پان (Pan) یونانی اساطیر کا وہ خدا ہے جو پیدا ہوا تو بکریوں جیسی ٹانگیں اور سر پہ سینگ تھے ، بچے کی اس خوفناک شکل کو دیکھتے ہی اس کی ماں خوف سے بھاگ کھڑی ہوئی، یہیں سے نفسیات کی اصطلاح Panic attacks ہے جب آپ ایسا خوف محسوس کریں جس کی کوئی معروضی وجہ نہ ہو، پان خداؤں کی کمتر شکل ہے، یہ چراگاہوں ، چرواہوں ، مال مویشیوں اور جنگلات کا خدا ہے۔
اسی خدا کو بعد میں مستورات کے ساتھ تعلق میں بھی مشکلات کا سامنا رہا کہ وہ اس کی بھدی جسامت سے خائف رہتیں، ان مستورات کو Nymphs کہا جاتا ، اگرچہ اس کے معنی وسیع تر ہیں، فطرت کی اساطیری خوبصورتی بھی اسی زمرے میں آتی ہے، جنسی خواہش کی شدت کے معنی بھی ہیں، Nymphomaniac کی اصطلاح یہیں سے برآمد ہوئی، Nymph بھی درحقیقت ایسی دیوی ہے جو دیویوں کی کمتر شکل ہے، یہ زرخیزی، درخت پانی وغیرہ کی دیوی ہے, لیکن کمتر ہونے کی وجہ سے لافانی نہیں ہے ایسے ہی جیسے پان فانی ہے کیونکہ وہ کمتر ہے۔
اس خدا ،پان، کا بیکراں جنگل جہاں سے شروع ہوتا ہے، اس کے آگے اندھیرا ہے، راہی راہ بھٹک سکتا ہے،
” ظلمت ایسی کی سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی ” ۔
پان کے اس جنگل کی شروعات کو سیگمنڈ فرائیڈ نے لاشعور کا نام دیا ، جو گھپ اندھیرے میں ہے اور اس قدر گہرا ہے کہ دائیں ہاتھ کو بایاں ہاتھ نہ دکھائی دے۔
اس جنگل کے باہر پان ہر وقت نیمف کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے کہ شاید کچھ ہاتھ آجائے، اس کی تمام خواہشات ، تمام افعال اسی کوشش کے گرد گھومتے ہیں، اس کو بنیاد بنا کر فرائیڈ نے طے کیا کہ فرد کے تمام افعال کا محرک، لطف، ہے، پان اس بھیانک دنیا میں آکر پریشان بھی ہے، وہ ماں کی کوکھ اور اس سے پہلے کے سنہری دور کو یاد کر کے، مونجھا، رہتا ہے، جہاں وہ کامل لطف کی کیفیت میں تھا، اب وہ اس لطف کو یاد کرتا ہے اور ہر طرف لطف کو ڈھونڈھنے کی کوشش کرتا ہے، کئی سنجیدہ ناقدین کا کہنا ہے کہ فرائیڈ کو یہاں، لطف ، کی ںجائے، راحت، کی اصطلاح استعمال کرنا چاہئے تھی، کہ ماں کی کوکھ اور اس سے پہلے کے سنہرے دور میں وہ جس کیفیت میں موجود تھا، وہ راحت ہے، لطف اپنے اندر کچھ غیر مرئی اور محدود سے معنی رکھتا ہے۔
فرائیڈ کے اس نظریئے پر کارل ژونگ نے دو مختلف پہلوؤں سے گرفت کی، ژونگ کا کہنا تھا کہ پان کے جنگل کی شروعات سے لاشعور کی ابتداء نہیں ہوتی، بلکہ اس جنگل کو پار کرنے کے بعد آپ ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں جو اساطیر اور غیر مرئیت کی ابتداء ہے اور یہی لاشعور ہے، اس جنگل کو پار کر کے آپ اپنے آباء و اجداد کے شعور کو ” سونگھ” سکتے ہیں، لاکھوں سال پہلے کی دنیا کو محسوس کر سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک جس جگہ سے یہ جنگل شروع ہوتا ہے، اس مقام سے صرف بھوک اور جنس کے چاکرے محسوس کئے جا سکتے ہیں، اسی لئے صرف انہی کی جستجو رہے گی ، لیکن جنگل کی سختیاں بھگتنے اور اسے پار کرنے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ بھوک اور جنس کے علاوہ، قلب و فہم، مزاج و کردار کے چاکروں کے ساتھ ساتھ چھٹا چاکرہ بھی آشکار ہوگا، کئی ناقدین باور کراتے ہیں کہ ژونگ یہاں روحانی اور قلبی واردات کا ذکر کر رہے ہیں، لیکن پروفیشنل سائیکیٹرسٹ ہونے کی وجہ سے وہ روح ، خدا یا مذہب کی کھلے عام تبلیغ نہ کر سکتے تھے ، کیونکہ جدید نفسیات میں ایسے ایقان کی کوئی گنجائش نہیں، لیکن اشارے انہوں نے خوب دیئے ہیں۔، یہیں سے کارل ژونگ نے اجتماعی انسانی لاشعور کا تصور پیش کیا، جو اپنے آپ میں نہایت وسیع اور انتہائی معنی خیز ہے کہ جو بچہ بھی اس دنیا میں آتا ہے وہ اپنے لاشعور میں پہلے سے کچھ کردار، مزاج، نفسیات اور نظریات ساتھ لاتا ہے، بعض اوقات یہ لطف اوریئینٹید بھی ہو سکتے ہیں جیسے فرائیڈ نے بتایا، لیکن ضروری نہیں کہ ہر بچے کا مرکزی محرک لطف ہی ہو، اجتماعی انسانی لاشعور ایک بیکراں سمندر ہے، اس سمندر سے کون کیا لا رہا ہے، یہ بڑی پیچیدہ بحث ہے۔
فرائیڈ کے نظریات کا دوسرا پہلو جس پر ژونگ نے گرفت کی ہے، وہ یہ کہ فرائیڈ اس خدا، پان، کو بنیاد بنا کر انسانی نفسیات پر بحث کر رہے ہیں، پان مذکر ہے، مرد ہے، نر ہے، اس لئے یہ صرف یک جہتی نفسیات کی تشریح ہے، فرائیڈ یہ تو دیکھتے ہیں کہ پان ، نر ، کیا چاہتا ہے، اس کی کیا خواہش ہے، اسے کس چیز کی تلاش ہے، لیکن موئنث Nymphs پر کیا گزر رہی ہے، اس بارے سوچنے کا تکلف کیوں نہیں کیا جاتا؟
یہاں مزکر یا مؤنث کو لفظی معنوں میں نہ لیا جائے۔
یہ نفسیات کے میدان میں پہلا ایسا قدم تھا جس نے تفصیل کے ساتھ ایک دلچسپ بحث کو آگے بڑھایا، اب تک صرف سبجیکٹ کو لے کر نفسیات پر کام کیا جا رہا تھا، ژونگ کا کہنا ہے کہ nymph آبجیکٹ اس لئے ہے کہ آپ اسے پان کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، لیکن جب آپ خود کو اس کی جگہ پر کھڑا کریں تو Nymph ایسے میں خود سبجیکٹ بن جائے گی، پان اگر لطف کا خواہاں ہے تو ضروری نہیں کہ نیمف بھی جنس کی بھوکی ہو ، اس کے اپنے مسائل ہو سکتے ہیں، اس بحث نے گویا کہ نفسیات کو عمودی سمت کے علاوہ اب افقی پیمانے پر پرکھنے کی داغ بیل ڈالی ۔
کارل ژونگ کے ان چیلنجز سے فرائیڈ اور ان کے درمیان کئی سالہ تعلقات میں دراڑ آئی، یہ دراڑ فرائیڈ کیلئے زیادہ تکلیف دہ اس لئے تھی کہ وہ اس تعلق میں استاد کے مقام پر فائز تھے جبکہ ژونگ شاگرد تھے، لیکن ژونگ نے ایک علم دوست کی حیثیت سے ارسطو کے اس قول کی پاسداری کی کہ
” افلاطون مجھے عزیز ہے، لیکن سچ مجھے افلاطون سے عزیز تر ہے ”
اسی چیز کو شیکسپیئر نے اپنے ڈرامے جولیئیس سیزر میں بروٹس کی زبانی کہلوایا کہ
” ایسا نہیں کہ مجھے سیزر سے کم محبت تھی، لیکن روم سے میں زیادہ محبت کرتا تھا ”
ژونگ کے ان چیلنجز سے فرائیڈ کی شخصیت اور ان کی خدمات کسی صورت کم نہیں ہوتیں ، کیونکہ علمی دنیا میں آپ کی ہر دریافت، ایجاد، نظریہ بس اسی دائرے کو بڑھاتا ہے جو پہلے سے موجود تھا، فرائیڈ نے نفسیات کے میدان میں جو علمی تحقیقات انسانیت کو دان کیں، اسی دائرے کو کارل ژونگ نے مذید بڑھایا، علم اسی طرح آگے بڑھتا ہے، پروان چڑھتا ہے، اس میں ہر اس شخص کی خدمات کا اعتراف ضروری ہے جس نے ان علمی دائروں کو وسیع تر کیا ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں