ذرا سوچیں تو سہی کہ۔ ۔
کیا ہی حیران کن بات ہو گی نا کہ اللہ نے کتابِ ہدایت تو نازل کی لیکن اس کے لیے کوئی ہدایت یافتہ انسان نہ بھیجا ہو یا پھر کتابِ ہدایت تو قیامت تک کے لیے بھیجی اور ہدایت یافتہ انسان کے اقوال و افعال اور حرکات و سکنات کو ایک مخصوص عرصے میں ختم کر دیا ہو اور نوعِ انسانی کو عملی دنیا میں لا وارث چھوڑ دیا ہو۔
اور یہ سب کرنے کے بعد خود تا قیامت رہنے والی کتاب میں تا قیامت آنے والے انسانوں کے لیے اعلان کیا ہو کہ “لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ” کہ تمہارے لیے رسول اللہ (ﷺ) اسوہ حسنہ ہیں اور جب پوچھا جائے کہ ان کے اسوہ حسنہ کو ہم کہاں سے لے سکتے ہیں تو جواب صفر ہو۔۔۔۔کیونکہ سارا اسوہ تو احادیث میں بیان ہوا ہے لیکن ہم نے تو حدیث کی حقیقت سے ہی انکار کر دیا۔
پھر قیامت تک راہِ ہدایت دکھانے والی کتاب کا دعوی؟؟؟؟۔۔۔۔یعنی اس دعوے کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔۔۔۔اور پھر غیر شعوری طور پر اسلام کا انکار شروع ہوگا ، پھر کچھ عرصے میں کسی بھی
دین کا انکار کریں گے ، اور بالآخر یہ راستہ الحاد کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں دھکیل دے گا۔۔۔۔جس دنیا میں حدیثِ نبوی (ﷺ) تو دور کی بات کوئی نبی پاک (ﷺ) کا بھی انکار کر دے اور اس سے بڑھ کر اللہ کے وجود کا انکار بھی کردے تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔۔۔۔کیونکہ وہ دنیا شترِ بے مہار لوگوں کی دنیا ہے.
(آج ایک محترمہ فرما رہی تھیں کہ صرف قرآن ہی کافی ہے۔۔۔۔۔ہم نے اپنی سی کوشش کی ہے کہ:
شاید تیرے دل میں اتر جائے تیری بات)
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں