مثل برگ آوارہ’سے
نذیر چوہدری نے مجھے اصرار کرکے بلایا تھا اور رشتے کے ایک بھائی نے جب میرے تقاضے پر دعوت نامہ اور اپنے ٹیکس کے کاغذات کی نقول ارسال کی تھیں تو لکھا تھا “تم ایک بار آ جاؤ، پھر ہم تمہیں جانے نہیں دیں گے”۔ نذیر سے بددل ہونے کے ایک ڈیڑھ ہفتے بعد میں نے رشتے کے بھائی سے ملنے کا قصد کیا تھا۔
دوسرے شہر جانا ہو یا نیویارک کی کسی اور بورو (علاقے) میں، جانا نیویارک شہر کے کسی ایک ریلوے سٹیشن سے ہی ہوتا ہے۔ اس بار میں جس ریل گاڑی پر سوار ہوا تھا اس کے ڈبے دو منزلہ تھے۔ ایسی ریل گاڑی میں نے زندگی میں پہلی بار دیکھی تھی۔ میں خاص طور پر زینہ چڑھ کے دوسری منزل پر جا بیٹھا تھا۔ ایک گھنٹے کے بے آواز سفر کے بعد ریل گاڑی اس ریلوے سٹیشن پر جا رکی تھی، جہاں میرے رشتے کے بھائی نے مجھے اتر جانے کو کہا تھا، جہاں سے انہوں نے آ کر مجھے لینا تھا۔ یہ سٹیشن کھلا تھا اور زمین سے کچھ اونچا۔ دونوں اطراف میں ڈیڑھ فٹ اونچی دیوار تھی، جس سے باہر کا علاقہ آرام سے دیکھا جا سکتا تھا۔ مجھے ابھی کوئی لینے نہیں پہنچا تھا۔ سٹیشن پر میرے علاوہ ایک سیاہ فام نوجوان لڑکی تھی جو خاصی بنی ٹھنی ہوئی تھی۔ میں نے اس سے بات چیت شروع کر دی تھی۔ میں امریکہ میں صنف نازک سے اختلاط کے مواقع نہ ہونے سے اکتایا ہوا تھا۔ کہاں ماسکو جہاں جس سے چاہے بات کرو، جتنی کرو اور جیسے کرو، کہاں نیویارک، سب جھوٹ موٹ مسکراتے ہوئے مگر لیے دیے، کام سے کام رکھے ہوئے۔ سیاہ فام لڑکی بھی اپنی ٹرین کے انتظار میں شاید بور ہو رہی تھی۔ اس نے بھی خوش اخلاقی کے ساتھ باتیں کرنا شروع کر دی تھیں۔ اس نے اپنا نام نیٹیشا ( نتاشا) بتایا تھا۔ “میرے اللہ، یہاں بھی نتاشا” میں نے سوچا تھا۔ خیر روس میں نتاشا نام نہیں کنیت ہے اصل نام نتالیا ہوتا ہے مگر امریکہ میں نیٹیشا ہی پورا نام تھا۔ نیٹیشا طالب علم تھی۔ میں وقت گذاری کے لیے بات کر رہا تھا۔ مجھے معلوم تھا نہ تو میں نیویارک شہر بار بار پہنچ سکتا تھا اور نہ ہی نیٹیشا نام کی یہ لڑکی میری عمر میں دلچسپی لے گی اور نہ ہی میرے ساتھ تعلق بنانے میں کیونکہ کسی بھی مادی سماج کے باسیوں کے معیارات مادی ہوتے ہیں جبکہ میں ابھی تقریبا” قلاش تھا۔ میں نے باہر کی جانب دیکھا تو اسے ایک رکی ہوئی کار کی کھلی کھڑکی سے مجھے اپنے رشتے کے بھائی دکھائی دیے تھے۔ میں نے جھٹ سے کالی نیٹیشا کے گال پر چٹ سے ایک بوسہ دیا تھا اور ششدر ہوئی، آنکھیں کچھ زیادہ کھول کر دیکھتی ہوئی اس مسکراتی لڑکی کا ہاتھ دبا کر “گوڈ بائی!” کہتا ہوا سٹیشن سے باہر نکل گیا تھا۔
گاڑی میں سوار ہوتے ہی بھائی صاحب نے پوچھا تھا “یہ لڑکی کون تھی؟” میں نے کہا تھا “معلوم نہیں کوئی انجان تھی”۔ بھائی نے اپنی عینک کے شیشوں کے پیچھے مسکراتی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ” تم تو اس کے ساتھ بہت شیر و شکر دکھائی دے رہے تھے”۔ میں یہ سوچ کر جھینپ سا گیا تھا کہ میرے بھائی نجانے کب سے ہم دونوں کی بے آواز چہکار کو سننے کی کوشش کر رہے تھے۔
باقی پاکستانیوں کی طرح میرے ان بھائی نے “سیون الیون” نہیں کھولا تھا۔ انہوں نے خود بتایا تھا کہ بہت سوں نے انہیں یہی مشورہ دیا تھا کہ سیون الیون کھول لو لیکن انہوں نے کہا تھا ” لاحول ولا قوۃ، یعنی میں پنساری بن جاؤں”۔ انہوں نے وہی کام شروع کر دیا تھا جو وہ پاکستان میں کرتے تھے۔ انہوں نے ایک پریس لگا لیا تھا اور پرنٹنگ کرنے لگے تھے۔ وہ مجھے لے کر سیدھے اپنے پرنٹنگ پریس پہنچے تھے۔ خود ہی شٹر کھولا تھا اور بتایا تھا ” آج اتوار ہے اس لیے کوئی کام کرنے والا نہیں، اس روز کچھ ایسے گاہکوں سے وعدے کیے ہوتے ہیں جو اپنا تیار شدہ کام لینے ورکنگ ڈے پر نہیں پہنچ سکتے”۔ وہ یہیں سے اٹھ کر مجھے لینے سٹیشن پہنچے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ایک اور پارٹی کو مواد لینے پہنچنا تھا، اس سے فارغ ہو کر کھانا گھر جا کر کھائیں گے۔
میرے یہ بھائی بہت پرمغز تھے۔ علم و ادب سے وابستگی کی ان کی تاریخ خاندانی تھی لیکن باوجود بہت پڑھا لکھا ہونے کے وہ ابھی تک کچھ لکھ نہیں پائے تھے۔ میں نے اسی روز انہیں وہیں پر مشورہ دیا تھا کہ اب آپ اپنے بچوں کی تعلیم سے بھی تقریبا” فارغ ہیں چنانچہ آپ لکھنا شروع کیجیے۔ دوسرا کام میں نے یہ کیا کہ ان کے پریس میں کمپیوٹر بھی تھا اور انٹرنیٹ کنکشن بھی لیکن وہ اس سے استفادہ نہیں کرتے تھے، میں نے انہیں ای میل اکاؤنٹ بنا کر دیا ٹھا اور چیٹ کرنا سکھایا تھا۔ اس اثناء میں تین خوبرو لڑکیاں پہنچ گئی تھیں جو کہ “پارٹی” تھیں۔ میرے بھائی نے انہیں جو پرنٹڈ مواد دیا تھا وہ “ڈائمنڈ کلب” کا مواد تھا۔ میں نے جب ان لڑکیوں کو دیکھا جن میں سے ایک نے فصیح امریکن لہجے میں انگریزی میں بات کی تھی، تو مجھے تب ہی شک گذرا تھا کہ یہ لڑکیاں “گوری” نہیں ہیں، اگرچہ وہ دودھ سے زیادہ سفید تھیں مگر جب انہیں میرے بھائی نے مواد کا پیکٹ پکڑانے سے پہلے اسے کھول کر مواد دکھایا تھا تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ یہ ڈائمنڈ کلب میں رقص کرنے والی روسی لڑکیاں تھیں کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ نیویارک کی کلب چین ڈائمنڈ میں بیشتر رقاصائیں روسی حسینائیں تھیں۔ میں نے روسی زبان میں گفتگو کی تھی ، ان میں سے دو نے جھٹ سے روسی زبان میں جواب دینا شروع کیا تھا مگر فصیح امریکی لہجے والی نے انہیں نظر بھر کے دیکھا تو وہ چپ ہو کر جھٹ سے انگریزی میں “بائی” کہہ کر رخصت ہو گئی تھیں، روسی زبان میں “پاکا” یا ” دوسوی دانیا” نہیں کہا تھا۔ لگتا تھا کہ ان کی سینیر نہیں چاہتی تھی کہ وہ روسی زبان بول کر اپنی اہمیت گنوائیں۔ احمق تھی، میں نے یا میرے بھائی نے کونسا ڈائمنڈ کلب میں جانا تھا۔
میرے بھائی کا گھر دو منزلہ خوبصورت ولا تھا۔ میرے بھائی کی بیگم اور والدہ مجھے ایک عرصے کے بعد دیکھ کر نہال ہوئی تھیں اور والدہ نے مجھے پیار کیا تھا۔ میرے بھائی نے جب خوش ہو کر اپنی اہلیہ کو بتایا ” آج مجاہد نے مجھے کمپیوٹر کا استعمال سکھا دیا” تو انہوں نے معصومیت سے خالص لاہوری لہجے میں پوچھا تھا،” ہن تسیں وی چٹ چیٹ کڑو گے؟” اس سوال پر ہم دونوں مرد ہنس دیے تھے اور خاتون بیچاری شرمسار ہو گئی تھیں۔ چیٹ تو میرے بھائی صاحب نے شاید کی ہو لیکن وہ آج میرے دیے مشورے کے سبب فلسفے پر لکھی چار دقیق اور مقبول انگریزی کتابوں کے مصنف ضرور ہیں۔
مجھے اپنے رشتے کے بھائی کی گفتگو سے لگا تھا کہ کام وام کے معاملے میں وہ بھی میری مدد کرنے سے قاصر تھے۔ ان کا لکھا فقرہ ” تم ایک بار آ جاؤ پھر ہم تمہیں جانے نہیں دیں گے” شاید محبت میں کہا فقرہ تھا تاہم انہوں نے کہا تھا ” کل میں تمہیں اپنے وکیل کے پاس لے جاؤں گا۔ دیکھتے ہیں کہ وہ کیا مشورہ دیتا ہے۔ ”
ہم کوئی دن کے گیارہ بجے وکیل کے دفتر پہنچے تھے۔ وکیل نے کچھ مایوس کن باتیں کی تھیں۔ پریس کی جانب جاتے ہوئے میرے رشتے کے بھائی نے کہا تھا کہ میں مزید کچھ لوگوں سے پوچھتا ہوں، انشاءاللہ کچھ ہو جائے گا۔ مجھے معلوم تھا کہ ہم لوگ انشاءاللہ تب بولتے ہیں جب ہم جانتے ہوں کہ خود اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ پریس پہنچنے کے بعد چونکہ گاہک آنے لگے تھے، میرے بھائی مصروف ہو گئے تھے۔ میں نیٹ سرفنگ کرتا رہا تھا۔ جب گاہک چھٹ گئے تو میں نے بھائی سے کہا تھا کہ مجھے سٹیشن چھوڑ آئیں۔ انہوں نے کام اپنے اہلکار کے ذمے لگائے تھے اور مجھے سٹیشن چھوڑ ائے تھے۔ میں واپس واپنجر فالز پہنچ گیا تھا۔
سعد مجھے تسلی دیتا رہتا تھا کہ پریشان مت ہوو، تمہارا اپنا گھر ہے۔ اللہ کرے گا کوئی مناسب کام مل جائے گا ویسے شروع میں یہاں کرنے کے لیے دو ہی کام ہیں جو نسبتا” آسانی سے مل جاتے ہیں، سیون الیون پر کام کرنا یا ٹیکسی چلانا۔ سیون الیون میں فریزر بھرنا پڑتا ہے اور ٹیکسی جلانا ویسے ہی جان جوکھوں کا کام ہے۔ یہ دونوں کام شاید تم سے نہیں ہو سکیں گے۔ میں نے طے کیا ہوا تھا کہ یہ دونوں کام میں ویسے بھی نہیں کروں گا۔ اصل بات یہ تھی کہ میں یہاں بسنے کے حالات دیکھنے آیا تھا مگر رشتے دار اور دوست زور دے رہے تھے کہ چھوڑو روس کو امریکہ میں ٹک جاؤ۔
میں نے سوچا تھا کہ ابھی میں کام کرنے کے جھنجھٹ میں نہیں پڑوں گا بلکہ پہلے ان دوستوں سے ملوں گا جن کے فون نمبر میرے پاس تھے اور جو ارد گرد کے شہروں میں مقیم تھے، جن سے میں نے آنے کے بعد رابطہ کیا تھا۔ وہ مجھ سے ملنے کے خواہاں تھے اور میں ان سے ملنے کو بے قرار۔ میں نے سوچا تھا پہلے میں اپنے دوست برکت عباس جعفری سے ملوں گا، پھر سعید باجوہ سے اور پھر منیر سلیمی سے۔ یہ تینوں دوست ڈاکٹر تھے۔ ایک نیو جرسی کے کسی ٹاؤن میں تھا اور باقی نیویارک سٹیٹ کے دور کے شہروں میں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں