عرف عام میں حکمران کہتے ہیں کے ذریعے عوام پر پنجاب کا احسان جتایاجارہا ہے حالانکہ یہ سبسڈی کسی کا احسان نہیں بلکہ اس قوم کا قانونی حق ہے۔

آج پاکستان مختلف شہروں میں گلگت بلتستان کے باشندے کس قسم کے حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اس پر کبھی کسی تجزیہ نگار نے ایک لفط بولنا گوارہ نہیں کیا کیونکہ عوام اور خاص طور   پر متنازعہ خطے کے مسائل ایک طرح سے نان ایشو ہے جسے حل کیا تو مہربانی، نہ حل کیا تو بھی کوئی  بات  نہیں والا معاملہ ہے۔ تعلیمی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان کے نوجوان علم حاصل کرنے کے لئے شہروں کا رخ کرتے ہیں تو یہاں کے نوجوانوں کو ہر قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہاں تک کہ  معمولی تکرار پر قتل کیے جاتے ہیں ماضی میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں اور حال ہی میں لاہور کے اندر گلگت بلتستان کے طالب علم کے ساتھ جو کیا گیا جس کے نتیجے میں اُ س کی موت واقع ہوئی اور قاتلوں کو مقامی ایم این اے  نے ضمانت پر رہا کرادیا لیکن نہ اس حوالے سے کوئی ٹاک شو ہوا  نہ کسی نے کالم لکھا بس ایک سوشل میڈیا کی مہربانی سے ہمارے عوام اپنے مسائل دنیا تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اس  پر بھی شک کیا جاتا ہے۔

پنجاب کے اُن تجزیہ نگاروں کو کیا معلوم کہ گلگت بلتستان نہ تو پنجاب ہے نہ کراچی کا ایم کیوایم یہاں نہ ہی کوئی الطاف حسین رہتا ہے نہ ہی آل شریف ،رانا ثنااللہ اور برہمداغ بگٹی۔ لہذا خدا را سرد کمروں میں بیٹھ کر گرم تجزیوں کے ساتھ کبھی گلگت بلتستان کے مسائل پر بھی دو لفظ بولیں اور حکمرانوں سے پوچھیں کہ جو سی پیک متنازعہ خطے سے00 6 کلومیٹر گزارا جارہا ہے اُس کا پہلا پڑاؤ  حویلیاں میں کیوں لے جایا گیا ہے،گلگت بلتستان میں کتنے انڈسٹریل زون بنائے جارہے ہیں دیامر بھاشا ڈیم گلگت بلتستان میں اور پاور جنریشن   ٹربائین  کے پی کے حدود میں کیوں بنایا گیا ہے؟ سکردو کرگل روڈ کھول کر ہزاروں منقسم خاندانوں کو ملانے میں کیا قباحت ہے؟ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کو آئین ساز اسمبلی کا درجہ کیوں نہیں دیا جارہا ہے؟ خطہ ہی متنازعہ ہے تو ٹیکس کس قانون کے تحت لگایا جارہا ہے؟ اُن تمام سیاسی قیدیوں کو آزاد عدالت میں کیوں نہیں پیش کیا جارہا ہے؟ اس خطے کے وسائل پر اسلام آباد سے آئے ہوئے بابوں کی حکمرانی کیوں ہے؟ گلگت بلتستان مقامی افراد اہم سرکاری عہدوں پر فائزکرنے کے بجائے پنجاب سے امپورٹ کیوں کرتے ہیں؟

یہ وہ سوالات ہیں جن  کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں البتہ اس بات کی ضرور فکر ہے کہ گلگت بلتستان میں خاص صوبوں کے مفادات کو نقصان پہنچنا ہی دراصل غداری ہے ورنہ گلگت بلتستان کے لوگ وہ ہیں جن کی پاکستانیت شکوک و  شبہات پیدا کرنے والے دراصل دشمن کو راہ دکھا رہے ہیں یہاں کے عوام نے ہر پر موڑ پر پاکستان کے لئے قربانی دی ہے اور دیتے رہیں گے لیکن پاکستان کے حکمرانوں اور بے خبر تجزیہ نگاروں اور لکھاریوں کی وجہ سے گلگت بلتستان کی  نئی نسل میں ایک سوچ پیدا ہوتی جارہی ہے جو ایک خطرناک لاوا بن سکتا ہے۔لہذا گلگت بلتستان کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق حقوق دینے کے لئے کوشش کرنے کے بجائے الزام لگا کر خاموش رہنے کا  زمانہ اب شاید چلا گیا ہے۔

شیر علی انجم
شیر علی انجم
شیرعلی انجم کا تعلق گلگت بلتستان کے بلتستان ریجن سے ہے اور گلگت بلتستان کے سیاسی،سماجی اور معاشرتی مسائل کے حوالے سے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *