بڑی تصویر اور فیض و دیگر۔۔۔ حافظ صفوان

. کسی بھی واقعے یا واقعات کے تسلسل کو کسی خاص worldview میں دیکھنے کے لیے جس فریم آف ریفرینس کی ضرورت ہوتی ہے اس کے لیے عربی کا ایک مقولہ ہے: ید الحر میزان، آزاد آدمی کا ہاتھ صحیح تولتا ہے۔ مطلب یہ کہ اچھی رائے یا درست بات وہ شخص کر سکے گا جو فریقین میں سے کسی کا غلام یا دین دار نہ ہو یا ان میں سے کسی کی طرف میلان نہ رکھتا ہو۔

ہماری برِ عظیم کی معاشرتی زندگی بڑی دیر تک یکسانی کا شکار رہی۔ یکسانی سے مراد یہ کہ بیرونی حملہ آور تشریف لاتے تھے اور ہم پر قبضہ کرکے حکومت فرماتے تھے۔ صدیوں سے یہاں کا یہی دستور تھا۔ ہم وہ لوگ ہیں جو حملہ آوروں کے ہاتھوں شکست کھانے والے اپنوں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ پورس ہمارا راجہ تھا جو سکندر کے خلاف ڈٹ گیا تھا، لیکن ہمارے تذکروں میں اس کا کردار ہمیشہ سے تضحیک آسا ہوتا ہے۔ تذکروں میں ایسا کیوں ہوتا ہے، اس کی وجہ اس بڑی تصویر کا سامنے نہ ہونا ہے جو طویل المیعاد منصوبے بنانے والے تیز فہم ابوالوقتوں نے وقت کی بساط پر واقعات کے تسلسل کے لیے بنا رکھی ہوتی ہے۔

دور مت جائیے، ٹیپو سلطان کی فوج کی بغاوت کی وجہ ہی دیکھ لیجیے۔ آخر ایسا کیا ہو گیا تھا کہ چند ماہ کی تنخواہ نہ ملنے پر یہ فوج بغاوت کرگئی جس نے ہندوستان کی تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ وجہ یہی ہے کہ فوج کے سپاہیوں کو اس بھاڑے سے غرض تھی جو انھیں ماہانہ ملتا تھا۔ یہ ماہانہ جہاں سے ملا، فوجی اس طرف چلے گئے۔ اگر ان لوگوں کے سامنے وہ بڑی تصویر ہوتی جو اس وقت کے طاغوت نے ٹیپو کی بادشاہت کو ختم کرکے آئندہ کے ہندوستان کے لیے سوچ رکھی تھی تو وہ یقینًا وفا پیشگی اختیار کرتے۔ میر جعفر اور میر صادق تو محض مہرے تھے جو استعمال ہوگئے۔

یہی صورتِ حال تحریکِ سیدین کی ہے۔ سید احمد شہید بہت غیور اور دیندار شخص تھے۔ ان کی تحریک کے مقاصد اچھے ہی تھے۔ تاہم بڑی تصویر دیکھیں تو ان کی تلوار برِعظیم میں انگریز کے کامل اقتدار کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ دور کرنے کے لیے استعمال ہوگئی۔ برطانوی راج نے سید احمد کے ذریعے اپنا تسلط جمایا اور ہمارا ہندوستانی کلچر برباد کر دیا۔

چنانچہ برِعظیم کی مقامی فوجوں کو دیکھیں تو انھوں نے بیشتر اپنا ملک فتح کیا ہے اور غیروں کے لیے کیا ہے۔ ہمارے بندوق برداروں کو اس سے کم ہی غرض رہی ہے کہ ان کی بندوقیں کس کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں اور وہ اپنا ملک فتح کرکے کس کو دے رہے ہیں۔ یہ بیرونی طالع آزما ہیں جو ہمیں اپنوں کے خلاف لڑاتے ہیں۔

اب پاکستان کے اندر دیکھ لیجیے۔ ہماری فوج دنیا کی بہترین پروفیشنل فوج ہے۔ یہ فوج مدت سے ہماری سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے اور اس کے لیے قربانیاں دے رہی ہے۔ چالیس برس ہوتے ہیں، افغانستان میں وقت کا پہیہ گھوما اور روس نے دراندازی کی۔ اصولًا یہ علاقائی اقتدار کی جنگ تھی جس سے ہمارا کچھ لینا دینا نہ تھا، لیکن ہمیں اس میں مذہبی دلائل کی وجہ سے کودنا پڑا۔ ایک جذباتی مذہبی بیانیہ تشکیل دیا گیا اور پاکستان کی فوج کو عالمِ اسلام کی فوج بناکر اس علاقائی جنگ میں ہشکار دیا گیا۔ اس مذہبی بیانیے کی تشکیل میں ہمارے ایک مخصوص فرقے پر خوب خرچ کرکے اس کے مدارس کو بھرتی دفتر بنایا گیا، یوں ہمارا ایک خاص مذہبی طبقہ بھی اس جنگ میں استعمال ہوگیا۔ غریب کی کیا اوقات؟ جس نے پیسہ دیا، یہ ملازم پیشہ لوگ اس آجر کے کام میں جت گئے۔ وجہ یہ کہ بڑی تصویر سامنے نہ تھی، اور ہمارے بڑے بڑوں تک کے سامنے نہ تھی۔ آج یہی بے چاری فوج چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے، اور بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے، کہ ہم نے اپنی جنگ لڑی نہ کہ کسی اور کی۔ لیکن حالات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ کوئی مان کر نہیں دے رہا۔ اس نہ ماننے کے پیچھے اصل بات یہ ہے کہ فوج خود تسلیم کرتی ہے کہ ہم نے دو بار پرائیوں کی جنگ لڑی ہے۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ چالیس کروڑ بھکاریوں کے ملک کے رہنے والے مزدور بہت کم بھاڑے پر ہر ایک طالع آزما کو دستیاب ہو جاتے ہیں۔ ان استعمال ہونے والوں میں سے بیشتر کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ انھیں کون استعمال کر رہا ہے، اور انھیں استعمال کرنے والے کس کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے مقامی وار لارڈز کو بھی معلوم نہیں کہ وہ کس کا ٹشو پیپر ہیں۔ علی برادران ہوں یا حفیظ و فیض، یہ سب اپنے اپنے وقت میں بالکل ویسے استعمال ہوئے جیسے آج ہم ہو رہے ہیں۔ یہ حالات کا جبر ہے۔ کسی کو دوش دینے سے حاصل؟ ہے تلخ بہت بندہ مجبور کی اوقات!

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *