طالبہ کی خودکشی، استاد کا قتل۔۔علیم احمد

SHOPPING

سوشل میڈیا کے زہریلے تیروں سے ڈاکٹر اقبال کی عزت کا قتل کرنے کے بعد تیز دھار ہیش ٹیگز سے لاش کا مثلہ کیا جارہا ہے۔
آپ مجھ سے اختلاف کیجیے یا اتفاق، لیکن میں یہی کہوں گا کہ نادیہ اشرف کی خودکشی کی آڑ میں ڈاکٹر اقبال چوہدری کا قتل کیا گیا ہے۔ کردار کا قتل، عزت کا قتل، باپ جیسے ایک شفیق استاد کی حرمت کا قتل! وجہ یہ ہے کہ میں ڈاکٹر اقبال کو ذاتی طور پر گزشتہ 28 سال سے جانتا ہوں۔ لیکن پہلے میں اس سارے معاملے میں سوشل میڈیا سے اٹھنے والے طوفان پر بات کرنا چاہوں گا۔

یہ بات درست ہے کہ سوشل میڈیا کی بدولت آج اپنے خیالات، احساسات، جذبات اور معلومات دوسروں تک پہنچانے کی جو آزادی میسر ہے، وہ اس سے پہلے کبھی حاصل نہ تھی۔ لیکن اس آزادی کو اکثریت نے مادر پدر آزادی سمجھ لیا ہے اور جس کا جو دل چاہتا ہے، سوشل میڈیا پر ’’شیئر‘‘ کردیتا ہے… کیونکہ یہاں سچ جھوٹ، صحیح غلط اور اخلاقی و غیر اخلاقی کی کوئی پابندی نہیں۔

اس کی ایک مثال ہم کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران دیکھ چکے ہیں کہ جب اس وبا کے بارے میں لوگوں نے اتنی زیادہ ’’ماہرانہ معلومات‘‘ بہم پہنچائیں کہ افواہ اور خبر کے درمیان فرق کرنا تقریباً ناممکن ہوگیا۔ یہ کیفیت اتنی شدید تھی کہ عالمی ادارہ صحت تک اسے ’’اطلاعی وبا‘‘ (infodemic) کا عنوان دینے پر مجبور ہوگیا۔

تلخ نوائی پر معذرت کیے بغیر، میں یہ کہوں گا کہ سوشل میڈیا سے پھیلنے والی ہر بات پر ’’آمنّا و صدقنا‘‘ کرنے والوں کےلیے جہنم میں کوئی خاص مقام ہوگا۔

پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) میں پی ایچ ڈی کی طالبہ نادیہ اشرف کی خودکشی کے بارے میں اوّلین ’’خبریں‘‘ مجھے سوشل میڈیا ہی سے ملیں۔ ان ’’خبروں‘‘ سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ نادیہ اشرف کا پی ایچ ڈی گزشتہ پندرہ سال سے جاری تھا اور اب تک مکمل نہیں ہوسکا تھا، وہیں یہ بھی پتا چلا کہ انہیں ان کے پی ایچ ڈی سپروائزر، پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری کی جانب سے ہراسانی کا سامنا تھا۔

بعض سوشل میڈیا پوسٹوں میں یہ تک لکھا تھا کہ نادیہ اشرف نے خودکشی سے پہلے اپنے دوستوں (شاید سہیلیوں) سے کہا تھا کہ ڈاکٹر اقبال ان کا پی ایچ ڈی مکمل ہونے نہیں دیں گے اور ’’پتا نہیں ڈاکٹر اقبال چوہدری مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟‘‘ بہت تلاش کرنے کے بعد بھی مجھے نادیہ اشرف کی/ کے اُن ’’دوستوں‘‘ کا علم نہیں ہوسکا جن سے انہوں نے یہ ساری گفتگو کی تھی۔
توجہ طلب بات یہ ہے کہ ایسی تقریباً تمام ہی سوشل میڈیا پوسٹیں ایک دوسرے کی نقل تھیں… اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ’’جسٹس فار نادیہ‘‘ اور ’’جسٹس فار نادیہ اشرف‘‘ جیسے ہیش ٹیگز (بہ زبانِ انگریزی) سوشل میڈیا پر دکھائی دینے لگے۔

مجھے یہ دیکھ کر بالکل بھی حیرت نہیں ہوئی کہ نادیہ اشرف کی خودکشی کو قتل قرار دینے والے اور تعلیمی اداروں میں ہراسانی کا واویلا کرنے والے تقریباً تمام لوگ نہ تو نادیہ اشرف سے اور نہ ہی ڈاکٹر اقبال چوہدری سے واقف تھے؛ بلکہ مجھے تو شک ہے کہ ان میں سے شاید ہی کسی نے یونیورسٹی جیسی کسی اعلیٰ تعلیمی درسگاہ کی شکل بھی دیکھی ہو، یونیورسٹی میں پڑھنا تو بہت دور کی بات ہے۔

سوشل میڈیا کا چلن یہی ہے کہ جو ہیش ٹیگ ’’پاپولر‘‘ ہوجائے، اسے ہر ایسا شخص اپنی پوسٹ میں استعمال کرتا ہے جو چاہتا ہو کہ اس کی پوسٹ دوسروں کی ’’فِیڈز‘‘ میں دکھائی دے اور لوگ اس پوسٹ کی طرف زیادہ متوجہ ہوسکیں۔ نادیہ اشرف کی خودکشی والے معاملے میں بھی یہی ہوا۔

لیکن بات صرف یہیں پر نہیں رکی بلکہ سوشل میڈیا صارفین نے (ایک دوسرے کی نقل کرتے ہوئے اور ’’کاپی پیسٹ کلچر‘‘ پر کاربند رہتے ہوئے) پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری کےلیے ایسے بیہودہ اور نازیبا الفاظ تک استعمال کیے جو یہاں لکھے نہیں جاسکتے۔

سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹیں لگانے والوں سے میں پوچھنا چاہوں گا: کیا اس ’’خبر‘‘ سے پہلے آپ نے نادیہ اشرف یا ڈاکٹر اقبال چوہدری کا نام سنا تھا؟ (پوری دیانت داری سے جواب دیجیے گا۔) کیا یہ مناسب ہے کہ ایک انسان کی خودکشی کو بنیاد بنا کر دوسرے انسان کے کردار پر کیچڑ اچھالا  جائے؟ اگر نادیہ اشرف کی جگہ آپ خود ہوتے یا آپ کی بہن بیٹی ہوتی تو کیا تب بھی آپ کا رویہ یہی ہوتا؟ اگر ہراسانی کا یہی الزام ڈاکٹر اقبال چوہدری کی جگہ آپ پر لگ جاتا تو آپ کیا کرتے؟

جہاں تک نادیہ اشرف کا معاملہ ہے تو مختلف ذرائع (بشمول انڈیپینڈنٹ اُردو اور یوٹیوب چینل ڈیلی نیوز ٹی وی) سے یہی معلوم ہوا ہے کہ بہاولپور سے تعلق رکھنے والی اس 39 سالہ پی ایچ ڈی طالبہ کے والد میرین انجینئر تھے۔ وہ بہت لائق تھیں جنہوں نے بہاولپور کی اسلامیہ یونیورسٹی سے ڈی فارم (ڈاکٹر آف فارمیسی) میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعد مزید اعلیٰ تعلیم کےلیے جامعہ کراچی کے تحقیقی ادارے ’’پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ‘‘ (پی سی ایم ڈی) میں داخلے کی درخواست دے دی۔

ان کی قابلیت دیکھتے ہوئے انہیں فوراً ہی وہاں ’’ایم فل لیڈنگ ٹو پی ایچ ڈی‘‘ میں بطور تحقیقی طالب علم اینرول کرلیا گیا۔ واضح رہے کہ اس نوعیت کی اینرولمنٹ میں کوئی بھی طالب علم پہلے اپنے تحقیقی کام کا آغاز ایم فل کی سطح سے کرتا ہے جسے بعد ازاں (طالب علم کی تحقیقی پیش رفت دیکھتے ہوئے) پی ایچ ڈی تک بڑھا دیا جاتا ہے۔

نادیہ اشرف 2007 میں ڈاکٹر امین سوریا کی زیرِ نگرانی ایم فل لیڈنگ ٹو پی ایچ ڈی میں اینرول ہوئیں اور انہوں نے سرطان (کینسر) کے سالماتی پہلوؤں پر تحقیق کا آغاز کیا جو دنیا بھر میں ایک مشکل تحقیقی موضوع قرار دیا جاتا ہے۔

البتہ، ڈاکٹر امین سوریا کے وہاں سے جانے کے بعد نادیہ اشرف نے ڈاکٹر اقبال چوہدری کی نگرانی میں اپنی تحقیق جاری رکھی۔ اس دوران ادارے نے انہیں متعلقہ تحقیق کےلیے درکار مزید تربیت کی غرض سے اپنے خرچ پر فرانس بھجوایا جہاں وہ چند ماہ مقیم رہیں۔

بظاہر سب کچھ ٹھیک ہونے کے باوجود، نادیہ اشرف کو گھریلو محاذ پر کچھ سنگین مسائل بھی درپیش تھے۔ انڈیپنڈنٹ اردو کی نامہ نگار، رمیشہ علی کی رپورٹ کے مطابق، نادیہ کے والد 2007 میں لاپتا ہوگئے اور بہت ڈھونڈنے پر بھی نہ مل سکے۔ اپنے والد سے بہت قریب ہونے کی وجہ سے نادیہ کو اس سانحے کا شدید صدمہ ہوا۔ علاوہ ازیں، اب ان پر تحقیق کے ساتھ ساتھ گھریلو کفالت کی ذمہ داری بھی آن پڑی تھی۔

یہ ذمہ داری پوری کرنے کےلیے نادیہ نے کراچی کی ایک نجی جامعہ میں بطور لیکچرار ملازمت کرنے کے علاوہ ایک اور نجی ادارے (غالباً کسی اسپتال) میں ’’اونکو فارماسسٹ‘‘ (اونکولوجی کیئر فارماسسٹ) کے فرائض بھی انجام دیئے۔ بتاتا چلوں کہ ’’اونکو فارماسسٹ‘‘ وہ ماہر افراد ہوتے ہیں جو ’’کیموتھراپی‘‘ (کینسر کے کیمیائی علاج) میں استعمال ہونے والے مادّوں کی درست تناسب سے تیاری کرتے ہیں جبکہ بعض اوقات وہ کینسر کے مریضوں کی دیکھ بھال اور انہیں دی جانے والی دواؤں کی درست مقدار/ خوراک کا تعین بھی کرتے ہیں۔

والدہ اور خود اپنی طبیعت کی خرابی، مالی پریشانیوں اور دیگر خانگی معاملات کی بناء پر وہ اپنی پی ایچ ڈی کی تحقیق کو زیادہ وقت نہیں دے سکیں اور یہ کام تاخیر در تاخیر کا شکار ہوتا چلا گیا۔ اس بات کا تذکرہ خود انہوں نے جامعہ کراچی کے ’’بورڈ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ‘‘ (BASR) کے رجسٹرار کے نام لکھی گئی درخواست میں کیا تھا جس پر اوّلین تاریخ 6 اکتوبر 2017 درج ہے۔

اس درخواست میں نادیہ اشرف نے اپنے تمام مذکورہ بالا مسائل اور مصروفیات کا ذکر کرنے کے بعد بی اے ایس آر سے گزارش کی تھی کہ تاخیر ہوجانے کے باوجود، انہیں پی ایچ ڈی تھیسس جمع کرانے کی اجازت دی جائے۔۔

انڈیپنڈینٹ اردو میں شائع شدہ خبر کے مطابق، نادیہ اشرف کے بھائی شہباز نے بتایا کہ وہ اپنے گھریلو حالات اور پی ایچ ڈی، دونوں کی وجہ سے سخت پریشان رہتی تھیں اور اسکیزوفرینیا (شیزوفرینیا) میں بھی مبتلا ہوچکی تھیں جس کے باعث انہیں کچھ عرصہ ناظم آباد میں واقع ’’کراچی نفسیاتی اسپتال‘‘ میں بھی داخل رہنا پڑا تھا۔ علاوہ ازیں، شدید مایوسی کے عالم میں وہ 2018 میں اپنی کلائیاں کاٹ کر خودکشی کی کوشش کرچکی تھیں، جب انہیں یہ پتا چلا کہ ان سے کم نمبر لینے والی ایک طالبہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری مل گئی ہے جبکہ خود نادیہ کا پی ایچ ڈی 2016 میں مکمل ہوجانا چاہیے تھا۔

اسی خبر کے مطابق، نادیہ اشرف کے بھائی شہباز کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنے پی ایچ ڈی سپروائزر، پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری کو اپنے والد کی طرح سمجھتی تھیں اور ان کا بے حد احترام کرتی تھیں۔ دیگر ذرائع اس بات کی تصدیق کرنے کے علاوہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر اقبال کے خلاف بولنے والوں سے لڑ پڑتی تھیں۔

آئیے، اب ان تمام معلومات کا تجزیہ کرتے ہیں:
اگر کسی شخص کو گھریلو بحرانوں کا سامنا رہا ہو تو وہ بخوبی جانتا ہوگا کہ مسلسل نوعیت کی شدید گھریلو پریشانیاں انسانی سوچ، اعصاب اور نفسیات پر کس بری طرح سے اثر انداز ہوتی ہیں۔ ایسے حالات میں متاثرہ فرد ڈپریشن (اضمحلال)، اینگژائٹی (اختلاج) اور اسکیزوفرینیا (شقاقِ دماغی) جیسے نفسیاتی امراض کا آسان ہدف بن جاتا ہے۔ اگرچہ اس بارے میں سنجیدہ اور غیرجانبدارانہ تحقیق کی ضرورت ہے لیکن بظاہر یہی لگتا ہے کہ گھریلو مسائل اور پی ایچ ڈی میں تاخیر، دونوں باتوں نے نادیہ اشرف کو اعصابی طور پر توڑ کر رکھ دیا تھا۔

اس معاملے کا دوسرا پہلو ’’پی ایچ ڈی‘‘ سے تعلق رکھتا ہے۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عام تاثر کے برعکس، سائنسی مضامین میں پی ایچ ڈی کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ سائنس کے میدان میں میرے اپنے واقف کاروں میں کم از کم دو احباب ایسے ہیں جن کا پی ایچ ڈی مکمل ہونے میں 18 سے 20 سال لگ گئے۔

ذاتی مشاہدے کی بات کروں تو بالعموم صرف وہی تحقیقی طالب علم پانچ سے چھ سال میں اپنا پی ایچ ڈی مکمل کر پاتے ہیں جو اُسی تحقیقی ادارے میں ملازم ہوں کہ جہاں سے وہ پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ اگر انہیں پی ایچ ڈی کرنے کےلیے اتنی ریسرچ گرانٹ دستیاب ہو کہ جس سے ان کے گھریلو اخراجات بھی پورے ہوسکیں، تو وہ خاصے اطمینان سے اپنا تحقیقی ہدف بروقت پورا کرلیتے ہیں۔

سادہ اور آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ پی ایچ ڈی کرنا اپنے آپ میں ایک کُل وقتی مصروفیت ہے۔ اگر اسے جُز وقتی طور پر انجام دیا جائے تو بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ کر بھی پی ایچ ڈی ادھورا ہی رہ جاتا ہے۔

دوسری جانب یہ بھی مدنظر رہے کہ نادیہ اشرف نے پی ایچ ڈی کےلیے جس موضوع کا انتخاب کیا تھا، وہ دنیا میں مشکل ترین سمجھا جاتا ہے۔ یعنی اگر ان کے ساتھ دیگر مسائل نہ ہوتے اور وہ اپنا پورا وقت اپنے پی ایچ ڈی ریسرچ تھیسس کےلیے وقف کر بھی رہی ہوتیں، تب بھی یہ تقریباً ناممکن ہی رہتا کہ ان کا پی ایچ ڈی بروقت مکمل ہوجاتا۔ اگر آپ کو میری بات پر یقین نہیں آرہا تو کینسر کے سالماتی حیاتیاتی پہلوؤں پر تحقیق کرنے والے کسی بھی ماہر سے پوچھ لیجیے۔

اب چونکہ پاکستان میں تحقیق کو فضول چیز سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہاں اکثریت کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ’’ریسرچ تھیسس‘‘ کیا ہوتا ہے اور اسے لکھنے کے بعد متعلقہ ماہرین سے منظور کروانے میں کیسے کیسے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ ماضی میں ’’یونیورسٹی گرانٹس کمیشن‘‘ کے برعکس، موجودہ ’’ہائر ایجوکیشن کمیشن‘‘ کے تحت، کسی بھی ریسرچ تھیسس کےلیے ضروری ہوتا ہے کہ اسی شعبے سے تعلق رکھنے والا، کم از کم ایک غیر ملکی ماہر اس پر ضرور بالضرور تنقیدی نظر ڈالے اور اس میں موجود خوبیوں خامیوں کی بنیاد پر یہ رائے دے کہ وہ ریسرچ تھیسس اس قابل ہے کہ اس پر پی ایچ ڈی کی ڈگری دی جائے، یا اس میں (کم یا زیادہ) ردّ و بدل کی ضرورت ہے۔

اگرچہ آج پاکستان میں بھی یہ نظام رائج ہوئے بیس سال ہونے کو آرہے ہیں لیکن پھر بھی یہ بہت مشکل اور وقت طلب مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ اس دوران (بالعموم) ایک ریسرچ تھیسس میں دس پندرہ مرتبہ ترامیم کرنی پڑتی ہیں جبکہ ’’سرقہ‘‘ (plagiarism) سے بچنے کا بھی خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ سب کچھ بہت صبر آزما اور اعصاب شکن ہوتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں جو ریسرچ تھیسس اور پی ایچ ڈی مکمل ہوتا ہے، وہ صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں قابلِ قبول ہوتا ہے۔

امید ہے کہ اب تک آپ کو کسی حد تک ان حالات و کیفیات کا اندازہ ہوگیا ہوگا کہ جن سے نادیہ اشرف گزر رہی تھیں۔ اگر آپ یہ تحریر پڑھتے پڑھتے یہاں تک پہنچ گئے ہیں تو ایک بار خود بھی، ٹھنڈے دل سے، ان واقعات کا تجزیہ کرنے اور انہیں سمجھنے کی کوشش کیجیے گا۔

سوشل میڈیا پر ڈاکٹر اقبال چوہدری کا قتل
میں نے اس بلاگ کی ابتدا میں لکھا تھا کہ نادیہ اشرف کی خودکشی کی آڑ میں ڈاکٹر اقبال چوہدری کا قتل کیا گیا ہے۔ اب ذرا اس کی وجہ بھی جان لیجیے۔
پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری کا نام پاکستان کے سائنسی حلقوں میں بہت ادب و احترام سے لیا جاتا ہے۔ اگرچہ وہ ڈاکٹر پرویز امیر علی ہود بھائی کی طرح ٹاک شوز کی زینت تو نہیں بنتے لیکن اپنے تحقیقی کاموں کی بدولت وہ تمغہ امتیاز، ستارہ امتیاز اور ہلالِ امتیاز کے علاوہ تھرڈ ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز ایوارڈ، خوارزمی انٹرنیشنل ایوارڈ اور ای سی او ایوارڈ جیسے بین الاقوامی اور علاقائی اعزازات بھی اپنے نام کرچکے ہیں۔

دیگر اعزازات و انعامات کی فہرست بہت طویل ہے لیکن اتنا بتانا بہرحال ضروری ہے کہ ڈاکٹر صاحب اب تک نیچرل پروڈکٹ کیمسٹری کے شعبے میں 68 کتابیں تحریر کرچکے ہیں۔ اسی موضوع پر 40 کتابوں میں آپ کے لکھے ہوئے ابواب شامل ہیں۔ آپ کے شائع شدہ تحقیقی مقالہ جات کی تعداد 1,027 ہے جبکہ 57 عالمی پیٹنٹس بھی ڈاکٹر صاحب کے نام پر ہیں، جن میں 51 امریکی پیٹنٹس بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی نگرانی میں اب تک 84 طالب علم اپنا پی ایچ ڈی مکمل کرچکے ہیں، جن میں اچھی خاصی تعداد خواتین کی ہے۔

ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری، جامعہ کراچی سے 1987 میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد سے لے کر اب تک، زینہ بہ زینہ طے کرتے ہوئے، وہ ترقی کی بلندی پر پہنچ چکے ہیں۔
چند ماہ پہلے ہی انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ’’کو آرڈی نیٹر جنرل کومسٹیک‘‘ (COMSTECH) مقرر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ’’کومسٹیک‘‘ عالمِ اسلام میں سائنس و ٹیکنالوجی کے حوالے سے تعاون کی تنظیم ہے جس میں 53 مسلم ممالک شامل ہیں۔ کومسٹیک کا صدر دفتر اسلام آباد میں واقع ہے جبکہ ’’کو آرڈی نیٹر جنرل‘‘ اس تنظیم کا اہم ترین عہدہ ہوتا ہے۔ قبل ازیں یہ عہدہ پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمان (ایف آر ایس) کے پاس تھا، جو ڈاکٹر اقبال چوہدری کے استاد بھی ہیں۔

میرا مقصد ڈاکٹر اقبال چوہدری کی سوانح کھنگالنا ہرگز نہیں، لیکن یہ حقیقت آپ سب کے سامنے لانا ہے کہ اپنے اب تک کے کیریئر میں جو کامیابی ڈاکٹر صاحب کے حصے میں آئی ہے، اس سے کئی دوسرے لوگوں میں حسد اور پیشہ ورانہ رقابت کے جذبات بھی پیدا ہوئے ہیں۔

اب ذرا سوچیے کہ ایک ایسا شخص جس نے برسوں کی کڑی محنت اور ریاضت کے بعد ایک ایسے شعبے میں نمایاں عالمی مقام حاصل کیا ہو کہ جس میں پاکستانیوں کی تعداد ویسے ہی بہت کم ہے، تو کیا ایسے شخص کے خلاف سازشیں نہیں کی جارہی ہوں گی؟

دیگر اداروں کی طرح پاکستان کے سائنسی اداروں میں بھی سیاست اور رقابت کا چلن بہت زیادہ ہے۔ یہاں بھی بہت سے لوگ صرف اپنی مدتِ ملازمت کی بنیاد پر ترقی کے خواہش مند ہوتے ہیں؛ لیکن اگر ان کی نظروں کے سامنے کوئی کم عمر شخص اپنی قابلیت اور خداداد صلاحیت کے بل بوتے پر زیادہ ترقی کر جائے تو وہ فوری طور پر اس کے خلاف سازشیں شروع کردیتے ہیں۔

ان حالات میں اگر کوئی ایسی خبر سامنے آئے جسے معمولی ردّ و بدل کے ساتھ اس ترقی کر جانے والے شخص کے خلاف استعمال کیا جاسکے، تو یہ عناصر ذرا بھی دیر نہیں لگاتے اور افواہوں کا بازار گرم کردیتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ان کا کام اور بھی آسان کردیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ نادیہ اشرف کی خودکشی کا معاملہ مکمل غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ کھنگالنے کےلیے معتبر و معزز افراد پر مشتمل کمیٹی قائم کرنی چاہیے، لیکن اگر یہ کمیٹی بھی ڈاکٹر اقبال چوہدری کو ان رکیک الزامات سے بری کردے تو کیا سوشل میڈیا کے سماجی ٹھیکیدار ان سے معذرت کریں گے؟

جس انسان نے برسوں نہیں بلکہ عشروں کی محنت سے عزت کمائی ہو، اس کےلیے عزت ہی سب کچھ ہوتی ہے… جان سے بھی بڑھ کر!
اب میں یا کوئی اور بھی ڈاکٹر صاحب کی صفائی میں یہ دلیل پیش کرتا رہے کہ آئی سی سی بی ایس میں پی ایچ ڈی کرنے والے طالب علموں میں سے 72 فیصد لڑکیاں/ خواتین ہیں اور اس ادارے میں ہراسانی کو بہت سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے، یا یہ کہتا رہے کہ 28 سالہ واقفیت کے دوران اُس نے ڈاکٹر صاحب کے کردار میں کوئی غلط بات نہیں دیکھی، یا یہ کہ وہ اپنے تمام شاگردوں کو اپنی اولاد سمجھتے ہیں، تب بھی عامۃ الناس کے ذہنوں میں پیدا ہو جانے والا شک دور نہیں ہوگا۔

اگر یہ منظرنامہ ذرا سا مختلف ہوتا اور، خاکم بدہن، کوئی قاتل حملہ آور ہوکر ڈاکٹر صاحب کی جان لے لیتا، تو شاید آج ’’جسٹس فار اقبال‘‘ اور ’’جسٹس فار ڈاکٹر اقبال چوہدری‘‘ جیسے ہیش ٹیگز سوشل میڈیا پر گردش کررہے ہوتے۔

لیکن آج کے قاتل بھی چالاک ہوگئے ہیں۔ وہ کسی باعزت شخص کی جان نہیں لیتے بلکہ سوشل میڈیا پر ’’ہیش ٹیگز‘‘ اور ’’ٹرینڈز‘‘ کا سہارا لے کر اس شخص کو بدکردار مشہور کردیتے ہیں اور جیتے جی مار ڈالتے ہیں… وہ ہر روز جیتا ہے اور ہر روز مرتا ہے۔
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

ڈاکٹر اقبال چوہدری پر بھی یہی سانحہ گزر رہا ہے۔ فیس بُک، ٹوئٹر اور یوٹیوب جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی کمانوں سے نکلنے والی پوسٹس، ٹویٹس اور ویڈیوز کے زہریلے تیر پہلے ہی ڈاکٹر صاحب کے کردار، عزت اور ایک استاد کی حیثیت سے حرمت کا قتل کرچکے ہیں؛ اور اب تیز دھار ہیش ٹیگز سے اس لاش کا مثلہ کیا جارہا ہے۔

ایسے میں اگر مجھ جیسا کوئی واقف کار، ڈاکٹر صاحب کا دفاع کرنے کی کوشش کرے تو اسے ’’غیر جانبدار رہیے‘‘ کا پیشہ ورانہ صحافتی مشورہ دے دیا جاتا ہے۔ لیکن جو لوگ ڈاکٹر اقبال چوہدری کے خلاف سوشل میڈیا پر زہر اگلتے پھر رہے ہیں اور ’’حق و صداقت‘‘ کے دعویدار بھی ہیں، ان سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ جو کچھ وہ اتنے وثوق سے بیان کررہے ہیں اس کی کیا سند ہے؟

اپنے تجربے کی روشنی میں کہوں تو جس انداز سے نادیہ اشرف کی خودکشی میں ڈاکٹر اقبال چوہدری کا نام لیا جارہا ہے، وہ مجھے ایک واضح طور پر ایک سازش محسوس ہورہا ہے۔ البتہ یہ سازش صرف ڈاکٹر اقبال کے خلاف نہیں بلکہ آئی سی سی بی ایس، میری مادرِ علمی جامعہ کراچی اور میرے شہر کراچی کے خلاف بھی ہے؛ اور اس گھناؤنی سازش کو عملی جامہ پہنانے کےلیے سوشل میڈیا کے علاوہ مین اسٹریم میڈیا بھی خوب استعمال ہورہا ہے۔ ان سب کی تفصیلات پھر کبھی سہی۔ فی الحال تو اسی مقام کو زیرِ نظر بلاگ کا نقطہ اختتام سمجھیے۔

SHOPPING

نوٹ:بلاگر 1987ء سے سائنسی صحافت کررہے ہیں، ماہنامہ گلوبل سائنس سے پہلے وہ سائنس میگزین اور سائنس ڈائجسٹ کے مدیر رہ چکے ہیں، ریڈیو پاکستان سے سائنس کا ہفت روزہ پروگرام کرتے رہے ہیں۔ آپ ورلڈ کانفرنس آف سائنس جرنلسٹس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے پہلے صحافی ہیں۔

SHOPPING

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *