سب سے پہلے چین

صحافت اور پھر اردو صحافت،اب میر انیس ہی آئیں تو کوئی مرثیہ ہو۔جذباتیت اور سطحیت کا آسیب اوڑھے بقلم خود قسم کے علاموں نے امورِ خارجہ کو بھی کارِ طفلاں بنا دیا۔اب اگر سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے بلند دوستی کے ذکر پر فرطِ جذبات سے لوگوں کی پلکیں نم ہو جائیں اور دلوں میں اٹھتی جوانیوں کی پہلی پہلی محبتوں کی کسک اٹھنے لگے توحیرت کیسی؟ہماری نسل کو تو نیم خواندہ علاموں اور انڈر میٹرک تجزیہ نگاروں نے بتایا ہی یہی ہے کہ ہیر رانجھا ، سسی پنوں ، لیلی مجنوں اورشیریں فرہاد جیسی لوک داستانوں میں نیا اضافہ پاک چین دوستی ہے۔جب فکر کی پختگی کا عالم یہ ہو تو پھر اس بات پر بھی کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ آپ سے کسی نجی چینل کا معروف اینکر سوال کرے:یہ کیسی دوستی ہے کہ چین بھارت سے این ایس جی پر بات چیت کے امکانات کھلے رکھے ہوئے ہے۔۔۔ کل شام ایک ٹاک شو میں جب مجھ سے یہی سوال ہوا تو کم از کم مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی۔

پاک چین دوستی کو ہمارے ہاں اولین محبتوں کے مبالغے سے بیان کیا جاتا ہے۔اس مبالغے کے زیر اثر اچھے خاصے معقول آدمی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پر کبھی برا وقت آیا تو چین ہم پر فدا ہو جائے گا،برسوں سے یکطرفہ ممنونیت کا ایک اثر یہ بھی ہے کہ ہماری گردنیں ہر وقت چین کے احسانات تلے دبی ہیں۔ہر علامہ دیوان لکھتا ہے کہ چین نے ہمارے لیے یہ یہ کیا اور پھر اس لوک داستان میں رنگ بھرنے کے لئے اردو صحافت کے یہ افلاطون پاکستان کی بے وفائیوں اور کم ہمتی کا مرثیہ بھی پڑھ دیتے ہیں اور پھر گلو گیر لہجے میں کہتے ہیں: دیکھیں اس سب کے باوجود چین نے ہمارے لئے اتنا کچھ کیا۔

ان مہ و سال میں بہت سے موہوم تصورات مرحوم ہو چکے ہیں۔جوں جوں تعلیم اور شعور آئے گا ان بقلم خود علاموں کی پھیلائی فکری آ لودگی بتدریج ختم ہوتی چلی جائے گی اور نفسیاتی گرہیں کھلتی چلی جائیں گی۔پاک چین دوستی بھی ایک ایسا موضوع ہے جسے محبت کی لوک داستان کی بجائے امور خارجہ کا ایک پہلو تصور کر کے سمجھنا چاہیے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ قوموں کے درمیان پیار ، محبت اور وفا نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔قوموں کے درمیان صرف مفادات ہوتے ہیں۔دو ممالک کا تعلق گاؤں کی پگڈنڈی یا کالج کی سیڑھیوں پر پروان چڑھنے والی دوستی یا محبت نہیں ہوتی ،یہ ایک خالصتا مفادات کے لئے استوار رشتہ ہوتا ہے جو مفادات کے ساتھ بدل جاتا ہے۔
چین سے پاکستان کے بلاشبہ بہت اچھے اور مثا لی ہیں مگر یہ کسی لوک داستان کا نام نہیں۔ اپنی نفسیاتی گرہیں کھول کر ان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

پہلی بات یہ ذہن نشین کرنے کی ہے کہ چین کی ترجیح معیشت ہے۔یہ ایک تاجر قوم ہے۔اب تجارت کی اپنی نفسیات ہے۔تجارت میں حساب ود و زیاں بڑا معنی رکھتا ہے۔تاجر اگر سگا بھائی بھی ہو تب بھی وہ حساب سودوزیاں سے بے نیاز نہیں ہوتا،ایک قوم کیسے اس سے بے نیاز ہو سکتی ہے؟اس دوستی کی بنیاد یہی حساب سودوزیاں رہے گا۔یہ لیلی مجنوں کی لوک داستان نہیں بن سکتی۔

دوسری بات یہ سمجھنے کی ہے کہ پاک چین دوستی میں زیادہ توجہ اس نقطے پر دی گئی ہے کہ چین نے ہمیں کیا دیا۔گاہے یوں لگتا ہے کہ ہم ایک بے وفا محبوب ہیں جس کی بار بار کی بے وفائیوں کے باوجود چین ایک سچے عاشق کی طرح اس پر فدا ہے۔حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔چین نے ہمارے لئے بہت کچھ کیا ہوگا تو جواب میں ہم نے بھی بہت کچھ کیا ہوگا۔تبھی تو یہ دوستی قائم ہے۔ہم جوابی امکانات کی دنیا جب تک آباد رکھیں گے یہ دوستی قائم رہے گی۔قوموں کے تعلقات میں یک طرفہ ٹریفک نہیں چلا کرتی۔احترام بجا لیکن ضرورت سے زیادہ یکطرفہ ممنونیت جو احساس کمتری میں مبتلا کر دے، اس کی کوئی ضرورت نہیں۔چین نے ان حالات میں پاکستان میں ڈیویلپمنٹ کا کام کیا تو کیایہ صرف اس نے دوستی کی لاج رکھی۔ایسا نہیں۔یہ محض دوستی نہیں یہ چین برازیل اور میکسیکو کی معاشی پالیسی کا ایک بنیادی نقطہ بھی ہے کہ جنگی اثرات سے متاثر ممالک میں سرمایہ کاری کی جائے۔اس کے اپنے فوائد ہیں جن کے بیان کے لئے ایک الگ نشست چاہیے۔

تیسری بات یہ کہ سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے بلند دوستی ابھی تک سرکاری سطح پر ہے۔عوام الناس میں روابط نہ ہونے کے برابر ہیں۔ہمیں چین کے صدر، وزیر اعظم ، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ، وزیر تعلیم، چیف جسٹس میں سے شائد ہی کسی کا نام آتا ہو۔ہم سے کتنے ہیں جو چین کے آٹھ شہروں کا نام گنوا سکتے ہیں۔کتنے ثقافتی وفود آتے جاتے ہیں۔سول سوسائٹی کے روابط کا عالم کیا ہے؟افغانستان سے ہمارے کتنے رشتے تھے، مذہب کا رشتہ تھا، ہماری ایک صوبے کی ثقافت ملتی تھی، سرحد کے آر پار رشتہ داریاں تھیں،لیکن جب ان پر برا وقت آیا تو ہم یہ کہہ کر ایک طرف کھڑے ہو گئے کہ: سب سے پہلے پاکستان۔خدانخواستہ کبھی ہم پر برا وقت آیا تو چین بھی کہہ سکتا ہے: سب سے پہلے چین۔اپنی تعمیر بھی خود کرنا پڑتی ہے اور اپنی جنگ بھی خود لڑنا پڑتی ہے۔کوئی کسی کی آگ میں نہیں جلتا۔

چوتھی بات یہ ہے کہ ہم کسی دوست کو بھلے وہ سمندروں سے گہرا اور ہمالہ سے اونچا ہی کیوں نہ ہو یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ ہم سے دوستی رکھنی ہے تو بھارت کو چھوڑ دو۔بھارت کی کنزیومر مارکیٹ کو نہ چین نظر انداز کر سکتا ہے اور نہ ہی ہمارا کوئی اور دوست ملک۔ہر ملک اپنے مفادات کو دیکھے گا۔یہ گاؤں کی دوستی نہیں ہوتی جہاں ایک کی محبت میں لوگ دوسرے سے تعلقات خراب کر لیتے ہیں۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایک طویل عرصہ ہندی چینی بھائی بھائی کے نعرے دونوں ملکوں میں گونجتے تھے اور تارا پور کے بھارتی ایٹمی ری ایکٹر کو ایندھن ایک عرصے سے چین فراہم کر رہا ہے۔بے شک ان کے میزائلوں کا تعارف یہ ہو کہ یہ بیجنگ اور دلی تک مار کرتے ہیں ان کی تجارت کا حجم کئی گنا بڑھ چکا ہے۔

پانچویں بات یہ کہ امریکہ سے ہماری بے زاری اپنی جگہ لیکن عسکری اعتبار سے چین ہمارے لئے اس کا متبادل نہیں بن سکتا۔یاد رہے کہ امریکہ کے صرف پینٹاگون کا بجٹ چین کے کل دفاعی بجٹ سے تین گنا زیادہ ہے۔

چھٹا اور آخری نقطہ یہ کہ اگر کبھی چین دنیا کی واحد سپر پاور بن گیا جیسے آج امریکہ ہے تو اس کا رویہ کیسا ہو گا۔یاد رہے کہ چین اس خطے میں سب سے پہلا ملک تھا جس نے اسلامی دہشت گردی کے خلاف ’ شنگھائی فائیو‘ بنائی۔اس کے مقاصد میں لکھا ہے کہ اسلامی دہشت گردی کا خاتمہ۔ (اصطلاح قابلِ توجہ ہے)۔

ان نقاط کے اٹھانے کا مطلب چین کی دوستی پر انگلی اٹھاناہر گزنہیں ہے۔بلاشبہ چین ایک بہترین دوست ہے اور اس سے دوستی میں امکانات کا ایک جہاں پوشیدہ ہے۔ان گزارشات کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ہم امورِ خارجہ کو سنجیدگی سے سمجھیں۔جس طرح جنگ صرف جرنیلوں پر نہیں چھوڑی جا سکتی اسی طرح امورِ خارجہ ’ معروف تجزیہ نگاروں‘ پر نہیں چھوڑے جا سکتے۔دودھ کے دانت اب گر جانے چاہئیں۔

Avatar
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *