تین مومن خان مومن

مومن خان مومن ’’ ایم کیو ایم ،لندن گروپ ‘‘ کے نام سے مشتہر کی گئی جماعت کی رابطہ کمیٹی کا رکن اور اسیر رہنما ہے ۔ لیکن مومن خان مومن کی صرف یہی شناخت نہیں ہے ۔ کراچی ، حیدر آباد اور سندھ کے دیگر شہروں سمیت ملک بھر کے سیاسی حلقوں بالخصوص بائیں بازو کے لیے مومن خان مومن کی اور شناختیں بھی ہیں ، اس کے اور تعارف بھی ہیں ۔تین مومن خان مومن تین شناختیں اور تین تعارف ۔ آئیے پہلے مومن خان مومن سے ملتے ہیں ۔

کامریڈ مومن خان مومن ، یہ ہے وہ پہلا مومن خان مومن جس کی وجۂ شہرت اس کے انقلابی افکار و آدرش ہے ۔ جو اشتراکیت کو نوعِ انسانی کے جملہ آلام کا سائنسی حل سمجھتا ہے اور اس کے لیے کی جانے والی جدوجہد سے طالبعلمی کے زمانے سے وابستہ ہے ۔نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان کا صدر ، آل پاکستان پروگریسو اسٹوڈنٹس الائنس کے نام سے ملک بھر کے ترقی پسند طلباتنطیموں کے مشترکہ اتحاد کا اہم رہنما جو طلبا میں انقلابی افکار کا پرچارک اور مذہبی ولسانی فسطائیت کے خلاف سینہ سپر ہے ۔وہ معراج محمد خان کے ساتھ شریک جہد ہے اور ضیاء آمریت کے خلاف MRDتحریک میں پیش پیش ہے ۔۸۰کی دہائی میں اردو پشتو بولنے والوں اور اردو سندھی بولنے والوں کے درمیان لسانی فسادات کے موقعوں پر اپنا انقلابی فریضہ ادا کرتے ہوئے لاتعداد انسانوں کی زندگیاں بچانے، انھیں سہارا دینے اور مقدور بھر امداد کرنے والے مومن خان مومن کو کون بھول سکتا ہے ؟۔وہ مومن خان مومن جس کے قلب وذہن کو لسانی زہر آلودہ نہ کر سکا ۔ یہ اس کے خلاف عوام کورنگ، نسل ، زبان ، مذہب اور فرقہ سے بلند ہو کر لوگوں کو شعور دیتا ،کبھی سندھی اور اردو زبان کے شعراء ،، ادبااور دانشوروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرتاتو کبھی اس لسانی فسادات کی سازشوں کے خلاف بھوک ہڑتال کرتا نظر آتا ہے ۔ ضیاء آمریت کے تاریک سائے ختم ہو جاتے ہیں اور ملک میں جمہوریت بحال ہو جاتی ہے ۔لیکن مومن خان مومن غیر طبقاتی سماج کے قیام کا خواب آنکھوں میں بسائے مصروفِ جہد نظر آتا ہے ۔

پھرنوے کی دہائی کا آغاز ہوتا ہے ۔ کریملن کے افق پر لہراتاسنہری درانتی اور ہتھوڑے سے مزین سرخ پرچم سرنگوں ہے ۔ماسکو سے عدیس ابابا،عدن اور کابل تک مومن خان مومن کی دنیا اجڑ چکی ہے ۔لیکن مومن خان مومن کا ذہن منور ہے ۔ وہ امریکی سامراج کے نئے قصدہ خواں راہنماؤں کی قطار میں ہے نا شاعری کو سجدے کرنے والے ، اپنی سابقہ تحریروں و تقریروں پر خود ہی کالک ملنے والے ادیبوں ، دانشوروں کی صف میں کھڑا ہے ۔ وہ عشاق کے اس قافلے میں شامل ہے جو اس گھڑی بھی ثابت قدم ہے ،جس کا ایقان ہے کہ وہ صبح ضرور آئے گی ۔
کامریڈ مومن خان مومن کا سفر جاری ہے ۔وہ ایک زبردست صدا کار اور آہنگ نامی میگزین کا مدیر ہے جس کی آواز ہر اس آواز میں شامل ہے جومنتخب حکمرانوں کی غیر جمہوری روش سے لے کر ریاستی اداروں کے استبداد تک کے خلاف بلند ہوتی ہے ۔

وہ مشرف آمریت کے زمانے میں وکلاء کی تحریک ، بلوچستان اور سندھ میں سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیاں ، ماورائے عدالت قتل اور گلگت بلتستان کے انقلابی راہنما کامریڈ بابا جان کی گرفتاری اور سزا کے خلاف ہونے والے احتجاجات میں سرگرم ہے ۔مظلوم عورتوں ، اقلیتوں ، طلباء سے لیکر PTCL، P.Cہوٹل ،KESC، لیڈی ہیلتھ ورکرز ، پاور لومز ، گڈانی شپ بریکنگ ، گھر مزدور عورتوں تک محنت کشوں اور ہاریوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے ۔

وہ یکم مئی کے جلسوں ، محنت کشوں اور بائیں بازو کے اجتماعات میں جب جون ایلیا کی نظم ’’دو آوازیں‘‘ اپنے مخصوص انداز میں پڑھتا ہے تو اس کی گونج اونچے ایوانوں سے ٹکراتی محسوس ہوتی ہے ۔ تم اپنی سرکار سے یہ کہنا یہ لوگ پاگل نہیں ہو ئے ہیں یہ لوگ سب کچھ سمجھ رہے ہیں یہ لوگ سب کچھ سمجھ چکے ہیں
کتنی تحریکیں، کتنے نام ، کتنے احتجاجات گنوائے جائیں جن کا وہ حصہ نہیں رہا ۔

اردو وسندھی ادب کا اعلیٰ ذوق رکھنے والا ، ساری زبانوں سے محبت کرنے والے مومن خان مومن ’’ انجمن ترقی پسند مصنفین ‘‘ کے پلیٹ فارم سے بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے ۔ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اس کا خاصہ ہے ۔ وہ سندھ کی دھرتی سے بھی بے پناہ محبت کرتا ہے ۔ سندھ سے جبری طور پر ہندوستان جلا وطن کیے جانے والے ممتاز ادیب اور دانشور کامریڈ کیرت بابانی پر جس ایکسپریس کے صفحات پر اس کی پہلی برسی پر مضمون پڑھتا ہے تو فوراََ اس نوجوان لکھاری کو فون کر کے یوں اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ’’ بہت خوب کامریڈ ! اردو میں کامریڈ کیرت بابانی پر آرٹیکل لکھنے پر سرخ سلام ۔‘‘ فن وادب ، رقص وموسیقی ، تھیٹر ڈرامہ سمیت ہر وہ شے مومن خان مومن کی زندگی ہے جو انسانی قلب وذہن کو صیقل کرتی ہے ۔اس مومن خان مومن کے ساتھ شعر وداب ، رقص وموسیقی سے لے کر مارکسزم ،لینن ازم اور انارکسزم تک کے موضوعات پر گھنٹوں بات کی جا سکتی ہے ۔

اس مومن خان مومن کی دنیا لالو کھیت ہے ۔وہی لالو کھیت جہاں ملک کے کسی بھی حصے میں کسی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف پہلی صدائے احتجاج بلند ہوتی تھی اور اسے ویت نام کہا جاتا تھا ۔اس کی نگری لیاری تھا جس نے لالہ لال بخش رند جیسے انقلابی راہنما پیدا کیے ۔ اس کی کائنات اورنگی ٹاؤن ، سہراب گوٹھ اور لانڈھی کورنگی جیسے علاقے تھے جہاں سے کامریڈ عثمان بلوچ جیسے مزدور رہنما کی ایک آواز پر مزدوروں کا سمندر جمع ہو جاتا تھا ۔
بایاں بازو اس پہلے مومن خان مومن کو کبھی فراموش نہیں کر سکے گا ۔اسے ملک کی بائیں بازو کی سیاست کے متحرک کردار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

آئیے اب دوسرے مومن خان مومن سے ملتے ہیں ۔ یہ ۱۱اگست ۲۰۱۶کا دن ہے مومن خان مومن حیدر آباد پریس کلب پر پروفیسر ظفر عارف سمیت ایسے وقت میں ایم کیو ایم میں شمولیت کا اعلان کرتا ہے جب اس جماعت کے متعدد سکہ بند رہنما یا تو اسے چھوڑ چکے ہیں یا پَر تول رہے ہیں ۔جب ایم کیو ایم میں شمولیت گھاٹے کا سودا ہے لیکن مومن خان مومن سوداگر تھا ہی کب ؟ ۔

مومن خان مومن کا یہ فیصلہ مجھ جیسے بہت سے لوگوں کے لیے ناقابل فہم ہے کہ وہ کیونکر ایک ایسی جماعت میں شامل ہو گئے اس شہر سے اس کی مزدور شناخت چھیننے میں جس کا سب سے بڑا حصہ ہے ،جس نے سیاست کے ایک ایسے چلن کو جنم دیا جس سے خود اردو بولنے والوں سمیت یہاں کے سارے باسی متاثر ہوئے ۔
مومن خان مومن کے اس فیصلے سے اختلاف سہی لیکن یہ کوئی پہلا کامریڈ تو نہیں جو ہماری تحریک نے کھویا ہے ۔ اجمل خٹک ، افراسیاب خٹک ، ڈاکٹر ارباب کھاوڑ ، علی حسن چانڈیوکتنے ہی نام ہے جو لسانی بنیادوں پر سیاست کرنے والوں جماعتوں میں شامل ہو گئے ۔پروفیسر جمال نقوی جیسے دانشوروں نے دلیل کی بجائے تذلیل کو ہتھیار بنا لیا ، جمعہ خان صوفی ، راجہ انور،رازق بگٹی ،امتیاز عالم اور نجم سیٹھی جیسے کئی ایک نام ہیں جن کا نقطۂ نظر ہی معکوس ہو گیا ۔ بہر کیف یہ دوسرا مومن خان مومن لیفٹ کے ایک المیے کا بھی نام ہے کہ جس نسل پرستی اور لسانیت کے خلاف وہ عمر بھر لڑتا رہا ، جدوجہد کرتا رہا ،وہ خود ایک ایسی تنظیم کے ساتھ کھڑا ہو گیا جس پر کھڑا کیا جانے والا سوال آج تک ریاست نہیں بلکہ بایاں بازو ہمیشہ اصولی طور پر اٹھاتا رہا ہے ۔ان عوامل کا کھوج لگانا ، ان کا تجزیہ اور سدباب کرنا ملک کے بائیں بازو کی قوتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے ورنہ ہم اپنے مومن خان مومن کھوتے رہیں گے ،جس کے ان حالات میں ہم ہر گز متحمل نہیں ہیں ۔

اب ذکر ہے تیسرے مومن خان مومن کا جسے ۲۲ اکتوبر کو حیدر آباد سے گرفتار کرنے کے بعد دوسرے دن ضمانت پر رہا گیا ہے اور پھر فوراََ ہی پولیس اسے گرفتار کرتی ہے ۔اگلے دن مومن خان مومن کی ایک تصویر منظر عام پر آتی ہے جس میں اس کے سامنے ایک میز پر مختلف قسم کے ہتھیار سجائے گئے ہیں اور اس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ مومن خان مومن اور اس کے ساتھیوں کی نشاندہی پر حیدر آباد کے ایک مقام سے برآمد کیے گئے ہیں ۔

یہ دعویٰ یہ اتہام اتنا بے سروپا ہے کہ ہر وہ شخص جو مومن خان مومن کو تھوڑا سا بھی جانتا ہے ،اس پر کبھی یقین نہیں کرے گا ۔مومن خان مومن نے تو کبھی اس وقت بھی اسلحے کے بارے میں نہیں سوچا جب اس اسلحے اور غارت گری کی سرپرستی کی جا رہی تھی ۔ جب یہ دولت اور طاقت کی ’’ مستند ‘‘ دلیل تھی ۔تیسرے مومن خان مومن کی اس تصویر پر تین بار نہیں ، نہیں ،نہیں۔تین سو ، تین ہزار ، تین لاکھ ، تین کروڑ ، تین ارب ، تین کھرب بار نہیں۔

اگر پہلااور دوسرامومن خان مومن ایک شخص کا شعوری فیصلہ ہے تو یہ تیسرا مومن خان مومن جو گھڑا اور دکھایا جا رہا ہے سراسر جھوٹ اور بہتان ہے جس پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔یہ تیسرا مومن خان مومن ریاستی اداروں اور اس کے تمام تر دعوؤں پر بھی سوالیہ نشان ہے ۔یہ اس منتخب مرکزی جمہوری حکومت پر بھی سوالیہ نشان ہے جو آمریتوں کے ہاتھوں خود پر ہونے والے مظالم اور سازشوں کا رونا روتی رہتی ہے ۔ یہ سندھ کی صوبائی حکومت پر بھی سوالیہ نشان ہے کہ اظہار الحق کیس میں راؤ انوارکو معطل کر دیا جاتا ہے لیکن مومن خان مومن کے بارے میں کوئی لب کشائی نہیں کرتا ۔جب کہ سندھ کی حکمران جماعت کے قائدین آمریتوں کے خلاف اس کی جدوجہد سے بخوبی واقف ہیں۔ اس امر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس جمہوریت کے پیمانے کتنے مختلف ہیں ؟۔مومن خان مومن کو اس فیصلے کی سز ا دی جا رہی جوختلاف کے باوجود اس کا جمہوری حق ہے ۔ اگر وہ کسی ’’ پسندیدہ‘‘ گروپ میں شامل ہو جاتا تو اس کے سارے ’’ گناہ‘‘ معاف کر دیے جاتے ۔

بہر حال جبری طور پر غائب کیے گئے لیاری کے کامریڈ واحد بلوچ کی بیٹی ہانی بلوچ کی طرح بلڈ پریشر کے عارضے میں مبتلا۶۳ سالہ مومن خان مومن کی بھی ایک بیٹی ہے ندا خان ۔ یہ دونوں بیٹیاں آج ایک جیسے کرب کا شکار ہیں اور یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ریاستی اداروں اور مسند اقتدار پر براجمان حکمرانوں کے لیے اگر کامریڈ واحد بلوچ ، مومن خان مومن اور پروفیسر حسن ظفر عارف جیسے افراد بھی ناقبل برداشت ہیں تو اس کا مطلب سماج کو اس مایوسی اور انارکی کی طرف دھکیلنے کے سوا کچھ بھی نہیں جس کا منطقی نتیجہ نوجوانوں کو اس سمت لے جائے گا جس کے تباہ کن نتائج کے سامنے ہمارے آج کا سماج بھی جنت تمثال ٹھہرے گا ۔

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *