ہم ناچنے گانے والے ،جہادی لوگ/سلیم زمان خان

اس وقت میں ائیر پورٹ پر بیٹھا ہوں, یہ میرا جہاز کا پہلا سفر ہے، کیونکہ بہت مشکل سے پیسے جمع کر کے جہاز میں جا رہا ہوں لہٰذا گھبرایا ہوا بھی ہوں۔  جہاز چونکہ اب امیر ترین کاروباری حضرات یا سرکاری ،کارپوریٹ سیکٹر کے اسپانسر ہی افورڈ کر سکتے ہیں اور ان امیر لوگوں میں میں طوطی کی طرح صرف پلکیں جھپکا رہا ہوں۔  سوچتا ہوں اتنے پیسوں میں تو مہینہ عزت سے گزر گیا ہوتا۔  اگر میں چندہ جمع کرنے والوں سے پیسے لیکر بھاگ گیا ہوتا  لیکن مجبوری کہ  بھاگ سکتا نہیں۔ خیر اس وقت میں بہت سے لوگوں میں شدید تنہا ہوں،  کوئی کسی کی طرف نہ دیکھ رہا ہے،نہ مسکرا رہا ہے نہ ہی سلام کر رہا ہے۔  انسانوں کا جنگل ہے اور ہم ہیں دوستو۔ ۔

تقریباً دو جہازوں کے جانے کا وقت ہے اور شاید ڈیڑھ یا دوسو کے قریب مسافر اس لاؤنج میں موجود ہوں گے۔۔ لیکن مجال ہے کوئی بھی بندہ کتاب پڑھ رہا ہو ۔ لمبے لمبے فونوں اور ٹیبلٹس پر بلکہ I phone 15 پر سب گردنیں جھکائے اردگرد سے بے نیاز بیٹھے ہیں۔ کیا آفیسر کیا نوجوان کیا میری طرح کا بابا سب ہی فون تاڑ رہے ہیں۔ پہلے چند لوگوں پر مجھے شک گزرا کہ یہ موبائل پر کوئی کتاب یا کوئی مذہبی مطالعہ فرما رہے ہیں، لیکن مسٹر بین کی طرح پودوں کے پیچھے سے جب چھپ کر دیکھا تو انتہائی انہماک سے reels دیکھی جا رہی تھیں۔ ایک شخص نے کسی بنک کی ایکسل شیٹ کھولی ہوئی ہے اور میرے پیچھے کوئی انتہائی امیر نوجوان لڑکا (جس کا باپ شاید دبئی میں کاروبار کرتا ہو گا ) بیٹھا ہے، میں ایسا اس کے کپڑوں پر چھڑکی آدھی بوتل عود کے پرفیوم کی خوشبو کی وجہ سے کہہ رہا ہوں ۔ نوجوان نے نجانے کانوں میں لگانے والے وہ جھمکے کیوں نہیں   پہنے ہوئے جو آج کل تار کے بغیر اکثر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے پہنے ہوتے ہیں۔۔ کیونکہ وہ جو انڈین گانے سن رہا ہے ۔ ایک تو وہ واہیات ہیں اور اوپر سے اسپیکر پر،کمال بد تہذیبی ہے۔  ایک اور نیم جوان فیس بک کی ویڈیوز دیکھ رہا ہے ۔  جس میں ایک بدتمیز قسم کی ہنسی اردگرد د سب کو سنائی دے رہی ہے ۔ البتہ خواتین نے تہذیبی روایات کو برقرار رکھا ہوا ہے نوجوان ہوں یا میر ی طرح کی حاجن، سب کانوں میں سونے کے جھمکوں کے علاوہ وہ باتیں اور گانے سننے والے جھمکے بھی زیب گوش کئے ہوئی ہیں۔

ایک دوست جس نے بہت سے ممالک کا سفر کیا ہے وہ اپنا تجربہ بتاتا ہے کہ جس ملک کے بھی ڈیپارچر لاونج میں جائیں، لوگ ٹیبلٹس پر ،فون پر مطالعہ کر رہے ہوتے ہیں  اور چند لوگ اب بھی باقی ہیں جو کتب بینی میں مصروف ہوتے ہیں  ۔ ایک آدھ دوست تو کتابوں کا اتنا شوق رکھتا ہے کہ جب وہ سفر کے لئے لاؤنج میں ( بس،ٹرین یا جہاز) داخل ہو راستے کے لئے کتب وہیں سے خرید لیتا ہے ۔ لیکن اب شاید ” اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر “۔۔ کتاب کی قیمت سے دوگنا موٹا سا ایک برگر ماڈرن بننے کو چبانا کتاب سے کہیں بہتر ہے۔

جس قوم میں 99.99 فیصد لوگ میلے ٹھیلے، گانے بجانے،کھانے پینے اور جگتوں والی ویڈیوز پر اپنا وقت  صَرف کرتے ہوں ، یا غیر ضروری گفتگو جو کہ آج کل فون میں موجود اپیلی کیشنز سے ہو رہی ہیں۔۔ مصروف ہوں، وہاں تعلیم کا فقدان اور اخلاقی زوال کیوں نہ ہو ۔  مجھے نہیں یاد پڑتا کہ چند سال قبل تک کبھی بھی کوئی نوجوان ڈھٹائی سے بغیر کسی کی پرواہ کئے فون پر بلند آواز میں گانے سن رہا ہو اور ویڈیوز کی بلند آواز میں خرافات پر خود بھی قہقہہ لگا رہا ہو ۔

لیکن کہنے کو ہم ایک غیور قوم ہیں ،اور اس وقت پوری قوم جہاد فلسطین میں مصروف عمل ہے۔۔ لیکن ذاتی زندگیوں کا یہ حال ہے کہ جہازوں پر سفر کرنے والا امیر ترین طبقہ یا پڑھا لکھا طبقہ صرف اور صرف سطحی اور بے کار کاموں میں مشغول ہے ۔ اب اس کے بعد ٹرینوں، بسوں میں کیا حال ہو گا اس کا اندازہ آپ خود کر سکتے ہیں۔

لیکن امید پر دنیا قائم ہے۔ جب ایک ایسا شخص جس کا تعلیمی کیرئیر کچھ بھی نہ ہو۔ تعلیم کی بجائے بیرون ملک ٹیکسی چلاتا رہا ہو اور خوار زار واپس آ کر یہاں اس ملک میں چھوٹی موٹی نوکریاں کرتا ہو پھر اچانک اس پر قسمت کا مارخور مہربان ہو جائے۔۔ اور کہیں وہ میر معتبر بن جائے ،اور کہیں ملک کا چیف ایگزیکٹو تو پھر کشتیوں پر غیر قانونی طور پر زندگی کا جوا کھیلنے میں کیا مضائقہ ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کے اندر ایک شہباز، یا مارخور چھپا ہو ،اور ہم اور آپ غیر ملکوں کی لیٹرین صاف کرتے کرتے یا میکڈونلڈ پر پوچا لگاتے لگاتے یا بارڈر سے کابلی گاڑیوں اور کپڑے کی سمگلنگ کرتے ،کسی قیمتی شخص کی نظر کرم میں آجائیں۔ یا آپ ایک محب وطن پاکستانی ہیں لیکن پاکستان کی ترقی کی خاطر ،عیسا ئی ،قاد یا نی یا افغان مہاجر بن کر کسی ملک میں پناہ لینے کے بعد  آخر حج کر کے بچوں کی شادی کے لئے پاکستان آئے ہوں ، ہاں!  لیکن اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ آپ کو انگریزی بولنا بہت اچھی آتی ہو بھلے آپ ایک ٹیکسٹ میسج انگریزی میں کرنے کے قابل نہ ہوں۔۔ مگر آپ ایک اردو بولنے والے یا کسی بھی مقامی زبان بولنے والے عزت دار کی پگڑی خوب اچھالنا جانتے ہوں، سمجھیں آپ اس قوم کی ترقی و تعمیر کے علمبردار با اثر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، تو پیسہ کمائیں یا کوئی مارخور ڈھونڈیں اس کی پرورش کریں بہت منافع کا کاروبار ہے۔  پہلے لوگ بکریاں پالا کرتے تھے۔ اب اس میں آمدن محدود اور رسک زیادہ ہے ۔ ویسے بھی فارسی کی مثال ہے کہ۔۔
” اگر آپ کو کوئی غم نہیں ہے تو پھر ایک بکری پال لیں”

Advertisements
julia rana solicitors london

میرا یہ کہنا کہ قومیں اس طرح نہ بنتی ہیں نہ ہی زمانے میں عزت پاتی ہیں کیونکہ قوم کا مجموعی مزاج اس کی منزل کا تعین کرتا ہے۔۔ اور ہم آنے والے دنوں میں بطور بھانڈ اپنی شناخت بنائیں گے۔۔ شاید یہ بکواس ہے اور میں آپ کا وقت ضائع کرنے پر معافی چاہتا ہوں ۔
میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply