آج موسم نے کروٹ لی ہے۔ اکتوبر اپنی اصلیت پہ اتر آیا ہے وگرنہ گزشتہ دنوں اپنی چال ڈھال میں برابری پہ نہ کھڑا تھا یہ! آج دل کیا ہے کہ کمبل کوٹ پہن لیا یا ست رنگی چادر ہی اوڑھ لی جائے، پودینے والے اناردانیے پکوڑے ہی تل لیے جائیں یا چائے کو معمول سے کچھ زیادہ یخ مست بنا دیا جائے لیکن یہ سب رہنے دیا تاکہ بہانہ رہے کہ ابھی کہاں؟ ابھی تو دھوپ درشن کرنے ہیں اور ٹوپی مفلر اور بڑی ایڑیوں سے خود کو حتی الامکان بچائے رکھنا ہے۔ خیر یخ بستہ دھوپیں بھی تو آلینے دینی ہیں۔ ان میں ایک الگ سی مستی ہے۔ ابھی تو آسمان سے برستی سفید تتلیاں بھی آنے کو ہیں۔ برفانی راتیں بھی دیکھنی ہیں۔
یہ ہلچل، رنگ، ترتیب وار بے ترتیبی اور متنوع موضوعات اپنی جگہ اہم سہی لیکن سٹیبیلیٹی، مقصدیت اور حصول کی دوڑ میں کسی نہ کسی شکل میں رکاوٹ کہلاتے ہیں!
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں