جنت کے درجے۔۔۔۔احمد ثانی

جنت کے سات درجے ہیں نا، میں نے فرشتے سے پوچھا ۔
فرشتے نے جواب دیا ۔ ہاں
میں نے پھر پوچھا۔ کیا میں کسی اعلئ یا ادنئ درجے کی صرف سیر کرنے جا سکتا ہوں؟
فرشتہ بولا۔ یہ جنت ہے آپ سوال نہیں خواہش کریں اللہ نے چاہا تو ضرور پوری ہو گی۔
میں نے خواہش کی کہ پیارے اللہ میاں جی، مجھے جنت کے کسی ایک اور درجے کی سیر کروا دیں۔
ابھی خواہش کے الفاظ کی تکرار میرے دماغ میں گونج ہی رہی تھی کہ غیب سے ندا آئی کہ میرے معصوم بندے تیری خواہش پوری ہوئی۔
میں نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا میں جنت کے ایک اور درجے کے دروازے پر ہوں اور فرشتہ دروازہ کھولے میرے اندر آنے کا منتظر ہے ۔

جنت کے اس لیول کے اندر جیسے ہی میں داخل ہوا حیران ہو گیا ۔
وہاں ٹرانسفارمرز گھوم رہے تھے۔ کچھ گھبراہٹ اور حیرانی کے ساتھ میں نے فرشتے سے پوچھا کہ یہ کونسا درجہ ہے جنت کا ۔ فرشتے نے جواب دیا یہ آپ کے جنت کے لیول سے دو درجے اوپر کا درجہ ہے ۔
میرے حواس ٹھکانے آئے تو اردگرد غور کیا پتا چلا یہ ٹرانسفارمر فلمی ٹراسفارمرز سے الگ ہیں۔ ہمت کر کے میں ایک پیلے رنگ کے چمچماتے ٹراسفارمر کے پاس پہنچا اور اُس سے مخاطب ہوا بھئی تم یہاں جنت میں کیسے آ موجود ہوئے؟
وہ مجھ سے گویا ہونے لگا کہ یکایک اسکی ہیئت بدلنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک ایمبولینس میں تبدیل ہو گیا ۔ اور اسکے سائرن بجنے لگے، سائرن سنتے ہی کئی اطراف سے مختلف ٹراسفارمرز میرے اردگرد آ  جمع  ہونے لگے اور اپنی ہیئت بدلنے لگے، اب جو غور کیا تو کہیں سفید ایمبولینس تھی کہیں پیلی ۔ کہیں پولیس کی گاڑی تھی تو کہیں ہسپتال کی ایکسرے، ای سی جی، الٹرا ساؤنڈ و دیگر مشینیں، میری حیرانی دو چند کرنے کو موبائلز کے ٹاورز اور کئی اقسام کے موبائلز بھی نظر آئے، چھوٹی بڑی کئی اقسام کی انڈسٹریل مشینیں چمچماتی ہوئی اُس ہجوم کا حصہ تھیں۔
اب خاموش رہنا ناممکن تھا تو میں نے برابر میں کھڑے فرشتے سے پوچھ ہی لیا بھئی یہ مشینیں انسان سے افضل درجے میں جنت میں کیسے آموجود ہوئیں۔
فرشتے کے کچھ کہنے سے پہلے ہی نِدا آئی ۔
اے میرے بندے انسانیت کا مقصد تھا انسان کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنا جن انسانوں نے اس فعل کو ترجیح دی وہ جنت میں اس سے بھی اعلئ ترین درجات میں موجود ہیں بے شک ان مشینوں کا تخلیق کار انسان تھا اور یہ مشینیں بھی جب انسان سے زیادہ لگن سے انسانیت کے لیئے آسانیاں پیدا کرنے کے مشن میں انسان کا ہاتھ بٹانے لگیں تو میری رحمت سے یہ کیونکر محروم رہتیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *