ترجیحات کا بدل جانا ہی اصل پریشانی ہے۔
آپ کویاد ہوگا ابھی کل کی بات ہے مسلم پرسنل لا بورڈ میں عہدے تفویض ہوئے تھے۔ پھر ان عہدوں سے سے لدے پھندے ہمارے” عہدہ واہن” جب اپنے شہر پہنچے یا جہاں سے گزرے عہدوں سے سَنے وجود پر پھولوں کی مالائیں لادی گئیں۔ہفتوں ان استقبالیوں کا ہنگامہ بپا رہا ۔ اسلاف کے رویوں کے خلاف یہ بالکل نئی طرز تھی جو ایجاد ہوئی ۔مگر یہ کام ماہرینِ علوم دینیہ سمجھے جانے والے اکابر علماء کر رہے تھے لہذا کسی کو جرأت تنقید نہ تھی حرف نقد رکھنے والے یا تو مصلحتاً چپ تھے یا لجلجی تاویل پیش کر رہے تھے۔۔ ایک مہینے سے زیادہ یہ” جشن تاج پوشی مچا” رہا ۔
سوشل میڈیا کی تمام دیواریں اس جشن کی نیچے دبی ہوئی کراہ رہی تھیں۔
جیسا ماحول بائیس جنوری کو سیکولر بھارت کے سیکولر لوگوں کا تھا وہی حال اس وقت علمائے کرام کا تھا ۔
اکتیس جنوری کو دلی اور بنارس سے دل چیر دینے والی دو خبریں آئیں مگر یہ خبر چند دور افادہ تحریروں سے زیادہ نہ تھیں۔
وہی چند کمزور آوازیں تھیں جو شدت غم سے گلے میں ہی گھٹ کر رہ گئیں۔۔
ہم حاشا وکلا اربابِ پرسنل لا بورڈ کے
جشن عہدہ پراپت پر نقد نہیں کر رہے ہیں ۔
ہم تو کہتے ہیں عہدے ملنے کی خوشی میں محفل رقص و سرود بھی منعقد کیجیے وی آئی پیز کو کاک ٹیل پارٹی بھی دیجیے۔عام مساہمین کو ٹھرے پر ٹال دیجیے۔۔ مگر جس کامکے لیے آپ نے قوم کو اپنی اہمیت بتلائی ہے وہ تو کیجیے ۔اورجس کے لیے آپ نے یہ سب ہڑدنگ مچایا ہے اس کا دیدار نہ سہی جھلکی ہے دکھائیے۔
۔۔۔
اب آپ جیسے تمام عہدہ گرفت بزرگوں کا ہر طرف سے اگر بہت ہوا تو ایک دور کا سوتیلا لیٹر پیڈ غیر لسانِ قوم میں نشر ہوگا جس کی اہمیّت جنگل میں ناچتے مور کے درشن سے بھی کمہوگی کہ مورِ بیاباں رقص کو کوئی تماش بین میسر نہیں آپ کے مہر ونشان والے خط کو سمجھنے والے ناپید یہ خطوط صرف ہم جیسے پرستاروں کو واہ کا سامان دیں گے اور آپ کے کارناموں میں ایک اور عظیم الشان لیٹر پیڈ کا اضافہ ہوگا ۔
۔۔۔۔
ہم جب شکوہ کرتے ہیں تو آپ کمال رعونت سے ہم سے پوچھنے لگتے ہیں کہ ہمکیا کر رہے ہیں ۔ یہ کوئی تصوراتی جملہ نہیں ہم نے دو دن پہلے قومی یک جہتی کے کئی ٹھیکیداروں سے فون پر گفتگو کی جب وہ ہمارے سوالوں کا جواب نہ دے سکے تو کچھ نے خوش اسلوبی سے فون کاٹ دیا اور بہت سوں نے یہی سوال کیا کہ ہم نے قوم کے لیے کیا کیا ہے۔
۔۔۔
واہ بھئی کام کا ٹھیکہ آپ کے نام اٹھا ہے تو کام آپ کو ہی کر نا ہے۔۔ ہم تو آپ کی بنائی ہوئی سڑک پر چلنے والے فائدہ کَش لوگ ہیں ۔۔اگر آپ اپنے ٹھیکے کا کام نہیں کریں گے تو جب تک آپ ٹھیکیدار ہیں ہم آپ سے سوالات کریں گے ۔آپ ٹھیکہ چھوڑ کر الگ ہوجائیں ہم نئے ٹھیکیداروں سے سوال کریں گے۔۔ اگر پھر بھی آپ کا سوال ہم سے ہی ہے کہ “ہم کیا کر رہے ہیں” تو لائیے سارا راج پاٹ ہمیں دیجیے ،یہ کرسی بھی وہ مسند بھی یہ منقولہ جائیداد بھی وہ غیر منقولہ اثاثہ بھی یہ القابات تجدید وتفکیر تفہیم بھی ۔۔
آپ نے قوم کو مختلف عنوان سے سالوں سے جھانسے میں رکھا ہے ،جگہ خالی کیجیے جب ہم آپ کی جگہ بیٹھ جائیں گے ،جب سارے عہدے ،کل اثاثے اورسبھی القاب ہمارے تصرف میں ہوں گے تب آپ کو ہم سے سوال کرنے کا حق ہوگا۔
بلکہ ہم تو آپ کو گریباں گیر ہونے کی اجازت بھی دیں گے۔آپکی طرح نہ ہوں گے کہ قدر وقیمت کے اس گھٹے ہوئے سائبان کے باوجود” مدظلہ” بنے گھومتے رہیں ۔
۔۔۔
جنگ لڑنے والے سپاہیوں سے فتح وشکست کا سوال ہوگا کسانوں سے نہیں ،مطبخ کی ٹوٹی رکابیوں کا حساب خانساماں سے ہوگا فوجی سے نہیں ۔۔آپ اپنے کہے سے مجاہد ملت وغیرہ وغیرہ ہیں تو ہمیں ہمیں اپنے برومند درخت کی چھاؤں اور بارآوری پیڑ کا پھل کھلائیے۔
۔۔۔۔
اگر آپ سے چیزیں نہیں سنبھل رہیں ہیں تو خدا کے واسطے ہماری جان چھورئیے۔
جو سنبھال سکتے ہیں انھیں اپنی جگہ لائیے اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ ہی ماجھی ہیں ،آپ ہی کے ہاتھوں پتوار رہنی چاہیئے ،آپ ہی ماہر کھیونہارے ہیں، آپ کی ناخدائی سے ہی بیڑے پار اتریں گے، تو ہمیں نتیجہ دکھائیے۔
ہم نظر باز ہیں دکھلا ہمیں دیوی کا جمال
مورتی ہم سے برہمن نہیں دیکھی جاتی
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں