کامیابی خراج مانگتی ہے

ہر عظیم عمل ایک قیمت رکھتا ہے ہر کارنامہ انسان سے خراج مانگتا ہے.

جتنی بڑی کامیابی ہو گی، اور جتنا عظیم معرکہ سر کیا گیا ہو گا اس کے پیچھے اتنی ہی بڑی قربانی ہو گی. ہم دوسروں کی کامیابیوں کو دیکھتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھ پاتے کہ اس کامیابی کے پیچھے کتنے رت جگے اور کتنی تمناؤں کا خون موجود ہے. کتنی خواہشات کا قتل اور کتنی تشنہ آرزوئیں ہیں. برستی بارشوں کے پیچھے سمندر پر سورج کی تپش اور بادلوں کا میلوں لمبا سفر موجود ہوتا ہے اونچی عمارتوں کی بنیادوں میں آرکیٹیٹ کا برسوں میں حاصل کیا گیا تجربہ اور مزدور کا پسینہ ہوتا ہے. گارے سے اینٹ بنانے والے سے سیمنٹ فیکٹری کی بھٹیوں میں آگ بھرنے والے تک سب کی مشترکہ محنت ایک عمارت کھڑی کرتی ہے.

ہم جس بلب سے روشنی لیتے ہیں اس کے پیچھے تھامس ایڈیسن کے رت جگے ہیں، ہم جس آئن سٹائن کو پچھلی صدی کا عظیم ترین دماغ مانتے ہیں وہ اس کامیابی کے لئے اپنے خاندان سے کنارا کش ہو چکا تھا. انبیاء کی زندگی بھی آزمائشوں سے عبارت ہے. کارل مارکس نے جس اخبار میں بھی لکھا وہ حکومت کی طرف سے کالعدم قرار دے دیا گیا برسوں کی کسمپرسی اور غربت کی زندگی ان کا مقدر رہی اس کے بعد اسے اکنامکس کا جینئیس مانا گیا. سب لکھتے ہیں کہ کولمبس نے امریکہ دریافت کیا لیکن اس سفر کے دوران کھلے اور تاحد نگاہ سمندر کے بیچ برسوں کے کٹھن سفر کا تذکرہ شاز و نادر کسی تحریر میں آتا ہے. چالس ڈارون کا نظریہ ارتقاء سب کے سامنے ہے اور اس کا نقاد یہ تک نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی ریاضت اور انتھک محنت موجود ہے.

عظیم انسان پر تنقید آسان ہوتی ہے. وقتی طور پر اس نقاد کو سراہنے والے بھی میسر ہوتے ہیں لیکن وقت بہت بڑا منصف ہے. ایڈیسن پر ہنسنے والے نامعلوم ہیں آئن سٹائن کو سنکی کہنے والوں کا نام تک معروف نہیں. کارل مارکس کو خبطی کہنے والوں کا نام و نشان تک نہیں. نقادوں نے باتیں بہت کیں لیکن ان کے پائے کا معاشی نظام کوئی امپلیمنٹ نہ کر پایا.

تاریخ نتائج دیکھتی ہے. کارنامے یاد رکھتی ہے. اسی بنیاد پر اشخاص کی تعظیم ہوتی ہے. میر جیسا سوز پیدا کرنے کے لئے میر جیسی زندگی بھی جینی پڑتی ہے. راہرو کو آبلے سہنے پڑتے ہیں تلاش کی دیوی کا پجاری بننا پڑتا ہے آنکھوں کے گرد حلقے سجانے پڑتے ہیں تب جا کر لیلائے منزل کی ایک جھلک نظر آتی ہے… پھر فقط وصال ہی یاد رہتا ہے راہ کی الجھنیں، مسافتیں، مصیبتیں، آفتیں، صعوبتیں سب بے معنی ہو جاتی ہیں.

اور پھر تاریخ صرف فتوحات گنتی ہے…

ثاقب الرحمن
ثاقب الرحمن
چند شکستہ حروف ، چند بکھرے خیالات ۔۔ یقین سے تہی دست ، گمانوں کے لشکر کا قیدی ۔۔ ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *