100 کتابیں، جنہوں نے میری زندگی بدل دی(9)میں بھی ٹھیک ہوں، تم بھی ٹھیک ہو!/عارف انیس

(آج کی کتاب دنیا کو دیکھنے کے زاویے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یہ ایک پیچیدہ تصور ہے جسے میں نے کوشش کی ہے کہ آسان فہم بنایا جاسکے، میں نے پاکستانی ثقافتی حساب سے اس میں بہت سی مثالیں واضح کر دی ہیں تاکہ آپ اسے عملا استعمال کر سکیں)

“I’m OK – You’re OK”
تھامس انتھونی ہیرس کی لکھی ہوئی ایک مشہور سیلف ہیلپ کتاب ہے جو کروڑوں کی تعداد میں پڑھی جا چکی ہے۔ یہ کتاب نفسیات کے ایک نظریے جسے ٹرانزیکشنل اینالیسس (TA) کہا جاتا ہے، پر مبنی ہے ۔ یہ نظریہ ڈاکٹر ایرک برن کی جانب سے تیار کیا گیا تھا۔ اس کتاب میں مصنف نے عام لوگوں کی سمجھ کے لیے سادہ زبان میں، ٹرانزیکشنل اینالیسس سے متعلق اہم تصورات کی وضاحت کی۔ مصنف کے نزدیک، ہم تین بنیادی ذہنی حالتوں میں کام کرتے ہیں: والد، بالغ، اور بچہ۔ ہمارے اپنے والدین اور دیگر اہم شخصیات کے ساتھ ہمارے بچپن کے تجربات ان ذہنی حالتوں کی تشکیل کا باعث بنتے ہیں۔ وہ منفی رویے یا احساسات جو بالغ ذہنی حالت میں سامنے آتے ہیں، دراصل وہ ہمارے خراب بچپن کے تجربات یا منفی پیغامات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس کتاب میں، ہیرس اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ ہم اپنی ذہنی حالتوں میں ضروری تبدیلیاں لا کر اپنی زندگی کو کیسے تبدیل کر سکتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

تھامس انتھونی ہیرس امریکہ میں ایک ماہر نفسیات اور مصنف تھے۔ انہوں نے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا اور پرل ہاربر اٹیک میں بال بال بچ گئے. انہوں نے ٹرانزیکشنل اینالیسس کے ماڈل کو عام کرنے اور ذاتی اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی دیگر تصانیف میں “Staying OK” اور “A Window to Ourselves” شامل ہیں۔

کتاب لکھنے کا سبب

ہیرس کا مقصد نفسیاتی اصولوں کو عام لوگوں تک سادہ اور سمجھنے میں آسان انداز میں پہنچانا تھا۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ٹرانزیکشنل اینالیسس کے بنیادی تصورات کو سمجھنے سے، لوگ اپنے رویوں اور تعلقات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

7 اہم اسباق اور ان کا اطلاق

میں ٹھیک ہوں – آپ ٹھیک ہیں کا فلسفہ: لوگوں کو یہ احساس کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ سب لوگ اپنی فطرت میں اہم ہیں اور اپنی انفرادیت کے مستحق ہیں۔ معاشرے کے غلط اثرات کی وجہ سے کچھ لوگ یہ احساس کھو دیتے ہیں کہ صرف وہی صحیح ہیں اور دوسرے غلط ہیں۔ اس ذہنیت کو درست رکھنا ضروری ہے۔ اس فلسفہ پر عمل کر کے ہم دوسروں کے لیے ہمدردی اور گنجائش پیدا کر سکتے ہیں۔

ذہنی حالتیں: ( والد، بچہ، بالغ): یہ تین ذہنی حالتیں ہماری شخصیت کی بنیاد بنتی ہیں۔ والد کی ذہنی حالت ہمارے والدین کے رویوں ، اقدار، اور نظریات کی عکاسی کرتی ہے۔ بچہ کی ذہنی حالت ہمارے بچپن کے تجربات، جذبات، اور خواہشات کی نمائندگی کرتی ہے۔ اور بالغ کی ذہنی حالت ہمارے ذہن کا وہ تعقلی اور منطقی حصہ ہے جو اس وقت کے حالات کا معائنہ کرنے اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اپنی مختلف ذہنی حالتوں کے بارے میں آگاہی سے ہم اپنی ذہنی کیفیات اور رویوں کو سمجھنے لگتے ہیں، جس کی مدد سے ہم اپنے مسائل کی جڑ تک پہنچ کر ان کو حل کر سکتے ہیں۔

زندگی کے اسباق: ہمارا رویہ اور طرز عمل خاص طور پر ہمارے بچپن کے تجربات سے متاثر ہوتا ہے۔ ہمارے زیر شعور میں کچھ ایسے اثرات یا پیغامات موجود ہوتے ہیں جن کو زندگی کے اسباق کہا جاتا ہے۔ یہ سبق منفی رویوں یا احساس کمتری کا باعث بن سکتے ہیں۔ اپنی زندگی کے اسباق کو سمجھ کر، ہم اپنی شخصیت میں مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔

ٹرانزیکشنز: ٹرانزیکشنز سے مراد کسی بھی قسم کا تبادلہ ہوتا ہے جو دو یا زیادہ افراد کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ زبانی بھی ہو سکتا ہے اور غیر زبانی بھی جیسے کہ چہرے کے تاثرات یا باڈی لینگویج کی شکل میں۔ ٹرانزیکشنل اینالیسس میں اس تبادلے کا جائزہ لے کر اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ ہمارے تعلقات کیسے بنتے یا بگڑتے ہیں۔ اس سے ہم اپنے تبادلے کے انداز کو سمجھ کر، ان کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

کھیل (Games): ہیرس نے انسانی رویوں کے کچھ ایسے پیٹرنس کا ذکر کیا ہے جن کو انہوں نے “کھیل” کا نام دیا۔ ان کھیلوں میں دھوکہ دہی اور نفسیاتی حربوں سے دوسروں پر غالب آنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کھیلوں کی نشاندہی کرنے سے ہم ایسی صورتحال سے بچ سکتے ہیں جہاں ہم ان کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

زندگی کی اسکرپٹ: بچپن میں ہم کچھ ایسے طرز عمل اختیار کرتے ہیں جو بظاہر ہماری بقا اور ترقی کے لیے ضروری معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن بڑے ہو کر یہ طرز عمل ہماری زندگی میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں۔ ایسی صورتحال کو زندگی کی اسکرپٹ کہا جاتا ہے۔ اپنی زندگی کے اسکرپٹ کا جائزہ لے کر ہم اپنی زندگی میں درست تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔

کایا پلٹ : ہیرس یہ زور دیتے ہیں کہ لوگوں میں اپنے حالات کو بدلنے ، بہتر بننے، اور ترقی کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اپنی ذہنی حالتوں، زندگی کے اسباق، اور منفی طرز عمل کے بارے میں شعور پیدا کر کے، ہم اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔
انسانی رویوں میں دہرانے جانے والے نمونے

ہیرس یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ ہم سب خفیہ مقاصد کے ساتھ ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور پھر غیر موثر بندھن میں پھنس جاتے ہیں، انہوں نے انہیں ان کا نام “گیمز” دیا ہے۔ ہم لاعلمی میں، یہ نفسیاتی کھیل جاری رکھتے ہیں، جن کا اختتام اکثر تکلیف، مایوسی اور ناقص رشتوں پر ہوتا ہے۔ ہیرس یہ سمجھنے کا موقع فراہم کر کے ہماری ان الجھنوں کو سلجھانے میں مدد کرتے ہیں کہ یہ رویے ہمیں کہاں لے جا رہے ہیں۔

کتاب لکھنے کا مقصد

ہیرس بنیادی طور پر، لوگوں میں خود شناسی پیدا کرنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ صرف اپنی ہی نہیں بلکہ دوسروں کے ان پیچیدہ نفسیاتی کھیلوں کو دیکھ سکیں اور سمجھ سکیں۔ اس بصیرت کے ساتھ، افراد ان منفی رویوں کو روک سکتے ہیں اور اپنی زندگیوں میں زیادہ مثبت، بامعنی اور مثبت تعلقات استوار کر سکتے ہیں۔

ٹرانزیکشنل تجزیہ (Transaction Analysis) ایک دلچسپ نفسیاتی نظریہ ہے جو یہ سمجھنے میں ہماری مدد کرتا ہے کہ ہم دوسروں کے ساتھ کیسے بات چیت کرتے ہیں اور یہ بات چیت ہمارے تعلقات کو کیسے متاثر کرتی ہے۔ آسان الفاظ میں، یہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہم تین مختلف “کرداروں” میں سے ایک کو استعمال کرکے بات چیت کر رہے ہوتے ہیں، اور یہ کردار ہماری بات چیت کا انداز اور اس کا نتیجہ دونوں کو متاثر کرتے ہیں۔

یہ تین کردار کچھ اس طرح ہیں:

والد: یہ وہ کردار ہے جو حکم دیتا ہے، نصیحت کرتا ہے یا تنقید کرتا ہے۔ جیسے کوئی بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائی کو یہ کہہ رہا ہو، “پہلے اپنا ہوم ورک کرو پھر ٹی وی دیکھو!”

بالغ: یہ وہ کردار ہے جو منطقی، غیر جذباتی انداز میں بات چیت کرتا ہے۔ جیسے دو دوست امتحان کے بارے میں بات کر رہے ہوں اور یہ کہہ رہے ہوں، “لگتا ہے ریاضی مشکل تھی، لیکن مجھے امید ہے کہ ہم نے اچھا کیا ہے.”

بچہ: یہ وہ کردار ہے جو جذباتی، متقلّد یا ہٹ دھرمی پر مبنی ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ جیسے کوئی بچہ اپنی ماں سے یہ کہہ رہا ہو، “میں یہ سبزی نہیں کھاؤں گا!” چاہے اس نے اسے کبھی کھایا بھی نہ ہو۔

ٹرانزیکشنل تجزیہ یہ دیکھتا ہے کہ ہم کس کردار میں بات چیت کر رہے ہیں اور دوسرا شخص کس کردار میں ردعمل کا اظہار کر رہا ہے۔ مثلاً، اگر آپ ایک والد کی طرح بات کر رہے ہیں (“اپنے کمرے کو صاف کرو!”)، تو دوسرا بچے کی طرح (بہانے بازی یا جھگڑا) ردعمل کا اظہار کر سکتا ہے۔ اس سے بات چیت بے نتیجہ ہو جاتی ہے۔

لیکن، اگر آپ بالغ کی طرح بات چیت کرتے ہیں (“کیا ہم مل کر کمرے کی صفائی کر سکتے ہیں؟”) تو دوسرا شخص بھی بالغ کے طور پر ردعمل کا اظہار کر سکتا ہے اور مسئلہ کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس نظریے کو سمجھنے سے آپ اپنی اور دوسروں کی بات چیت کو بہتر انداز میں سن اور سمجھ سکتے ہیں۔ یہ آپ کو زیادہ موثر اور خوشگوار تعلقات بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

ایک مثال

کوئی شخص “کیوں آپ ہمیشہ دیر سے آتے ہیں؟” جیسا جملہ کہتے ہوئے ایک طاقت کے کھیل کا آغاز کر سکتا ہے۔ یہ والد کی سی تنقیدی شخصیت کو ظاہر کرتا ہے اور بچے جیسے معذرت خواہانہ یا دفاعی ردعمل کو ہوا دیتا ہے۔ اس طرح کے ٹرانزیکشن بار بار ہو سکتے ہیں، جو کسی گیم کی طرف لے جاتے ہیں جیسے “آپ مجھے پسند نہیں کرتے”۔

“میں ٹھیک ہوں، تم ٹھیک ہو” (I’m Okay, You’re Okay) کی زندگی کے منظرنامے: حقیقی زندگی کی مثالیں کے ساتھ وضاحت
ہیرس کے ٹرانزیکشنل تجزیہ (TA) میں ایک اہم تصور “لائف پوزیشن” (Life Positions) ہے۔ یہ وہ بنیادی تصورات یا عقائد ہیں جو ہم اپنے بارے میں، دوسروں کے بارے میں اور دنیا کے بارے میں رکھتے ہیں۔ ان میں سے ایک کلیدی پوزیشن “میں ٹھیک ہوں، تم ٹھیک ہو” (I’m Okay, You’re Okay) ہے۔ آئیے اسے حقیقی زندگی کے چند مثالیوں کے ذریعے سمجھتے ہیں۔

مثال 1: اعتماد اور تعاون کا ماحول

ماں اور بیٹی
ایک ماں اپنی بیٹی کو اسکول کے بعد گھر آتے دیکھ کر پوچھتی ہے، “آج کا دن کیسا تھا؟” بیٹی جواب دیتی ہے، “کچھ خاص نہیں، ریاضی کا ٹیسٹ تھا اور مجھے لگتا ہے کہ مجھے اچھا نہیں گیا”۔ ماں اسے تسلی دیتے ہوئے کہتی ہے، “کوئی بات نہیں، ہر کوئی غلطیاں کرتا ہے۔ ہم کل پڑھائی کریں گے اور تم اگلی بار اس میں بہتر کر سکو گی۔”

تجزیہ: اس مکالمے میں، ماں اور بیٹی دونوں “میں ٹھیک ہوں، تم ٹھیک ہو” کی پوزیشن کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ ماں بیٹی کی پریشانی کو تسلیم کرتی ہے اور اس کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ بیٹی اپنی غلطی کا اعتراف کرتی ہے اور یہ جانتی ہے کہ وہ اسے درست کر سکتی ہے۔ اس سے اعتماد اور تعاون کا ماحول بنتا ہے جو مسائل کو حل کرنے اور آگے بڑھنے میں مددگار ہے۔

مثال 2: مضبوط اور پراعتماد رشتہ

علی اور بلال لمبی دوری کے بعد ملتے ہیں۔ علی تھوڑا سا پریشان نظر آتا ہے اور بلال اسے پوچھتا ہے، “کیا سب ٹھیک ہے؟” علی بتاتا ہے، “میں اپنی نئی نوکری سے کچھ پریشان ہوں، کام کا بوجھ زیادہ ہے اور مجھے لگتا ہے کہ میں اسے سنبھال نہیں سکتا”۔ بلال اس کا کندھا تھپتھپاتا ہے اور کہتا ہے، “مجھے سمجھتا ہوں، نئی جگہ ایڈجسٹ ہونا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن تم ایک ذہین اور ہونہار لڑکے ہو۔ میں جانتا ہوں کہ تم اسے سنبھال لو گے۔ اگر ضرورت ہو تو مدد کے لیے مجھ سے ضرور کہنا”۔

تجزیہ: یہاں بھی دونوں دوست “میں ٹھیک ہوں، تم ٹھیک ہو” کی پوزیشن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ علی اپنی کمزوری کا اظہار کرتے ہوئے مدد مانگنے میں جھجکتا نہیں، جبکہ بلال اس کی صلاحیتوں پر یقین رکھتا ہے اور مدد کی پیشکش کرتا ہے۔ اس سے ان کے درمیان ایک مضبوط اور پراعتماد رشتہ بنتا ہے جہاں وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔

مثال 3: مسائل کو حل کرنے اور آگے بڑھنے کا رویہ

ایک دفتر میں، مینا اور حارث ایک پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ کام کی ایک خاص بات پر ان کی رائے مختلف ہو جاتی ہے۔ مینا اپنی بات رکھتی ہے اور حارث غور سے سنتا ہے۔ پھر وہ اپنا نقطہ نظر بیان کرتا ہے اور وضاحت کرتا ہے کہ اس کا خیال کیوں ہے۔ آخر میں وہ کہتے ہیں، “شاید ہم دونوں کے خیالات میں کچھ فائدہ ہو، آئیے مل کر ایک ایسا حل تلاش کریں جو دونوں پہلوؤں کو پورا کرے”۔ مینا اس سے اتفاق کرتی ہے اور وہ مل کر مسئلے کا حل نکالتے ہیں۔

تجزیہ: اس صورت حال میں مینا اور حارث ایک دوسرے کے نظریات کو سننے اور ان کا احترام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اب ہم “میں ٹھیک ہوں، تم ٹھیک ہو” (I’m Okay, You’re Okay) کے برعکس پہلو کو دیکھتے ہیں۔ یہ وہ “لائف پوزیشنز” ہیں جو منفی سوچ کو جنم دے سکتی ہیں اور تعلقات میں تنازع پیدا کر سکتی ہیں۔

“میں ٹھیک نہیں ہوں، تم ٹھیک ہو” (I’m Not Okay, You’re Okay)
یہ ایک ایسی پوزیشن ہے جہاں ہم اپنے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں لیکن دوسرے شخص کو “ٹھیک” سمجھتے ہیں۔ اس سے خود اعتمادی کی کمی، دوسروں پر انحصار اور قربت پیدا کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مثال: ایک طالب علم ہمیشہ اساتذہ سے یہ کہتا ہے کہ “مجھے سمجھ نہیں آیا”، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ دوسرے طلباء کی طرح ذہین نہیں ہے۔
“میں ٹھیک ہوں، تم ٹھیک نہیں ہو” (I’m Okay, You’re Not Okay)
اس پوزیشن میں ہم خود کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہیں اور ان پر تنقید کرتے ہیں۔ یہ تکبر، دوسروں سے فاصلہ اور تلخی پیدا کر سکتا ہے۔

مثال: ایک گھریلو خاتون ہمیشہ اپنے شوہر کی صلاحیتوں پر شک کرتی ہے اور یہ کہتی ہے کہ “تم کبھی یہ کام ٹھیک سے نہیں کر سکتے”۔
“میں ٹھیک نہیں ہوں، تم ٹھیک نہیں ہو” (I’m Not Okay, You’re Not Okay)
یہ سب سے منفی پوزیشن ہے۔ اس میں ہم اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کے بارے میں مایوس ہو جاتے ہیں اور رشتوں میں مسلسل لڑائی جھگڑے کا امکان ہوتا ہے۔

مثال: ایک رشتے دار کی ملاقات پر وہ دوسرے رشتے دار سے یہ کہتا ہے، “میری زندگی تو خراب ہے ہی، لیکن تمہاری تو اور بھی بری گزر رہی ہے”۔
یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ “میں ٹھیک ہوں، تم ٹھیک ہو” کے برعکس پوزیشنز کس طرح منفی سوچ اور تعلقات میں مشکلات کا باعث بن سکتی ہیں۔ ہیرس کا ٹرانزیکشنل تجزیہ ہمیں اپنی اور دوسروں کی “لائف پوزیشنز” کو سمجھنے اور انہیں مثبت انداز میں تبدیل کرنے میں مدد دیتا ہے تاکہ ہم زیادہ خوشگوار اور بامقصد رشتے بنا سکیں۔

منفی “لائف پوزیشنز” اور ان کے اثرات: حقیقی زندگی کی تفصیلی مثالیں

جب ہم کتاب کے منظرنامے میں داخل ہوتے ہیں، تو اکثر ہم خود کو منفی “لائف پوزیشنز” (Life Positions) میں پھنساتے ہیں۔ آئیے ان دو عام پوزیشنوں، “میں ٹھیک نہیں ہوں، تم ٹھیک نہیں ہو” (I’m Not Okay, You’re Not Okay) اور “میں ٹھیک نہیں ہوں، تم ٹھیک ہو” (I’m Not Okay, You’re Okay) کو مزید تفصیل سے حقیقی زندگی کی مثالیوں کے ساتھ دیکھتے ہیں۔

1. “میں ٹھیک نہیں ہوں، تم ٹھیک نہیں ہو” (I’m Not Okay, You’re Not Okay)
یہ ایک ایسی تباہ کن “لائف پوزیشن” ہے جو ہمیں اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کے بارے میں مایوس کر دیتی ہے۔ اس منظرنامے میں، ہم خود کو اور دوسروں کو کم تر اور ناکام سمجھتے ہیں، اور یقین رکھتے ہیں کہ دنیا ایک منصفانہ جگہ نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں تعلقات میں مسلسل لڑائی جھگڑے، تلخی اور فاصلہ پیدا ہوتا ہے۔

مثال 1: خاندانی تنازع

رفیق اور اس کی بہن، نسرین، ایک دوسرے سے برسوں سے لڑ رہے ہیں۔ وہ بچپن سے ہی یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے والدین نے ان پر توجہ نہیں دی اور ان کی ضروریات کو نظر انداز کیا۔ اب وہ ہر بات پر ایک دوسرے کو الزام دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان دونوں کی زندگیاں خراب ہیں۔ وہ خاندانی تقریبات میں بھی اکثر جھگڑ پڑتے ہیں، جس سے پورا ماحول کشیدہ ہو جاتا ہے۔

تجزیہ: رفیق اور نسرین کی “میں ٹھیک نہیں ہوں، تم ٹھیک نہیں ہو” کی پوزیشن انہیں آگے بڑھنے نہیں دے رہی ہے۔ وہ ماضی کے غصے میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ اس منفی سوچ کی وجہ سے وہ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کا موقع کھو دیتے ہیں۔

مثال 2: کام کی جگہ کی سیاست

ایک آفس میں، سمیرا اور علیم ایک ہی پروجیکٹ پر کام کرنے والی دو ٹیموں کی قیادت کر رہے ہیں۔ دونوں ٹیمیں یہ سمجھتی ہیں کہ دوسری ٹیم ان پر کام کا بوجھ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ میٹنگز میں اکثر ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں اور منفی باتیں کرتے ہیں۔ اس سے کام کی رفتار متاثر ہوتی ہے اور کام کا ماحول خراب ہو جاتا ہے۔

تجزیہ: سمیرا اور علیم کی ٹیموں کے درمیان “میں ٹھیک نہیں ہوں، تم ٹھیک نہیں ہو” کی پوزیشن تعاون کو روک رہی ہے۔ وہ ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے اور مل کر کام کرنے کے بجائے لڑائی جھگڑوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ اس منفی ماحول کی وجہ سے نہ صرف پروجیکٹ متاثر ہو رہا ہے بلکہ ملازمین کا مورال بھی کم ہو رہا ہے۔

2. “میں ٹھیک نہیں ہوں، تم ٹھیک ہو” (I’m Not Okay, You’re Okay)
یہ “لائف پوزیشن” خود کو کم تر اور دوسروں کو برتر سمجھنے کا باعث بنتی ہے۔ اس صورت حال میں، ہم اپنے آپ کو ناکام اور کمزور سمجھتے ہیں جبکہ دوسروں کو باصلاحیت اور کامیاب تصور کرتے ہیں۔ یہ احساس خود اعتمادی کی کمی، دوسروں پر انحصار اور قربت پیدا کرنے میں مشکلات کا باعث بنتا ہے۔

“میں ٹھیک نہیں ہوں، تم ٹھیک ہو” (I’m Not Okay, You’re Okay) ٹرانزیکشنل تجزیہ (TA) میں ایک عام منفی “لائف پوزیشن” (Life Position) ہے۔ یہ وہ سوچ ہے جہاں ہم اپنے بارے میں منفی نظریہ رکھتے ہیں اور دوسروں کو اپنی سے بہتر اور زیادہ کامیاب سمجھتے ہیں۔ یہ رویہ خود اعتمادی کی کمی، دوسروں پر انحصار اور رشتوں میں فاصلہ پیدا کر سکتا ہے۔

آئیے اس منفی سوچ کو مزید تفصیل سے حقیقی زندگی کی مثالیوں کے ساتھ دیکھتے ہیں۔

مثال 1: کام کا ماحول

علی ایک سافٹ ویئر کمپنی میں کام کرتا ہے۔ وہ ایک ذہین اور ہنر مند پروگرامر ہے لیکن اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ دوسرے پروگرامروں جیسا اچھا نہیں ہے۔ وہ اکثر اپنے کام کی تعریف سننے کے بجائے، تنقید کا انتظار کرتا ہے۔ وہ نئے پروگرام لکھنے سے گھبراتا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ وہ ناکام ہو جائے گا۔

تجزیہ: علی کی “میں ٹھیک نہیں ہوں، تم ٹھیک ہو” کی سوچ اسے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے سے روک رہی ہے۔ وہ دوسروں کا مقابلہ کرنے کے بجائے، اپنے آپ پر توجہ دے اور اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوشش کرے۔

مثال 2: دوستوں کا گروپ

نمرہ اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتے ہوئے اکثر یہ محسوس کرتی ہے کہ وہ ان جیسا مزہ نہیں کر پا رہی ہے۔ وہ ان کی باتوں میں حصہ لینے سے کتراتی ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ اس کے پاس ان جیسا کچھ بھی شیئر کرنے کے لیے نہیں ہے۔ وہ دوسروں کی زندگیوں کو بہتر اور زیادہ پُر رونق سمجھتی ہے۔

تجزیہ: نمبرہ کی سوچ اسے گروپ سے الگ کر رہی ہے۔ اسے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہر شخص الگ ہے اور اس کی اپنی خاص خوبیاں ہیں۔ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھل کر بات کرے اور ان کی طرح اپنی زندگی کے تجربات شیئر کرے۔

مثال 3: خاندانی تعلقات

آصفہ اپنی والدہ کی تمام باتوں پر اتفاق کرتی ہے۔ وہ اپنی ماں کو ہمیشہ سچا اور خود کو غلط سمجھتی ہے۔ وہ اپنی ماں سے یہ کہنے میں جھجھکتی ہے کہ وہ کسی بات سے خوش نہیں ہے یا اس کی اپنی رائے ہے۔

تجزیہ: آصفہ کی منفی سوچ اسے اپنی آزادی اور خود اعتمادی سے دور کر رہی ہے۔ اپنی والدہ کا احترام کرنا اچھی بات ہے لیکن ساتھ ہی اپنی رائے کا اظہار کرنا بھی ضروری ہے۔ ایک صحت مند رشتے میں بات چیت اور آراء کا احترام ہوتا ہے۔

اس سوچ کے منفی اثرات:

خود اعتمادی کی کمی: جب ہم خود کو دوسروں سے کم تر سمجھتے ہیں تو ہمیں اپنی صلاحیتوں پر یقین نہیں آتا اور ہم نئے مواقع حاصل کرنے سے کتراتے ہیں۔
دوسروں پر انحصار: اس سوچ کی وجہ سے ہم اپنی زندگی کے فیصلے خود لینے کی بجائے، دوسروں پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔
رشتوں میں فاصلہ: جب ہم دوسروں کو اپنی سے بہتر سمجھتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ کھل کر بات چیت نہیں کر پاتے اور رشتوں میں فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔

اس سوچ کو کیسے تبدیل کریں؟

اپنی صلاحیتوں کو تسلیم کریں: اپنی مثبت خصوصیات اور کامیابیوں پر غور کریں۔ اپنے آپ کو حوصلہ دیں اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں۔
دوسروں سے مقابلہ نہ کریں: ہر شخص الگ ہے اور اپنی رفتار سے بڑھتا ہے۔ اپنی توجہ اپنے آپ پر دیں. صحت مند غذا کا استعمال کر ورزش کریں اور رات کو اچھی نیند لیں۔ جسمانی اور ذہنی صحت خود اعتمادی بڑھانے میں مدد کرتی ہے۔
مثبت سوچ کا انتخاب کریں: منفی باتوں کو دہرانے کے بجائے، اپنے بارے میں مثبت الفاظ کا استعمال کریں۔
پیشہ ور افراد کی مدد لیں: اگر آپ اپنی منفی سوچ کو تبدیل کرنے میں مشکالت کا سامنا کر رہے ہیں تو کسی ماہر نفسیات سے مدد لیں۔

یاد رکھیں: منفی سوچ کو مثبت سوچ میں تبدیل کرنے میں وقت اور مسلسل کوشش لگتی ہے۔ مگر یہ ممکن ہے۔
آئیے اب ہم باقی “لائف پوزیشنز” (Life Positions) پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور انہیں حقیقی زندگی کی مثالیوں کے ساتھ سمجھتے ہیں۔

3. “میں ٹھیک ہوں، تم ٹھیک نہیں ہو” (I’m Okay, You’re Not Okay)
یہ ایک ایسی پوزیشن ہے جو تکبر، دوسروں پر تنقید اور غرور کا باعث بنتی ہے۔ اس منظرنامے میں، ہم خود کو دوسروں سے برتر اور زیادہ قابل سمجھتے ہیں۔ ہم دوسروں کی صلاحیتوں کو کم کرتے ہیں اور ان پر costntly تنقید کرتے ہیں۔ یہ رویہ تعلقات میں تلخی، فاصلہ اور نفرت پیدا کر سکتا ہے۔

مثال 1: باس اور ملازم

عدنان ایک سخت اور منفی رویہ رکھنے والا باس ہے۔ وہ اپنے ملازمین کو مسلسل یہ بتاتا ہے کہ وہ کام ٹھیک سے نہیں کر رہے اور ان کی غلطیاں نکالتا رہتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو کمپنی کی کامیابی کا واحد ذریعہ سمجھتا ہے اور دوسروں کی کوششوں کو تسلیم نہیں کرتا۔

تجزیہ: عدنان کی “میں ٹھیک ہوں، تم ٹھیک نہیں ہو” کی پوزیشن کام کے ماحول کو خراب کر رہی ہے۔ ملازمین خود کو کم تر اور بے قدری محسوس کرتے ہیں، جو کام کی کارکردگی اور ملازمین کے مورال کو متاثر کرتا ہے۔

مثال 2: خاندانی تعلقات

فائزہ اپنی بہو، ثانیہ، کی پکائی ہوئی ہر چیز پر تنقید کرتی ہے۔ وہ یہ سمجھتی ہے کہ ثانیہ گھر سنبھالنا نہیں جانتی اور اس کے طرز زندگی میں بہت سی غلطیاں ہیں۔ یہ تنقید مسلسل جھگڑوں کا باعث بنتی ہے اور خاندانی سکون ختم ہو جاتا ہے۔

تجزیہ: فائزہ کی پوزیشن کی وجہ سے خاندان میں کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔ وہ ثانیہ کی صلاحیتوں پر یقین کرنے اور اسے سیکھنے کا موقع دینے کے بجائے، اسے کم تر سمجھتی ہے۔ یہ منفی رویہ خاندانی رشتے کو کمزور کر دیتا ہے۔

4. “میں ٹھیک نہیں ہوں، تم ٹھیک ہو” (I’m Not Okay, You’re Okay)
اس پوزیشن میں، ہم خود کو کم تر اور دوسروں کو زیادہ قابل سمجھتے ہیں۔ ہم اپنے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دوسروں کی کامیابیوں سے ہم جلتے ہیں اور ان کی تعریف کرنے میں جھجکتے ہیں۔ یہ رویہ خود اعتمادی کی کمی، دوسروں پر انحصار اور رشتوں میں فاصلہ پیدا کر سکتا ہے۔

مثال 1: ہم جماعت دوست

مریم ایک ذہین طالبہ ہے، لیکن وہ ہمیشہ اپنی صلاحیتوں پر شک کرتی ہے۔ جب اس کی کلاس فیلو اچھا اسکور کرتی ہے، تو وہ اس کی تعریف کرنے کے بجائے اپنے نمبروں پر مایوسی کا اظہار کرتی ہے۔ وہ اپنی دوست کی کامیابی کو اپنی ناکامی سے جوڑ کر دیکھتی ہے۔

تجزیہ: مریم کی “میں ٹھیک نہیں ہوں، تم ٹھیک ہو” کی پوزیشن اسے اپنی پوری صلاحیت سے آگے بڑھنے نہیں دے رہی ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنی مثبت خصوصیات پر توجہ دے اور دوسروں کی کامیابیوں سے سیکھنے کی کوشش کرے۔

مثال 2: شوہر اور بیوی کا رشتہ

علی ایک کامیاب بزنس مین ہے لیکن اس کی بیوی، زبیدہ، ہمیشہ اس کی عزت و احترام کا مظاہرہ تو کرتی ہے، لیکن یہ بھی کہتی ہے کہ “تم بغیر میرے یہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتے تھے”۔ اس بات سے علی کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی محنت کو کم تر سمجھا جا رہا ہے۔

تجزیہ: زبیدہ علی کی کامیابیوں کو تو تسلیم کرتی ہے لیکن اس کی پوزیشن علی کو حقیر سمجھنے کا تاثر دیتی ہے۔ اس کی تعریف کے انداز میں بھی اس کا اپنا کم تر ہونا جھلکتا ہے۔ اس طرح کامیابیوں کا مزہ اور آگے بڑھنے کی تحریک کم ہو جاتی ہے۔

اہم نتیجہ:

یہ تمام “لائف پوزیشنز” (Life Positions) انسانی تعلقات میں تنازعات، مایوسی اور ناکامی کی طرف لے جا سکتی ہیں۔ ہیرس کا ٹرانزیکشنل اینالسس کا مقصد ہمیں اپنی اور دوسروں کی ان پوزیشنز کو سمجھنے کے قابل بنانا ہے تاکہ ہم منفی سوچ کو مثبت سوچ میں تبدیل کر سکیں اور صحت مند رشتے بنا سکیں۔

صحت مند تعلقات کا کلید “میں ٹھیک ہوں، تم ٹھیک ہو” کی پوزیشن ہے۔ اس میں ہم اپنے اور دوسروں کا احترام کرتے ہیں، مسئلے مل کر حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بڑے ہوتے جاتے ہیں۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ :

ہم اپنی پوزیشنز میں تبدیلی لاسکتے ہیں۔
اپنی اور دوسروں کی منفی سوچ کی نشاندہی کریں۔
شعوری طور پر مثبت “لائف پوزیشنز”کو منتخب کرتے جائیں۔
منفی “لائف پوزیشنز” کو تبدیل کرنا آسان نہیں ہے لیکن یہ ناممکن بھی نہیں ہے۔ ایرک برن کے ٹرانزیکشنل تجزیہ (TA) میں کچھ تجاویز موجود ہیں جن کی مدد سے ہم ہلاپنی اور دوسروں کی سوچ کو مثبت سمت لے جا سکتے 1. خود شناسی (Self-Awareness)
پہلا قدم یہ ہے کہ ہم اپنی “لائف پوزیشن” کو پہچانیں۔ غور کریں کہ آپ اکثر اپنے بارے میں اور دوسروں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ کیا آپ خود کو کم تر سمجھتے ہیں یا دوسروں پر تنقید کرتے ہیں؟ اپنے آپ سے پوچھیں کہ آپ کن منفی “گیمز” میں پھنسے ہوئے ہیں، جیسے “میں جیتا نہیں سکتا” یا “تم مجھے مجبور کر رہے ہو”۔
2. ذمہ داری لیں (Take Responsibility):
اپنی سوچ اور ردعمل کے لیے ذمہ داری لینا ضروری ہے۔ یہ دوسروں کو الزام دینے کا وقت نہیں ہے بلکہ اپنی منفی سوچ کو تبدیل کرنے کا موقع ہے۔

3. مثبت الفاظ (Positive Self-Talk):

اپنے بارے میں مثبت الفاظ کا استعمال کریں۔ اپنے آپ کو حوصلہ دیں اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں۔ منفی باتوں کو دہرانے کے بجائے، اپنی مثبت خصوصیات اور کامیابیوں پر توجہ دیں۔

4. دوسروں کی تعریف کریں (Appreciate Others):

دوسروں کی کامیابیوں کا جشن منائیں اور ان کی تعریف کریں۔ دوسروں سے جلتے رہنے کے بجائے، ان سے سیکھنے کی کوشش کریں۔

5. کھلے ذہن سے بات چیت کریں (Open Communication):

دوسروں کے ساتھ کھلے ذہن سے بات چیت کریں۔ اپنے احساسات کا اظہار کریں اور ان کی بات توجہ سے سنیں۔ غلط فہمیوں کو دور کریں اور مسائل کو حل کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔

6. پیشہ ور افراد کی مدد لیں (Professional Help):

اگر آپ خود اپنی منفی سوچ کو تبدیل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، تو کسی ماہر نفسیات (Psychologist) یا تھیرپسٹ (Therapist) سے مدد لیں۔ وہ آپ کو اپنی سوچ کو سمجھنے اور اسے تبدیل کرنے میں رہنمائی کر سکتے ہیں۔

مثال: “میں ٹھیک نہیں ہوں، تم ٹھیک ہو” سے “میں ٹھیک ہوں، تم ٹھیک ہو” کی تبدیلی

فرض کریں، ایک طالبہ ہمیشہ سوچتی ہے کہ “میں کبھی اچھا اسکور نہیں کر سکتی، دوسرے مجھ سے زیادہ ذہین ہیں”۔ وہ اس منفی سوچ کو کیسے تبدیل کر سکتی ہے؟

خود شناسی: وہ پہلے یہ تسلیم کرے گی کہ وہ خود کو کم تر سمجھ رہی ہے۔
ذمہ داری لیں: وہ اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈالنے کے بجائے، پڑھائی کے اپنے طریقوں پر غور کرے گی۔
مثبت الفاظ: وہ اپنے آپ سے یہ کہے گی، “میں محنت کرکے اچھا اسکور کر سکتی ہوں”۔
دوسروں کی تعریف: وہ دوسرے طلبہ کی کامیابیوں کا جشن منائے گی اور ان سے مشورہ کرے گی کہ وہ کیسے اچھا اسکور کرتی ہیں۔
کھلی ذہن سے بات چیت: وہ اپنے والدین یا اساتذہ سے بات کرے گی اور ان سے پڑھائی میں مدد مانگے گی۔
اس طرح وہ اپنی منفی سوچ کو چیلنج کرکے، مثبت سوچ اپنا سکتی ہے اور اپنی صلاحیتوں کو پورا کرنے کی طرف گامزن ہو سکتی ہے۔

julia rana solicitors london

یاد رکھیں، یہ تبدیلی ایک لمحے میں نہیں آتی. اس میں وقت اور مسلسل کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ٹرانزیکشنل تجزیہ کی مدد سے، ہم اپنی منفی سوچ کو چیلنج کر سکتے ہیں، مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں اور زیادہ خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں.۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply