انسان اور اُس کی معاشرتی نفسیات…عمران بخاری

انسان کی شخصیت کی تشکیل کون سے عوامل کرتے ہیں؟ اس سوال کا جواب آپ ایک نفسیات دان سے پوچھیں گے تو وہ آپ کو پیدائش سے لے کر آخر تک فرد کی ذات میں رونما ہونے والی تبدیلیاں یا پیدائشی جینیاتی اثرات بیان کرے گا۔ وہ آپ کو یہ بتائے گا کہ کس طرح والدین کی شخصیت کے اثرات اولاد میں جینیاتی سطح پر منتقل ہوتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ بتائے گا کہ فرد اپنے اردگرد کے ماحول سے کس طرح اثر قبول کرتا ہے۔ اس کی ساری تشخیص اور تدبیر فرد کی اصلاح کے گرد گھومتی نظر آئے گی۔
اسی طرح اگر آپ کسی ماہرِ عمرانیات سے رائے طلب کریں گے تو وہاں آپ کو فرد کی انفرادیت یکسر نظر انداز ہوتی دکھائی دے گی۔ سارا فوکس اجتماعی اقدار اور روایات پر نظر آئے گا۔ گویا اصل تشخص اجتماعی اقدار کا ہوتا ہے اور وہی فرد کی انفرادی شخصیت کا تعین کرتی ہیں۔ لہٰذا ان کی تشخیص اور تدبیر معاشرتی اقدار کی اصلاح کے گرد گھومتی نظر آئے گی۔اسی طرح ماہرینِ سیاسیات یا ماہرینِ اقتصادیات سے پوچھیں گے تو وہ آپ کو معاش یا سیاسی نظریے کو سماجی اقدار کا رخ متعین کرنے کا سبب بیان کرتے نظر آئیں گے۔ اُن کی تشخیص اور تدبیر کا سارا رُخ معاشی یا سیاسی اصلاح کے گرد گھومتا نظر آئے گا۔
آپ اگر کسی بھی ایک نقطۂ نظر سے چپک کر فرد کی شخصیت کی تشخیص اور اصلاح کرنے کی کوشش کریں گے تو ٹھوکر ہی کھائیں گے۔ ہر تدبیر اپنے ساتھ مزید منفی اثرات لائے گی اور اُن منفی اثرات کے لیے اٹھائے جانے والے تدبیری اقدامات مزید مسائل کو جنم دیں گے۔ اس لیے نہایت ضروری ہے کہ انسان کی شخصیت کے اصل محرکات کو سمجھ لیا جائے۔ یعنی یہ سمجھنا اشد ضروری ہے کہ انسانی عمل یا سوچ کی اصل حرکیات کیا ہیں۔
انسانی وجود تین اجزاء کا مرکب ہے (معاشرتی، روحانی اور ذاتی)۔ پہلا جزو اُس کا معاشرتی تشخص ہے۔ یعنی اس کی ایک شناخت وہ ہے جو اُسے معاشرے سے ملتی ہے۔ وہ کسی کا بیٹا، باپ یا بھائی ہے، کسی کی ماں، بہن یا بیٹی ہے، کسی قبیلے، ملک یا قوم کا فرد ہے۔ اس کا پیشہ اور رتبہ وغیرہ اُسے ایک شناخت دیتے ہیں جسے ہم اُس کا معاشرتی تشخص قرار دیتے ہیں۔ وہ اپنے اُن کرداروں کو ادا کرنے میں کامیاب ثابت ہوا یا نہیں، اس کا تعین بھی وہی اجتماعیت ہی کرتی ہے جس نے اُس فرد کو وہ کردار سونپے ہیں۔
جب بھی کسی فرد کے کسی عمل کے رد یا قبولیت کا اندازہ لگانا ہو تو بحیثیتِ مجموعی معاشرتی ردِ عمل کا جائزہ لیں۔ اگر معاشرے کی غالب اکثریت خاموشی کی چادر اوڑھے نظر آئے تو سمجھیں فرد کے اُس عمل کو قبولیت حاصل ہے۔ اور اگر معاشرہ اپنے منفی ردِ عمل کا مظاہرہ کرے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اُس شخص نے معاشرتی ہم آہنگی کے تاروں کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ پیمانہ مستند یا قابلِ اعتبار تبھی ہو گا جب اجتماعیت یا معاشرتی اقدار اور نظام و انصرام کی باگ ڈور اُس معاشرے کے افراد کے اپنے ہاتھوں میں ہو۔ نظامِ اجتماعی کو چلانے والے صحیح معنوں میں عوام کے ہی نمائندے ہوں۔ جنہیں عوام خود اپنا حقِ نمائندگی سونپے۔
اجتماعیت پر اگر کسی ادارے، طبقے یا خاندان کی اجارہ داری ہو گی تو نہ ہی مرض کی صحیح تشخیص ہو سکے گی اور نہ ہی تدبیر۔ کیونکہ تشخیص اور تدبیر کرنے والے چونکہ عوام کے نمائندہ نہ ہوں گے اس لیے کبھی بھی صحیح معنوں میں عوامی رویوں اور سوچ کی نہ تو تشخیص کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں گے نہ تدبیر۔ ایسی صورت میں عوام کی خاموشی کو اگر قبولیت کا سرٹیفیکیٹ سمجھا جائے گا تو غلط ہو گا۔ اسی طرح منفی ردِ عمل کی غیر موجودگی پر معاشرتی بے حسی کا لیبل لگانا یا اُس غلط عمل کو معاشرتی قبولیت کا سرٹیفیکیٹ سمجھنا بھی غلط ہو گا۔ وہ خاموشی طبقاتی یا اداراتی جبر یا خوف کے سبب بھی ہو سکتی ہے۔ ایسے جبر اور استبداد کے سائے میں زندہ لوگوں کو غلام یا قیدی سمجھا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ معاشرتی اقدار کا رونا تب رویا جاتا ہے جب معاشرہ خود وجود رکھتا ہو۔ اور معاشرے آزاد لوگوں سے جنم پاتے ہیں اور پروان چڑھتے ہیں۔ لہٰذا جس معاشرے میں عدل اور مساوات ناپید ہوں وہاں کسی بھی فرد کے کردار یا عمل کی تشخیص کرتے وقت کامل احتیاط اور احتراز کی روش زیادہ موزوں ہو گی۔ پہلے آزاد معاشرے کو جنم دیں پھر لوگوں کے کردار کو اس کی کسوٹی پر پرکھیں۔ سزائیں اُن لوگوں کے لیے پُر اثر ہوتی ہیں جو زندہ ہوں۔ زندہ لاشوں اور جنگل کے تن آور درختوں میں فرق صرف ساخت کا ہوتا ہے اور اسی طرح زندہ لاشوں کی اجتماعیت اور جنگل میں بھی فرق صرف ساخت کا ہی ہوتا ہے۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اجتماعیت کی تشکیل ہی فرد کی تشکیل کرتی ہے۔ میں سمجھانا یہ چاہ رہا ہوں کہ سزا ہمیشہ اجتماعیت کے ضابطے توڑنے پر ہی دی جاتی ہے۔ اور اجتماعی ضابطہ یا اصول توڑنے کی سزا دینے سے پہلے ضروری ہے کہ ایسا اجتماعی ضابطہ یا اصول وجود بھی رکھتا ہو۔ اسی طرح قانون سازی بھی تبھی موثر ہو گی جب اجتماعی شعور اس کا پشت پناہ ہو۔

عمران بخاری
لیکچرار، قومی ادارہءِ نفسیات، قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”انسان اور اُس کی معاشرتی نفسیات…عمران بخاری

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *