• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اسلامی مدارس ایک تاریخ اور ایک تجزیہ ۔۔ڈاکٹر غلام نبی فلاحی/حصہ اول

اسلامی مدارس ایک تاریخ اور ایک تجزیہ ۔۔ڈاکٹر غلام نبی فلاحی/حصہ اول

SHOPPING

ابھی چند   دن پہلے کی بات ہے کہ بھارت کی ریاست اترپردیش میں قائم شیعہ وقف بورڑ کے چئیرپرسن مسٹر وسیم رضوی نے بھارت کے وزیراعظم اور اترپردیش کے وزیر اعلی کو ایک  خط  لکھا جو 10 جنوری کو ٹائمز آف انڈیا نے شائع کردیا ہے۔ مسٹر رضوی نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ان مسلم اداروں کو بند کرکے انہیں قومی دھارے میں لایا جائے۔ کیونکہ ان ادارں سے فارغ ہونے والے بچے ملک کی تعمیر و ترقی میں کوئی رول ادا کرنے سے قاصر ہیں۔
“Chairperson of UP Shia Central waqf Board, Waseem Rizvi has written to PM Narendra Modi and UP CM Adityanath Yogi to put an end to madrasas and bring all such Islamic religious institutions under general education system. In his letter also sent to the cabinet secretary, Rizvi has claimed that such madrasas running under the influence of “Muslim Mullahs” are giving misplaced and misconceived religious education to Muslim children, depriving them of opportunity to come forward and be part of nation building.(Times of India Jan 10, 2018,)
”بھارت کی ریاست اترپردیش (یوپی کے ِشیعہ سنٹرل بورڈ  کے چئیرمین مسٹر وسیم رضوی نے وزیر اعظم ہند شری نریندر مودی اور اترپردیش کے وزیراعلی مسٹر یوگی کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں ان سے اس بات کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ دینی مدارس کو فوری طور بند کیا جائے اور ان تمام مسلم اداروں کو گورنمنٹ  کے  نظام  تعلیم کے ماتحت چلایا جائے یا انہیں قومی دھارے میں لایا جائے۔ انہوں نے اپنے اس خط میں مدارس پر یہ الزام بھی لگایاہے کہ یہ سب مسلم ملاؤں کے زیر اثر ہیں جو مسلم بچوں کے ذہنوں کو مذہبی تعلیمات دیکر مسموم بناتے ہیں اور انہیں ملک کی تعمیر و ترقی کے مواقع ے بھی محروم کردیتے ہیں،، ہندوستان ٹائمز، 10جنوری 2018ء۔
آج کل پوری دنیا میں یہ بحث گرم ہے کہ کہ دینی مدارس کی اصلاح کی جائغے کیونکہ یہ بھی دہشت گردی اور دہشت پھیلانے میں ایک رول ادا کررہے ہیں۔ مغربی دنیا میں یہ تاثر عام ہے کہ یہ دینی مدارس دراصل جہادی فیکٹریاں ہیں جہاں دہشت گردی، انتہا پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔Fundamentalism and extremism are the most recognized buzzwords highlighted across the globe during the war of terror. Not only this but these terminologies are ceaselessly attached with the madaris….The madaris are considered as a critical medium for promoting religious extremism, sectarian, social and political views which lead towards the terrorism.(Pakistan Journal of Criminology 79 Volume 3, No. 3, Jan, 2012, pp. 79 – 105)۔
”دہشت گردی اور انتہا پسندی دو ایسے الفاظ  ہیں  جنہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران بہت ہی نمایاں طریقے سے استعمال کیا گیا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ یہ دونوں اصطلاحیں دینی مدارس کے ساتھ نتھی کردی گئیں۔اور یہ تاثر  دینے  کی کی نمایاں کوشش کی گئی کہ دینی مدارس دہشت گردی کی فیکٹریاں ہیں جہاں مذہبی انتہا پسندی، فرقہ واریت اور سماجی اور سیاسی نظریات کو فروغ دیکر دہشت گردی کی پشت پناہی کی جاری ہے،
اخبارات  اور  میگزین سے نہ صرف اس کا تاثر ملتاہے بلکہ کھل کر یہ کہا جارہا ہے کہ ان مدارس میں جہادی لٹریچر کی تعلیم دیکر نوجوانوں کی ذہنی تربیت کی جاتی ہے اور ان کو اسلام دشمن قوتوں کے خلاف نہ صرف جنگ کے لیے تیار کیا جاتاہے  بلکہ  یہ  دہشت گردی کی ایسی فیکٹریاں ہیں جہاں ہر وقت طلبہ کو کلاشنکوف چلانے اور خود کش دھماکوں کی ہی تربیت دیکر انہیں جنت کی راہ دیکھائی جاتی ہے۔Especially western world is completely in favor of doctrine that these educational institutions are generating capacious number of terrorists. Educational curriculums taught at madrassas are not according to the devoir of modern world
موجود ہ عالمی پس منظر میں مدارس اوردہشت گردی حیسے الفاظ یکساں  طور پر استعمال کئے جانے لگے ہیں۔ پاکستان کے علاقہ پشاور میں گھناؤنے اور المناک واقعہ کے بعد ایک بار پھر ان مدارس کو نشانہ بنا یا جارہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ان مدارس کا قیام کیوں عمل میں لایا گیا تھا۔ کیا واقعی یہ مدارس دہشت گردی کے اڈے ہیں یا واقعی ان کے قیام کی کیا غرض و غایت کوئی اور تھی اور ان کا کیا پس منظرتھا۔ ان تمام حقائق کو جاننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کا ایک مختصرسا جائزہ پیش کیا جائے۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ ان مدارس کا نصاب کہاں تک آج کے دور کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور ان میں اصلاح کے کیا طریقے ہوسکتے ہیں اور پھر آج کے جدید دور میں کس طرح سے یہ ادارے معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا ایک بھر پور رول اداکرسکتے ہیں۔

تاریخی پس منظر ایک مختصر جائزہ!

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے انسانیت نے اپنے سفر کا آغاز تاریکی سے نہیں بلکہ علم اور روشنی سے کیا ہے۔ تعلیم درس و تدریس اور مدرسہ تعلیم، تعلم اور معلم جیسی اصطلاحیں دراصل ایک ہی چیز کی مختلف تعبیریں ہیں۔ ان کاتعلق اسلام، قرآن اور رسالت نبوی سے اسی طرح سے جڑا ہوا ہے جس طرح اسلامی عقائد اور فرائض کا ہے۔ بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ دین اسلام کی بنیادیں تو علم پر ہی استوا ر کی گئی ہیں۔غارحرا سے لیکر   نبیﷺ کی حیات طیبہ کے آخری ایام تک اور آپ ﷺ کے بعد اسلام کے ارتقائی منازل کے دوران ہر مرحلہ اور ہرجگہ میں درس و تدریس اور تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری رہا اور قیامت تک جاری رہے گا۔ اسی درس تدریس کے نتیجے میں۔ تمام اسلامی علوم اور افکار اپنی منزلیں طے کرتے رہے۔ قرآن پاک سے متعلق علوم ہوں یا تدوین حدیث کا دور رہا ہو، اسلامی فقہ سے متعلق اصول و فروعات کا معاملہ ہو یا سیاست و معیشت کے مباحث ان تمام کی بنیادیں علم پر ہی رکھی گئی ہیں۔ قرآن پاک اس بات پرگواہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو وحی الہی کے ذریعہ وہ تمام علوم و فنون سکھائے گئے جو آپ ﷺ نہیں جانتے تھے۔ قرآن پاک نے آپ ﷺ کو معلم و مزکی کہااور یہی آپ کا منصبی فریضہ بھی قرار دیا۔

مگر آپ ﷺ کے بعد رسالت و نبوت اور تبلیغ و تعلیم کا ایک بہت ہی محدود اور ناقص تصور پیدا ہوگیاہے جس کا اصل سبب اسلام اور اس کی اجتماعیت کے بارے میں صحیح شعور و علم کا فقدان ہے۔ قرآن پاک، احادیث نبوی اور سیرت سرورعالم ﷺ جو علم و تعلیم اسلامی کے اصل مصادر و منابع ہیں صرف محدود و ناقص حدود مذہب میں مقید کردئیے  گئے جس کے مطابق زندگی فقط اللہ ہو کے گردش کرتی رہی۔ حالانکہ وہ حیات انسانی کے تمام گوشوں، زاویوں اور مرحلوں کا احاطہ کائنات، آفاق و انفس کے علوم پر بھی مبنی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول رحمت ﷺ نے مذہبی، معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی اخلاقی، تہذیبی غرض کہ تمام شعبہ ہائے حیات میں اپنے قابل تقلید اسوے اور مثالیں چھوڑی ہیں جو نہ صرف مسلمانوں کے لیے لازم اتباع ہیں بلکہ وہ حیات انسانی اور کائناتی نظام کی فلاح و ارتقاء کے بھی ضامن ہیں۔ آپ ﷺ نے ان تعلیمات کو عام کرنے کے لیے جو تعلیمی ادارے قائم کئے ان کے بارے میں ہماری معلومات بہت ہی محدود ہیں۔ آپ ﷺ کی سیرت مبارکہ کے مختلف گوشوں کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کہ نبی کریم ﷺ کا فریضہ اور کار منصبی تبلیغ و تعلیم دونوں تھے جہاں تک آپ ﷺ کی ذات اقدس اور صحابہ کا تعلق ہے یہ دونوں خدمات ساتھ ساتھ چلتی رہیں اور مکی اور مدنی دونوں ادوار میں تبلیغ کی تکمیل کے بعد ہی تعلیم صورت پذیر ہوتی رہی۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اسلام کی دعوت و تبلیغ خواہ آپ ﷺ کے دست مبارک کے ذریعہ انجام پذیر ہوئی ہو یا آپ ﷺ کے محبوب صحابہ کرام کے ذریعہ اس کا بنیادی مقصد و محور اسلام کے بنیادی عقائد و فرائض وافکار اور اخلاق کی اصلاح توحید و آخرت کا تصور ہوا کرتا تھا۔ یہ تعلیمات حالات اور جگہ کی مناسبت سے ہوا کرتی تھیں۔

مکی اور مدنی دور میں سب سے بڑا تعلیمی ادارہ تو آپ کی ذات اقدس ہی تھی۔ منصب رسالت سے سرفرازی کے بعد سے  آپ ﷺ کا ہر لمحہ تبلیغ و تعلیم کے لیے وقف تھا۔ قیام و حضر ہو یا روانی‘ سفر، مکان و گھر ہو یا بازار مکہ کے اطراف ہوں یاعکاظ کا بازار، طائف کی گلیاں ہوں یا مدینہ منورہ کی بستیاں، غزوہ بدر کی جوالاں گاہ ہو یا معرکہ و حنین کا میدان کارزار ہو غرضیکہ ہر حال میں آپ ﷺ اپنی ذات کے تعلیمی ادارے سے ہرروز تمام محلوق کو تعلیم دیا کرتے رہے۔ مکئی دور حیات میں آپ ﷺ نے جن تعلیمی اداروں کو قائم کیا۔ ان میں تبلیغی، تعلیمی اداروں کو اولیت حاصل تھی اور ان میں بھی آپ ﷺ کا گھر سب پرمقدم تھا۔ قرآن مجید یا اسلام کی اولین تعلیم اسی گھر میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ پھر حضرت زید بن حارثہ کلبی، ابوبکر صدیق تیمی، حصرت علی بن ابی طالب، عثمان بن عفان اور اس طرح دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے علاوہ بنات مطہرات رضوان اللہ تعالی اجمعین بھی تھیں جو آپ کی ذات سے براہ راست مستفید ہوئیں۔

ابتدائی دو تین سال میں رسول رحمت ﷺ کا حجرہ مبارکہ ہی اسلامی تعلیمات اور درس و تدریس کا بنیادی منبع و مصدر تھا۔ یہی پہلا اسلامی ادارہ تھا جہاں ہر لمحہ تازہ وحی کی روشنی میں اسلامی احکام کی تدوین ہوا کرتی تھی اور فرائض و اعمال کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ وضو، طہارت، نماز، حرام و حلال کے بعض قانونی احکام کی تعلیم اسی گھر میں دی گئی ہے۔دوسرا مستقل مکانی تعلیمی ادارہ مکہ مکرمہ کی مختلف وادیاں او رگھٹیاں تھیں جہاں آپ ﷺ کی رہبری و معلمی میں اسلام کی نظری اور عملی تعلیمات کا بندوبست کیا جاتا تھا۔ تبلیغ دین کے خفیہ تین سالہ دور میں انہیں گھاٹھیوں اور وادیوں میں زیادہ تر مکی مسلمانوں اور بعض معززشہر یوں نے بھی اسلام کے بنیادی عقائدی تعلیمات جیسے توحید، رسالت و آخرت اور امکانی عبادات جیسے وضو طہارت، نماز روزہ و زکواۃ وغیرہ اور بہت سے اخلاقی اور قانونی احکام جیسے مواخواۃ، مواساۃ، ہمدردی و غم خواری اور حلال و حرام ایشیا کے استعمال و عدم استعمال آپ ﷺ سے سیکھے جاتے تھے۔

دارارقم کا قیام عہد نبوی کی پہلی باقائدہ اسلامی درسگاہ شمار کی جاتی ہے اور اس میں رسول اکرم ﷺ کی سکونت منصبی کے ساتھ‘ مکی عہد اور اسلام کا سب سے بڑا اور مستقل مرکز اور تعلیم و تدریس کا عظیم ترین ادارہ وجود میں آیا۔ یہ ادارہ شہری چہل پہل سے الگ تھلگ اور دشمنوں کی نگاہ حسد سے محفوظ کوہ صفا کی تلی میں واقع تھا۔ اور اس گھر کا تعلق بنی مخزومی کے ایک قبیلہ سے تھا۔ جہاں رسول اکرم ﷺ بطور معلم اول قیام فرمارہتے اور طالبان حق ایک ایک کرکے چھپتے چھپاتے، دوپہر کی چل چلاتی دھوپ،رات کی تاریکی اور سناٹے اور صبح کی روشنی کی پوپھٹتے ہی اس تعلیمی گاہ نبوی میں پہنچ جاتے تھے جہاں وہ اسلام اور قرآن کی تعلیم حاصل کر کے اپنی اپنی بستیوں کی راہ لیتے رہے۔ اور اس اسلامی علوم کی مشعل فروزاں  کرتے رہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کی پہلی درسگاہ کے یہ فارغین چمکتے ستارے جہاں جہاں پہنچے انہوں نے اپنے اردگرد اپنا ایک حلقہ قائم کیا۔ یہ حلقے عام طور سے کسی درخت یا کسی پرسکون جگہ پر ہواکرتے تھے اور پھر انہی جگہوں کو وہ اپنی قیام گاہیں بناکر علم کے موتی دوسروں میں بکھیرتے رہے۔دور دراز سے علم کی پیاس بجھانے والے یہاں علم کے سرچشموں سے سیراب ہوکر اپنے اپنے علاقوں میں جاکر یہی فریضہ انجام دیتے رہتے تھے۔ اس عمل کے نتیجے میں اس طرح سے ان حلقوں کی تعداد روز بروز بڑھتی گئی۔ بڑے بڑے امیر زادے بھی ان حلقوں میں اپنی جگہ بنا کر علم الہی سے مستفید ہواکرتے تھے۔

اس طرح سے صدیوں تک تعلم و تعلم کا سلسلہ جاری رہا اور اب بھی اسکے اثرات موجود ہیں۔ ظہور اسلام کے تیس چالیس برس بعد تک مسلمانوں کی یہ تعلیم بڑی حدتک مذہب پر مشتمل تھی اور عام طور پر دینی تعلیم دی جاتی تھی اس لیے یہ مناسب خیال کیا گیا کہ عبادت گاہوں یعنی مسجدوں کو درس گاہوں کے طور پر بھی استعمال کیا جائے۔ چنانچہ جیسے جیسے اسلام پھیلتا  گیا  مسجدوں  کی  ضرورت  بڑھتی گئی اور جو علاقہ بھی اسلام کے دائرہ میں آئے یا جہاں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہوا وہاں فورا مسجد کی بنیاد ڈالی گئی۔ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں بصرہ، کوفہ، شام اور مصر کے گورنروں کو ہدایت بھیجی تھی کہ وہ ان علاقوں میں ایک بڑی مسجد کا قیام عمل میں لاکر تمام لوگوں کو یہ ہدایت کریں کہ وہ جمعہ کی نماز انہی مراکز میں ادا کیا کریں اور اس بات کی بھی تائید کی تھی کہ ہر قبیلہ اپنے اپنے علاقوں میں مساجد قائم کریں۔ اس طرح مسجدوں کی تعداد بڑی تیزی سے بڑھتی گئی اور اسلامی تاریخ میں یہ درج ہے کہ تیسری صدی ہجری میں صرف بغداد میں تیس ہزار مساجد تھیں۔

تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ اکثر مساجد میں درس و تدریس کی محفلیں بھی ہواکرتی تھی اور مختلف علوم و فنون پر بھی بحث و مباحثے ہواکرتے تھے۔ امام حسن بصری نے بصرہ میں، امام ابوحنیفہ نے کوفہ میں اور امام شافعی رحمھم اللہ نے مدینہ میں ایسے علمی حلقے قائم کئے تھے جن کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ انکے حلقوں میں طلبہ کی تعداد ہزاروں تک جاپہنچی تھی۔ یہاں تک کے مساجد سے باہر طلبہ کو کھڑا ہوکر اسباق سننے جگہ بھی نہ مل باتی تھی۔ Madrassah is an Arabic word meaning school or Islamic educational institution. In Islamic history, madrassahs were the major source of religious and scientific learning, especially between the 7th and 11th centuries, producing luminaries such as Alberuni, Ibne-Sina, AIKhawarizmi and Jabir Ibne Hayan.

اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں کہ مدارس کا تصور کوئی نیا نہیں بلکہ اسلامی تعلمیات کی نشرواشاعت کے ضمن میں ان مدارس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے یہ صحیح ہے کہ ان کی شکلیں اور صورتیں اپنے زمان و مکان کے لحاظ سے مختلف تھیں مگر یہ  اپنی  ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے اس شکل میں پہنچ گئے جہاں اب طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کی بنا پر ان مدارس کومساجد سے الگ کرنا پڑا۔ یہ مدارس صرف دینی تعلیم کے لیے وقف ہوا کرتے تھے اور ان میں فقہ اور اصول فقہ سے متعلق تعلیم دی جاتی تھی۔ بیشتر مدرسے شافعی، حنفی، مالکی اور حنبلی فرقے سے منسوب تھے اور فقہ جعفریہ کی تعلیم کے لیے بھی بہت سے ادار قائم کئے گئے خاصکراس وقت جب عراق، شام، اور مصر پر شعیہ عقائد سے تعلق رکھنے والے فرقوں کا قبضہ اور غلبہ ہوگیا۔ مگر جب شعیہ حکومتوں کا زوال شروع ہوا اور سلجوقی اور ایوبی سلطنتوں کو عروج حاصل ہوا تو انہوں نے ایسے مدارس قائم کئے جہاں سنی عقائد کے مطابق دین کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس طرح سے ہر فرقہ نے اپنے اپنے عقائد کے لیے اپنے مکتب فکر کے مدارس قائم کئے۔

غالباً   سب  سے پہلا مدرسہ جس کی اپنی عمارت، سرکاری گرانٹ اور وقف املاک برائے عالم اخراجات اور مرتبہ نصاب تعلیم وغیرہ تھے۔ سلطان محمد غزنوی نے اپنے پائیہ تخت غزنی میں 410ء میں قائم کیا۔Schools in Damascus and Baghdad are comparable to greatest contemporary educational intuitions. During the Abbasid period (750-1258 AD), a need for designing an effective educational system is considered, in order to fulfil the administrative requirements of the Muslim empire. Because of these reasons madaris are developed as a separate educational institution. The first madrassa was established in Morocco تاریخ بتاتی ہے کہ محمد غزنوی نے اپنے زمانہ میں بہت سے مدارس قائم کئے اور اس کے زیر اثردوسرے صاحب ثروت افراد نے بھی ہی خدمات انجام دیں۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ محمود غزنوی کو اسلامی دنیا میں صرف اس کے عسکری حملوں کی وجہ سے تو یاد رکھا ہے لیکن علمی دنیا میں انہوں نے جو انقلاب آفرین اقدام کئے اس کا اقرار واقعی اعتراف نہیں کیا گیا اسے تاریخ کی ستم ظریفی نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔

مزید پڑھیں  مجھے داد نہیں ،داد رسی چاہیے(زینب بے ردا)۔۔۔صدف مرزا

اسلامی دنیا میں مدرسوں کا قیام کوئی نئی بات نہیں‘ سلجوقیوں نے 447 ہجری میں اہل سنت کے نظریات کی تبلیغ و تشہیر کے لیے جوابی تدبریں اختیارکیں اور جو کالجوں اور مدارس قائم کئے اسکی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس ضمن میں نظام الملک نے بغداد، نیشاپور اور بہت سے دوسرے شہروں میں عالیشان مدارس قائم کئے جو انہی کے نام سے منسوب ہوئیں۔ نظام الملک کے نقش قدم پر؛چلنے والوں میں نور الدین  زنگی  کا  نام  سب سے زیادہ روشن ہے جس نے دمشق میں پہلے پہل مدرسوں کی بنیاد رکھی۔ اس کا نام ہی مدرسہ نظامیہ رکھا گیا تھا۔ یہی وہ ادارہ ہے جس کے صدر یا پرنسپل امام الحرمین اور امام غزالی رحمھم اللہ تعالی رہے ہیں۔ امام غزالی کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ انہوں احیاء العلوم جیسی مبسوط کتاب کو یہاں ہی تحریر کیا ہے اور اسکے چند ابواب یہاں کے نصاب تعلیم میں بھی داخل تھے۔ اس ادارے نے تاریخ پر اپنے انمنٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ یہ ادارہ اسلامی دنیا کا اپنی نوعیت کا ایک ایسا ادارہ تھا جہاں قرآن و حدیث اور فلسفہ، منطق کے ساتھ ساتھ وہ تمام علوم پڑھائے جاتے تھے جو اس زمانے کی ضرورت پوری کرتے تھے۔ اسی طرح جامعہ الازہر 359ھ میں مسجد کے طورپر قائم ہوئی تھی 378ھ میں اسے یونیورسٹی (جامعہ)قرار دیا گیااس وقت یہ اسلامی دنیا کی ایک بہت بڑی ینورسٹی ہے جہاں قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ تمام طرح کے جدید علوم پڑھائے جاتے ہیں۔ اور پورا عالم اسلام اسے مستفید ہورہا ہے۔ مگر نظام الملک کے قائم کردہ مدرسے ساری دنیا میں مشہور ہیں۔

ان کے بارے میں مورخین لکھتے ہیں کہ کوئی گاؤں ایسا نہیں جہاں انہوں نے مدارس قائم نہ کئے ہوں۔ حدیہ ہے کہ جزیرہ  ابن  عمر  میں  بھی  (جو دنیا کے آخری سرے پر واقع ہے اور اس کی آبادی بھی کم ہے) ایک بڑا مدرسہ قائم کیا جو رضی الدین کے نام سے منسوب ہے۔ ان مدراس میں کھانے پینے کے انتظامات کے ساتھ ساتھ معلمین کی رہائش گاہیں بھی ہوا کرتی تھی یا جن کو ہم ہوسٹل بھی کہہ  سکتے  ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وسیع و عریض مہمان خانے  بھی ہواکرتے تھے۔ جہاں سے دور دراز کی مسافت طے کرنے والے علماء کرام قیام بھی فرمایا کرتے تھے۔ ان مدارس کا خرچہ عام طور سے متمول مسلم اشخاص براداشت کرتے تھے یا پھر یہ عوامی اعانت سے چلتے تھے مگر بغداد میں قائم چند مدارس کا خرچہ حکومتیں برداشت کیا کرتی تھیں اور اساتدہ کرام کی تنخواہیں بھی ادا کرتی تھیں۔ مگر ایسا بہت ہی کم ہوا کرتا تھا۔ طلبہ سے بھی ٹیوشن فیس سے وصول کی جاتی تھیں یا پھر صاحب ثروت کی مالی اعانتوں سے انکی کمی پوری کی جاتی تھیں۔

تعلیم کے لیے سفر!

حصول تعلیم کے لیے سفر کرنا بہت ہی ضروری سمجھا جاتا تھا.دور دراز علاقوں سے طلبہ ان اداروں کی جانب سفر کیا کرتے تھے سفر میں کئی کئی دن لگتے تھے۔ اس طرح وہ رسول ﷺ کی اس حدیث پر بھی عمل کرتے تھے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ علم حاصل کرو چاہیے چین بھی جانا پڑے۔ دوسری ایک حدیث میں یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں کہ جسمانی آرام و آسائش کے ساتھ علم حاصل نہیں کیا جاسکتا، متعدد احادیث یہ ثابت ہے کہ جو شخص علم کی تلاش میں نکلتا ہے وہ واپس آنے تک راہ حق پر چلتا رہتا ہے اور تلاش علم کی راہ میں جان دینے والے شہید کا درجہ حاصل ہوگا۔

چنانچہ بہت سے مسلمان اپنے گھر بار اور اپنا اہل و عیال چھوڑ کر حصول علم کے لیے کی تلاش میں کہیں سے کہیں جاپہنچتے۔ حالانکہ اس زمانے آج کی طرح سفر کرنے کے لیے سہولیات دستیاب نہ تھیں۔ مگر طالبان حق دور دراز علاقوں کا سفر کرنے میں تامل نہیں کرتے تھے۔ وسیع و عریض اسلامی دنیا ان کی نظر میں ایک ہی ملک کی طرح تھی اور انہوں نے کسی علاقے میں خود کو اجنبی محسوس نہیں کیا۔ علمی مقاصد کے لیے سفر کا سلسلہ مسلمانوں کے ابتدائی دور ہی میں شروع ہوگیا۔ بیرونی دنیا پر فتح پانے کے بعد بہت سے مسلمان علماء نے دارالخلافہ کو خیر آباد کہہ دیا اور نئے مفتوحہ علاقوں میں اپنے ثقافتی مرکز قائم کئے۔ اس ضمن میں بہت سی مثالیں  پیش کی جاسکتی ہیں۔ ان اسفار کو عربی زبان میں رحال کہا جاتا ہے۔ یہاں یہ وقت کے بڑے بڑے علماء سے استفادہ کرکے یا تو اپنے علاقوں میں واپس جاتے تھے یا پھر انہی اداروں میں کام پر مامور کئے جاتے تھے۔ جس کسی نے کسی مشہور زمانہ عالم سے تعلیم حاصل کی ہوتی تھی اسکا نام انکے ساتھ منسوب ہوتا تھا کہ انہوں نے وقت کے اس امام کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرکے تعلیم حاصل کی ہے۔ یہ رحال بھی اسلامی تعلیمات کی نشرو اشاعت کا ایک بہت بڑا ذریعہ تصور کیا جاتا تھا۔ بڑے بڑے اسکالرز جو اپنے اپنے میدان میں ماہرین فن ہونے کی بنا پر مختلف شہروں کا سفر کرکے مختلف اداروں میں توسیع لیکچر بھی دیا کرتے تھے اور ا س طرح سے وہ عالم اسلام میں وقوع پذیر ہونے والے سیاسی انقلابات سے بھی باخبر رہتے تھے۔ جب کبھی کسی بڑے عالم یا مفکر کی موت واقع ہواکرتی تھی تو پورے عالم اسلام میں قائم مدارس اپنے تعزیتی پیغامات بھی بجھوایا کرتے تھے۔ دولت مند طلبہ اور اساتذہ وہاں جاکر تعزیت بھی کیا کرتے تھے ا س طرح سے یہ مدارس انٹرنیشنل سطح پر بھی ایک دوسرے سے نہ صرف جڑے ہوئے ہوتے تھے بلکہ ایک دوسرے کی ہر ممکن تعاون بھی پیش کرنے کے ساتھ ساتھ علم کے مختلف میدانوں میں بھی ایک دوسرے کی مدد بھی کیا کرتے تھے۔

پروفیسرنکلسن نے لکھا ہے کہ طالبان حق عام طور تین براعظموں میں سفرکرتے تھے اور اس طرح لوٹتے جیسے شہد کی مکھیاں  شہد  اکٹھا  کرکے  واپس  آتی  ہیں۔سفر کے اس قیمتی سرمائے سے وہ اپنے بے شمار شاگردوں کو فیض پہنچاتے اور پھر بڑی عرق ریزی کے ساتھ علم و دانش کے اس بحرذخار کو تصنیف و تالیف کی شکل میں منتقل کردیتے۔
اس ضمن میں چند مثالیں بھی پیش کی جاسکتی ہیں جیسے مدینہ کے جابربن عبداللہ کو جب یہ پتہ چلا کہ مصر میں عبد اللہ الجوہانی نام کا ایک شخص ہے جسے رسول اکرم ﷺ کی کوئی حدیث معلوم ہے تو انہوں نے ایک اونٹ خریدا اور ایک مہینے تک سفر کرنے کے بعد مصر پہنچے جہاں انہوں نے الجوہانی سے ملاقات کی اور ان سے وہ حدیث سنی۔ امام بخاری کے ضمن میں مشہور ہے کہ طلب حدیث میں انہوں نے دنیا کے بہت سے ممالک کا سفر کیا ہے۔ البیرونی جو خوارزم کا باشاہ تھا اور جس نے محمود غزنوی اور مسعود کے زمانے میں شہرت پائی, سفر کرکے ہندوستان پہنچا وہاں ہندووں کے ساتھ رہ کر ان کی زبان, ان کی تہذیب و تمدن کے ساتھ ساتھ ادب اور فلسفہ کو بھی سیکھا۔ انہوں اس ملک کی جغرافیائی اور طبعی حالات کا مطالعہ و مشاہدہ کیا اور اپنے مشاہدات کو ایک کتاب میں قلم بند کیا‘ انکی یہ کتاب آج بھی اہل علم میں ایک وزن رکھتی ہے اور اسکے استفادے سے بے نیاز نہیں ہوسکتے۔

چوتھی صدی میں جب احادیث رسول ﷺکو مدون اور قلم بند کرنے کا رواج شروع ہوا تو سفر کی اہمیت بھی کم ہونا شروع ہوگئی۔ کیونکہ احادیث کا ایک وسیع ذخیرہ جمع کیا جاچکا تھا۔اب اس طرح سے طلبہ کو اس بات کی اجازت مل گئی کہ وہ حصول علم کے دوران احادیث کی کتابوں پر اعتماد کریں۔ پانچویں صدی میں جب مدارس کی بنیاد پڑی اور ان میں درس و تدریس کے لیے علماء و فضلاء کو مقرر کیا گیا تو نتیجہ یہ ہوا کہ مدرسہ ہی سفر کی منزل قرار پائی۔ مگر اس کے باوجود آج بھی ہزاروں طلبہ حصول علم کے لیے بہت سے دور دراز علاقوں کا سفرکرتے ہیں۔
ابتدائی دور میں ان مدارس سے سرٹیفکیٹ دینے کا کوئی رواج نہ تھا اور نہ ہی انہیں اس کی ضرورت کبھی پیش آئی۔ طلبا کو یہ فیصلہ خود ہی کرنا پڑتا تھا کہ آیا وہ معلم بننے اور اپنا حلقہ درس الگ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں یا نہیں، لیکن عام طور پر طالب علم یہ طریقہ اختیار کرنے سے گریز کرتا تھا کہ کیونکہ درس کے موقع  پر اگر نئے استاد اور طلباء میں بحث و تمحیص شروع ہوجاتی تو استاد کو اپنی اہلیت اور لیاقت کا ثبوت دینا پڑتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ امام ابو حنیفہ نے خود کو اس قابل سمجھ کر اپنے استاد کا حلقہ چھوڑدیا اور خود اپنا ایک حلقہ درس قائم کرکے اس کی ذمہ داری سنبھالی۔

بہرکیف بعد میں اس کی ضرورت محسوس کی گئی اور اکابر شیوخ اپنے شاگرد حضرات کو اپنے فن میں ماہر ہونے کی سر ٹیفکیٹ جاری کرنے لگے۔ اور باقی مضامین میں بھی یہی اصول اپنایا گیا۔ ان مدارس کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے کتب خانے بھی ہوا کرتے تھے جہاں سے نہ صرف طلبہ مستفید ہواکرتے تھے بلکہ یہ کتب خانے دوسروں کے لیے بھی کھلے رہتے تھے۔ یہ اتنے بڑے ہواکرتے تھے کہ ان میں تمام علوم سے متعلق کتابیں موجود ہواکرتی تھیں۔ ان کتب خانوں کی عمارتیں اتنی بڑی ہواکرتی تھیں آج کی ترقی یافتہ دنیا میں اس طرح سوچا بھی نہیں جاسکتا۔
بہرکیف صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے دور سعید کے بعد عالم اسلام میں مدارس کی ایک روچل پڑی اور ساری اسلامی دنیا میں اس کا ایک ایسا جال بچھ گیا کہ ہر شہر،محلہ اور ہر گاؤں میں ایک دینی مدرسہ قائم ہوا۔ ان میں ایسے ایسے عظیم الشان ادارے بھی تھے جن کے تحت متعدد مدارس کام کرتے رہے۔ اور ان کی حیثیت آج کی اصطلاح میں جدید یونیورسٹی کی سی تھی۔ ان مدارس میں وہی اصول اور عوامل کار فرما نظر آتے ہیں جن کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے۔ ان اداروں کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ ان میں اکثر و بیشتر عوامی چندہ یا انکی معاونت سے چلتے تھے۔ مسلم عوام اپنی زکوۃ و صدقات انہی اداروں کو ارسال کرتے تھے جو اب بھی کسی نہ کسی طریقے سے جاری و ساری ہے اسکی نظیر کسی دوسری تہذیب و تمدن میں ملنا مشکل ہے۔

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ تاریخ کے اتار چڑھاؤ  کے ساتھ ساتھ مختلف ادوار میں مسلمانوں کا پورا نظام تعلیم اپنی بنیادی اقدار کے حصول کی جدوجہد سے عبارت ہے۔ طریقے مختلف رہے ہیں۔ اصول تنظیم میں تنوع نظرآتا ہے اور ان مدارس کی ہئیت بھی بدلتی رہی ہے۔ جب تک مسلمانوں کا نظام قائم رہا تو یہ ادارے بھی پھلتے پھولتے رہے اور ان اداروں نے بھی اسلام کی نشرواشاعت میں بھی اپنا بھر پور رول ادا کیا۔ طلبہ کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنے کے لیے یہ ضروری سمجھا گیا کہ وہ محض کتابوں سے استفادہ نہ کریں بلکہ ان کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ وقت کے علماء سے براہ راست علم حاصل کریں اور ان کی صحبت میں بیٹھ کر جتنا ممکن ہوسکے براراست علم حاصل کریں۔ امام الشافعی رحم اللہ کا قول ہے کہ (جو شخص محض کتابوں سے علم حاصل کرتا ہے وہ علم کے معیار پر کبھی پورا نہیں اترے گا)

اوپر جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ رسول رحمت ﷺ کا منصبی فریضہ یہی قراردیا گیا ہے کہ وہ معلم انسانیت ہیں اور آپ ﷺ کا ارشادگرامی ہے کہ (مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا) اس لیے اگر دیکھا جائے تو طلوع اسلام کے ساتھ ہی آپ ﷺ نے امت کے گل سرسید کو دین مبین کی تعلیم دینی شروع کی۔ یہ تعلم وہ ہر حیثیت سے انجام دیتے رہے۔ مگر آپ ﷺ کے وصال کے بعد وہ سلسلہ کٹ گیا اور صحابہ اور عام لوگ صلاح و مشورے اور مسائل کے استفسارکے لیے خلافاء راشدین کی جانب رجوع کرتے اور ان سے رہنمائی حاصل کرلیتے تھے۔ مگر جوں جون اسلام کا دائرہ وسیع ہوتا گیا تو یہ ناممکن سا ہوگیا۔ خاص کر جب اسلام مختلف علاقوں میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوگیا اور اسلام قبول کرنے والوں کو دین اسلام کی تعلیم دینے کی ضرورت پہلے کے مقابلے میں زیادہ محسوس کی گئی۔ چنانچہ علماء اور مبلغین کو نئے مفتوح علاقوں میں بھیحا گیا اور وہاں جانے والوں کی حوصلہ افزائی کی گئی تاکہ وہ یکسو ہوکر اشاعت دین اور تبلیغ دین میں حصہ لے سکیں۔

مثال کے طور پر رسول ﷺ نے اپنے زمانے میں ہی مختلف صحابہ کو بذات خود مختلف جگہوں پر مامور کیا۔ جیسا کہ فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ وہیں چھوڑا تاکہ وہ مسلمانوں کو اسلام کی تعلیم دیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو کوفہ اور ابو موسی اشعری کو بصرہ روانہ کیا۔ المہدی نے جو لشکر ہندوستان کی جانب روانہ کیا حضرت الربیع بن صبیحہ کو اس کے ساتھ روانہ کیا تاکہ وہ وہاں جاکر معلمی کے فرائض انجام دیں۔ چونکہ اس طرح کے طریقہ کار کو ہم اساتذہ کا تقرر نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ افراد فوجی دستوں میں شامل ہوتے تھے۔ پروفیسر گب نے لکھا ہے یہ فوجی دستے محض لشکروں کا ہیڈکوارٹر نہیں تھے بلکہ نئے دین کی تبلیغ و اشاعت کے مرکز کا کام بھی دیتے تھے۔ مگر اس حقیت سے انکار نہیں کہ دین اسلام کا درد سینے میں لیے ہوئے اور اس کی نشرواشاعت بہرکیف بہت ہی بے چین ہوتے تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے جب مختلف علاقوں کا رخ کیا تو انہوں نے ثواب کی خاطر لوگوں کو دین کی تعلیم دینا شروع کیا۔اور عام طور سے مساجد کو اس کا ذریعہ بنایا۔ ان لوگوں کی نہ کوئی تنخواہ ہواکرتی تھی نہ ہی یہ تنخواہوں پر کام کرتے تھے بلکہ انکا گزر بسر عام طور سے مقامی لوگ برادشت کرتے تھے اور انہیں عزت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا۔

اس کی ایک اور وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ یہ کام ایک منصبی فریضہ سمجھ کر ادا کرتے تھے وہ قرآن پاک کی آیات کے فروخت کرنے کے تصور کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ اور اسے بڑا گناہ سمجھتے تھے۔ اس رجحان نے آئندہ دور کے بہت سے فقہیوں پر بھی اثرڈالا، مثلا حنفی علماء اور ان کے علاوہ احمد بن حمبل، سفیان اثوری نے یہ فتوی دیا کہ قرآن اور حدیث پڑھانے والے کو کسی قسم کا معاوضہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔ مگر بعد میں جب اساتذہ کو باضابطہ مقرر کیا گیا اور انکے ذمہ یہی کام مقرر کیا گیا تو انکے لیے ایک ایسا کفاف مقرر کیا گیا جس سے انکا روزمرہ کا کام چل سکے۔

برصغیر میں تعلم اور مدارس کا قیام!
برصغیر ہندو پاک میں بھی اسلام کی نشرو اشاعت کے ساتھ ساتھ ان مدارس کا قیام عمل میں آیا خاصکر جب محمد بن قاسم کے دور میں برصغیر کا ایک بہت بڑا حصہ مفتوح ہوا اور ایک اسلامی ریاست قائم ہوئی اس زمانہ میں علوم کو بڑا فروغ ملا۔ اس دور کے گہر ے نقوش اور انمٹ اثرات یہاں کی تاریخ اور تمدن میں اب بھی نمایاں ہیں۔ اس زمانے کی تاریخی مواد کھنگالنے سے یہ باتیں نمایاں ہوجاتی ہیں کہ علم کی اشاعت میں سلاطین کی دل چسپی، مدارس کی تعمیرات و مرمت، ان کے تعمیراتی محاسن، نظم و نسق اور طلبہ و اساتذہ کے لیے حکومت کے عطیات و وظائف کے بارے میں تفصیلات ملتی ہیں۔ اب یہ بات کہ یہ ادارے کیسے چلتے تھے اور ان میں کیا کیا علوم پڑہائے جاتے تھے یہ ایک بحث طلب موضوع ہے۔ مختصرا یہ عرض کردینا کافی ہے کہ بعض سلاطین نے علوم کے مراکز قائم کرنے میں دل چسپی لی۔ جہاں ماہرین فنون کے علاوہ وہ اسباب و اوزار بھی مہیا کیے جاتے تھے جو تحقیق و تجربہ میں کام آتے تھے۔ اس ضمن میں خاص طور سے سلطان فیروز شاہ، سلطان فیروز شاہ تغلق، بادشاہ ہمایوں اور شاہ جہاں کی کوششوں ک کا نام لیا جاتاہے ان چاروں حکمرانوں کا دربار علم نجوم وہئیت کے ماہرین کا مرکز تھا۔ فیروز شاہ اور شاہ جہاں کے بارے میں مورخین نے لکھا ہے کہ انہوں نے بعض معاصر ماہرین ہئیت کی نگرانی میں رصد خانہ کی تعمیر کا کام شروع کیا تھا مگر وہ اپنی تکمیل کو نہ پہنچا۔ عہد شاہ جہانی میں علم ہئیت کے ایک ماہر ملا فریدمنجم نے ایک زیچ (Astronomical Table) ترتیب دیا جو بادشاہ وقت کے نام پر زیچ شاہجہانی کے نام سے مشہور ہوئی۔

مختصراً   ہندوستان میں مسلمانوں کا باقائدہ آغازمعزالدین محمد بن سام کے ہاتھوں ہوا۔ قطب الدین سے بہادر شاہ ظفر تک تقریبا ساڑھے سات سو سال مسلمانوں یہاں حکمران رہے اور اس زمانے میں مسلمانوں نے اپنے نظام تعلیم کو نشونما دینے کی بھرپور کوشش کی۔ اس دور میں جس پیمانے پر اسلامی علوم پھیلا آج اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ سلطان محمد تغلق 725-752ھ کے زمانے کے بارے میں مقریزی کی روایت ہے کہ ”سلطان محمد تغلق کے عہد میں دہلی کے اندر ایک ہزار اسلامی مدارس قائم تھے جن میں شوافع کا بھی ایک مدرسہ تھا۔ مدرسین کے لیے شاہی خزانہ سے تنخواہیں مقرر تھیں۔ علوم اسلامی اس قدر عام تھی کہ کنیزیں تک حافظ قرآن اور عالمہ ہوتیں۔ مدارس میں علوم دینیہ کے ساتھ ساتھ معقولات اور ریاضی کی بھی تعلیم دی حاتی تھی،

یہ مدارس معمولی قسم کے نہ تھے بلکہ ان میں ایسے ایسے علی شان علم کے قلعے بھی تھے جو آج کی ینورسٹیوں سے بھی زیادہ عظیم الشان تھے۔ مدرسہ فیروز شاہی کے بارے میں مشہور مورخ ضیاء الدین برنی کا یہ قول نقل کرنے کے قابل ہے کہ”دہلی کا مدرسہ اپنی شان و شوکت، اسکی عمارت، محل وقوع، حسن انتظام اور تعلیمی اعتبار سے اپنی نظیر نہیں رکھتا۔ مصارف کے لیے شاہی و ظائف مقرر تھے۔ پائیہ تخت کو کوئی عمارت حسن تعمیر اور موقع و محل کے لحاظ سے مدرسہ فیروز شاہی کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ مدرسہ کی عمارت بہت وسیع اور ایک بہت بڑے باغ کے اندر تالاب کے کنارے واقع تھی۔ ہرروز سیکنڑوں طلبہ یہاں موجود رہتے تھے اور حصول علم میں منہمک ہوجاتے تھے۔،،

برصغیر میں ایسی بھی درسگاہوں کا پتا چلتا ہے جہاں تعلیم کا ایک انقلابی تصور مودجود تھا۔ قدیم درسگاہوں جس کی واضح نشانی ہمیں ملتی ہے وہ شاہ والی اللہ دہلوی ؒ کی درسگاہ ہے جس کا واحد نصب العین ایسے علماء تیار کرنا تھا جنکے ذریعہ ہندوستان میں اسلام کو زندہ کیا جاسکے۔ یہ درسگاہیں مسلکی تعصب سے پاک تھیں۔ یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ پہلے زمانے میں ماہرین علوم و فنون کے گھر ہی میں تعلیم گاہ بن جاتی تھی جو عالم جس علم میں اچھی شہرت رکھتا اس کے مکان پر درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہوحاتا اور دوردور سے طالبان حق یہاں آکر اپنی علمی پیاس بجھاتے۔ حضرت شاہ صاحب نے اسی انداز سے تعلیم حاصل کی اور اسی انداز سے تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ ابتدا میں طلبہ کو اپنے ہی گھر پر پڑھاتے رہتے تھے جب طلبہ کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی اور شہرت پھیل گئی تو سلطان محمد شاہ نے ایک بہت بڑی عمارت مدرسہ کے لیے ہبہ کی اور خود ہی اسکا افتتاح بھی کیا۔ پھر یہ دارالعلوم بن گیا اور مشہور علماء یہاں سے فارغ ہوتے رہے۔

شاہ ولی اللہ صاحب کی اسی درسگاہ کے فارغین نے سید احمد شہید کی تحریک جہاد میں شرکت کی اور ہندوستان میں اسلام کی نشاء الثانیہ کے لیے اپنی جانوں کو نذرانہ پیش کیا۔ موصوف کی اس انقلابی دعوت اور مجاہدانہ خیالات نے ان کے قائم کردہ ادارے کے طلبہ پر بھی گہرے اثرات ڈالے اس ادارے سے جن لوگوں نے کسب فیض کیا وہ سب ہندوستان میں احیاء اسلام کے لیے کمر بستہ ہوگئے۔ شاہ صاحب کا قائم کیا ہوا ادارہ ایک مدت تک قائم رہا اورعرصہ دراز تک اپنے فرائض انجام دیتا رہا۔ پھرمرور زمانہ کے ساتھ ساتھ اس مدرسہ کی انقلابی صفت آہستہ آہستہ ختم ہوتی چلی گئی۔اس ادارے کے ذریعہ شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے مسلمانوں کے اندری پھیلی ہوئی بدعات و خرافات اور وقت کے امراء و سلاطین کے اندر پھیلی ہوئی عیش پرستی دونوں کے خلاف قلمی جہاد چھیڑا اور اصلاح معاشرہ، اصلاح حکومت دونوں کا بیک وقت شروع کیے۔ وہ اسلامی نظامت خلافت کے لیے سب سے زیادہ متفکر تھے اور دوبارہ اسکو اپنی ہئیت میں دیکھنے کے متمنی تھے۔ اس ضمن میں انکی دو کتابوں کا مطالعہ بہت ہی اہمیت رکھتا ہے۔ جن میں ازالۃ الخفاء اور حجۃ اللہ البالغہ بہت ہی مشہور ہیں۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ یہ مدرسہ شاہ ولی اللہ دہلوی کے فارغین ہی تھے جنہوں نے انگریزوں کی حکومت اور انکی تہذیبی جارحیت کو چلینج کیا۔مگر بدقسمتی سے ان جانبازوں کی کوششیں مقام بالاکوٹ میں 1831ء میں ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ ان دلخراش و دلدوزواقعات کے بعد برصغیر کے مسلمانوں خاصکر علماءکرام میں ایک اضطراب پیدا ہوا۔ اور چند سالوں بعد 1857ء میں اس تحریک نے دوبارہ زور پکڑا اور تو کچھ دوسرے مجاہدین اٹھے جنہوں نے پورے ہندوستان میں انقلاب کی لہردوڑادی۔ اس قافلہ کی قیادت بھی علماء کرام ہی انجام دے رہے تھے۔ اس سال کو برصغیر کی تاریخ میں غدر کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔

SHOPPING

جاری ہے۔۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اسلامی مدارس ایک تاریخ اور ایک تجزیہ ۔۔ڈاکٹر غلام نبی فلاحی/حصہ اول

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *