کوریا میں ریفیوجی ویزہ۔۔ محمد عبدہ

 کوریا سمیت دنیا بھر میں 70 ہزار سے زیادہ پاکستانی سیاسی پناہ کے منتظر ہیں ۔ جبکہ  حکومت پاکستان کے مطابق 70 ہزار سے زیادہ پاکستانی مختلف ممالک میں سیاسی پناہ کے منتظر ہیں۔ ذیل میں ان ممالک کی تفصیل دی جا رہی ہے جہاں اعدادوشمار کے مطابق سب سے زیادہ معلوم پاکستانی سیاسی پناہ کے طلبگار ہیں۔

جرمنی!

جرمنی میں بظاہر ایسے پاکستانیوں کی تعداد سب سے زیادہ یعنی 30 ہزار ہے جو وہاں کی حکومت سے سیاسی پناہ مانگ رہے ہیں۔ تاہم وہاں ایسے معاملات میں کامیابی کی شرح انتہائی کم یعنی محض تین فیصد ہی ہے۔

جنوبی افریقہ !

پاکستان جنوبی افریقہ ایسوسی ایشن کے مطابق وہاں   25 سے 30 ہزار پاکستانیوں نے سیاسی پناہ کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں جبکہ وہاں پاکستانیوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔

یونان!

اس وقت یونان میں غیر قانونی تارکین وطن پاکستانیوں کی تعداد تقریباً نو ہزار ہے۔ ان میں سے تقریباً چھ ہزار آزاد جبکہ تین ہزار مختلف حراستی مراکز میں موجود ہیں۔

ہانگ کانگ!

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ میں گزشتہ پانچ برسوں میں تقریباً 15 سو پاکستانیوں نے سیاسی پناہ کے لیے درخواستیں دی ہیں جن میں سے نو  سو کو پناہ دی بھی جا چکی ہے۔ انڈونیشیا !

انڈو نیشیا حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس سرکاری سطح پر معلومات نہیں کہ کتنے پاکستانیوں نے اس ملک میں سیاسی پناہ کے لیے درخواست دی ہے لیکن غیرسرکاری ذرائع سے اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق 800 پاکستانیوں نے ایسا کیا ہے۔

جنوبی کوریا!

جنوبی کوریا میں سیاسی پناہ کا ویزے لینے والوں کی تعداد پچھلے تین سال میں 25 سو سے زیادہ ہوچکی ہے جو وہاں کی حکومت سے سیاسی پناہ مانگ رہے ہیں۔ یہ تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ان میں سے زیادہ تعداد فرضی اور جھوٹے کیس ہیں۔ تاہم وہاں ایسے معاملات میں کامیابی کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے۔دیکھنے میں آیا ہے کہ حالیہ دو تین سالوں میں جی ون یعنی ریفیوجی ویزہ لینے کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ پاکستان اور دبئی سے ایجنٹ کو دس سے پندرہ لاکھ روپے دیکر کوریا کا وزٹ ویزہ حاصل کیا جاتا ہے اور کوریا آنے پر ہزار ڈالر کے قریب مزید خرچ کرکے جی ون ویزہ لیا جارہا ہے۔ اسی طرح کوریا میں پہلے سے ورک ویزہ پر موجود پاکستانی بھی اپنا ویزہ ختم ہونے پر واپس جانے کی بجائے جی ون ویزہ لے لیتے ہیں۔

یہاں چند باتوں کی وضاحت ضروری ہے۔ پاکستان یا دبئی میں کسی ایجنٹ کو پیسہ دیکر کوریا کا ویزہ لینا کوریا میں جرم شمار ہوتا ہے۔ اور ویزہ لینے والے یا ویزہ لگا کر دینے والے ایجنٹ جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ کورین قانون کے مطابق کوریا میں رہنے والے یا نئے آنے والے غیرملکی جی ون ویزہ لے سکتے ہیں لیکن اس کےلیے ان کا کیس حقیقت اور سچا ئی پر مبنی ہونا چاہیے۔ جھوٹا کیس کرنا کوریا اور پاکستان دونوں میں جرم ہے۔ جی ون ویزہ لینے  کے لیے   اپنی قریبی ایمیگریشن سینٹر میں جا کر ایپلائی کیا جاتا ہے۔ ویزہ لینے  کے لیے   لیگل بندے پر کوئی جرمانہ نہیں ہے جبکہ اللیگل پر ماہانہ کی بنیاد پر جرمانہ لگایا جاتا ہے۔ کچھ فارم ہوتے ہیں جو مکمل کرکے جمع کروائے جاتے ہیں۔ ان پر وہ تمام تفصیل درج کرنی ہوتی ہے جس کی بنیاد پر ویزہ لیا جارہا ہے۔ اور اگر کوئی ثبوت ہو تو ساتھ لگانا ہوتا ہے۔ کیس جمع ہونے پر ایک فارم مل جاتا ہے۔ اصل میں یہ فارم ویزہ نہیں ہے بلکہ اس بات کا ہے کہ آپ کا جی ون کیس جمع ہوگیا ہے۔اس دوران کام نہیں کرسکتے۔ کام کرتے ہوئے پہلی بار پکڑے جانے پر دس لاکھ جرمانہ ہے اور دوسری بار کام کرتے پکڑے جانے پر ڈی پورٹ کردیا جاتا ہے۔

اب ہر تین یا چھ ماہ بعد کوریا میں رہنے کی مدت بڑھا دی جاتی ہے جو مجموعی طور پر ڈیڑھ سے دو سال تک ہوتی ہے۔ اس کے بعد کیس عدالت میں چلا جاتا ہے جہاں تمام ثبوت دینے ہوتے ہیں۔ عدالت کے پاس اختیار ہے کہ وہ ان ثبوت کو کوریا میں فارن آفس پاکستان ایمبیسی یا پاکستان میں کوریا ایمبیسی پولیس سے تصدیق کروا سکتی ہے۔ اور کرواتی بھی ہے۔ کیس سچا ہونے پر رہائشی ویزہ مل جاتا ہے۔ ننانوے فیصد لوگ عدالت نہیں جاتے اور اپنا کیس لڑنے یا ختم کروانے کی بجائے غائب ہوجاتے ہیں۔ جو ایک اور جرم ہے۔ عدالت میں اگر کیس جھوٹا ثابت ہوجائے تو عدالت فوراً ڈی پورٹ کرنے کا حکم دیتی ہے جبکہ جھوٹ بولنے اور عدالت کو گمراہ کرنے پر گرفتار کرکے جیل بھی بھیجا جاسکتا ہے۔

کیونکہ آپ نے کوریا میں جی ون ویزہ لینے  کے لیے   پاکستان میں ایک جھوٹا واقعہ بیان کیا تھا۔ جو ہوا ہی نہیں تھا یا ہوا تھا تو اس میں بہت سارے جھوٹ بولے تھے اس لئے پاکستان واپس ڈی پورٹ ہونے پر پولیس اور FIA گرفتار بھی کرسکتی ہے کیونکہ آپ نے پاکستان میں امن و امان پولیس عدالت کے نظام بارے جھوٹ بول کر پاکستان کی بدنامی کی تھی۔ دن بدن جی ون ویزہ لینے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے جوکہ بہت افسوسناک امر ہے۔ اگر تو آپ کے ساتھ واقعتاً ظلم ہوا ہے تو آپ کا حق بنتا ہے مگر اپنے ملک بارے جھوٹ بول کر وہاں کے  حالات کو برا بھلا کہہ کر سیاسی پناہ لینا ملک و قوم کے ساتھ زیادتی ہے۔ اس سے کوریا میں رہنے والے باقی پاکستانیوں پر بھی مشکل پیش آتی ہے۔ اور نئے آنے والوں کو بھی ویزہ لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں پاکستانی کمیونٹی کوریا ، پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کوریا، منہاج القرآن کوریا ، دعوت اسلامی کوریا پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جھوٹے کیس بناکر ریفیوجی ویزہ لینے والوں کی حوصلہ شکنی کریں۔ اپنے حلقہ احباب میں ریفیوجی ویزہ لینے پر پاکستان کو ہونے والے اخلاقی سفارتی و معاشی نقصانات کی نشاندہی کریں۔ اور ریفیوجی ویزہ لینے والوں کا سوشل بائیکاٹ کریں۔

Avatar
محمد عبدہ
مضمون نگار "محمد عبدہ" کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور حالیہ کوریا میں مقیم اور سیاحت کے شعبے سے تعلق ہے۔ پاکستان کے تاریخی و پہاڑی مقامات اور تاریخ پاکستان پر تحقیقی مضامین لکھتے ہیں۔ "سفرنامہ فلپائن" "کوریا کا کلچر و تاریخ" اور پاکستانی پہاڑوں کی تاریخ کوہ پیمائی" جیسے منفرد موضوعات پر تین کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کوریا میں ریفیوجی ویزہ۔۔ محمد عبدہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *