ڈیکورم۔۔محسن علی خان

بہار کا موسم شروع ہو چکا ہے۔ کالے بادلوں نے اپنی اپنی منزلوں کے لئے رخت سفر باندھ لیا ہے۔ جانے سے پہلے خوب روئے  ہیں، لیکن واپسی بھی ضروری ہے، پھر آئیں گے۔ اب ان کی جگہ دودھیا رنگ کے بادل ایک دوسرے کو پکڑنے کی کوشش میں نیلے آسمان پر بھاگنا شروع کر دیں گے۔ درختوں کے پتے ٹہنیوں سے سر نکال رہے ہیں، پرندے اپنے گھونسلوں سے نکلنے کے لئے انگرائیاں لے رہے ہیں، انڈوں میں سے بچے نکل رہے ہیں۔ باغوں میں کونپلیں پھوٹ رہی ہیں۔ پھول بن رہے ہیں۔ اب ان سب کی بڑھوتری کا عمل شروع ہے۔ ہر چیز اپنے اپنے ڈیکورم یعنی  سجاوٹ، شائستگی، سلیقہ شعاری کے مطابق مصروف عمل ہے۔ کائنات کے سب رنگ موسم بہار میں ظاہر ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک بہت خوبصورت احساس ہے۔

دلکش تتلیاں باغ و بہار کے نظاروں میں مستی سے اُڑ رہی ہیں، کبھی ایک پھول پر کبھی دوسرے پر بیٹھ کر مسکرا رہی ہیں۔ یہ مستی یہ آزادی، کھلی فضاؤں میں سانسیں، اٹھکھیلیاں، رنگوں کی کہکشاں، یہ سب ایک ڈیکورم کو پورا کرنے کا نتیجہ ہے۔ یہ پہلے تتلی نہیں تھی، صرف ایک انڈہ تھا جو بعد میں لاروا بن گیا تھا۔ موسم کی سختیاں برداشت کرتے ہوئے  لاروے سے پیوپا بنا۔ اب اس پیوپے میں زندگی کا امتحان شروع ہے۔ پیوپا ایک قید ہے، باہر آزادی ہے۔ آزادی کی خاطر اب تتلی اپنی ساری توانائی لگا رہی ہے۔ جب تھک جاتی ہے تو قدرت سے اپنی بے بسی کا اظہار کرتی ہے۔ قدرت مسکرا دیتی ہے۔ پیغام ملتا ہے کہ ڈیکورم پورا کرنا ہو گا ورنہ آزادی تو ہو گی لیکن زندگی حسین نہیں ہو گی۔ اس پیغام کے ملتے ہی دوبارہ اپنی جان لڑانا شروع کر دیتی ہے، صرف آزادی نہیں چاہیے، صرف اپنی مرضی نہیں چاہیے، زندگی بھی حسین چاہیے۔ جتنی جان لگائے  گی اتنا پروں میں طاقت آئے  گی، اتنا اُڑ سکے گی، اگر کسی بیرونی طاقت کی ہمدردی سے وقت سے پہلے پیوپا سے باہر آگئی تو زندگی بھر کے لئے اپاہج ہو جائے  گی۔ پھر باغ وبہار تو ہوں گے لیکن اس کے کسی کام کے نہیں ہوں گے، فقط ایک رینگنے والا کیڑا بن کے رہ جاۓ گی۔

یہ ایک جنت کا خوشنما باغ ہے۔ ہر طرف سوائے  سکون اور خوبصورتی کے کچھ نہیں ہے۔ نہ غم نہ موت، صرف زندگی ہے وہ بھی ہمیشہ کے لئے۔ شیطان نے اپنا آخری حربہ بھی آدم پر آزما لیا ہے لیکن ناکام ٹھہرا ہے، کوئی صورت بن نہیں پا رہی ہے۔ کوئی ترکیب کام نہیں آرہی ہے۔ بالآخر دماغ جو شیطان کا تھا، سوچ سمجھ کر ہر زاویہ سے مکمل کر کے، ایک چال چلی، تیر نشانہ پر بیٹھا، مشن پورا ہوا۔ اماں حواء کو یقین دلا دیا کہ درخت کا پھل ہے خود بھی کھاؤ، آدم کو بھی کھلاؤ، امر ہو جاؤ گے۔ اماں حواء نے آدم کو منا لیا۔ دونوں نے پھل کھا لیا۔ باقی سب تاریخ ہے۔

دراصل یہ عورت کی پہلی مرضی اور مرد کی پہلی غلطی تھی۔ لیکن اب واپسی ممکن نہیں جب تک موت سانس نہ اُچک لے۔ اب اس دنیا کے پیوپا میں رہنا ہے، ڈیکورم پورا کرنا ہے۔
مرد ہو یا عورت، دونوں اپنے اپنے ڈیکورم میں رہیں، تب ہی خوبصورت لگتے ہیں۔ اگر مرد اپنے ڈیکورم سے باہر آئے گا وہ خلیل الرحمن قمر صاحب بن جاۓ گا، اگر عورت اپنے ڈیکورم سے باہر آۓ گی تب ماروی سرمد صاحبہ بن جائیں گی۔ رہی بات حقوق کی تو حقوق پڑوسی کے اتنے زیادہ ہیں کہ رحمت العالمین ﷺ نے فرمایا، جس کا مفہوم بنتا ہے  کہ پڑوسی کے حقوق سے لگا کہیں جائیداد میں وارث نہ قرار دے دیا جاۓ۔

جسم کی مرضی تو خود روح کے تابع ہوتی ہے، پھر کیسا جسم کیسی مرضی۔ اگر جسم کی مرضی اتنی آزادی ہے جتنی نیدر لینڈ کے دارلحکومت ایمسٹرڈیم کے سرخ روشنیوں والے علاقے ، جہاں شوکیس میں میرا جسم میری مرضی کے نعرے سجے ہوۓ ہیں۔ پھر چھوڑیں اتنے مارچ، ویزا اپلائی کریں۔ اگر مقصد عورت کو صحیح معنوں میں اس کا حق دلوانا ہے تو ضرور اس نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ اگر میرا جسم میری مرضی سے مراد یہ ہے کہ ہم اپنے جسموں اور ان کے اعمال کا جواب صرف کائنات کے مالک کو دیں گے تو میرے خیال میں اس نعرے یا اس سوچ میں کوئی قباحت نہیں ہے، ہمیں اجتماعی طور پر اس نعرے کو قبول کرنا چاہیے۔ بلکہ  دینی و معاشرتی لحاظ سے بھی اس پر اعتراض نہیں بنتا ہے۔

لیکن اس بات کا تعین کون کرے گا۔ شراب خانہ میں یا تو انسان بولتا ہے یا شراب بولتی ہے۔ اب کیا پتہ کس وقت انسان بولا، کس وقت شراب بولی۔

عورتوں کے معاملہ میں آج کا پاکستان بہت پروگریسو ہے، آج آپ سروے کروا لیں آپ دیکھ لیں گے پاکستان کے ہر شہر میں لڑکیوں کے  سکول و کالجز کی تعداد میں حاضری پہلے کی نسبت سو فیصد زیادہ ہے، ملک کی تمام یونیورسٹیز کا ڈیٹا نکال لیں آپ کو فی میل سٹوڈنٹ لڑکوں کی نسبت زیادہ تعداد میں تعلیم حاصل کرتی نظر آئیں گی۔ یہ سب معاشرہ کی اجتماعی پروگریسو سوچ کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔ اب بڑی تعداد میں دیہاتوں سے بھی لڑکیاں یونیورسٹیز و کالجز میں آرہی ہیں۔ یہ سب سوچ کی تبدیلی کا اثر ہے بے شک ابھی رفتار سُست ہے۔ لیکن اب ضرورت ہے اس رفتار کو تیز کرنے کی، بجاۓ اس کے ایسے نعرے لگانے کی جس سے بغاوت کے آثار جنم لینا شروع ہوں اور والدین جو اعتماد کر کے اپنے بچوں کو تعلیم کے لئے گھر سے باہر بھیج رہے وہ اپنے فیصلہ پر نظرثانی کریں۔

تیزاب گردی، ریپ جیسے واقعات دنیا کے ہر معاشرہ میں اپنے اپنے دائرے میں ہوتے تھے، لیکن ان سب کی روک تھام جلوسوں سے نہیں بلکہ  مضبوط حکومت اور قانون کی حکمرانی کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ اس لئے ارباب حکومت کو چاہیے وہ اس سلسلے میں جتنے ممکنہ اقدام ہو سکتے وہ جلد از جلد لیں۔ محفوظ معاشرہ ہی ہر ملک کا حُسن ہوتا ہے۔

انسانی آنکھ میں جب تک بینائی رہتی ہے، یہ آنکھ صرف بہار دیکھنا چاہتی ہے، لیکن ہمیشہ بہار دیکھنے کے لئے اس ڈیکورم پر سختی سے عمل کرنا پڑتا ہے جس کے تحت یہ کائنات وجود میں لائی گئی ہے۔ اگر ہم اس ڈیکورم سے باہر نکلنے کی کوشش کریں گے ہم اپاہچ ہو جائیں گے۔ ہماری بینائی چلی جاۓ گی، ہم رنگوں کی شناخت نہیں کر سکیں گے، ہم پھولوں کی مہکتی خوشبو محسوس نہیں کر سکیں گے، ہم کوئل کی خوبصورت دُھن، بلبل کے سریلے نغمے سننے سے محروم ہو جائیں گے۔ ہمیں یہ نہیں پتہ چل سکے گا کہ آسمان پر آئے  بادل اب ہم پر بارش برسائیں گے یا آگ برسائی جاۓ گی۔ تب ہم بھی کہیں گے کاش ہم پیوپا میں قید رہتے، کاش ہم لاروا ہی بنے رہتے، کاش ہم صرف ایک انڈہ ہی ہوتے، اے کاش ہمارا وجود ہی نہ ہوتا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *