چھا ن بورا۔۔گل نوخیزاختر

المیہ یہ ہے کہ ہم الیکٹریشن کے کام کی نگرانی پر پلمبر کو بٹھا دیتے ہیں‘ نتیجتاً پلمبر اُس کے ہر کام میں دخل دینا اپنا فرض سمجھتاہے اور جب کام خراب ہوتاہے تو پلمبر کے کہنے پر الیکٹریشن کی چھٹی کرادی جاتی ہے۔ہنر مندلوگ ترس رہے ہیں کہ انہیں آزادی سے اُن کا کام کرنے دیا جائے لیکن ہر جگہ اُن کے اوپر والی سیٹ پر کوئی ”پلمبر“ بیٹھا ہے جواپنے عہدے کا فائدہ اٹھاکر ہرکام میں اپنی ٹانگ اڑاتا ہے اور ہنرمند کو بھی زیروبنا دیتاہے۔ہمارے ہاں right man for the right job والی بات بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔ سافٹ ویئر انجینئر کے اوپر کوئی ٹیکنیشن ”باس“ لگا ہوا ہے۔ مارکیٹنگ کے رموز سے واقف بندے کے اوپر آڑھتی براجمان ہے۔قانون نافذ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے کے اوپر قانون شکنی کرنے والا افسر لگا ہوا ہے اورتجربہ کار اکاؤنٹنٹ ایک تجربہ کارانجینئرکو جوابدہ ہے۔جنہیں جوتیوں میں ہونا چاہیے تھا وہ سروں پر چڑھے بیٹھے ہیں اور جس چیز کا علم نہیں رکھتے اُس کا علم رکھنے والوں کو اپنی بونگیوں سے مسلسل مسلتے چلے جارہے ہیں۔اپنے اردگرد نظر دوڑائیے‘ کیسے کیسے نایاب لوگ اپنی مجبوریوں کی وجہ سے مخبوط الحواس لوگوں کے انڈر کام کرنے پر مجبور ہیں۔اپنے فن میں طاق موسیقار کسی گیت کی شاندار دھن بھی بنا لے تو اُسے سلیکٹ یا ریجکٹ کرنے کا اختیار کسی ایسے کے پاس ہے جسے نہ راگ کا پتا ہے نہ لے کا۔جہاں جہاں مجبوریوں کی وجہ سے نااہل لوگوں کے زیرسایہ رہ کر کام کرنا پڑتاہے وہاں ہنر بھی آہستہ آہستہ دم توڑ دیتاہے۔عموماً جب کسی کے پاس کوئی سیٹ یا عہدہ آتا ہے تو اس کے اندر کا فرعون بیدار ہوجاتاہے جو ہر لمحہ اسے احساس دلاتاہے کہ ”تم ہی تو ہو“۔اسی کیفیت کے خمار میں اسے یہ بیماری لگ جاتی ہے کہ اس کے ہاتھ جو بھی چیز آئے وہ اس میں کوئی نہ کوئی کیڑا نکالنے یا ڈالنے کا فریضہ ضرور سرانجام دے۔ہم میں سے ہر بندہ اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل کے پرزوں کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات ضرور رکھتاہے لیکن جب ہماری سواری خراب ہوتی ہے تو اُسے مکینک ہی ٹھیک کرتاہے۔ پتا نہیں کیوں اس وقت ہم خودمکینک کے فرائض کیوں نہیں سرانجام دیتے شائد اس لیے کہ ہمیں پتا ہوتاہے کہ ہم میں یہ صلاحیت نہیں اور ہم اپنی نااہلی کی وجہ سے اپنی چیز کا نقصان کر بیٹھیں گے۔ لیکن جب ہم کسی دوسرے کی سیٹ پر ہوتے ہیں توچونکہ ہمارا ذاتی نقصان نہیں ہورہا ہوتا اس لیے ہمیں اپنی ”مہارت“ آزمانے کے لیے اچھی تجربہ گاہ مل جاتی ہے سات آٹھ سال پہلے میرے پاس ایک صاحب آتے تھے جوگرافک ڈیزائننگ میں بہت ماہر تھے لیکن نوکری نہیں مل رہی تھی۔پھر ایک دن انہیں ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں نوکری مل گئی۔ان کے اوپر جو صاحب افسر لگے ہوئے تھے وہ ایک سرکاری محکمے سے اکاؤنٹنٹ ریٹائرہوئے تھے اور گرافکس ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ تھے۔ڈیزائننگ کی الف بے سے بھی ناواقف تھے لیکن چونکہ افسر تھے اختیارکے نشے میں تھے لہذا ہر اچھے ڈیزائن کو بھرپور محنت سے بُرا بنا دیتے۔جو صاحب میرے پاس آئے تھے اُن سے یہ اذیت ناک صورتحال برداشت نہ ہوسکی اور استعفیٰ دے دیا۔ قسمت نے کرم کیا اور تھوڑے دنوں بعد انہیں دوبئی کی ایک کمپنی میں جاب مل گئی۔ انہوں نے کچھ رقم اکٹھی کی اور پاکستان واپس آکر اپنا ڈیزائننگ کا ادارہ کھول لیا۔چونکہ اب ان کے کام میں دخل دینے والا کوئی نہیں تھا لہذا پوری آزادی سے بہترین کام کیا اور آج شاندار زندگی گذار رہے ہیں کیونکہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ڈیزائنر کے اوپر کسی مزید اچھے ڈیزائنر کو ہی افسر لگانا ہے۔ اُن کے سابقہ ڈیپارٹمنٹ ہیڈ اب انہی کی کمپنی میں اکاؤنٹنٹ ہیں۔بڑے بڑے لوگو ں کے حالات زندگی پر نظر ڈالیے۔ یہ اپنے کام میں ماہر تھے لیکن اپنے نااہل افسروں کی بے جامداخلت کی وجہ سے برسوں کچھ کر دکھانے سے قاصر رہے۔ لیکن جونہی اِنہیں اپنا کام کرنے کی آزادی ملی انہوں نے سب کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔افسرکبھی کسی کو آگے نکلتا نہیں دیکھ سکتے۔ یہ ہر اس بندے کے کام میں روڑے اٹکاتے ہیں جس کے بارے میں انہیں شک ہو کہ یہ کسی نہ کسی موڑ پر ان سے آگے نکل جائے گا۔ایسے لوگ صرف اپنی نوکری بچاتے ہیں کیونکہ انہیں پتا ہوتاہے اگر انہیں نوکری سے نکال دیا گیا تو اوپن مارکیٹ میں ان کی قیمت دو ٹکے بھی نہیں لگے گی۔ ادارے ہنر مند وں کی وجہ سے چلتے ہیں افسروں کی وجہ سے نہیں۔ہونا تو یہ چاہیے کہ جو جتنا ہنر مند ہے اتنا ہی بڑا افسر ہو۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں۔اگر آپ بہت اچھے کامیڈین ہیں تویقینا آپ کے کام کو فائنل کرنے کا اختیار اُس کاہوگا جو لطیفہ سن کر بھی آنسو بہانے لگتاہے۔اگر آپ ٹی وی کے بہت اچھے ڈائریکٹر ہیں توعین ممکن ہے آپ کا ڈائریکٹر پروگرامز وہ شخص ہو جوبہت اچھا کارپینٹر ہو۔بڑے ظالم لوگ ہوتے ہیں یہ۔اپنے ہر کام کو ماسٹر پیس اور دوسرے کے ہرکام کو ناقابل قبول قرار دے دیتے ہیں۔یہ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔نہیں جانتے کہ ان کے زیر اثر کام کرنے والا ہنر مند کدھر جارہا ہے اور کب اِنہیں اُس کی نوکری کرنی پڑجائے۔عہدوں کے خمار میں مبتلا یہ لوگ چونکہ خود ٹیلنٹ سے محروم ہوتے ہیں لہذا انہیں ہر اُس شخص سے خار ہوتی ہے جس میں تھوڑا سا بھی ٹیلنٹ ہو۔لیکن ٹیلنٹ کو سوئی برابر بھی جگہ مل جائے تو پہاڑ جتنا سوراخ کردیتا ہے لہذا افسروں کو افسری کرنے دیجئے اور اپنا کام جاری رکھئے یہ اپنی عقل کے مطابق آپ کے کام میں ٹھونگے مارتے رہیں گے لیکن خود اُس جیسا کام کبھی نہیں کر پائیں گے۔میں نے بے شمار لوگوں کا بہترین کام بدترین لوگوں کے ہاتھوں مسترد ہوتے دیکھا ہے لیکن یہ بھی دیکھا ہے کہ جونہی اِن لوگوں کی گرفت کمزور پڑتی ہے‘ وہی مستردشدہ کام یوں اچھل کر باہر آتاہے کہ دنیا کو پاگل کر دیتاہے۔وقت کی چھلنی میں صرف صاف مال اوپر رہتا ہے‘ چھان بورا نیچے چلا جاتاہے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *