انتظار حسین کی یاد ۔۔مستنصر حسین تارڑ/آخری حصہ

یہ نومولود فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کا قصہ ہے کہ میں اپنے سیشن سے فارغ ہوکر ادیبوں کے لاؤ نج  میں چلا آیا اور کوئی درجن بھر بیشتر ادھیڑ عمر خواتین میری کتابیں تھامے ان پر دستخط حاصل کرنے کے لیے پیچھے پیچھے چلی آئیں اور یہ معمول کی بات تھی۔ وہاں لا ؤنج میں آگ اور پانی ساتھ ساتھ بیٹھے تھے یعنی انتظار حسین اور عبداللہ حسین باہم شیر و شکر ہو رہے تھے۔ تب انتظار نے ان خواتین کو دیکھ کر کہا :”لو جی، تارڑ کی گوپیاں چلی آرہی ہیں۔“
یہ اصطلاح عبداللہ کو بہت پسند آئی اور اس نے اپنا مخصوص سلسلہ وار قہقہہ لگا کر کہا: ”ہاں جی مگر اس عمر میں گوپیاں کارآمد ثابت نہیں ہوتیں۔“ بعدازاں جب کبھی کسی محفل میں کوئی بھی خاتون چاہے وہ ایک دادی اماں ہوں میری جانب بڑھتی تو عبداللہ کہتا :”لو جی، ایک اور گوپی۔“
انتظار سگریٹ نہ پیتے تھے۔ البتہ جب میں سلگانے سے پیشتر ان کی جانب پیکٹ بڑھاتا تو وہ ہمیشہ ایک سگریٹ کھینچ کر نہایت ابتدائی انداز میں اسے سلگاتے اور خواہ مخواہ پھونکتے رہتے، دھواں آنکھوں میں چلا جاتا تو انھیں مسلنے لگے۔ اور ہاں بقول غالب غالب چھٹی شراب مگر اب بھی کبھی کبھی ۔ تو انتظار بھی کبھی کبھی۔ بہ قدرِ اشکِ بلبل۔ وہ بھی کبھی کبھی!
پچھلے برس یہی مہینے تھے، جون جولائی کے، میں نیشنل اسپتال کے ایک کمرے میں کچھ طویل آپریشنوں کے بعد درجن بھر ٹیوبوں میں پرویا ہوا، آکسیجن ماسک میں سے سانس لیتا ہوا، پڑا ہوں سلجوق اور عینی امریکا سے آچکے ہیں اور سمیر کے چہرے پر مایوسی ہے، میمونہ کچھ نہ کچھ پڑھتی مجھ پر پھونکتی ہے۔
میں چنگا بھلا تھا، ایک روز ایک سانس لیا تو دوسرا سانس آنے سے انکاری ہوگیا۔ سانس کی نالی میں کوئی اٹک آگئی۔ بہو نے 112 کو فون کردیا۔ سمیر تلاوت کرنے لگا اور مونا رونے لگی۔ سانس کا آخری گھنگھرو بسنے لگا اور پھر کوئی معجزہ ہوا اور رکا ہوا دم بحال ہوگیا۔ بچے بدتمیز ہوگئے، مجھ پر حکم چلانے لگے۔ ابو اپنا مکمل میڈیکل معائنہ کروائیے۔ شوکت خانم سے معائنہ کروایا تو الٹرا سا ؤنڈ میں سوائے دل کی معمولی بے ترتیبی کے سوا کچھ نہ تھا۔ البتہ جگر کو ایک جھلّی نے پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ یہ جھلّی کسی بھی لمحے پھٹ کر اپنا زہر میرے بدن میں پھیلا کر مجھے موت سے ہمکنار کر سکتی تھی۔ ڈاکٹر محمود ایاز نے مشورہ دیا کہ پرسوں آئیے، معمولی سا آپریشن ہے، دو روز بعد گھر چلے جائیے۔ اور جب انھوں نے آپریشن تھیٹر میں میرا بدن چاک کیا تو وہاں بہت کام رفو کا نکلا۔ دس روز بعد انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں قیام کے بعد جب میں اک شب گھر واپس جانے کی تمنا میں تھا تو میڈیکل کے فرشتے مجھے لینے آگئے کہ الٹراسا ؤنڈ ٹیسٹ کے دوران ایک عجیب دریافت ہوئی ہے۔ آپ کے بدن کے اندر مردہ آنتوں کا مجموعہ ہے جس نے آپ کے پورے نظام کو بلاک کردیا ہے، اس لیے آپ کی صحت گرتی چلی جاتی ہے۔ اس مجموعے یا گولے کو نکالنا ہے۔
”کب؟“
”ابھی!“ اور وہ سب کے سب سرجن محمود ایاز کے نائب فرشتے میرے بستر کے آس پاس کھڑے تھے۔
”کل کیوں نہیں؟“ میں ڈر گیا۔
”نہیں، ابھی۔“
میں نے صرف عینی کی جانب دیکھا اور اسے ڈاکٹر محمود ایاز نے اجازت دے رکھی تھی کہ وہ میرے آپریشن کے دوران تھیٹر میں موجود رہ سکتی ہے۔ اور عینی نے سر ہلادیا کہ ہاں ابّو…. ابھی۔ چنانچہ میں ایک مرتبہ پھر دریدہ بدن ہوا۔
کمرے کے باہر واضح طور پر ”نو وزیٹر الا ؤڈ“ کی تختی نصب تھی۔ اگرچہ میں نے اپنے میڈیا کے دوستوں کو سختی سے منع کیا کہ میری بیماری کا چرچا نہیں کرنا۔ اسے ایک ”بریکنگ نیوز“ نہیں بنانا۔ یعنی گلدستے چلے آرہے ہیں، صحت یابی کی دعائیں کی جا رہی ہیں، یہ مجھے نہیں منظور۔
اور اس کے باوجود…. آئرلینڈ کے ایک چرچ میں، لاہور کے کیتھڈرل چرچ میں اور سندھ کے کنڈیارو کی جامع مسجد میں درجنوں حافظ قرآن میرے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔
تو ان موسموں میں یہ عبداللہ حسین تھا جو دندناتا ہوا اپنی وہیل چیئر پر براجمان میرے کمرے میں داخل ہوتا ہے۔ میں اس کے چہرے پر موت کی زرد پرچھائیاں دیکھ سکتا ہوں کہ اسے خون کا سرطان لاحق ہے۔ ابھی چند روز بعد مرنے والا ہے۔
وہ کہتا ہے ’:’یہ جناب عالی تم نے کیا ڈراما رچا رکھا ہے۔ اس بستر پر تو مجھے ہونا چاہیے تھا تو تم کیوں لیٹے ہوئے ہو۔ دراصل تم اصل میں ایک اداکار ہو۔ ہمیشہ لائم لائٹ میں رہنا چاہتے ہو۔ اس لیے یہاں آکر لیٹ گئے ہو۔“
وہ ہمیشہ مونا کو کہتا تھا کہ آپ تو میری گرل فرینڈ ہو۔
اس سے مخاطب ہوکر کہنے لگا :”مونافکر نہ کرویہ اداکاری کر رہا ہے۔ بیمار شمار نہیں ہے۔“
یہ عبداللہ حسین کے ساتھ میری آخری ملاقات تھی۔
شاید وہی دن تھا یا اگلا دن تھا۔ میں تو نیم مدہوش تھا۔ مجھے کیا خبر کہ کون آیا کون گیا۔
تب سلجوق نے میرے کان میں سرگوشی کی: ”ابّو انتظار صاحب آئے ہیں۔“
میں نے اپنے چہرے سے آکسیجن ماسک ہٹا کر دیکھا تو بستر کے برابر میں انتظار صاحب جھکے جھکے سے تھے۔ جھکے ہوئے میرے جھاڑ جھنکار ناتواں چہرے کو تشویش سے تکتے تھے۔ مسعود اشعر ان کے ہمراہ تھے۔ مجھ میں کچھ کہنے کی سکت کہاں تھی۔ میں ناتوانی میں جتنی بھی شکر گزاری چہرے پر طلوع ہوسکتی ہے اس کی آمد سے مسکراتا رہا اور انتظار باتیں کرتے رہے۔
بھئی! تم نے اپنی بیماری کی خبر کیوں نہ کی۔ کسی کو کچھ بھی نہیں بتایا۔ کیوں نہیں بتایا؟ تم اسپتال کے بستر پر یوں پڑے اچھے نہیں لگ رہے۔ ٹھیک ہوجا ؤ۔ انھوں نے کہا تو نہیں لیکن ان کی آنکھوں میں شرارت کا ایک شرارہ دمکا ،جو کہتا تھا تمہارے گوپیاں تمہارا انتظار کرتی ہیں۔ میں نے دھیمی آواز میںمسعود سے شکایت کی کہ تم انھیں کیوں لے آئے ہو۔ لاٹھی کے سہارے چلتے ہیں، جانے کیسے سیڑھیاں چڑھ کر آئے ہیں۔ نہیں لانا تھا۔
تو جیساکہ اس کاایک مخصوص انداز ہے، مسعود دونوں ہاتھوں کو نِرت کے انداز میں نچا کر کہنے لگے۔” بھئی! میں کیا کرتا، یہ مانتے ہی نہیں تھے۔ انھیں خبر ہوئی تو بے چین ہوگئے، کہنے لگے مجھے لے چلو۔ تارڑ کا حال اچھا نہیں ہے تو میں نے اسے دیکھنے کے لیے جانا ہے۔ بھئی! یہ کیا بات ہوئی کہ وہ بھی بیمار پڑ گیا ہے، مجھے لے چلو۔“
یہ کل کی کہاں آج کی بات ہے۔ سمیر نے مجھ سے پوچھا کہ ابّو ان دنوں کیا لکھ رہے ہو؟ میرے بچے بھلے وہ جو میں لکھتا ہوں اسے پڑھیں یا نہ پڑھیں، لیکن مسلسل ٹوہ میں رہتے ہیں کہ قبلہ والد صاحب جو رات گئے تک جاگتے ہیں تو ان دنوں کیا لکھ رہے ہیں۔ کچھ لکھ بھی رہے ہیں یا شبینہ غیر شرعی سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ میرے آپریشنوں کے بعد کڑی نظر رکھتے ہیں، تو میں نے سمیر کو بتایا کہ ان دنوں میں انتظار کی رفاقت میں شبیں بسر کر رہا ہوں۔ میں نے پچھلی شب اسے دیکھا تھا کہ وہ لاٹھی ٹیکتا پریشان حال نیشنل اسپتال کے کمرہ نمبر 24 میں داخل ہو رہا ہے اور میں بستر پر ٹیوبوں میں پرویا ہوا، آکسیجن نقاب چہرے پر چڑھائے سانس لیتا ہوں اور وہ کہتا ہے تارڑ! تم اسپتال کے بستر پر لیٹے ہوئے اچھے نہیں لگتے۔
تب سمیر کہنے لگا۔ ابّو جب ایرج مبارک نے فون کرکے کہا تھا کہ انتظار صاحب آپ کے ابّو کو دیکھنا چاہتے ہیں ،تو جب وہ آئے تو ہم نے آپ کی ٹیوبیں اور ان سے منسلک متعدد پلاسٹک کے تھیلے سمیٹ کر آپ کو ایک وہیل چیئر پر بٹھادیا تھا۔
یہ دیکھیے۔
مجھے اب تک کچھ خبر نہ تھی۔ سمیر میری بے خبری میں یقینا اس خیال سے کہ مجھے یہ لمحات کیمرے میں محفوظ کرلینے ہوں گے، اس کے نزدیک اس کا باپ ایک تاریخ تھا، جس کا ریکارڈ رکھنا اس کا فرض تھا۔ مسلسل تصویریں اتارتا رہا تھا۔ جب میں خوش و خرم حالت میں تھا، جب مجھے آپریشن تھیٹر کی جانب لے جایا جا رہا ہے اور سرجن حضرات چہروں پر سفید نقاب اوڑھے میرے اسٹریچر کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں، کمپیوٹر کی اسکرین پر دل کی دھڑکن کبھی کبڑی ہوتی ہے پھر ایک لمحے کے لیے ہموار ہوکر پھر سے سنبھل جاتی ہے۔
یہ دیکھیے سمیر نے کہا۔
کمپیوٹر اسکرین پر وہ کمرہ کسی اسپتال کا نہیں، کسی باذوق ڈرائنگ روم کا لگتا ہے۔ گل دانوں میں سرخ پھول، دیواروں پر معروف مصوروں کی تصویریں آویزاں، بڑی کھڑکی کے راستے دھوپ اترتی ہوئی، بستر پر ایرج مبارک، میں وہیل چیئر پر۔ یہ کون ہے، کسی قبر میں سے برآمد ہونے والا ڈھانچا، لیکن مسکراتا ہوا کہ سامنے کے صوفے پر انتظار اورمسعود براجمان مجھ سے باتیں کر رہے ہیں۔ ہم گفتگو کر رہے ہیں لیکن ویڈیو میں کچھ خلل آگیا ہے، صاف سنائی نہیں دے رہا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔ انتظار ہاتھ بلند کرکے مجھ سے کچھ کہہ رہے ہیں، مسعود عینک سنبھالتے مسکرا رہے ہیں اور میں انتظار کی آمد کی خوشی میں باتونی ہوا جاتا ہوں۔
اسکرین پر منظر یوں زندہ ہے کہ گمان تک نہیں ہوتا کہ لاٹھی کا سہارا لیتا ایک شخص جس کے خدوخال کھڑکی میں سے اترنے والی دھوپ کی زد میں آکر ایک مجسمے کی صورت دکھائی دے رہے ہیں، وہ اب زندہ نہیں ہے۔
ویڈیو کی آواز میں رکاوٹ ہے، جو کچھ بولا جا رہا ہے مبہم اور بجھا بجھا سا ہے، لیکن یہ طے ہے کہ موروں کی باتیں ہو رہی ہیں۔ انھی دنوں کسی ادبی مجلے میں ”اور سندھ بہتا رہا“ کا ایک باب شایع ہوا تھا جس میں ننگرپار کر اور تھر کے صحرا ؤں میں مرنے والے موروں کا تذکرہ تھا۔ ہم ادھر موروں کے بیری ہوگئے تھے۔ انھیں ہلاک یا حلال کرکے اپنی دعوتوں میں بھونتے تھے، تو وہ اپنی جان بچانے کی خاطر سرحد کے پار چلے گئے کہ وہاں کے لوگ انھیں اپنے من مندر میں سجاکر ان کی پوجا کرتے تھے۔ اور اُدھر سور دندناتے تھے ،وہی لوگ جو موروں کے پرستار تھے، انھیں بھون کر کھا جاتے تھے چنانچہ سور حضرات بھی اپنی جان بچانے کی خاطر سرحد پار کرکے ادھر پاکستان چلے آئے اور پھر ادھر آس پاس قیام نہ کیا۔ پورے ملک میں پھیل گئے۔ یعنی ہم ایسے سوداگر تھے جنھوں نے موروں کے بدلے میںسورحاصل کرلیے۔
انتظار نے یہ تذکرے مور وںاورسوروں کے پڑھ رکھے تھے۔
”تو ننگرپارکر کے کاسبو قصبے میں اب بھی مور مقدس ہیں اور اڑانیں کرتے پھرتے ہیں۔ تو یہ مور تھرپارکر کے مرتے کیوں جاتے ہیں؟“
مسعود اشعر کہتے ہیں: ”وہ ایک پرندوں کے لیے جان لیوا بیماری رانی کھیت میں مبتلا ہوکر مر رہے ہیں۔ یہ بیماری مرغیوں کو بھی ہوجاتی ہے۔“
”بھئی! مرغیاں تو مور نہیں ہوتیں۔“
”پرندے تو ہوتی ہیں انتظار!“
اس دوران ایرج مبارک کچھ کہتے ہیں اور میں کہتا ہوں: ”آپ یکدم کیوں کود پڑے؟“
وہ خفا سے ہوجاتے ہیں۔ ایرج نثری نظم کے سب سے بڑے مبلغ مبارک احمد کے بیٹے ہیں،
ادب کی پہچان رکھتے ہیں اور انھوں نے اپنے آپ کو انتظار حسین کی دیکھ بھال کے لیے وقف کردیا۔
انتظار فراموش کرچکے ہیں کہ وہ میری خبر گیری کے لیے آئے ہیں اور میں نے کچھ لمحوں کے لیے آکسیجن ماسک اتار دیا ہے۔ وہ موروں میں مبتلا ہوچکے ہیں۔
اب میں رطب اللسان ہوں۔بھول چکا ہوں کہ میرے پیٹ پر ٹانکوں کی ایک کشیدہ کاری ہے، نصف درجن سے زائد سوراخ ہیں جن میں پیوستہ ٹیوبوں کے سہارے میں سانس لیتا ہوں اور میری ناک میں سے ایک ٹیوب میرے معدے میں اترتی ہے۔ تو میں کہتا ہوں: ”انتظار صاحب! مور میرے تھے۔ گھٹا گھنگھور گھنگھور، مور مچاوے شور والے مور ہیں۔ لیکن گوجرانوالہ کی ثریا شیخ کا گیت ’من مورا ہوا متوالا رے، یہ کس نے جادو ڈالا رے‘ میرے من کو متوالا کرتا جادوکر ڈالا رے۔
مسعود اپنی عینک کو اڑستے ہوئے کہتے ہیں: ”واہ سبحان اللہ! کیا گیت ہے۔“
تب سلجوق کہتا ہے کہ ”انتظار صاحب ابّو تھک گئے ہیں۔“
”بھئی! تم ٹھیک ہوجا ؤ۔ یوں تو اچھے نہیں لگتے۔“
اور وہ تینوں رخصت ہوجاتے ہیں۔ مجھے سمیر نے بتایا کہ وہ انکل عبداللہ حسین کی خبر گیری کے لیے بعدازاں ان کے گھر گئے تھے۔ عجب کہانی ہے کہ آگ، پانی کی خبر لینے جاتی ہے۔ یعنی اصل میں آگ اور پانی ایک ہیں، ہمیں ہی فریب میں مبتلا کر رکھا ہے کہ ہم جدا ہیں۔
اس روز میں نے انتظار کا ایک ایسا روپ دیکھا جو میرے گمان میں بھی نہ تھا۔ اس کے چہرے پر تشویش کی جو پرچھائیاں تھیں، ان کے سوا میرے لیے ایک پدرانہ محبت کا چراغ بھی جلتا تھا۔ مجھے اس شفقت اور قربت کی توقع نہ تھی۔ میں تو جی اٹھا، ان کی فکرمندی اور الفت بھری بے چینی میرے بدن میں پیوستہ ٹیوبوں میں سرائیت کرکے، میری شریانوں اور رگوں میں رواں یوں ہوئی کہ میں صحت مند محسوس کرنے لگا۔
رخصت ہوتے ہوئے بھی انھوں نے یہی کہا :”تارڑ! تم اچھے نہیں لگتے اسپتال کے بستر پر لیٹے ہوئے، اچھے ہوجا ؤ۔“
بدھ حکایتوں میں بیان ہے کہ مہاتما بدھ سے پیشتر بہت سے بدھ پیدا ہوئے۔ ان کی موت کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا ۔ یہ بودھی ستوا کہلائے۔ تو اگر آج کے زمانوں کا ایک بودھی ستوا میرے لیے دعا کرتا ہے کہ تم اچھے ہوجا ؤتو میں کیسے اچھا نہ ہوجاتا، میں ہوگیا۔
میں تو اچھا ہوگیا پر عبداللہ حسین نہ ہوا۔ خون کے کینسر کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ کومے کی تاریکی میں اترنے سے پیشتر اس کی اکلوتی بیٹی نور کا کہنا ہے کہ اس کا آخری فقرہ یہ تھا کہ جانے مستنصر کا کیا حال ہے۔
کچھ دنوں بعد ابھی میرے پیٹ پر چیر پھاڑ کے زخم بھرے نہ تھے، میں ایک مرتبہ پھر نیشنل اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہوتا ہوں جہاں میں نے ابھی حال ہی میں کچھ روز و شب قضا سے لڑتے جھگڑتے گزارے ہیں۔ کبھی آر کبھی پار جاتا تھا، میں اس کے ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں قریب المرگ لوگوں کے آخری سانسوں کو سنا کرتا تھا، میں یہاں اجنبی نہ تھا لیکن آج ایک بستر پر مصنوعی تنفس کی ٹیوبوں سے پرویا ہوا ایک بوڑھا بدن پڑا تھا۔ پڑا تو نہ تھا، سانس کھینچنے کی کشمکش میں پھڑکتا تھا۔ جیسے ایک پرندہ جان کنی کی حالت میں پھڑکتا ہے۔ اس کا چہرہ آکسیجن ماسک سے ڈھانپا ہوا تھا، کون تھا؟
اس وارڈ میں داخلے کی اجازت نہ تھی، ایک نوجوان ڈاکٹر نے مجھے پہچان لیا کہ سر! آپ بھی تو کچھ دن پہلے اس وارڈ میں مقیم ہوا کرتے تھے۔ اس نے مجھے اندر آنے دیا۔
”انتظار حسین یہی ہیں؟“
”جی سر!“
”آر یُو شور؟“
”جی سر! ان کے سرہانے آویزاں میڈیکل ہسٹری کی رپورٹ پر یہی نام درج ہے۔“
میں پہچان نہیں پا رہا تھا، چہرہ آکسیجن ماسک سے ڈھکا ہوا تھا، بقیہ بدن کسی بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا شخص کا ہوسکتا تھا۔ جو سانس کی کھینچا تانی میں بسمل ہوتا تھا، میں قریب نہ جاتا تھا، دور سے دیکھتا تھا۔
”کچھ امید ہے؟“
”تارڑ صاحب! ڈاکٹروں کی کوڈ میں شامل ہے کہ وہ ہمیشہ ڈھارس بندھاتے ہیں۔ امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑتے، تسلی دیتے ہیں، یقینی موت کا بھی اقرار نہیں کرتے، لیکن صرف آپ سے کہتا ہوں کہ نہیں!“
”کیا حیات اور شعور کی کسی بھی نامعلوم سطح پر، وہ آگاہ ہیں کہ وہ کہاں ہیں؟ ان کے آس پاس کون ہے یا وہ مکمل طور پر ایک بے خبری کی حالت میں ہیں۔“
”تارڑ صاحب! آپ ان کے نزدیک جاکر، ان کے کان میں انھیں پکاریے شاید وہ سن رہے ہوں۔“
نوجوان ڈاکٹر نے پیشکش تو کردی لیکن میں جھجک گیا، ایک خوف میں مبتلا ہوگیا، جب میرا سانس رک رہا تھا اور میرے گلے میں سے ایک خرخراہٹ موت کی برآمد ہوتی تھی تو اس لمحے میں نہیں چاہتا تھا کہ کوئی بھی مجھے پکارے۔ مدد کی کوشش کرے کہ یہ میرے اور فنا کے درمیان ایک کشمکش جاری تھی اور کوئی بھی اس جنگ میں میری مدد نہیں کرسکتا تھا۔
اس لیے میں نے انتظار کو نہ پکارا۔ کیا جانیئے، اگر اس کشمکش کے دوران موت سے مبارزت کے لمحوں میں اگر انھیں کہیں دور سے میری آواز سنائی دے جاتی ،جبکہ وہ مدہوش ہوتے۔ جانے کون ہے جو مجھے پکارتا ہے اس کا تعین نہ کرسکتے۔ بلکہ انھیں میری پکار، انتظار سے مزید اذیت ہوتی، تو میں نے انھیں پکارا نہیں۔
دوپہر ہوچکی تھی۔ابھی تک کوئی بھی ان کی خبر گیری کے لیے آیا نہ تھا۔ انتظار تنہا پڑے تھے۔
”پچھلے پہر کچھ لوگ آئیں گے۔“ نوجوان ڈاکٹر نے بتایا۔
انتظار اپنے کالموں میں میری خبر لیا کرتے تھے، اکثر بے وجہ لیا کرتے تھے اور آج میں ان کی خبر لینے آیا تھا تو وہ بے خبر پڑے تھے۔ نہ کوئی شہرزاد ان کی مدد کو پہنچی، نہ کوئی جاتک کہانی اور نہ ہی کوئی زرد کتّا۔ اگلے روز وہ مرگئے۔ اور یہ میری دعا کا اثر تھا کہ وہ مرگئے۔ ان کی حالت دیکھ کر جب کہ وہ بستر پر صرف ایک سانس کھینچنے کے لیے تڑپتے تھے میں نے دعا کی تھی کہ یا اللہ! یہ ایک بھلا اور معصوم شخص تھا ،اسے امتحان میں نہ ڈال، اس کی منزل آسان کردے، اسے اپنے پاس بلالے۔ ایک ایسی ہی دعا میں نے اپنے ابّا جی کے لیے کی تھی۔ وہ بھی قبول ہوگئی۔
انتظار پر بہت الزام لگے اور ان میں ایک یہ تھا کہ وہ نوسٹلجیا کا پیغمبر تھا۔ ماضی کے قبرستانوں میں دیے جلاتا تھا۔ حکایتوں اور کہانیوں کے تانے بانے میں الجھا، لمحہ موجود کی حقیقتوں کا سامنا نہ کرتا تھا۔ مجھے بھی شکایتیں تھیں کہ لاہور میں ایک عمر بسر کرنے کے باوجود کبھی لاہوری نہ ہوا۔ نہ پنجابی زبان سے آشنائی کی اور نہ مقامی ثقافت کے گیت گائے۔ اپنی ڈبائیوں میں ہی ڈوبا رہا۔ اس کی تحریروں میں بے شک دجلہ اور فرات آئے، گنگا اور جمنا کے دھارے رواں ہوئے پر اس کی کہانیوں میں راوی، چناب اور سندھ کے پانیوں پر کوئی داستانوں کی بادبانی کشتی نہ تیری۔ اور پھر جوانی کی جنوں خیزی کے بعد جب یکدم میں بڑھاپے کی خزاں میں اترا تو مجھ پر کھلا کہ بیشتر بڑے ادب نوسٹلجیا کی کوکھ میں سے جنم لیا ہے۔ میں اگر آج بھی لاہور کے ان تین گھروں کی بالکونیوں، برآمدوں، صحنوں، شب براتوں، بسنت دنوں اور دیوالی کی راتوں کو یاد کرتا ہوں جن میں میری حیات بسر ہوئی تو وہ لوگ جب کہ میں تو بچھڑا بھی نہیں، لاہور میں ہی ادھر ادھر ہوتا رہا اور وہ لوگجو ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے۔ ہر صحن، ہر قبر اور ہر شجر سے اور شجر پر کوکنے والے ہر پرندے سے، اپنے پہلے عشق چھوڑ آئے، آبا ؤ اجداد کی مٹی سے جدا ہوگئے، بچھڑ گئے تو ان پہ کیا گزرتی ہے یہ میں تو نہ جان سکتا تھا، صرف وہی جانتے تھے، جن پہ وہ گزری ہے تو اگر وہ اپنی تحریروں میں بچھڑ چکے موسموں اور اپنے لہجوں کو یاد کرتے ہیں تو برا نہیں کرتے۔ اگر میں اپنے دریا ؤں کے پانیوں اور ان کی سطح پر ٹھہری ہوئی دھند میں روپوش پرندوں اور لاہور کی گلیوں سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوجاتا تو میں بھی ایک نوحہ گر ہوتا۔
کیا عبداللہ حسین، عزیز احمد، قرة العین حیدر، خدیجہ مستور، کرشن چندر، بیدی اور بلونت سنگھ نوسٹلجیا کے شکار کبھی نہ کبھی نہیں ہوتے۔ میلانکنڈیرا اپنے چیکوسلواکیہ، نجیب محفوظ اپنے قاہرہ، پاشا کمال اور پاموک اپنے اناطولیہ اور استنبول، سونرے نتسن یہاں تک کہ اسماعیل کدارے اپنے البانیہ کی اجڑ چکی تہذیبوں اور بستیوں کے نوسٹلجیا میں سے اپنی فکشن کی شراب کشید نہیں کرتے۔ اگر انتظار نے ایسا کیا تو کیا برا کیا، اچھا کیا۔
جیسے برنارڈ شا کے ڈرامے ”پیگ ملین“(Pygmalion) کو ایک میوزیکل کی صورت ”مائی فیئر لیڈی“ کے نام سے تھیٹر میں پیش کیا گیا اور اس کا ایک گیت بہت مقبول ہوا۔ ”مجھے تمہارے چہرے کی عادت ہوگئی ہے“ تو کیوں مجھے بھی اپنی ادبی جبلت کی محفلوں، دعوتوں، تقریبات اور ”مشرق“ کے سیڑھیوں پر چڑھتے انتظار حسین کے چہرے کی عادت ہوگئی تھی۔ وہ ایک مسلسل اور ہمہ وقت اور ہمہ موسم موجودگی یوں تھے جیسے لاہور کا عجائب گھر، جنرل پوسٹ آفس اور اس کے فٹ پاتھ میں سے برآمد ہوتا قدیم برگد، یا پھر لاہور کی سب سے عالی شان اور پرشکوہ عمارت، بابا ڈِنگا سنگھ بلڈنگ اور اس کے پرشوکت گنبد کے چار گھڑیال، یا پھر پاک ٹی ہا ؤس، فرض کیجیے آپ کسی سویر باغ جناح جانے کے لیے گھر سے نکلتے ہیں۔ مال روڈ اور بیڈن روڈ کے سنگم پر واقع ڈِنگا سنگھ بلڈنگ کی جانب یوں ہی نگاہ کرتے ہیں تو نظر ٹھٹھک جاتی ہے کہ وہاں ایک خلا ہے۔ ڈِنگا سنگھ بلڈنگ جہاں تھی وہاں صرف ایک خلا ہے تو آپ کو ایک دھچکا تو لگے گا، یقین تو نہ آئے گا، صدمہ تو ہوگا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ لاہور ہو، مال روڈ ہو اور وہاں ڈِنگا سنگھ بلڈنگ نہ ہو۔ اس کے چار گھڑیال منادی نہ کرتے ہوں تو ایسے ہی آج انتظار وہاں نہیں، جہاں اکثر ہوا کرتے تھے تو ہر بار کسی محفل میں داخل ہوتے ہی دھچکا لگتا ہے، کسی ادبی محفل میں ان کا چہرہ دکھائی نہیں دیتا تو صدمہ ہوتا ہے۔ وہ بھی تو ایک طرح سے ادب کے بابا ڈِنگا سنگھ تھے۔ ڈِنگے یعنی قدرے ٹیڑھے تھے۔ سمجھ میں نہ آتے تھے، اور یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ کدھر چلے گئے۔ یہیں کہیں تھے، جانے کدھر چلے گئے۔ ناصر کاظمی کے ساتھ لاہور کی رات میں کہیں آوارہ ہوئے اور ابھی تک واپس نہیں آئے۔ سب منتظر ہیں، چرند پرند، بندرابن، زرد کتّے، غاروں میں خوابیدہ لوگ، فرات اور دجلہ، کوفہ اور بغداد، کراچی اور لاہور، کرشن کی بانسری اور دف بجانے والی مدنی لڑکیاں، بدھ کے برگد، گنگا اور جمنا کے پانی، حسینی براہمن اور بنارس کے بسم اللہ خان کی شہنائی، دلّی کی گلیاں اور زبان کے کرشمے، لہجے کے معجزے اور میری گوپیاں، سب کے سب منتظر۔ میں سمجھتا ہوں کہ جیسے عبداللہ حسین نے خوش دلی سے قہقہہ لگا کر کہا تھا کہ تارڑ اگر انتظار نوّے برس کا ہوگیا تو مجھے خدشہ ہے کہ وہ سو برس کا بھی ہوجائے گا۔ انتظار نے ابھی جینا تھا۔ حلقہ ارباب ذوق کی ادبی کانفرنس میں، دن بھر کی شمولیت اور پھر اس شب نہ صرف اپنے آپ کو فروخت کرنے والے بلکہ دیگر ادیبوں کو بھی بہلا پھسلا کر اہل اقتدار کے سامنے حاضر کرکے انھیں بھی فروخت کردینے والے صاحب انتظار کی منت سماجت کرکے انھیں واپڈا ہا ؤس کی چھت پر ایک ڈنر کے لیے لے گئے اور موسم ٹھنڈک اور برفیلے مزاج والے تھے، کھلی چھت پر، انتظار کو سردی لگ گئی، انھیں نمونیہ ہوگیا۔
انھوں نے اسے معمول کا بخار جانا، پھر طبیعت بگڑنے لگی تو ان کے ایک عزیز ڈاکٹر نے تسلی دی کہ آپ اسپرو یا ڈسپرین کی گولیاں پھانک لیجیے۔ انتظار احتجاج کرتے رہے کہ میری طبیعت بگڑتی جاتی ہے پر کسی نے دھیان نہ کیا، یوں سب کچھ بگڑ گیا۔
نصرت فتح علی نے بری نظامی، ایک غیر معروف لائل پوری شاعر کا کلام گایا تھا کہ:
وِگڑ گئی اے تھوڑے دِناں توں
دوری پے گئی اے تھوڑے دِناں توں
یعنی چند روز سے سب کچھ بگڑ گیا ہے، چند روز سے دوری ہوگئی ہے۔
چنانچہ سب کچھ بگڑ گیا اور ہمیشہ کی دوری پڑ گئی۔
میں نے نیشنل اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں جب انتظار حسین کو بستر پر صرف ایک سانس کی آرزو میں پھڑکتے دیکھا، تو کیا لکھا کہ موت، ایک انسان کی سب سے بڑی بے عزتی ہے، بے حرمتی ہے۔ یہ تو کسی کی بھی توقیر نہیں کرتی، کچھ لحاظ نہیں کرتی۔ چہرہ بگاڑ دیتی ہے، بہت ظلم کماتی ہے۔ وہ جو کوزہ گر ہے، اپنی من مرضی سے کوزے بناتا ہے، انھیں اپنی شکل میں ڈھالتا ہے، خود ہی بناتا ہے تو پھر خود ہی کیوں بگاڑ دیتا ہے، تو نہ بنائے، کیوں اسے ایک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں یوں بگاڑتا ہے کہ وہ پہچانا ہی نہ جائے اور میں پوچھوں کہ کیا یہی انتظار حسین ہیں۔
جیسے میرے ناول ”خس و خاشاک زمانے“ کا امیر بخش دریائے چناب کے پانیوں پر معلق سرما کی دھند میں ایک ست رنگے پرندے کی صورت ڈوب جاتا ہے، تو کچھ عجب نہیں کہ اگر میں کسی سویر باغ جناح میں جا نکلوں۔ اس قدیم شجر کی گھناوٹ تلے کھڑے ہوکر اس میں پوشیدہ اپنے یار پرندے کو پکاروں جو مجھ سے باتیں کیا کرتا تھا ،تو وہاں سے جواب آئے۔ اب ڈھونڈو مجھے اپنی گوپیوں کے چراغِ رُخ زیبا لے کر۔ وہ جو تمھاری تحریروں میں عطار کے پرندے اڑان کرتے تھے۔ میں ان میں شامل ہوچکا، سچ کی تلاش میں نکل چکا، مجھے اب مت پکارو۔
کارِ جہاں دراز ہے‘ اب مرا انتظار کر

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *