دربار، پیر، دھمال، شرک اور ہمارا کلچر

7 سال پہلے کسی سلسلے میں لاہور جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک ملنے والی آنٹی نے سلام دعا کے بعد فرمایا:

آنٹی: بیٹا لاہور آئے ہو تو داتا دربار پر حاضری دے آؤ۔ وہاں ان سے مانگ آنا، آئیندہ زندگی سنور جائے گی۔
میں: آنٹی چھوڑیں، مجھے ایسے پیر کا پتا چلا ہے کہ جو داتا صاحب سے لیکر لال شہباز قلندر سے لیکر بہاؤالدین ذکریا سے لیکر نظام الدین اولیا سے لیکر اجمیر شریف سے لیکر برِصغیر پاک و ہند کے تمام اولیاء کرام کے سب سے بڑے پیر تھے۔یہ سب اُنہی کے مرید تھے۔ پیروں کے پیر، پیر و مرشد، پیرِکامل۔
آنٹی: بیٹا ایسا کونسا پیر ہے مجھے بھی بتاؤ؟
میں: آنٹی ہمارے نبی پاک صل اللہ علیہ وآلِہ وسلم۔ آپ ان پر درود بھیجیں گھر بیٹھے، ان تک پہنچ جائیگا۔ آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واسطہ دیکر اللہ سے مانگیں، اللہ ضرور سنے گا۔
آنٹی تو میری طرف ایسے دیکھنے لگیں جیسے میں نے انکی طلاق کرا دی ہو.
بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ جناب ہمارے خطے کے جتنے بھی اولیاء کرام گزرے ، انکی خدمات اللہ، اسکے پیارے نبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام کی سربلندی کے لیے تھی۔ ہندو ازم اور اسلام کا فرق بتاتے اور واحدانیت کی تعلیم دیتےتھے۔ انکے ہندو و سکھ مرید انکی خوش اخلاقی اور سچائی کی بدولت تھے۔
اب آپ موجودہ حالات ملاحظہ کیجیے:
نوکری کے لیے، اولاد کے لیے، رشتے کے لیے، دولت کے لیے درگاہ جاکر سجدہ کرنا ہے مسجد جا کر سجدہ نہیں کرنا۔ غریب کام والی کے پھٹے پرانے کپڑے دیکھ کر بھی اسے ایک جوڑا لیکر دینے کی توفیق نہیں ہے لیکن درگاہ پر چادر چڑھانی ہے۔ ہمسایہ بھلے بھوکا سو جائے، مزار پر دیگ ہر جمعرات کو دیکر ثواب حاصل کرنا ہے۔ رات کو اٹھ کر چار رکعات تہجد پڑھی نہیں جاتی،ہاں مگر مزار پر قوالی کی محفل ساری رات سرشار رکھتی ہے۔ اور چرس کےنشے میں ڈھول کی تھاپ پر دھمال کے تو کیا ہی کہنے ہیں۔ اب ایسی سہولت مسجد میں تو ملنے سے رہی۔
جناب درباروں اور مزاروں پر لنگر اور صدقہ خیرات باقی خرافات اور حرکتوں پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔ آپکے آج کل کے مزار و درگاہ توحید و بندگی کی، تعلیم و تربیت کی خانقاہیں نہیں رہیں۔ اب یہاں، قوالی کی آواز پر دھمال کے نام پر رقص ہوتا ہے، چرس و افیون بکتی اور کھلے عام پی جاتی ہے، اور معذرت کے ساتھ، دھندے کا کام بھی خوب چمک رہا ہے۔

کچھ محترم اور نہایت قابل دانشور اسے کلچر کا حصہ قرار دیکر نرمی اختیار کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ عرض خاکسار کی بس اتنی ہے،ہم اِن تمام اولیاء کرام کی جوتیوں کے برابر بھی نہیں ہیں، انکی عزت انکا رتبہ ہمارے اعمال ہماری سوچ تک سے بہت بلند ہے۔ لیکن اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ اُن توحید کے مبلغین کی ساری تعلیمات کلچر کے نام پر تباہ کر دی جائیں۔ جناب ہمارا کلچر ہندوانہ ہی تھا۔ ہم سب کے آباؤ اجداد نے کچھ نسل پہلے اسلام اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کو ہی قبول کیا تھا۔

Avatar
عثمان گل
پیشے کے لحاظ سے اِنجینیئر۔ معاشرے میں رنگ، نسل، زبان اور مذہب کے لحاظ سے مثبت تبدیلی کا خواہاں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *