• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پاکستان کے خلاف امریکہ کہاں تک جائے گا؟۔۔ثاقب اکبر/آخری حصہ

پاکستان کے خلاف امریکہ کہاں تک جائے گا؟۔۔ثاقب اکبر/آخری حصہ

گذشتہ مطالب جو 5 جنوری 2018ء کو شائع ہوا، اس میں ہم نے موضوع کی مناسبت سے امریکہ کی طرف سے چند ممکنہ اقدامات کے بارے میں بات کی تھی، جو وہ پاکستان کے خلاف کرسکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم اس امر کا جائزہ لیں کہ پاکستان کے پاس اس ساری صورت حال میں کیا آپشنز ہیں اور وہ کس طرح سے امریکہ کے جارحانہ منصوبوں کا راستہ روک سکتا ہے، چند مزید ممکنہ امریکی اقدامات کا ذکر مناسب سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی سفارت کار اور افغانستان میں سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے پاکستان کے خلاف امریکہ کے مختلف آپشنز کو ایک طویل مضمون میں بیان کیا ہے۔ ان میں ایک آپشن یہ بھی ہے کہ ایسے انٹیلی جنس اہلکاروں کی نشاندہی کی جائے، جن کا حقانی گروپ سے تعلق رہا ہے اور ان کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں۔ ایک آپشن یہ بھی ہے کہ پاکستان کی نان نیٹو اتحادی کی حیثیت کو ختم کر دیا جائے۔ اس آپشن کے حوالے سے امریکی اہلکاروں کا باقاعدہ بیان بھی سامنے آ چکا ہے۔ علاوہ ازیں اقتصادی حوالے سے امریکہ عالمی مالیاتی اداروں مثلاً ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کی پاکستان کو ملنے والے امداد رکوا سکتا ہے۔ یہ بات بھی امریکی حکام کی طرف سے کہی جا چکی ہے۔ ان اداروں میں امریکہ کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے۔ بعض امریکی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ امریکہ پاکستان پر حملہ نہیں کرسکتا، کیونکہ عراق اور افغانستان چھوٹے ممالک تھے، جن پر امریکہ نے حملہ کر دیا، لیکن پاکستان ایک بہت بڑا ملک ہے۔ اس کے پاس زمینی اور فضائی طاقت ہے، ایٹمی اثاثے بھی ہیں۔ اس لئے پاکستان پر اس طرح سے حملہ نہیں کیا جاسکتا جیسے امریکہ نے کسی اور ملک پر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں انجام سے باخبر رہیں۔۔وقار عظیم

اب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ پاکستان کے پاس امریکہ کے مقابلے میں کیا آپشنز موجود ہیں۔ پاکستان کے بہت سے تجزیہ کاروں کی رائے یہ ہے کہ پاکستان امریکہ کی لاجسٹک سپورٹ بند کرسکتا ہے، جو پاکستان کے زمینی اور فضائی راستوں سے افغانستان تک پہنچتی ہے۔ پاکستان پہلے بھی نومبر 2011ء میں سلالہ پر حملے کے بعد کئی ماہ تک زمینی راستے سے جانے والی لاجسٹک سپورٹ پر پابندی عائد کرچکا ہے۔ لہٰذا اپنے ماضی کے تجربات کی روشنی میں اب بھی ایسا کرسکتا ہے اور اسے فضائی راستے سے جانے والی سپورٹ تک توسیع بھی دے سکتا ہے۔ البتہ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اُس وقت امریکہ کی بہت بڑی فوج افغانستان میں موجود تھی اور لاجسٹک سپورٹ بھی اسی نسبت سے جاتی تھی، اب یہ خاصی کم ہوچکی ہے اور امریکہ پابندی کے دنوں میں متبادل شمالی روٹ سے استفادہ کرچکا ہے، تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ اس پابندی سے امریکہ کو کچھ نہ کچھ اقتصادی مشکل ضرور پیش آئے گی، اگرچہ اس درجے کی نہ ہو، جس کا وہ پہلے سامنا کرچکا ہے۔ پاکستان میں ایک اور مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ امریکہ کا اضافی سفارتی عملہ پاکستان سے نکالا جائے۔ اگر پاکستان نے اس طرح کا اقدام کیا تو اسے ایک بہت بڑا اقدام سمجھا جائے گا، اس پر امریکہ یقینی طور پر ایک بڑی خفت محسوس کرے گا اور اس کے لئے ایسا کرنا مشکل بھی ہوگا۔ پاکستان پہلے ہی مختلف شعبوں میں اپنا انحصار امریکہ پر کم کرنے کے لئے کوشاں ہے، تاہم اس کی رفتار بہت کم ہے۔ رفتہ رفتہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔ خود بعض امریکی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ پاکستان میں امریکی پابندیوں کی صورت میں وہ چین کے زیادہ قریب چلا جائے گا۔ ابھی حال ہی میں پاکستان نے چین کے ساتھ ڈالر کے ساتھ لین دین کو ختم کرکے چینی کرنسی یوآن میں تجارت کا فیصلہ کیا ہے۔ چین بھی یہی چاہتا ہے کہ اس کی کرنسی کو وہی درجہ مل جائے جو یورو اور ڈالر کو حاصل ہے۔

امریکی صدر کے یکم جنوری 2018ء کے ٹویٹ کے بعد چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دنیا کو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کے اقدامات کو سراہنا چاہیے۔ ترجمان جینگ شوانگ نے مزید کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ناصرف اہم کردار ادا کیا ہے بلکہ اس سلسلے میں بڑی قربانیاں بھی دی ہیں۔ چین کے علاوہ ترکی کے صدر کے بیان کی گونج بھی پوری دنیا میں سنائی دی۔ انہوں نے پاکستان کے صدر ممنون حسین کو فون کیا اور کہا کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف شاندار قربانیوں کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ کا طرز عمل اور بیان ناپسندیدہ ہے۔ ترکی ہر مشکل میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ ترک صدر نے کہا کہ امریکی دھمکیاں افسوسناک اور قابل مذمت ہیں۔ صدر ٹرمپ کا بیان نامناسب اور پاکستان کی قربانیاں باوقار ہیں۔ ایک اور بیان میں ترک صدر نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران اور پاکستان کے معاملات میں مداخلت کی مذمت کی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترکی ناٹو کے رکن ہونے کی حیثیت سے امریکہ کا فوجی اتحادی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ بھی اس کے سفارتی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات ابھی تک قائم ہیں، اس کے باوجود ترک صدر کا امریکہ اور اسرائیل کے خلاف یہ بیان جرات مندانہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر امریکہ نے پاکستان کے خلاف کوئی نامناسب کارروائی کی تو اسے ناصرف یہ کہ ترکی کی حمایت حاصل نہ ہوگی بلکہ ترکی پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ اسے ایک بڑی تزویراتی پیش رفت قرار دیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں     قلم کی نوک پہ رکھوں گا اس جہان کو میں ۔۔رانا اورنگزیب

دریں اثناء ایران کے وزیر دفاع نے بھی پاکستان کے وزیر دفاع کو فون کرکے اپنے تعاون اور حمایت کا یقین دلایا ہے۔ ایران کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ امریکہ اسرائیلی اسٹریٹجی کے تحت خطے میں بدامنی پھیلانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ اپنے پاکستانی ہم منصب خرم دستگیر خان سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے ایران کے وزیر دفاع جنرل امیر حاتمی کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اپنی شکست اور ناکامیوں کا الزام دوسروں کے سر ڈالنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ خطے کے حالات اور امت مسلمہ کی صورتحال کا تقاضا ہے کہ خطے اور عالم اسلام کے دو اہم ملکوں یعنی ایران اور پاکستان کے درمیان صلاح اور مشورے کا سلسلہ جاری رہے۔ ایران کے وزیر دفاع نے کہا کہ دفاعی اور فوجی لحاظ سے ایران اور پاکستان بے پناہ صلاحیتیوں کے مالک ہیں، جنھیں دونوں ملکوں کے عوام کی معیشت اور سلامتی کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کے وزیر دفاع نے بھی کہا کہ خطے کی صورتحال کے تناظر میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون میں اضافہ ناگزیر ہوگیا ہے۔ اس ٹیلی فونی رابطے کے بعد اتوار 7جنوری 2018ء کو تہران میں پاکستان اور ایران کے قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات ہوئی، جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک امریکی دھمکیوں سے نمٹنے کے لئے مشترکہ حکمت عملی بنائیں۔ جنرل ناصر جنجوعہ نے تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب ایڈمرل علی شمخانی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی سلامتی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ کسی ملک کو ہتھیاروں کی فراہمی اور دہشت گردی کے ذریعے پاکستان سے تعلقات کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس موقع پر علی شمخانی نے امریکی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک بالخصوص ایران اور پاکستان کے خلاف امریکہ کی دوہری پالیسیوں کی وجہ سے اسلامی ممالک کے مابین امریکہ کے خلاف باہمی تعاون میں توسیع ناگزیر ہے۔

جنرل جنجوعہ نے اس موقع پر کہا کہ مسلمانوں اور اسلامی ممالک میں تنازعات پھیلانے کی غیر ملکی سازشوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ دو طرفہ سکیورٹی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دے گا۔ جنجوعہ نے کہا کہ ایران مشرق وسطٰی کے خطے میں ایک پرامن، مستحکم اور طاقتور ملک ہے اور ہم اس ملک کے ساتھ مشترکہ اقتصادی، تجارتی اور کاروباری تعلقات کی ترقی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ دونوں عہدے داروں نے امریکہ کی مشترکہ دھمکیوں اور خطرات کے خلاف تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ایران کے ساتھ پاکستان کی اس پیشرفت سے اندازہ ہوتا ہے کہ خطے کی جیو پولیٹیکل اور اسٹرٹیجک صورت حال میں نئے امکانات پیدا ہونے لگے ہیں۔ ایران اور پاکستان کے مابین تعلقات بہت جلد نئی بلندیوں کی طرف گامزن ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق پاکستان کی سینیٹ کے ان کیمرہ اجلاس میں بھی ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر بات کی گئی تھی اور پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایران کی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب ایران 8 کروڑ عوام کی آبادی کا ملک ہونے کے باوجود امریکہ کے سامنے سینہ سپر رہا ہے اور امریکہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکا تو پاکستان 20 کروڑ آبادی کا ملک ہے، امریکہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ گذشتہ دنوں اپنے وزیرستان کے دورے کے موقع پر بھی جنرل باجوہ نے یہی بات کہی تھی کہ کوئی طاقت بھی پاکستان کا بال بیکا نہیں کرسکتی۔ انھوں نے ایک اور موقع پر کہا کہ کوئی بھی پاکستان کے عزم کو شکست نہیں دے سکتا۔ اس وقت پاکستان میں امریکہ کے خلاف جس طرح کا سیاسی، عوامی اور عسکری اتحاد موجود ہے، یہ پاکستان کی اصل قوت ہے، جبکہ پاکستان پہلی مرتبہ علاقائی قوتوں کے ساتھ ایک حقیقی اتحاد کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ اتحاد اسے بہت پہلے قائم کرنا چاہیے تھا، ہزاروں میل دور کی طاقتوں کا اتحادی بن کر قریب کی طاقتوں کو نظرانداز کرکے یا مخالف بنا کر پاکستان نے یقیناً بہت کچھ کھویا ہے۔ آج جب کہ امریکہ پاکستان کے سامنے عریاں ہو کر ایک دشمن کی شکل میں سامنے آگیا ہے اور بقول پاکستان کے وزیر خارجہ کے امریکہ یار نہیں بلکہ یار مار ہے، پاکستان کے لئے آسان ہوگیا ہے کہ وہ علاقائی قوتوں کے ساتھ اتحاد کرکے خطے میں غیر ملکی مداخلت بلکہ دھونس کا مقابلہ کرے۔ پاکستان کے استحکام اور ترقی کا راستہ خود پاکستان کے نام نہاد دوستوں اور حقیقی یار ماروں نے ہموار کر دیا ہے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *